November 2nd, 2009 · Comments Off
وطن عزیز میں بیٹھ کر چیزیں اور طرح سے دکھتی ہیں۔معاملات کی سنگینی کا اس طرح سے ادراک نہیں ہوتاجس طرح دیار غیر میں ہوتا ہے۔ہم جب کل قومی ائیر لائن کی پرواز سے برطانیہ کے شہر مانچسٹر پہنچے تو امیگریشن کارڈ پر ہم نے اپنا پیشہ لکھاری اور کالم نویسی ظاہر کیا۔امیگریشن آفیسرنے ہمارے پاسپورٹ کی جانچ پھٹک کرتے ہوئے ہمارے پیشے کا پڑھتے ہی سوال داغا کہ ہم کس زبان میں کالم لکھتے ہیں۔۔۔؟
ہمارا جواب تھا کہ قومی زبان اردو میں۔اس نے ہمارے چہرے کی جانب دیکھے بغیر دوسرا سوال داغا
کیا ہم بھی کیری لوگر بل کے خلاف ہیں اور کیا پاکستان میں پارلیمنٹ سمیت کسی نے بھی کیری لوگر بل کو پڑھا ہے۔۔۔؟
ہم نے اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کیا کہ کیا ہماری انٹری اس سوال کے جواب سے مشروط ہے؟
وہ مسکرایا اور اس نے پاسپورٹ پر انٹری کی مہر ثبت کر کے ہمیں مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیںمیچتے اور سر کو ہلاتے ہوئے خوش آمدید کہتے ہوئے ہمارا پاسپورٹ ہمارے حوالے کر دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ جب جب ہم ملک سے باہر گئے اور لوگوں کو پتہ چلا کہ ہمارا تعلق صھافت سے ہے تب تب لوگ ایسے ہی چبھتے ہوئے سوال کرتے رہے ہیں۔سامان وصول کرنے والے حصے میں ہم امیگریشن آفیسر کے جملے کی کاٹ سے لگے زخم کو سلاہتے رہے۔ہمیں یہ جان کر خاصی سبکی اور ندامت محسوس ہوئی کہ ماڈرن ورلڈ میں ہمارے بارے میں دنیا کیا سوچتی ہے۔کیا ہم واقعی ان پڑھ اور فہم و فراست سے عاری لوگ ہیں ۔۔۔؟انہیں سوچوں میں الجھے ہوئے تھے کہ ہمارا سامان آ گیا اور ہم کسٹم کے علاقے سے باہر نکل آئے۔ہمیں جو ایک اور حیران کن تجربے سے واسطہ پڑا وہ امیگریشن اور کسٹم والوں کا سلوک تھا۔ہر کسی کو جلدی جلدی داخلے کی مہر لگا کر فارغ کیا جا رہا تھا ،جبکہ کسٹم والے بھی خال خال ہی کسی کو چیک کر رہے تھے ۔ہمارے پاس دو بیگ تھے ہمیں کسی نے بھی نہیں روکا کہ اپنا بیگ چیک کرواو¿،لہٰذا ہم بڑی آسانی سے امیگریشن کے مراحل سے گزرتے ہوئے باہر نکل آئے۔
آج صبح ایک ناشتے کے دوران ہم نے اپنے میزبانوں کوکسی پاکستانی چینل کو دکھانے کی فرمائش کی تو انہوں نے فوراً ہماری خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایک نجی چینل لگا دیا،جس پر محترمہ شیری رحمٰن،نوں لیگ کے مشاہد اللہ خان اور کشمالہ طارق ایک ٹاک شو میں محو گفتگو تھے۔بات ابھی تک این آر او اور کیری لوگر بل پر پھنسی ہوئی ہے،جناب مشاہد اور کشمالہ طارق کا استدلال تھا کہ پی پی پی کی حکومت پارلیمنٹ کو بائی پاس کر رہی ہے اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کے تمام تر دعوے زبانی کلامی ہیں۔اور یہ کہ حکومت نے قوم کی غیرت کا سودا کر کے امریکا کی غلامی میں دے دیا ہے۔اگر ہم پاکستان میں ہوتے تو یقینا ہمارا رد عمل یہ نہ ہوتا بالخصوص امیگریشن آفیسر کے سوال کے تناظر میں ہمیں سوچنا پڑا کہ کیا ہمارا میڈیا اور سیاسی زعماءکب تک دنیا کو گمراہ کریں گے۔پارلیمنٹ کی بالا دستی کو کس غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔پارلیمنٹ کی بالا دستی سے مراد کیا ہے۔آئیں آج اس پر بات ہو جائے۔
جمہوری ملکوں میں پارلیمنٹ عوام کامنتخب کیا ہوا ادارہ ہے۔جو کہ قانون ساز ادارہ بھی ہوتا ہے۔یہ ادارہ باقی تمام قومی اداروں سے سپریم ہوتا ہے۔اس ادارے کا چنا ہوا وزیر اعظم ہاو¿س کا لیڈر ہوتا ہے اور وہ ملکی انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے،وہ ملکی امور چلانے کے لئے پارلیمنٹ سے کابینہ کا نتخاب کرتا ہے جو کہ پارلیمنٹ کی نمائندہ بھی ہوتی ہے۔وزیر اعظم اور اس کی کابینہ پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے اور اسی کو پارلیمنٹ کی بالا دستی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔وزیر اعظم اور اس کی کابینہ کو پارلیمنٹ ہی یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ قومی اور عالمی معاملات کو احسن طریقے سے چلائے،اور پارلیمنٹ کو اس سے آگاہ رکھے،ضروری ہو تو قومی اشوز پر پارلیمنٹ میں بحث بھی روائے۔

صورتحال
ہارون عدیم
وطن عزیز میں بیٹھ کر چیزیں اور طرح سے دکھتی ہیں۔معاملات کی سنگینی کا اس طرح سے ادراک نہیں ہوتاجس طرح دیار غیر میں ہوتا ہے۔ہم جب کل قومی ائیر لائن کی پرواز سے برطانیہ کے شہر مانچسٹر پہنچے تو امیگریشن کارڈ پر ہم نے اپنا پیشہ لکھاری اور کالم نویسی ظاہر کیا۔امیگریشن آفیسرنے ہمارے پاسپورٹ کی جانچ پھٹک کرتے ہوئے ہمارے پیشے کا پڑھتے ہی سوال داغا کہ ہم کس زبان میں کالم لکھتے ہیں۔۔۔؟
ہمارا جواب تھا کہ قومی زبان اردو میں۔اس نے ہمارے چہرے کی جانب دیکھے بغیر دوسرا سوال داغا
کیا ہم بھی کیری لوگر بل کے خلاف ہیں اور کیا پاکستان میں پارلیمنٹ سمیت کسی نے بھی کیری لوگر بل کو پڑھا ہے۔۔۔؟
ہم نے اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کیا کہ کیا ہماری انٹری اس سوال کے جواب سے مشروط ہے؟
وہ مسکرایا اور اس نے پاسپورٹ پر انٹری کی مہر ثبت کر کے ہمیں مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیںمیچتے اور سر کو ہلاتے ہوئے خوش آمدید کہتے ہوئے ہمارا پاسپورٹ ہمارے حوالے کر دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ جب جب ہم ملک سے باہر گئے اور لوگوں کو پتہ چلا کہ ہمارا تعلق صھافت سے ہے تب تب لوگ ایسے ہی چبھتے ہوئے سوال کرتے رہے ہیں۔سامان وصول کرنے والے حصے میں ہم امیگریشن آفیسر کے جملے کی کاٹ سے لگے زخم کو سلاہتے رہے۔ہمیں یہ جان کر خاصی سبکی اور ندامت محسوس ہوئی کہ ماڈرن ورلڈ میں ہمارے بارے میں دنیا کیا سوچتی ہے۔کیا ہم واقعی ان پڑھ اور فہم و فراست سے عاری لوگ ہیں ۔۔۔؟انہیں سوچوں میں الجھے ہوئے تھے کہ ہمارا سامان آ گیا اور ہم کسٹم کے علاقے سے باہر نکل آئے۔ہمیں جو ایک اور حیران کن تجربے سے واسطہ پڑا وہ امیگریشن اور کسٹم والوں کا سلوک تھا۔ہر کسی کو جلدی جلدی داخلے کی مہر لگا کر فارغ کیا جا رہا تھا ،جبکہ کسٹم والے بھی خال خال ہی کسی کو چیک کر رہے تھے ۔ہمارے پاس دو بیگ تھے ہمیں کسی نے بھی نہیں روکا کہ اپنا بیگ چیک کرواو¿،لہٰذا ہم بڑی آسانی سے امیگریشن کے مراحل سے گزرتے ہوئے باہر نکل آئے۔
آج صبح ایک ناشتے کے دوران ہم نے اپنے میزبانوں کوکسی پاکستانی چینل کو دکھانے کی فرمائش کی تو انہوں نے فوراً ہماری خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایک نجی چینل لگا دیا،جس پر محترمہ شیری رحمٰن،نوں لیگ کے مشاہد اللہ خان اور کشمالہ طارق ایک ٹاک شو میں محو گفتگو تھے۔بات ابھی تک این آر او اور کیری لوگر بل پر پھنسی ہوئی ہے،جناب مشاہد اور کشمالہ طارق کا استدلال تھا کہ پی پی پی کی حکومت پارلیمنٹ کو بائی پاس کر رہی ہے اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کے تمام تر دعوے زبانی کلامی ہیں۔اور یہ کہ حکومت نے قوم کی غیرت کا سودا کر کے امریکا کی غلامی میں دے دیا ہے۔اگر ہم پاکستان میں ہوتے تو یقینا ہمارا رد عمل یہ نہ ہوتا بالخصوص امیگریشن آفیسر کے سوال کے تناظر میں ہمیں سوچنا پڑا کہ کیا ہمارا میڈیا اور سیاسی زعماءکب تک دنیا کو گمراہ کریں گے۔پارلیمنٹ کی بالا دستی کو کس غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔پارلیمنٹ کی بالا دستی سے مراد کیا ہے۔آئیں آج اس پر بات ہو جائے۔
جمہوری ملکوں میں پارلیمنٹ عوام کامنتخب کیا ہوا ادارہ ہے۔جو کہ قانون ساز ادارہ بھی ہوتا ہے۔یہ ادارہ باقی تمام قومی اداروں سے سپریم ہوتا ہے۔اس ادارے کا چنا ہوا وزیر اعظم ہاو¿س کا لیڈر ہوتا ہے اور وہ ملکی انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے،وہ ملکی امور چلانے کے لئے پارلیمنٹ سے کابینہ کا نتخاب کرتا ہے جو کہ پارلیمنٹ کی نمائندہ بھی ہوتی ہے۔وزیر اعظم اور اس کی کابینہ پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے اور اسی کو پارلیمنٹ کی بالا دستی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔وزیر اعظم اور اس کی کابینہ کو پارلیمنٹ ہی یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ قومی اور عالمی معاملات کو احسن طریقے سے چلائے،اور پارلیمنٹ کو اس سے آگاہ رکھے،ضروری ہو تو قومی اشوز پر پارلیمنٹ میں بحث بھی کروائے۔
اب معاملہ ہے پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے کا کہ حکومت کیری لوگر بل پر ووٹنگ کرواتی تو یہ مطالبہ قطعا ً نامناسب اور غلط ہے۔جب پارلیمنٹ کی نمائندہ کابینہ نے اس کو پاس کر دیا تو یہ پاس ہو گیا۔کسی بھی جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ قانون سازی کے علاوہ ووٹنگ کروائی جائے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کیری لوگر بل ایک قانون ہے جس پر حکومت نے ووٹنگ نہیں کروائی۔۔۔؟دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا کیری لوگر بل امریکی اور پاکستانی حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ ہے۔۔۔؟ جواب بڑا سادہ ہے کہ نہیں یہ امریکی کانگرس اور ہاو¿س آف کامن نے ایک قانون پاس کیا ہے جس کا اطلاق امریکی انتظامیہ پر ہوتا ہے۔پاکستان چاہے تو اس امداد کو رد کر سکتا ہے۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ اس امداد کو مسترد کر دے۔۔۔؟دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب نواز شریف نے بطور وزیر اعظم ایٹمی دھماکہ کرنے کا فیصلہ کیا تو کیا پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔۔۔؟کیا اس پر بحث ہوئی تھی اور اس پر ووٹنگ کروائی گئی تھی۔۔۔؟ کیا فارن کرنسی اکاو¿نٹس منجمد کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا تھا،کیا موٹر وے بناتے وقت، پاکستانی روپے کی قیمت میں کمی کرتے وقت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور اس پر ووٹنگ کروائی گئی تھی۔۔۔؟ یقینا ایسا نہیں ہوا تھا کیونکہ یہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کا استحقاق تھا ۔مگر حیران کن امر یہ ہے کہ جب خود میاں نواز شریف او ر ان کی پارٹی اپنے دور حکومت میں یہ اہم ترین امور اور اشوز پارلیمنٹ میں لیجائے بغیر کابینہ سے منظور کروا کر ان پر عمل درآمد کرتے رہے ہیں تو پھر اب ان کی طرف سے کیری لوگر بل پر ووٹنگ کے مطالبے کو ما سوائے سازش اور حکومت کو مشکلات میں ڈالنے کے علاوہ کس بات سے تعبیر کیا جائے۔
کیا میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی نے اپنے سابقہ دور اقتدار میں کبھی بھی اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا تھا ۔اب بھی پنجاب حکومت نے جاپان اور چین کی حکومتوں سے کئی ایک منصوبوں کے لئے مالی امداد لی ہے کیا انہوں نے اس پر اسمبلی میں بحث کروائی ہے۔۔۔؟کیا اپوزیشن کو اعتماد میں لیا ہے۔۔۔؟ جواب ہے نہیں۔اسی طرح کیا ق لیگ کی حکومت نے 2007 میں ملنے والی امریکی امداد کی موجودہ کیری لوگر بل سے بھی زیادی شرمناک اور بے غیرتی میں ڈوبی ہوئی شرائط پر پارلیمنٹ میں بحث کروائی تھی۔اس پر ووٹنگ کروائی تھی۔۔۔؟ جواب ہے نہیں۔
لہٰذا ہمیں اپنے پیارے وطن کی محبت میں گرفتار غیرت مند اپوزیشن جماعتوں سے دیار غیر سے ایک عرض کرنی ہے کہ بہت ہو لیا ،وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں نا کہ enough is enough اب قوم کو مزےد ۔۔۔نہ بنائیں۔اصل عوامی مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔مہنگائی،لوڈ شیڈنگ،بے روزگاری،جہالت اور پسماندگی،غربت و افلاس کے خاتمے میں حکومت کی ناکامی کو فوکس کریں۔صوبائی حکومتوں پر دباو¿ ڈالیںکہ وہ ذخیرہ اندوزی،منافع خوری پر قابو پائیںاور چینی کی ترسیل اور عدالت کی طرف سے مقرر کردہ قیمتوں پر حصول کو یقینی بنائیں۔صوبائی حکومتیں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنائیں۔اگر تو یہ سب قومی سیاست کا فوکس ہوتا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ ملکی سیاسی جماعتیں قومی سیاست کر رہی ہیں وگرنہ یہی سمجھا جائے گا کہ حکومت کو الجھایا جا رہا ہے کہ وہ عوامی فلاح کے کام نہ کر پائے اور حکومت کو اس کی آئینی مدت سے پہلے ہی مارشل لاءکے ذیعے چلتا کیا جائے۔اور آخری بات یہ کہ خدا را ایسا مت کریں کہ کل کو کوئی امیگریشن آفیسر یہ سوال بھی کرے کہ کیا پاکستان کے سارے پارلیمنٹیرینز نے آئین کا مطالعہ کیا ہے اور کیا وہ جمہوریت کے معنی بھی جانتے ہیں کہ نہیں۔۔۔؟
Tags: Haroon Adeem , ; column
November 2nd, 2009 · Comments Off
امریکی سیکرٹری خارجہ گزشتہ جمعہ کو اپنا کامیاب پاکستانی دورہ مکمل کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات روانہ ہو گئی یہ دورہ جسے ہر لحاظ سے ایک انتہائی کامیاب دورہ کہا جا سکتا ہے ۔ اس دورہ سے جہاں ہیلری کلنٹن نے امریکہ کا ہر محاز پر بھرپور دفاع کیا وہاں انہوں نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ بلا شبہ امریکہ کے سیاسی عمل میں حصہ لینے والی چاہے خاتون ہو یا مرد انہیںدنیا پر راج کرنے کے سارے راض ونیاز پر بھرپور اعتماد ہے ۔ ہیلری کلنٹن کے ا س سہ روزہ دورے کے پہلے مرحلہ پر اگرچہ پشاور میں اپنی نوعیت کا تباہ کن دھماکہ ہوا جس میں بے گناہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو پندرہ سے تجاوز کر گئی ۔
بلا شبہ ہیلری کلنٹن کے دورہ پاکستان کے موقع پر اس دھماکہ سے عملی طور پر پاکستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی موجودگی کا ثبوت دیا گیا تاکہ دہشت گردی کے حوالہ سے امریکی موقف کی عملی طور پر تائیدوحمایت کی جا سکے ۔ ہیلری کلنٹن نے حکومت ، اپوزیشن اور عسکری قیادت سے لے کر پاکستانی تاجروں ، میڈیا، طلباءاور خواتین سب سے آمنے سامنے ون ٹو ون ملاقاتیں کیں علامہ اقبال اور بادشاہی مسجد کے علاوہ صوفیاءکے مزارات پر حاضری دی اگرچہ ہیلری کے دورہ پاکستان کے دوران امریکہ مخالف مظاہرے بھی ہوئے حسب روایت مگر ہیلری کلنٹن کے امریکی دفاع کے جذبے میںزرا برابر بھی فرق نہیں آیا۔حکومت اور اپوزیشن یا عسکری قیادت سے ملاقات کے علاوہ سیکرٹری خارجہ نے اپنے اس دورہ میںصوفیاءکے مزارات پر حاضری دے کر کیا ثابت کیا ؟خواتین ،تاجروں یا طلباءوطالبات سے ملاقاتیں کر کے پاکستانی قوم کو کیاپیغام دیا ؟ہر تجزیہ نگارنے اپنے اپنے نقطہ نظر سے ہیلری کے اس دورے پر کئی طرح کے تبصرے کیئے جہاں تک میری ذاتی رائے ہے تو شاید ہیلری کلنٹن نے مسلمانوں کے مزارات پر حاضر ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے صوفیاءکی حقیقی تعلیم کو فراموش کر دیا اورمسلم خواتین نے سروں سے چادریں اتار دی ہیں ۔ پاکستان کی حکومت یا سیاستدان ہی امریکی امداد پر انحصار نہیں کرتے بلکہ پاکستانی تاجر بھی اپنی تجارت امریکی امداد کے بغیرآگے بڑھانے کی کسی حکمت عملی کا کوئی منصوبہ یا متبادل نہیں رکھتے طلباءوطالبات سے مخاطب ہو کر ہیلری نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ امریکہ پاکستان کی نوجوان نسل سے بھی دوستی کا رشتہ جوڑ سکتا ہے ۔
کیری لوگر کی وکالت کا فریضہ بھی ہیلری کلنٹن نے منہ توڑ جواب کے طور پر انجام دیا ڈرﺅن حملوں کی امریکی مخالفت کا بھی منہ توڑ جواب دیا بلاشبہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی صرف بناتا ہی نہیں بلکہ اس کے دفاع کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ ہی نہیں بلکہ ہیلری نے امریکہ کی جانب سے موجودہ حکومت کو سوات آپریشن کے نام پر دی جانے والی تیس ملین ڈالر کی امداد کے خرد بردہونے کا الزام بھی واشگاف الفاظ میںپاکستانی حکومت پر عائد کر تے ہوئے تقریب کی شرکاءخواتین سے ووٹنگ بھی کروائی کے کتنے پاکستانی شہریوں کو امریکہ کی جانب سے دی جانے والی اس امداد کا علم ہے تو شاید شرکاءمیں سے پانچ خواتین نے ہاتھ کھڑا کیا گویا دوسرے لفظوں میں انہوں نے کیری لوگر بل میںعائد کردہ امدادی شرائط کی اہمیت و افادیت کی وضاحت بھی کر دی کہبلا شبہ پاکستان کو دی جانے والی امداد پاکستانی عوام پر خرچ نہیںہوتی پاکستان کی موجودہ حکومت کےلئے بلخصوص اورپاکستانی سیاستدانوں اور سابق حکمرانوں بشمول عسکری قیادت کےلئے ہیلری کلنٹن کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے لہذا پاکستان میں امریکہ مخالف مظاہرے کرنے والوں کو اس امریکی امداد کے خرد برد پر بھی ملک گیر مظاہرے کرنے چاہیے کے وہ تیس ملین ڈالر کی امداد متاثرین سوات تک کیوں نہیں پہنچ پائی ۔امریکہ کی جانب سے پاکستان میں القاعدہ کی موجودگی کا ثبوت بھی ہیلری کلنٹن کے اس دورہ کے دوران اس وقت سامنے آیا جب ان کی موجودگی میںجنوبی وزیرستان سے جرمن اور سپنش پاسپورٹ برآمد ہوئے اور ان افراد کا تعلق نائن الیون کے حملہ آور وں سے بتایا گیا جن کی تصاویر اور پاسپورٹ نمبرات اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی انٹر پول لسٹ میں موجود ہیں۔ان میں ایک پاسپورٹ کا صرف ایک نمبر مذکورہ لسٹ میں موجود نمبرات سے نہیں ملتا جبکہ تصاویر کے بارے میں تصدیق ہو چکی ہے کہ وہ انہی افراد کی ہیں جو امریکہ کو نائن الیون میں مطلوب ہیں۔ جرمن پاسپورٹ کا نمبرL864Z163 جبکہ سپنش پاسپورٹ کا نمبر P099823 بتائے گئے ہیں ۔ گویا ہیلری کے دورہ پاکستان کے دوران پشاور دھماکے نے بھی دہشت گردی کے امریکی مﺅقف کی عملی طور پر تائید و حمایت کر دی کہ واقعی القاعدہ جنوبی وزیرستان میں موجود ہے ۔ تھا اور رہاہے ۔ہیلری کے پاکستان میںموجودگی کے وقت ان پاسپورٹ کی برآمدگی کا شاید ایک مقصد یہ بھی ہوا ہو کہ امریکی وزیر خارجہ پاک آرمی کے اس کارنامہ پر کسی بڑے مالی امداد کا اعلان کردیں گویا ڈرﺅن حملوں سے لے کر کیری لوگر بل اور دہشت گردوں کی پاکستان میں موجودگی کا اہم اعتراف بطور ثبوت ہیلری کے اس سہ روزہ پاکستانی دورے کے وقت سامنے آنا کیا کئی محاذوں پر امریکی موقف کی صداقت کا باعث نہیں بنا ۔کیا امریکی امداد کا خرد برد پاکستان کی ماضی اور حال کی حکومتوں پر صحیح ثابت نہیںہوا ۔؟
اگر امداد دینے والے سرے عام اس کے اجراءاور خرد برد کا رونا رو رہے ہیںتو کیا یہ سب جھوٹ ہے ؟کونسے پاکستانی حکمران و سیاستدان ہیں وہ جو اپنی قوم کے نام پرحاصل کردہ یہ امریکی امداد ایک طویل عرصہ سے خرد برد کرتے چلے آرہے ہیں۔ ؟کیاامریکہ سے سول یافوجی امداد کی درخواست پاکستان کی ماضی کی فوجی یا سول حکومتیں بشمول موجودہ حکومت کے نہیں کرتی چلی آرہی ہیں ؟یا امریکہ کو خود پتہ ہے کہ پاکستان کو فلاں فلاں کاموں میںامریکی امداد مطلوب ہے اگر امداد دینے والا آپ کے گھر میں بیٹھ کر واضح کہہ رہا ہے کہ اتنی امداد دی گئی اور وہ بھی پاکستانی حکمرانوں نے اپنی عوام کی بہتری پر خرچ نہیں کی تو چور دینے والا ہوا یا لینے والا ۔شاید سابق صدر مشرف نے این آر او کا آرڈیننس ہیلری کے مذکورہ بیان کے خدشہ کے پیش نظر ہی جاری کیا تھا۔ ہیلری کلنٹن نے اس دورے میں اعتراف کیا کہ پاکستان میں آمروں کی حمایت غلطی تھی اب برائے راست پاکستانی عوام پر سرمایہ کاری کریںگے ۔ہیلری کلنٹن نے نجی امریکی ایجنسیوں کی پاکستان میں موجودگی پاکستان کے سکیورٹی نقطہ نظر کو اہم قرار دیاجبکہ انہوں نے بلیک واٹر کی موجودگی کی قطعی کوئی ترید نہیں کی امریکی وزیرخارجہ نے ڈراﺅن حملوں کی جس شاندار الفاظ میں دفاعی حکمت عملی کا اس دورے کے دوران جواب دیا وہ ان کی سیاسی حاضر دماغی کی کمال ماہرت ہے کہ ڈرﺅن حملوں پر حتمی فیصلہ دونوں ممالک کی فوجی قیادت کرے گی کیونکہ امریکہ سسٹم میں تمام ادارے خود مختار ہوتے ہیں ۔ اور کوئی ایک ادارہ کسی دوسرے ادارے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا دنیا پر راج کرنے کے چند سیاسی وانتظامی اصولوں میں امریکہ کا ایک یہ بھی نمایاں اصول ہے ۔بہرحال ہیلری کلنٹن کے اس دورہ نے ایک بار پھر ثابت کر دیاکہ امریکہ کے نزدیک اس کا ذاتی مفاد ہی شروع دن سے اولیت رکھتا ہے اور یہی امریکہ کی خارجہ پالیسی کا نمایاں اصول ہے ۔
Tags: Khurshid Zaman , ; column
ہری پور۔(یونس مجاز سے) ہری پور کے علاقے ملکیار میں پولیس موبائل پر فائرنگ سے 3 کانسٹیبل جاں بحق اور اے ایس آئی سمیت 2 اہلکار زخمی ہو گئے ۔ پولیس کے مطابق ہری پور میں پولیس موبائل معمول کے گشت پر تھی کہ ملکیار کے علاقے میں نا معلوم افراد نے موبائل پرفائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں کانسٹیبل عمران نیاز اور عظمت رشید موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک اے ایس آئی اور کانسٹیبل زخمی ہو گئے ۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او ہری پور سمیت پولیس کی بھارتی نفری موقع پر پہنچ گئی اور ملزمان کی تلاش کے لے سرچ آپریشن شروع کر دیا ۔ پولیس کے مطابق اس علاقے سے 3 روز قبل ایک افغان دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا تھا
Tags: news
لڑائی میں اتحادی فوج کی کامیابی کے اثرات روشن نہ ہوئے تو امریکی عوام میں بھی افغان جنگ کی حمایت ختم ہو جائے گی ، امریکی وزیر دفاع کا انٹرویو
واشنگٹن ۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں جاری لڑائی میں بدستور طالبان کا پلڑا بھاری ہے اور امریکی فوج کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اگر لڑائی میں اتحادی فوج کی کامیابی کے امکانات روشن نہ ہوئے تو امریکی عوام میں افغان جنگ کی حمایت بھی ختم ہو جائے گی ۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ طالبان افغانستان میں اپنے زیر اثر علاقوں پر اقتدار قائم رکھنے کے لیے با آسانی اتحادی افواج کو بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ رابرٹ گیٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی عوام میں افغان جنگ کی حمایت صرف اسی صو رت میں ہی برقرار رہے گی جب وہ یہ دیکھیں گے کہ امریکی فوج طالبان کے خلاف کامیابیاں حاصل کر رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر افغانستان میں امریکی فوج اسی رفتار سے مرتے رہے تو عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا۔
Tags: news
آئین پاکستان کے تحت متاثرین ملک کے کسی بھی حصے میں جا سکتے ہیں
پاک بھارت تصفیہ طلب مسائل میں کشمیر کور ایشو ہے
کسانوں اور کاشتکاروں کی سفارشات کو مد نظر رکھتے ہوئے زرعی پالیسی بنائی جائیگی
یوسف رضا گیلانی کا کسان کنونشن سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو
اسلام آباد۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مالاکنڈ ڈویژن کو آفت زدہ علاقہ قرار دیتے ہوئے تمام قرضے معاف کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت متاثرین ملک کے کسی بھی حصے میں جا سکتے ہیں پاک بھارت تصفیہ طلب مسائل میں مسئلہ کشمیر کور ایشو ہے ۔ کسانوں اور کاشتکاروں کی سفارشات کو مد نظر رکھتے ہوئے زرعی پالیسی بنائی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں کسان کنونشن سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کسانوں اورپاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان چولی دامن کا ساتھ ہے پیپلزپارٹی جب بھی برسراقتدار آئی کسان دوست پالیسی اختیار کی گئی وزیراعظم نے کہا کہ پوری دنیا کو خوراک کے بحران کا سامنا رہا ۔ پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا ۔ ہم نے اپنی معیشت کو زراعت کی طرف منتقل کردیا ہے جب باگ دوڑ سنبھالی تو گندم کی 450 سپورٹ پرائس کو بڑھا کر 625 روپے سے ایک سال میں 950 روپے کردیا ۔ گندم کی درآمد کی وجہ سے دنیا میں ملک کی تذلیل ہو رہی تھی۔زرعی ملک ہونے کے باوجود دنیا سے گندم مانگ رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ گندم درآمد کرنے کے حوالے سے یہ سبسڈی اپنے کسانوں کو دینے کا فیصلہ کیا زراعت پر بھرپور توجہد ی جا رہی ہے یہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے نئی زرعی پالیسی کے بارے میں چاروں صوبوں کو بھی اعتماد میںل یا جائے گا کیونکہ زراعت صوبائی معاملہ ہے ۔ ملک میں کوآپریٹو فارمنگ کو فروغ دیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ آبی وسائل کی ترقی کے حوالے سے حکومت کے موثر اقدامات کئے ہیں ۔ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے جامع ٹھوس پلاننگ کی ہے۔ ہر ماہ نئے پلانٹ کا افتتاح کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر سمیت ملک بھر کے عوام ہمارے بھائی ہیں ۔ پانی کی قلت آ سکتی ہے۔ ہم نے ڈیمز بنانے ہیں سب پلاننگ کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ رقبہ زیر کاشت آ جائے ۔ فصلوں کی انشورنس شروع کر دی گئی ہے ۔ سستے ٹریکٹر کی فراہمی کی سکیم بھی شروع ہے ۔قرضوں کے حوالے سے پانچ سالہ پروگرام شروع کیا ہے جس کے آسان شرائط پر تین سالہ قرضے دئیے جائیں ۔ ڈیری کو فروع دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ بلوچستان بہت زیادہ پسماندہ صوبہ ہے ۔ پاکستان کے لیے اس صوبے نے بہت قربانیاں دی ہیں ۔ احساس محرومی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اے پی سی کے حوالے سے پارٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔ تمام ہوم ورک مکمل کر کے اے پی سی بلائی جائے گی ۔ انہوں نے زرعی شعبہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرے کرنے والے کسانوں میں ٹریکٹرز کی تقسیم کا اعلان کیا ۔کنونشن میں شریک کسانوں کے مطالبے پر وزیر اعظم نے کہاکہ آزاد کشمیر میں زرعی تحقیقاتی مرکز ، قائم کیا جائے۔ مینگو ، کینو ، کھجور کی گریڈنگ اور پروسیسنگ کے لیے خاطر خواہ سہولتیں فراہم کی جائیں۔ وزیر اعظم نے ملا کنڈ ڈویژن کو آفت زدہ علاقہ قرار دیتے ہوئے زرعی اور دیگر تمام قرضے معاف کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں نے شر پسندوں کی وجہ سے نقل مکانی کی ہے ملک کا کل بہتر بنانے کے لیے قربانی دی ہے ۔ انہوں نے متاثرین ملاکنڈ ڈویژن کی کھیتوں میں تیار فصلوں کے حوالے سے سپیشل سپورٹ پروگرام کو خصوصی انتظامات کرنے اور ان فصلوں کے معاوضوں کی ادائیگی کی بھی ہدایت کی ۔ کسان کنونشن کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ سوات اور مالا کنڈ سے نقل مکانی کرنے والے افراد آئین کے تحت کہیں بھی جا سکتے ہیں۔ جہاں جہاں ان کے عزیز موجود ہیں ۔ وہاں لوگ گئے ہیں ۔ ہم صرف ان کی رجسٹریشن اس لیے کر رہے ہیں تاکہ ان کی مدد اور تعمیر نو کے لیے ان سے رابطہ کرنے میں آسانی ہو ۔ انہوں نے کہاکہ ہم بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر نقل مکانی کرنے والے افراد کی مدد کریں ۔ زرعی ٹیکس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ ابھی اس پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہو گا۔ اس حوالے سے میں پہلے وزارت خزانہ اور مشیر خزانہ سے مشاورت کروں گا پھر کوئی بات کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں بھارت کی نئی حکومت اور وزیر اعظم من موہن سنگھ کو دوسری بار منتخب ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں ۔ ہم افغانستان ، ایران اور بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تمام ایشوز پر امن طور پر حل ہونے چاہےئں جن میں مسئلہ کشمیر کو ایشو ہے
Tags: news