Thursday , 14 December 2017
Highlights

پنجابی ادبی بورڈ لاہور کا دورہ

2015-02-12-01

پنجاب حکومت پرائمری جماعت سے لیکرکالج کی سطع تک پنجابی زبان کو نصاب کا حصہ بنائے ،پروین ملک

محبت اور امن کی زبان کو ہر سطع پر فروغ دینے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، فکری نشست میں شرکاءکا اظہار خیال

پنجابی زبان کے فروغ و ترویج کے لئے پنجابی ادبی بورڈ لاہور نے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا جس میں ساوتھ ایشن کالمسٹ کونسل (ساک )کی مرکزی باڈی کے عہدے داروں ، صدر ایثار رانا، سیکرٹری جنرل ضمیر آفاقی ، جوائنٹ سیکرٹری شہباز انور خاں، ملیحہ سید، ناصف اعوان، اطہر خرم، زوار کامریڈ اشرف سہیل جاوید شاہد ڈسکوی ، طارق حمید ،غلام رضا، مظہر چوہدری، ڈاکٹر عمرانہ مشتاق، رکیہ غزل نے شرکت کی ۔پنجابی بورڈ کی سیکرٹری پروین ملک نے ادارئے کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اپنی مدد آپ کے تحت1975 سے پنجابی زبان کے فروغ ترویج اور کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے خدمات سر انجام دے رہا ہے انہوں نے کہا کہ یہ کتنی بڑی بد قسمتی ہے کہ دس کروڑ سے زیادہ آبادی کے صوبے میں پنجابی زبان کے فروغ کے لئے کوئی خاص کام نہیں ہو رہا ان کا کہنا تھا کہ باقی تمام صوبوں میں ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جارہی ہے حکومت پنجاب کو چاہیے کہ وہ پرائمری جماعت سے لیکر اعلی تعلیم تک پنجابی زبان کو نصاب کا حصہ بنائے اور اس کے فروغ کے لئے حکومت کو پنجابی زبان کے لئے کام کرنے والے اداروں کی سر پرستی کرنی چاہیے ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی زبان کا فروغ اس وقت تک ممکن نہیں ہوتا جب تک اسے نصاب کا حصہ بنا کت تعلیم نی دی جائے اور حکومت اس کی سر پرستی نہ کرے ۔ ایثار رانا کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں جو ترقی ہم دیکھتے ہیں اس کی بنیاد مادری زبان میں تعلیم دینے سے ہی ہوئی ہے اور جتنا خوبصورت ادب پنجابی زبان میں تخلیق ہوا ہے وہ کسی اور زبان میں نہیں ہوا محبت اور امن کی زبان کو ہر سطع پر فروغ دینے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ہر فورم پر آواز بلند کرنی چاہیے ،جبکہ امجد سلیم نے کہا کہ پنجابی کو نقصان خود پنجابیوں نے ہی پہنچایا ہے ہمارے گھروں بازاروں اور ہر جگہ پر پنجابی بولنے والوں کو کم تر سمجھا جاتا ہے اس روئیے کو ختم کئے بنا پنجابی زبان کا فروغ ممکن نہیں ، انہوں نے حکومت سے التماس کی کہ وہ سرکاری دفاتر میں پنجابی زبان کو رائج کرے تا کہ پنجاب اپنی ماں بولی سے پہچانا جائے، اس موقع پر پنجابی بورڈ کے صدرمشتاق صوفی نے کہا کہ پنجابی زبان میں محبت کی چاشنی اور امن کے رنگ ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ پنجاب کے اندر پنجابی زبان کے فروغ کے لئے کوششیں نہ ہونے کے برابر ہیں انہوں نے حکومت پنجاب سے پنجابی زبان کی ترویج ، اشاعت اور فروغ کے لئے سر پرستی کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت سر پرستی نہیں کرے گی پنجابی یتیموں کی زبان بنی رہے گی۔ا س موقع پر اطہر خرم نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پنجابی کلب کا قیام عمل میں لایا جائے جس کے زریعے معاشرے میں پنجابی زبان کے فروغ کے لئے کام کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Scroll To Top