Thursday , 14 December 2017
Highlights

Seven journalists killed in Pakistan during the last year and 87 injured while 42 journalists killed during the last ten years have been

journalist
Seven journalists killed in Pakistan during the last year and 87 injured while 42 journalists killed during the last ten years have been
Pakistan last year, seven journalists killed and 87 injured in the previous ten years, 42 journalists killed has been out of which eleven kybrpktunkua, nine tribal areas, eight eight Balochistan and Sindh, four in Punjab and Islamabad, killing was. the 42 slain journalists, 29 were such that the regular targeted killings were. journalists, mass killings kasib the dark side is still a slain journalist’s killers law szanhyn be given. JournalistsThe situation is a concern regarding the safety of journalists, but in the circumstances mkdus FATA, Balochistan and Khyber Pashtun journalist kua are performing their duties.
I must find some solution.پاکستان میں گزشتہ سال کے دوران سات صحافی قتل اور87 زخمی ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ دس سالوں کے دوران 42صحافی قتل کئے جاچکے ہیں
پاکستان میں گزشتہ سال کے دوران سات صحافی قتل اور87 زخمی ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ دس سالوں کے دوران 42صحافی قتل کئے جاچکے ہیں جن میں سے گیارہ خیبرپختونخوا، نو قبائلی علاقہ جات، آٹھ آٹھ بلوچستان اور سندھ، چار پنجاب اور دو کو اسلام آباد میں قتل کیا گیا۔ ان 42 مقتول صحافیوں میں 29ایسے تھے جنہیں باقاعدہ نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ صحافیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کاسب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ اب تک ایک بھی مقتول صحافی کے قاتلوں کو قانون کے مطابق سزانہیں دی جاسکی۔ صحافیوں کی ہلاکتوں کاایک اور مایوس کن پہلو پے درپے واقعات کے باوجود صحافیوں کی جانوں کی حفاظت کیلئے کسی بھی سطح پر کسی بھی معقول حفاظتی انتظام کانہ ہوناہے جس سے صحافتی برادری میں عدم تحفظ کاشدید احساس پایا جاتاہے۔ ملک کے عمومی حالات کے تناظر میں ویسے تو پورے ملک کی صورتحال ہی صحافیوں کی حفاظت کے حوالے سے باعث تشویش ہے لیکن جن مخدوش حالات میں فاٹا، خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے صحافی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
وہ یقینا ہر لحاظ سے پریشان کن ہیں ، صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کاایک اور ناقابل برداشت پہلو نشانہ بننے والے صحافیوں کے اہل وعیال اور خاص کر انکے یتیم رہ جانے والے معصوم بچوں کے مستقبل کا ان کی معاشی مجبوریوں کے باعث داو¿پر لگناہے۔ قتل یاہمیشہ کے لئے معذور ہونے والے صحافیوںکے بچوں کی کفالت اور ان کے مستقبل کو کسی حد تک محفوظ بنانے کے لئے نہ تو حکومتی اور صحافتی تنظیموں اورنہ ہی میڈیا گروپوں کی سطح پروظائف یاپنشن کاکوئی انتظام ہے۔صحافیوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کے تناظر میں جہاں حکومتی سطح پر ہلاک اور شدید۔زخمی ہونے والے صحافیوں کے اہل خانہ کے لئے مستقل فنڈز کی فراہمی ضروری ہے وہاں میڈیا گروپوں، ان کے مالکان اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے بھی اس اہم ترین مسئلے کا مالی وسائل کی فراہمی کی صورت میں کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالنا چاہیے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Scroll To Top