Thursday , 14 December 2017
Highlights

ساک کی ایگزیکٹیو باڈی کے وفد کا دورہ منہاج القران انٹرنیشنل

2014-03-05-01لاہور،ساوتھ ایشین کالمسٹ کونسل(ساک) کی ایگزیکٹیو باڈی کے وفد کا دورہ منہاج القران انٹرنیشنل

ساوتھ ایشن کالمسٹ کونسل کے (ساک) کے وفد نے گزشتہ روز ادارہ منہاج القران ماڈل ٹاون کا دورہ کیا اور ادارہ منہاج القران کے کام کرنے کے طریقہ کار کو ملاحظہ کیا اس موقع پر وفد کے اراکین ممتاز کالم نویسوں جن میں ،چوہدری خادم حسین(روزنامہ پاکستان) ضمیر آفاقی(روزنامہ جہان پاکستان) اطہر خرم (میڈیا لنک نیٹ ورک) اشرف شریف (روزنامہ دنیا ) شہباز انور خان(روزنامہ ایکسپریس) طارق حمید(روزنامہ وقت) ناصف اعوان (روزنامہ خبریں) افضال ریحان(روزنامہ جنگ) چوہدری ذولفقار(روزنامہ خبریں) روشن لال (روزنامہ جہان پاکستان) مظہر چوہدری نے شرکت کی اس موقع پر شیخ السلام ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادے صدر ادارہ منہاج القران انٹرنیشنل ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے وفد کے اراکین کو منہاج القران انٹرنیشنل کے زیر انتطام چلنے والے سات سو کے قریب تعلیمی اداروں یونیورسٹی اور دیگر پروگرامز اور پروجیکٹ پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر حسین محی الدین ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح گوناں گوں صفات کے حامل اعلی تعلیم یافتہ شوشو پولیٹیکل سائنسٹسٹ اور اکنامسٹ ہیں ڈاکٹر حسین محی الدین انرجی کرائسزاور اس کے متبادل حل، ایگری کلچر انڈسٹری، بین الاقوامی سیاست ، معاشیات، اسلام اوراس کے علاوہ کئی موضوعات پرڈیڑھ درجن سے زائد کتابوں کے مصنف بھی ہیں
منہاج القران انٹرنیشنل ایک بہت ہی مثالی اور جدید سائنسی بنیادوں پر استوار ادارہ ہے جو کہ ایجوکیشن ،مقامی سطح پرعوامی فلاح و بہبود کے پروگرامز سمیت ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی بے شمار خدمات سرانجام دے رہا ہے۔۔ ان کی سوچ اور اپوروچ میں قدیم اور جدید کا امتیاز پایا جاتا ہے وہ جدید دنیا کے علوم سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ خود بھی ان علوم کے حامل ہونے کے ساتھ اپنے تعلیمی اداروں میں بھی دینی تعلیم کے ساتھ عہد حاظر کی تعلیم سے طلباءکو بہرہ یاب کرنے میں کوشاں ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اگر ترقی کرنی اور دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ہمیں تعلیمی میدان میں ترقی کرنی ہو گی اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم عہد جدید کے تمام علوم سے واقف ہوں انہوں نے بتایا کہ ہمارے تعلیمی ادارئے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ان کی انسان صلاحتیوں کو اجاگر اور کردار سازی بھی کر رہے ہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جس سے ہم دنیا کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر حسین محی الدین کا کہنا تھا کہ ایجوکیشن کے حوالے سے ادارہ منہاج القران انٹرنیشنل پہلے ہی سائنسی بنیادوں پر کام کر رہا ہے ، ان کے مطابق گریڈ 1 سے 12 تک پورے ملک میں ایک ہی نصاب ہونا چاہیے۔ روز گار کے حوالے سے لائحہ عمل کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ گورنمنٹ اور نجی یونیورسٹیز کو کوٹہ سسٹم کے تحت پروگرامز میں ایڈمیشن دینے چاہیں۔ مختلف سیکٹرز میں ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے روزگار کے مواقع کے مطابق ایڈمیشن دینے سے بیروزگاری میں خاطر خواہ حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
انتہا پسندی کے خاتمے اور امن کے قیام کے فروغ کے لیے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام مسالک سے فارغ اتحصیل علماءاور سکالرز کو رجسٹریشن کے زریعے ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا جائے اور تمام مکاتب فکر کے فریش سکالرز کو 6 ماہ ایک ساتھ گزارنے کا موقع دیا جائے جس سے ان میں بین المسلکی ہم آہنگی اور رواداری پیدا ہوگی۔ جو نفرتوں اور کدورتوں کو دور کرنے کے ساتھ ایک دوسرے کو قریب لانے کے لئے بھی ممدو و معاون ہو گی۔
آخر میں ساک کے وفد میں شامل کالم نگاروں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی اور انتخابی نظام کے تحت عوام کی حقیقی فلاح و بہبود کی توقع رکھنا عبث ہے۔ ان کے مطابق حقیقی تبدیلی کے لئے انقلاب ناگزیر ہے جس کے لئے 1 کروڑ افراد کی ممبرشپ مہم پورے ملک میں جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ جاگیردار اور صنعت کار حکمران طبقہ آئین میں عوامی فلاح وبہبود کی حامل ترمیم کی اجازت کبھی نہیں دے گا لہذا عوام کو استحصالی نظام اور حکمرانوں سے نجات کے لئے سبزعوامی انقلاب لانا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Scroll To Top