Thursday , 14 December 2017
Highlights

ادارہ فکر جدید اور ساک کی ناروے بیسڈ جرنلسٹ سید مجاہد علی کے ساتھ ایک خصوصی فکری نشست

01

ادارہ فکر جدید اور ساک نے ناروے بیسڈ جرنلسٹ سید مجاہد علی کے ساتھ ایک خصوصی فکری نشست کا اہتمام کیا گیا. سید مجاہد کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دانشوروں سمیت ہر طبقے کو اس کی کھلے عام دو ٹوک لفظوں میں مذمت کرنی چاہیے. دہشت گردی چاہے مسلم ممالک میں ہو یا مغرب میں، اسکی دو ٹوک مذمت ضروری ہے. انکا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا میں بسنے والے ساڑھے پانچ ارب نان مسلم کو اپنا نکتہ نظر سمجھانے کے لیے دلیل کا سہارا لینا ہوگا. انکا یی بھی کہنا تھا کہ کسی بھی ایشو پر دنیا پر اپنا موقف واضح کرنے یا میسج دینے کے لیے منظم اور پرامن عوامی احتجاج سب سے بہتر طریقہ ہے۔
ساک کے سیکرٹری جنرل ضمیر آفاقی کا کہنا تھا کہ چند لوگوں کی دہشت گردی کی وجہ سے مغربی ممالک میں رہنے والے تمام مسلمانوں کے لیے مسائل بڑھ رہے ہیں جبکہ دہت گردی یا انتہا پسندی اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک ہم معاشرتی سطع پر انہتا پسند سوچ کو تبدیل کرنے کے لئے کام نہیں کرتے۔ دیگر شرکاء نے دہشت گردی کے معاملے پر امریکی کردار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ مسلم دنیا میں جاری دہشت گردی ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے مسلم دنیا میںایک دوسرے کے خلاف بلاک بنا کر انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ شرکاءکا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کسی بھی سطح پر انتہا پسندی کو پروموٹ کرنے والوں کو کاونٹر کیا جانا ناگزیر ہے جبکہ اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی ہر شکل کو ختم کےئے بنا معاشروں میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا اس کے لئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا رنا چاہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Scroll To Top