Thursday , 14 December 2017
Highlights

پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سازش؟

پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سازش؟

پاکستان کو کمزور نا تواں اور افراتفری کا شکار بنانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر کس طرح سازشیں تیار ہو رہی ہیں اور میڈیا کے ذریعے کس قدر موثر پراپیگنڈا کرایا جا رہا ہے اس کا اندازہ گزشتہ چند سالوں سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں مختلف حوالوں سے شائع ہونے والی رپورٹوں سے لگایا جا سکتا ہے، کچھ عرصہ قبل سید کمال نامی شخص کے ذریعے کتاب لکھوا کر مارکیٹ میں بیچی جاتی ہے جس میں پاکستان کے ٹوٹنے کی نشاندہی کی جاتی ہے ، اس کتاب کا مصنف چونکہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہے اس لئے اس کتاب کی تشہیر کا موثر بندوبست بین الاقوامی نشریاتی ادارے سی این این کے ذریعے کیا جاتا ہے جس پر چند دن بڑے زور و شور سے پاکستان کے خلاف شرانگیز مہم چلانے کے بعد بوجوہ ختم کر دی جاتی ہے، اس کے بعد ایک گمنام ویب سائٹ پر پاکستان کے ٹوٹنے اور نئے پاکستان کے حوالے سے ایک نقشہ جاری کیا جاتا ہے جس میں بھی ان ملکوں کی نشان دہی کی جاتی ہے جو امریکن مفادات کی راہ میں کسی نہ کسی حوالے سے رکاوٹ ہیں اور انہیں مختلف القابات اس نقشے میں دئیے گئے تھے جیسے مشرقی وسطیٰ ” بدکار“ بھارت ” امریکی عالمگیریت کا ایجنٹ“ چین کو ” بلیاں“ کینیڈا کو ” ویرانہ“ میکسیکو لاطینی امریکہ کو ” امریکہ کے دھوبی“ وغیرہ اور اس نقشے میں جن ملکوں پر بم برسانے کی بات کی گئی ہے ان میں مشرقی وسطیٰ کے ممالک اور پاکستان شامل تھے، اس نقشے کو دنیا امریکہ کے مطابق کہا گیا ہے اور پاکستان کے حوالے سے ایک خبر جسے گزشتہ خبروں کا تسلسل ہی کہا جا سکتا ہے اور جسے پاکستان کی ایک نیوز ایجنسی کے ذریعے پاکستانی میڈیا میں شائع کروایا گیا تھاجس میں یہ بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں خانہ جنگی پر امریکی فوجی ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرنے کیلئے تیار ہیں، یہ خبر یا رپورٹ کسی ویب سائٹ سے مذکورہ نیوز ایجنسی نے حاصل کی تھی لیکن اس ویب سائٹ کا ایڈریس نہیں لکھا اور اگر ویب سائٹ کا ایڈریس لکھ بھی دیا جاتا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ ہزاروں بوگس ویب سائٹس پر آج کل اسی طرح کا پرا پیگنڈا کیا جا رہا ہے، امریکہ پاکستان کے ساتھ کیا کرنے کا ارداہ رکھتا ہے یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور منفی پروپےگینڈہ اس کی ہی ایک شکل ہے اب یہی دیکھ لیں میمو کا معاملہ کس طرح اچھالا گیا ،اور پھر صدر پاکستان کی بیماری کو کون سا رنگ دیا گیا اگر ہم ذرا سی بھی توجہ دیں تو پاکستان کے اندر ہونے والی بیرونی سازشوں کا بھانپ سکتے ہیں مگر ہم تحقیق سے بھاگتے ہیں اور اپنی آسانی کی خاطر بیرونی پریس میں جو شائع ہوتا ہے من و عن اپنے میڈیا میں شائع کر دیتے ہیں ہمیں اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ جتنا خطرہ اس وقت پاکستان کے سر پر بیرونی طور پر منڈلا رہا ہے اس سے پہلے ایسا خطرہ نہیں تھا، اس بات کا احساس حکومت اور افواج پاکستان کو ہے اور یہ اس کی حکمت عملی ہے کہ وہ حالات پیدا نہیں ہونے دئیے گئے جس طرح کے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ طاقتیں خاموش نہیں بیٹھیں وہ اپنی سازشوں میں مصروف عمل ہیں، آئندہ دنوں اسی طرح کی مزید رپورٹوں کی اشاعت کی توقع بھی کی جا سکتی ہے، اس لئے آج پھر میں اسی بات پر اکتفا کرتے ہوئے کالم کا اختتام کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ خدارا اس ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، مذہبی پارٹیوں کو وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ملک کے خلاف ہونے والی بین الاقوامی سازشوں پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانے کی کوشش پر بھی زور دینا ہو گا، یہ وقت نہ ہی حکومت کی مخالفت میں کوئی تحریک چلانے کا ہے اور نہ ہی آپس میں دست و گریباں ہونے کا ، یہاں اس موقع پر ملکی میڈیا کو بھی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ملکی سالمیت کے خلاف شائع ہونے والی رپورٹوں کو من و عن منظر عام پر لانے سے گریز کرنا چاہیے، ہمارے یہاں تحقیق کرنے کا فقدان ہے، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں جو بھی شائع ہوتا ہے ہم بغیر تحقیق کئے اور اس کی صحت کو بغیر جانچے شائع کر کے انہی قوتوں کے کام آسان کر رہے ہیں، اس لئے ہمارے دانشور طبقے کو آگے بڑھ کر ملک میں وسیع ترمفاہمتی فضا کو ساز گار بنانے کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔اس وقت ہمارے ملک کی سیاسی فضاءپھر نفرتوں کی آبیاری کرتی نظر آ رہی ہے اوربڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں جس سے نفرتوں میں اضافہ ہو گا اس لئے سیاسی جماعتوں کو نفرت اور انتشار کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے ملک کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Scroll To Top