Thursday , 14 December 2017
Highlights

بادشاہ کی جوتی کبھی نہیں ٹوٹتی: ضمیرآفاقی

ضمیر آفاقی

ایک زمانہ تھا جب دنیا بھر پر بادشاہت کا غلبہ تھا اور بادشاہ کا ہر فیصلہ حرف آخر تصور کیا جاتا تھا کسی کو بھی اس فیصلے سے انحراف کی جرات نہیں ہوتی تھی، پھر رفتہ رفتہ زمانہ بدلا، بادشاہت کی جگہ جمہوریت نے لے لی مگر جمہور رعایا کی رعایا ہی رہی جمہوری طرز حکومت میں ایک صدر ہوتا ہے ، ایک وزیر اعظم اور ایک آدھ ان کی ’’ سٹپنیاں صدو اور وزیر اعظم کو قیمتی مشوروں سے نوازتی ہیں اور ان کی مشوروں کی رہنمائی میں امور مملکت چلائے جاتے ہیں ان سٹپنیوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ یہ ہمہ وقت صدور اور وزراء اعظم کو سب اچھا کی رپورٹیں دیتے رہیں ملک میں کیا ہو رہا ہے کون کون سے بحران پیدا ہوئے ہیں ، ان کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں ،ان سب باتوں سے صدور اور وزراء اعظم کو لاتعلق رکھا جاتا ہے کیونکہ سٹپنیوں کی یہی ڈیوٹی ہوتی ہے جسے وہ سرانجام دینے کے لئے دن رات ایک کئے دیتے ہیں، آج کچھ پرانے قصے کہانیوں پر گزارا کرتے ہوئے بات کو جاری رکھتے ہیں اور ان قصے کہانیوں میں دیکھتے ہیں کہ طرز حکمرانی جمہوری ہو یا بادشاہت اس میں تبدیلی کتنی آتی ہے۔

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک آدمی آیا اور انصاف، انصاف کی دہائی دینے لگا، بادشاہ کے احتساب کا شہرہ ہر طرف پھیلا ہوا تھا اور کہا جاتا تھا کہ یہ بادشاہ ’’ نیک نیت‘‘ انصاف پسند اور احتساب کا قائل ہے اور ایسا انصاف اور احتساب کرتا ہے کہ جو دکھائی بھی دیتا ہے، منافقت کا تو وہ بالکل قائل نہیں تھا جو بات کہتا دو ٹوک کہتا خواہ دوسرے کو بری لگے ’’ انصاف پسند اتنا تھا کہ اس نے عدالتوں کو آزادی دے رکھی تھی اور ’’ خود انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہونے سے بھی نہیں ہچکچاتا تھا کیونکہ وہ انصاف کا کٹہرا اس کا اپنا ہی بنایا ہوا تھا جس کے قاضی اس کی آنکھوں کے اشارے پر فیصلے سنایا کرتے تھے، وہ آدمی اس ’’ نیک نیت‘‘ انصاف پسند اور زبردست احتسابی بادشاہ کے حضور انصاف، انصاف کی دہائی دے رہا تھا، بادشاہ اور اس کے مشیروں نے اس آدمی کی طرف دیکھا، انہوں نے دیکھا کہ اس کی ایک آنکھ کا ڈیلا باہر نکلا ہوا ہے اور خالی جگہ سے خون بہہ رہا ہے ۔’’ نیک نیت‘‘ بادشاہ نے اس آنکھ نکلے شخص سے پوچھا تم پر کیا واردات گزری؟ اس نے جواب دیا اے نیک نیت بادشاہ آپ کے انصاف اور احتساب کے بہت چرچے سن کر آیا ہوں میرے ساتھ انصاف کیجئے ! بادشاہ نے کہا تمہارے ساتھ انصاف ضرور ہو گا!اور جن لوگوں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے ان کا احتساب بھی ہو گا! تم اپنی داستان سنائو! وہ شخص گویا ہوا ! جہاں پناہ! میں ایک پیشہ ور چور ہوں، عام چور نہیں ہوں، آج شب جبکہ چاند ابھی طلوع نہیں ہوا تھا میں ایک سرمایہ دار کو لوٹنے کے لئے گیا لیکن غلطی سے میں ایک جولاہے کے گھر میں داخل ہو گیا، جو نہی میں کھڑکی سے اندر کی جانب کودا میرا سر جولاہے کی کھڈی کے نوکدار حصے کے ساتھ ٹکرایا اور میری آنکھ پھوٹ گئی، اے عالم پناہ اب میں اس جولاہے کے معاملے میں انصاف چاہتا ہوں۔ بادشاہ نے فوراً ریاستی مشینری کو حکم دیا کہ جولاہے کو طلب کیا جائے، ریاستی اہلکار چند منٹوں میں جولاہے کو اس طرح لئے حاضر ہوئے کہ اس کی صورت پہنچاننا مشکل ہو رہی تھی اس کے گھر والوں کا کیا حشر کیا گیا طوالت کے ڈر سے اس کا ذکر یہاں نہیں کیا جا رہا ، بادشاہ نے فوراً فیصلہ صادر کیا کہ اس کی ایک آنکھ نکال کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں، جولاہا چلایا ظل سبحانی رحم آپ کی نیک نیتی کے بہت چرچے سنے ہیں، آپ کے اہلکاروں نے میری جو درگت بنا دی ہے وہ آپ کے سامنے ہے مگر میرے گھر والوں کا کیا حشر کیا ہے اس سے آپ واقف نہیں ہیں، یہ سب ٹھیک ہے میں اور میرے گھر والے ہیں ہی اسی قابل اور آپ کا فیصلہ بھی درست ہے کہ میری ایک آنکھ نکال دی جائے لیکن جناب والا میں جو کام کرتا ہوں اس کے نتیجے میں جو کپڑا تیار ہوتا ہے وہ آپ اور آپ کے مشیر پہنتے ہیں اس لئے اس کام میں دونوں آنکھوں کی ضرورت ہے تا کہ میں وہ کپڑے جو آپ کے بدن کی زینت بنتے ہیں اس کپڑے کے دونوں اطراف دیکھ سکوں جسے میں بنتا ہوں، ہاں میرے پڑوس میں ایک موچی رہتا ہے جس کی دونوں آنکھیں سلامت ہیں اس کے پیشے میں ان دونوں کی کوئی ضرورت نہیں اور آپ کو جوتی بھی مرمت نہیں کروانا ہوتی اس لئے …!
جولاہے کی بات سن کر بادشاہ نے پھر اہلکاروں کو حکم دیا جس کو فوراً تعمیل کی گئی، اہلکار موچی کی جوتیاں اس کے سر پر مارتے ہوئے اسے بادشاہ کے سامنے لے آئے، بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ اس موچی کی ایک آنکھ نکال دی جائے ، موچی بہت چیخا چلایا نیک نیتی کے واسطے دئیے لیکن اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ بادشاہوں کی جوتی کبھی نہیں ٹوٹتی یوں اس کی ایک آنکھ نکال دی گئی، اس طرح انصاف کا تقاضا پورا ہوا۔
دربار کے باہر یہ خبر جب عام لوگوں تک پہنچی تو لوگ دیوانہ وار بادشاہ کے محل کی طرف بھاگے اور بادشاہ کا انصاف زندہ باد کے نعرے لگانے لگے، ڈھول بجائے گئے اور آتش بازی کے مظاہرے کئے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Scroll To Top