November 7th, 2009 · Comments Off

ضمےر آفاقی
عوام کی آواز
ملا ،ملٹری اور مسلم لےگوں کی تکون
ضمیر آفاقی
عوام کی آواز
ملا ،ملٹری اور مسلم لیگوں کی تکون
گلشن کے کاروبار مےں اےک بار پھر آگ لگانے کی کوششےں عروج پر ہےں اور افواہ ساز فےکٹرےوں مےں لوڈ شےڈنگ کے باوجود چوبےس گھنٹے کام جاری ہے ، پاکستان دنےا کے تقرےباً اڑھائی سو ممالک مےں واحد اےسا ملک ہے جہاں جب جمہورےت ہوتی ہے تو خاکےوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ حضور گلشن کاروبار آپ سے زےادا بہتر طرےقے سے کوئی نہےں چلا سکتا اور جب وہ آجاتے ہےں تو پوری قوم چند ہی مہےنوں مےں ان سے بھی اوازار ہو جاتی ہے اور پھر جمہورےت کے فےض و برکات گنوائے جاتے ہےں اس کام مےں چند رےٹائر جنرل اور جہمورےت کے خدا وسطے کی بےری تجزےہ نگار،کالم نوےس ، اےنکر پرسن اور عوام کی جانب سے مسترد سےاستدان اور مذہبی راہنما پےش پےش ہوتے ہےں سرگوشےوں مےں اےک افواہ ےہ بھی پاس اون کی جا رہی ہے کہ صدر آصف زرداری نے ےہ کہا ہے کہ ’ایوان صدر سے میری لاش ہی جائے گی۔‘ ممکن ہے آصف زرداری کے وہم و گمان مےں بھی ےہ بات نہ ہو مگر کےا کےجےے ان کے شخصی تاثر جو بنا دےا گےا ہے کے پس منظرمیں یہ جملہ قبولیت کی سند لیے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں گردش کر رہا ہے۔صحافےوں کو تو اللہ دئے۔بہر حال ملک کی موجودہ سےاسی کشمکش کے پس پردہ وجوہات کبھی چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع بیان کی جاتی ہےں تو کبھی شیخ رشید سمیت بعض سیاستدان اورمبصر کہتے ہیں کہ تعلقات کی خرابی کا آغاز کیری لوگر بل میں ہونے والی شرائط سے شروع ہوا۔ امریکی امدادی پیکج پر مبنی کیری لوگر بل میں فوج کی سیاسی معاملات میں عدم مداخلت کی شرط بھی شامل ہے۔ کےا ےہی سچ ہے؟ ےا صرف مہم جوئی کی خواہش رکھنے والوں کا افترا ہے بات بہر حال جو بھی ہو افواہےں تھوک کے حساب سے پھےلائی جا رہی ہےں۔پاکستان پےپلز پارٹی کی حکومت جب بھی آتی ہے تو جہمورےت مےں کےڑئے کےوں نظر آتے ہےں اصل مےں اس سوال کا جواب ڈھنونڈنا ضروری ہے ،بےن الاقومی ذرائع ابلاغ کی اس رپورٹ کو دےکھنے کے بعد شائد اس سوال کا جواب مل جائے جس مےں بتاےا گےا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سکیورٹی اسٹیبلشمینٹ کی لڑائی کی کہانی تقریباً تین عشروں پر محیط ہے اور اس لڑائی میں تاحال نقصان پیپلز پارٹی کو ہی اٹھانا پڑا ہے۔ چاہے وہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہو یا ان کے دو بیٹوں مرتضیٰ اور شاہنواز یا پھر ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کی ’سٹیٹ آف دی آرٹ‘ منصوبہ سازی سے قتل کی کہانیاں۔لیکن تاحال ایک بات ضرور ہوئی ہے کہ اس ملک کی ’غریب، بھوکی اور ان پڑھ‘ عوام نے پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا اور پانچ مرتبہ اس جماعت کو اقتدار کے ایوانوں میں اپنے کندھوں پر بٹھا کر پہنچایا۔گلگت سے گوادر اور کشمیر سے کراچی تک ملک کے کونے کونے میں اس جماعت کے حامی آج بھی نمایاں طور پر پائے جاتے ہیں اور ایسی سیاسی حمایت آج تک کسی جماعت کو نصیب نہیں ہوسکی۔ویسے تو پیپلز پارٹی کی قیادت پر بھی الزام لگتا ہے کہ وہ بھی سٹیبلشمینٹ کے گھوڑے پر سوار ہوکر اقتداری ایوانوں میں پہنچے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے ساتھ ان کا نبھاو¿ زیادہ دیر تک نہیں ہوسکا اور جیسے ہی پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت بنی تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیشہ سے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی اتحاد بنا کر اس جماعت کا راستہ روکنا پڑا اور اس عمل میں انہیں ایم کیو ایم اور مسلم لیگ جیسے گروہوں کو بھی تخلیق کرنا پڑا۔عین وقت پر متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ’این آر او‘ کے معاملے پر جس طرح صدر آصف علی زرداری کو جھٹکا دیا گیا ہے اس سے ان کی آنکھیں کھل جانی چاہیں اور ان کے ساتھ کوئی مہنگا سودا کرنے کے بجائے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اپنی مرحومہ لیڈر کے وعدے وفا کرنا زیادہ سود مند ثابت ہوگا۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے جن کو بوتل میں بند کرنے کا اگر یہ موقع گنوا دےا گیا تو شاید ہی انہیں مستقبل میں ایسا موقع نصیب ہوجب وقت کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) سیاسی قوتیں بنیں تو انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو ’بلینک چیک’ دینا بند کیا تو ان کے خالق نے انہیں توڑنے کی کوشش کی لیکن دونوں جماعتوں کی قیادت کی بالغ نظری کی وجہ سے یہ جماعتیں ٹوٹ پھوٹ کے تمام مراحل طے کرنے کے بعد بھی ملک کی قابل ذکر سیاسی قوتیں بنیں۔ جس کے بعد سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو مسلم لیگ (ق) کو اپنے بدن سے جنم دینا پڑا۔ دو بڑی عوامی حمایت رکھنے والی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف جلاوطن ہو گئے اور جلا وطنی میں بیٹھ کر ا±ن دونوں زیرک سیاستدانوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔ میثاق جمہوریت سے پاکستان میں ایک نئے سیاسی کلچر پنپنے کی امید پیدا ہوئی کیونکہ دونوں نے محسوس کیا کہ انہیں پاکستان کی اسٹیبلشمینٹ نے ’لڑاو¿ اور حکومت کرو‘ کے اصول کے تحت استعمال کیا ہے۔میثاق جمہوریت پر دونوں بڑی جماعتوں کے اتفاق نے اسٹیبلشمینٹ کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں کیونکہ اس دستاویز کی بنیادی روح یہ ہے کہ پاکستان میں پارلیمان کو بالادست ادارہ بنانا ہے اور دنیا کے مہذب ممالک کی طرح فوج سمیت تمام اداروں کو پارلیمان کا ماتحت بنانا ہے۔ ساٹھ سال سے پاکستان میں سیاہ و سفید کی مالک اسٹیبلشمینٹ یہ کیسے قبول کرتی اور انہوں نے اپنی چالیں چلنا شروع کیں۔اس دوران بینظیر بھٹو کا قتل ہوگیا جس کا الزام پرویز مشرف کی حکومت نے بیت اللہ محسود پر عائد کیا۔ جس کے بعد انتخابات ہوئے اور اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اکٹھے حکومت بنائی اور میثاق جمہوریت کے جذبے کے تحت مسلم لیگ (ن) کے وزراء نے پرویز مشرف کے ہاتھوں حلف اٹھایا۔ دونوں جماعتوں نے مل کر پرویز مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا اور راستہ صاف ہوتے ہی آصف علی زرداری کے صدر بننے کی خواہش اور پرویز مشرف کے برطرف کردہ ججوں کو بحال نہ کرنے پر دونوں جماعتوں میں اختلافات شروع ہوگئے۔دونوں میں اختلافات کی چنگاری کو اسٹیبلشمینٹ نے پھونکیں مار مار کر اس نہج پر پہنچایا کہ فروری میں اقتدار کے نشے میں چ±ور صدر آصف علی زرداری نے میاں برادران کو نا اہل قرار دلوا کر پنجاب میں گورنر راج نافذ کر دیا۔ ایسے میں اسٹیبلشمینٹ کو یقین ہوچلا ہے کہ اب دونوں میں دوبارہ رفاقت ممکن نہیں۔اب کی بار کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر زرداری کے لیے یہ آخری موقع ہے کہ وہ کوئی چال چلنے کے بجائے سترہویں ترمیم کے خاتمے اور میثاق جمہوریت پر اس کی روح کے مطابق فوری عمل کریں تو وہ ایوان صدر کی مسند پر آئندہ بھی بیٹھے رہیں گے
اس دوران کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمینٹ کو پارلیمان کے طابع کرنے کے لیے صدر آصف علی زرداری نے ملک کی ایک مقبول جماعت مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کر امریکہ پر انحصار کیا۔جس سے اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ (ن) میں قربت کی راہ ہموار ہوئی۔ لیکن تاحال مسلم لیگ (ن) نے اپنے پتے بڑی سمجھداری سے کھیلے ہیں اور کیری لوگر بل کی مخالفت سمیت کچھ معاملات میں محدود پیمانے پر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہوئے بھی اپنا بھرم برقرار رکھا ہے اور ججوں کی بحالی سمیت بعض معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کو استعمال سے فائدہ زیادہ حاصل کیا ہے۔بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے پر پیپلز پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ سے اب کی بار شروع ہونے والے اختلافات اب اس نہج پر پہنچے ہیں جہاں آئین کے مطابق جمہوری انداز سے منتخب ہونے والے صدر کو ایک سال میں نکالنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی میں فریق تو مسلم لیگ (ن) بھی تھی جسے صدر آصف علی زرداری نے خود ہی دور کردیا۔ لیکن آج انہیں اس بات کا احساس اور پختہ یقین ہوا ہوگا کہ یہ لڑائی پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) دونوں اکیلے طور پر شاید ہی لڑ سکیں۔اس بات کا اداراک مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی بخوبی ہے اور وہ نا اہلی کے گھاو¿ کے بعد بھی بظاہر ان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ جس کی ایک اہم وجہ بعض مبصرین کی نظر میں تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی ختم کرانا بھی ہوسکتا ہے۔لیکن صدر زرداری کو جو یہ ڈر ہے کہ سترہویں ترمیم کے خاتمے سے جیسے ہی میاں نواز شریف کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوگی تو وہ انہیں چاروں شانوں چت کرنے میں دیر نہیں کریں گے، وہ ڈر اب ختم کرنا ہوگا اور ان پر بھروسہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ان کے پاس اور کوئی پائیدار ’آپشن‘ بھی نہیں بچا۔ اورم±لا،ملٹری، مسلم لیگیں اور میڈیا کے بعض مجاہدین ان کے خلاف متحد ہوچکے ہیں۔ ماضی مےں جو ہو چکا اسے بھول کر دونوں بڑی جماعتوں کو اےک دوسرے کا ساتھ اس لئے بھی دےنا چاہےے کہ اسی اتحاد مےں ان کی سلامتی بھی ہے ،مےاں نواز شرےف کو بروقت اس بات کا ادراک ہونا ان کی بالغ نظری کا ثبوت ہے امےد ہے صدر مملکت اور پےپلز پارٹی بھی بالغ نطری کا مظاہرہ کرےں تاکہ ملا ملٹری اور مسلم لےگوں کی تکون نہ بن سکے۔
Tags: column , ; zameer afaqi
November 7th, 2009 · Comments Off
پاکستان۔۔۔۔۔کس کی ذمہ داری ہے؟
ربےعہ عالےہ خان۔۔اےڈووکےٹ ہائی کورٹ لاہور
نقطہ ظر
ربیعہ عالیہ خان۔۔ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور
نقطہ نظر
اب تو اخبارات پڑھتے اور ٹی وی چےنلز پر خبرےں سنتے ڈر سا لگنے لگا ہے۔ڈر اس بات کا نہےں کہ ہمےں مختلف حادثات کا سامنا رہتا ہے کےونکہ حادثات تو انسان کے بس مےں نہےں ہوتے ےہ تو خدا کی طرف سے آتے ہےں ڈر تو اس بات کا رہتا ہے کہ آج ہمارے قابل حکمران کےا نےا گل کھلانے والے ہےں۔آج ےہ قابل سپوت اےسا کےا فےصلہ کرنے والے ہےں جو وطن عزےز کو مزےد اےک جھٹکا اوردے گامےں ےہ سوچ رہی ہوں کہ سبھی اخبارات اےک جےسے اخبارات اور بےانات سے بھرے ہوئے ہےں فرق صرف الفاظ کا اور نماےاں نظر آتی سرخےوں کا ہے ۔وہی اےک جےسے موقف وہی تائےد و تردےد وہی تنقےد وہی اےک دوسرے کے خلاف زہر اگلتے بےانات۔مےں ےہ سوچ رہی ہوں کےا ضروری ہے ہم ہر وقت مشرف کو کوستے رہےں؟ آج اےک نئی بات ہمارے قابل سپوتوں نے سوچی ہے اور وہ ہے ہفتے مےں دو چھٹےوں کا فےصلہ اس سے پہلے وقت اےک گھنٹے آگے کر دےا گےا تھا ےہ بات کہتے ہوئے کہ انرجی کو بچانے کا بہترےن طرےقہ ہے۔ےہ طرےقے بھی ہمارے حکمران ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہےں ہمارے تو پلے کچھ پڑتا نہےںاب دو چھٹےوں کا شوشہ چھوڑ دےا گےا ہے ہمارے جےسے ترقی پذےر ملک مےں دو چھٹےاں بہت بہترےن فےصلہ ہے۔درحقےقت ہمارے ان حکمرانوں کو سمجھ نہےں آرہی کہ اتنے دھماکے بھی ہو رہے ہےں بجلی کا بحران بھی پےدا کےا عوام پر ہر ضرورت تنگ کر کے بھی دےکھ لےا ےہ تو بڑی ڈھےٹ قوم ہے مرتی ہی نہےں تو چلو اپنے آقاو¾ں کو خوش کرنے کے لئے اس ملک کے عوام کو چھٹےوں پر لگا کر ان کو بلکل ناکارہ بنا دےتے ہےںجب صنعتےں بند ہو جائےں گی دفاتر بند ہوں گے اسکول تو پہلے سے ہی بند کر دئےے گئے ہےں تو ملک کا نظام تو خود ہی بند ہو جائے گا۔اب ان کے لئے اپنے آقاﺅں کو خوش کرنا کوئی مس¾لہ نہےں رہے گا۔اب ان قابل سپوتوں نے گےس کی لوڈ شےڈنگ کا اعلان بھی کر دےا ہے مےں نے اِن لوگوں کو کبھی کسی معاشی مسئلہ کو سلجھاتے نہےں سنا ےہ صرف اور صرف کےری لوگر بل کا دفاع کرتے ہےںاپنے کارنامے بتاتے ہوئے عوام کو بس تنبےہ کرتے ہےں کہ محتاط ہو جائےں آپ پر مزےد دھماکے ہونے والے ہےں اور دھماکے ہو بھی جاتے ہےں مگران کو روکنے کا کوئی سد باب نہےں کےا جاتا۔ےہ اس دربان کی طرح ہےں جب تک امرےکہ ان کے کے مونہہ مےں ڈالر ڈالتا رہے گا ےہ ملک کا سودا بھی کرتے رہےں گے اور امرےکہ کے گن بھی گاتے رہےں گے۔مےں سبھی سے اےک سوال کرنا چاہتی ہوں کہ ےہ ملک کِس کا ہے؟ےہ ملک کس کی ذمہ داری ہے؟ےقےنا جواب ہو گا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔۔۔لےکن ےہ بات تو صرف کہنے کی سننے کی حد تک صحےح ہے۔ےہ ملک نہ سےاستدانوں کا ہے نہ بےوروکرےٹس کا جو ا پنی بڑی بڑی گاڑےوں مےں ےا تو گھومتے رہتے ہےں ےا بےرون ملک کے دورے کرتے ہےں۔ےہ ملک ہے تو صرف غرےبوں کا محنت کشوں کا جن کا خون اور حلال کا پےسہ اس ملک کو ابھی تک بچائے ہوئے ہے۔لمبی لمبی گاڑےوں مےں سفر کرنے والے بےرون ملک عےاشےاں کرنے والے اس ملک کے لئے کےا درد رکھےں گے۔مےں جانتی ہوں مےرا لہجہ کڑوا اور قلم کی دھار تےز ہوتی جا رہی ہے لےکن جو کچھ بھی کہہ رہی ہوں ےہ وہ حقےقت ہے جس سے ہم نظرےں تو چرا سکتے ہےں لےکن اِسے غلط نہےں کہہ سکتے۔بہت آسان ہوتا ہے اخبارات کی شہہ سرخےوں مےں رہنا،باتوں کے لمبے لمبے تےر چھوڑنا،ہمےں اقتدار دو ہم ےہ کر دےں گے ہم وہ کر دےں گے،لمبی لمبی پرےس کانفرنس بڑے بڑے بےانات،عوام ہمارا ساتھ دےں ہم دنےا بدل دےں گےااقتدار کی بھوک نہ جانے اور کےا قربانی لے گی۔عوام تو پہلے ہی اِن کی لوٹ مار کا قرض اتار رہی ہے وہ تو غربت اور مہنگائی مےں پِس رہی ہے وہ تو دھشت گردی کا شکار ہے تو ےہ بار بار عوام کو سڑکوں پر لانے کی بات کےوں کر رہے ہےں؟عوام کو سڑکوں پر ضرور آنا چاہےے تاکہ ان ظالم لوگوں کوملک بدر کر دےا جائے تاکہ کبھی بھول کر بھی کوئی ہمارے ملک کا برا نہ سوچ سکے۔کتنا پےار ہے اِنہےں عوام سے، وہ تو دو سال مےں عوام نے دےکھ ہی لےا ہو گا اب تو وقت ہے عملی مظاہرہ کرنے کا۔کوئی اِن سے پوچھے کہ عوام تو پہلے ہی سڑک پر آ چکے ہےں ےہ اب اور کےا چاہتے ہےں؟پاکستان مفاد پرست لوگوں سے گِھر گےا ہے۔ جس ملک مےں اےن آر او جےسے غےر قانونی بل کو منظور کروانے کی جدوجہد کی جا رہی ہے تاکہ اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالا جا سکے اس ملک کا کیا حال ہو گا۔ ہر شخص ےہاں اقتدار کے لئے بھاگ رہا ہے ڈالر کی ہوس حکمرانوں کو دےوانہ بنائے ہوئے ہے۔اپنے پرائے کی پہچان ختم ہو چکی ہے لالچ مادہ پرستی ہماری حکومت کا حصہ بن چکی ہے اےک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکا جا رہا ہے جس کو جہاں موقع ملتا ہے وہاں دوسرے کا حق مار لےتا ہے۔ہم نے کبھی سوچا ہے ہمارا معاشرہ کِس اخلاقی گندگی کی دلدل مےں ڈبوےا جا رہا ہے۔ےہ سب برائےاں انگرےزوں مےں نہےں امرےکنوں مےں نہےں صرف ہم مےں ہےں جو خود کو پاکستانی حکمران کہلاتے ہےں پر۔۔ان حکمرانوں نے اپنے ملک کو بدنامی کے سوا کچھ نہےں دےا،انہوں نے اِس ملک کو صرف نوچ نوچ کے کھاےا ہے نہ صرف کھاےا ہے بلکہ اِس کے دامن کو بھی بھری دنےا کے سامنے داغدار کر دےا ہے۔ہمارا ملک پاکستان عالمی دنےا کے سامنے اپنا وقار کھو چکا ہے،سر سبز مےدانوں کا ملک چاندی جےسی چمکتی فصلےں،جھومتے پھول،درےاﺅں اور سنہری پہاڑوں کی سرزمےن تھی ےہ لےکن ہم نے اِسے دھشت گردی کا ٹھکانا بنا دےا ۔آج ملک کی فضا سوگوار ہے خوبصورت وادےاں لہو رنگ ہےں،آج ہم سب اےک دوسرے کو موردِ الزام ٹہرارہے ہےں کوئی سابقہ حکومت کو کوس رہا ہے تو کوئی امرےکہ کو برا کہہ رہا ہے کوئی افغانستان کی طرف اِشارہ کرتا ہے تو کوئی انڈےا کا اِشارہ دےتا ہے،لےکن کےا کِسی مےں اِتنی ہمت ہے کہ وہ آئےنہ کی سامنے کھڑے ہو کر خود اپنا محاسبہ کر سکے۔کےاصدر آصف علی زرداری ،رحمان ملک، پروےز مشرف، شوکت عزےزاور بھی ان جےسے لوگ کےا اپنی غلط پالےسےوں کا اعتراف کر سکتے ہےں؟آج ملک مےں بجلی نہےں ہے چےنی کا بحران ہے گےس بند کر دی گئی ہے تو عام آدمی نے کےسے جےنا ہے؟ان حکمرانوں نے اس ملک کو خسارے کے سوا کچھ نہےں دےاکےا انہوں نے اپنا کردار صحےح سے نبھاےاان پر جو معاشرتی ذمہ دارےاں تھےںان مےں سے کوئی اےک بھی پوری کی؟جو حکمران اپنے عےش و عشرت نہےں چھوڑتے وہ ملک کا دفاع کےسے کر سکتے ہےں ۔حکمرانوں کی کمزورےاں ملک کو کمزور کرتی ہےں۔اپنے ملک سے پےار کرےں معاشرے کی برائےوں کو بری نظر سے دےکھےں۔ دوست کون ہے دشمن کون اس کی پہچان کےجےے پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اسے دشمنوں سے محفوظ رکھےں۔آمےن
Tags: Rabia Alia , ; column
November 7th, 2009 · Comments Off
سوچ کے پَر
ڈاکٹر اشفاق رحمانی

سوچ کے پَر
ڈاکٹر اشفاق رحمانی
انجےنئرنگ ےونےورسٹی لاہور کا ” چرخی گےٹ“
لمحہ لمحہ بدلتی دنےا،بدلتے حالات مےں پاکستان کو بھی انتہائی مشکلات اور تبدےلےوں کا سامنا ہے۔خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد مےں شامل پاکستان نے دنےا کو امن و سلامتی کا خطہ بنانے کے لےے جو قربانےاں دی ہےں وہ بے مثال ہےں،مگر اس جنگ کی بنا پر پاکستان کو بے پناہ مسائل اور مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ مذہب کے نام پر اےک مخصوص فرقہ ( جس کا بحرحال اسلام سے کو ئی تعلق نہےں) لباسی طور پر ظاہراََ طالبان نامی گروپ کے روپ مےں اپنی پُر تشدد اور تخرےب کارانہ کارروائےوں سے پورے ملک کو ےرغمال بنا رکھا ہے ۔ جہاں سووےت ےونےن کے ساتھ ٹکراو کے بعد ”فاتح“ اور ساتھ ہی کشمےر محاذ پر غازی اس گروہ کے کچھ ارکان اب وزےرستان مےں مذہب کا نام استعمال کر کے سےاسی مقاصد کے لےے استعمال کر رہا ہے وہاں ےہ ” غازی“ پاکستان مےں رےاست کے اندر ےاست کا خواب بھی دےکھنے لگے تھے۔”تعلیمی اداروں کے بعد“ کے عنوان سے گذشتہ سے پےوستہ کالم شائع ہونے کے بعد نوجوان نسل کی ہونہار نمائندہ قدسےہ شہزادیUET سے لکھتی ہےں کہ” ڈاکٹر رحمانی صاحب،جہاں ملک بھر مےں رےاستی اور سکےورٹی کے متعلقہ اداروں کو خود اپنی سکےورٹی کے مسئلے کا سامنا ہے وہاں ملک کی اہم ترےن درسگاہ UET(انجےنئرنگ ےونےورسٹی،لاہور) بھی اےک اہم مسئلہ سے دوچار ہے۔جو شاےد ےونےورسٹی انتظامےہ کی بے حسی کی وجہ سے زےادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں کو” اپنی مدد آپ کے تحت “اپنی اور طالب علموں کی سکےورٹی کا تو اعلان کر دےا ہے،تاہم ہر اعلان کے بعداس پر عمل درآمد کروانا بھی اےک نےا مسئلہ ہوتا ہے۔مذکورہ ےونےورسٹی کی جی ٹی روڈ والی سائےڈ پرموجود گےٹ تو کسی حد تک سےکےورٹی کی موجودہ صورتحال سے نمٹ رہے ہےں تاہم ےونےورسٹی کی گھوڑے شاہ روڈ والی سائےڈ سے ملحقہ دےوار جو شاےد پانج فٹ اونچی ہوگی اور اس سائےڈ پر ملازمےن و پروفےسرز حضرات کی رہائشگاہےں بھی ہےں کی طرف کوئی توجہ نہےں دے رہا۔دہشت گردی کے بڑھتے ہو ئے واقعات مےں کسی پر بھی اعتبار نہےں کےا جا سکتا تو پھر سڑک سے ملحقہ ہزاروں مےٹر لمبی دےوار کی طرف سے کسی بھی غےر ےقےنی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔کےونکہ رات کے وقت کوئی بھی دےوار پھلانگ کر با آسانی اندر آسکتا ہے۔اللہ نہ کرے کوئی اعصاب شکن حادثہ ہو تاہم احتےاط لازم ہے۔ اسی جانب منی گےٹ( المعروف چرخی گےٹ ) کو بند کرنا سےنکڑوں طالب علموں اور ادارے کے ملازمےن کے ساتھ زےادتی ہے۔ےاد رہے کہ مذکورہ سائےڈ کی طرف رہائش پزےر طالب علم و سٹاف فےملےزروز مرہ کی بنےادی ضرورےات کے استعمال والی اشےاءکی خرےد و فروخت کے لےے ےہی گےٹ استعمال کرتے ہےں۔ہاںگارڈز کی موجودگی مےں منی گےٹ کو پہلے کی طرح مخصوص اوقات مےں کھولا اور بند کےا جا سکتا ہے۔ آپ اپنے کالم کے توسط سے ارباب اختےار کی توجہ اس اہم اےشو کی طرف ضرور مبذول کروائےں“ےہ تھےں قدسےہ شہزادی اور ان کا جائز مطالبہ امےد ہے ےونےورسٹی انتظامےہ معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مسئلے کا جائز حل ضرور تلاش کرے گی۔قارئےن محترم ….اےک وقت تھا کہ جب کسی شرعی وضع قطع کے حامل شخص پر نظر پڑتی تو دل مےں اس کے لےے احترام کے جذبات پےدا ہو جاتے تھے،احترام کا اب بھی ےہی عالم ہے لےکن پہلے پوچھنا پڑتا ہے کہ جناب آپ ”درود والے ہےں“ ےا ”بارود والے“ ….!جناب بات ےہ ہے کہ قومےں صدےوں مےں ترقی کا زےنہ طے کر تی ہےں،مگر62 برس،قوموں کے بناو بگاڑ اور درست سمت کے تعےن کے لےے کافی ہوتے ہےں،اداروں کے مستحکم ہونے مےں،مذاجوں کے پروان چڑھنے مےں،روےوں کے سدھرنے مےں زندہ قومےں برسوں کا سفر مہےنوں مےںطے کرتی ہےں،ےکسوئی کے ساتھ منزل کی طرف بڑھنے والے، وقت کی سنگےنےوں کو دےدہ دلےری سے کاٹتے ہےں، منزل کی لگن مےں پُرخار راہوں مےں آبلہ پا گامزن رہتے ہےں،ٹھہرتے نہےںم مگر ہم زندہ قوم !
بدقسمتی سے ہم کئی دہائےوں سے تارےک و بے سمت پگڈنڈےوں پر چل رہے ہےں،بگاڑ زےادہ پھےلا،مزاج جوں کے ہاتوں،انتظامےہ بے بس،چہار سو مختلف مافےاوں کا راج،لاپرواہی،غےر سنجےدگی،بے اعتنائی اور سب سے بڑھ کربے حسی،جواب ےقےناََ جب سے ہم نے مذہب کو سےاست کے طور پر استعمال کرنا شروع کےا،روب و دبدبہ کے لےے مسالک گڑھ لئے،تب سے ہم مذہب تو کےا انسانےت سے بھی گئے۔انسان کے لےے مذہب اور زندگی کا کامےاب فارمولہ صرف اےک ہی ہے اور وہ ہے انسانےت۔دےن اور دنےا دونوں اعتبار سے ہی باشعور انسان حقیقی معنوں مےں انسان کی حےثےت رکھتا ہے،جو انسانےت کو قدر کی نگاہ سے دےکھتا ہو۔
دروےش صفت صوفی دانشور اور عظےم سکالر حضرت واصف علی واصف کہا کرتے تھے”پاکستان نور ہے اور نور کو کبھی زوال نہےں“پاکستان مےں مذہبی انتہا پسندی کے نام پر جس قسم کا کُھلا تماشہ لگاےا جا رہا ہے،اس کے ڈانڈے کہاں ملتے ہےںاب کوئی ڈھکی چھپی بات نہےں۔ہمارے ےہاں شروع دن سے ہی پالےسی ساز اداروں اور کمزور ترےن حکمرانوں نے اپنی صفوں مےں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے اےسے اےسے فےصلے کئے ہےں جو شاےد صدےوں پر محےط اثرات چھوڑےں۔ےہ پاکستانی عوام اور پاک فوج کی امن پسندی کے لےے کوششےں ہی ہےں کہ وہ ہر حال مےں ”امن“ تباہ کرنے والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر راہ راست پر لانے کی ابتداءکر چکے ہےں۔پاکستان اس وقت واحد ملک ہے جو پوری دنےا کو دہشت گردوں سے نجات دلانے کے لےے ”اکےلا“ سے سفر مےں ہے۔اور دہشت گردی کا بار بار شکار ہونے کے باوجود پوری طرح سے دہشت گردوں کے خلاف برسرپےکار ہے۔پاک سرزمےن پردہشت گردی جےسے رونما ہونے والے واقعات کے تسلسل کے بعد ےہ سوال بہت اہم ہے کہ ےہ کون لوگ ہےں۔تو صاحبو،پھر سچ ےہی ہے کہ ےہ مسلمان نہےں،پاکستانی نہےں،ہاں پاکستان آچکے ہےں اور بہروپئے کی طرح اپنے آقاوں کے اشاروں پر چل رہے ہےںجبکہ ہمارے حکمراںہر بار سکےورٹی کی نئی منصوبہ بندی کرتے ہےں،مےرے خےال مےں جب تک ان ملک دشمن عناصر کے خلاف بھر پور اقدامات کر کے انہےں ©©”لگام“ نہےں دی جاتی اس وقت تک حالات کا اعتدال پر آنا ناممکن ہے،اگرچہ کافی دےر ہو چکی لےکن اب بھی اگر سنجےدگی کے ساتھ ان معاملات پر غور کےا جائے تو کوئی وجہ نہےں کہ دہشت گردی کے عفرےت پر مکمل قابو نہ پاےا جا سکے۔عوام دل و جان سے ملکی سالمےت اور مضبوط رےاست کی بقا کے لےے ےک جان ہےں۔اورپاک فوج رےاستی مشنری کے ساتھ قدم بقدم….اور دےن کے پےروکار جانتے ہےں،اسلام نے انسانی جان کو بلاامتےاز،رنگ و نسل انتہائی اہم و محترم قراد دےا ہے۔ےقےنا دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے،پاکستان نور ہے،اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی اسے ناکام رےاست نہےں بنا سکتی۔
Tags: Ishfaq Rehmani , ; column
November 7th, 2009 · Comments Off

صورتحال
ہارون عدیم
” برطانیہ میں ہونے والی دہشت گردی ۔۔۔؟ “
امریکی تھینک ٹینک ادارے ”دی ہیریٹیج فاو¿نڈیشن“ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوہ کیا ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں کے درمیان برطانیہ میں دہشت گردی کی سزا پانے والوں کا ایک چوتھائی افرادکا تعلق پاکستان سے ہے۔رپورٹ کے مطابق سزا پانے والے مجرموں میں سے18 مجرموں کی رشتہ داریاں پاکستان میںہیںاور13افریقی باشندوں میں سے 6کا تعلق الجزائر سے ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک سے ان دہشت گردوں کا تعلق نہ ہونے کے برابر ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ان سزا پانے والے 87دہشت گردوں میں سے 61 کا تعلق القاعدہ سے تھا۔رپورٹ میں یہ دعوہ بھی کیا گیا ہے کہ القاعدہ برطانیہ کو دہشت گردی کے میدان میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔رپورٹ میں برطانوی حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ امیگریشن قوانین کو مزید سخت بنائے،کیونکہ یورپی یونین کے پھیلاو¿ کی وجہ سے بھی برطانیہ کو اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا نہایت مشکل ہو گا۔رپورٹ کے مندرجات کے مطابق برطانیہ اور پاکستان کے درمیان جسمانی اور نظریاتی دہشتگردی کی ایک پائپ لائن موجود ہے۔جسے توڑنا نہایت ہی مشکل ،مگر بڑا ضروری ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2001 سے لے کر2009 تک برطانیہ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں پاکستان کا کلیدی کردار رہا ہے،اور دہشت گردی میں سزا پانے والے ایک چوتھائی افراد کا تعلق پاکستان سے بنتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق برطانیہ میںدہشتگردی کے87 واقعات جن میں مجرموں کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں،ان میں 18 واقعات میں ملوث دہشتگردوں کی پاکستان میں رشتہ داریاں ہیں اور انہوں نے دہشتگردی کی تربیت برطانیہ اور پاکستان میں حاصل کی تھی۔دی ہیریٹیج فاو¿ندیشن نے برطانیہ میں بڑے دہشتگردی کے واقعات کے حقائق کا جائزہ لے کر اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ ان 18 افراد میں صرف ایک پاکستانی شہری تھا۔جبکہ باقی افراد کی پاکستان میں رشتہ داریاں ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے علاوہ شمالی افریقہ کے باشندے بھی برطانیہ میں دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں،اس رپورٹ کے مصنفین مسٹر برومنڈ اور مسٹر روچ کامو¿قف ہے کہ برطانیہ اور امریکا کو مل کر دہشتگردی کی اس پائپ لائن کو توڑنا ہو گا۔ان کا خیال ہے کہ اگر برطانیہ اور امریکا افغانستان میں موجود القاعدہ کے نیٹ ورک کو توڑے بنا نکل آئے تو القاعدہ کو ایک بار پھر محفوظ پناہ گاہ مل جائے گی،جہاں سے وہ عالمی دہشتگردی کے منصوبے بنائیں گے۔مصنفین نے برطانیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے امیگریشن قوانین کو مزید سخت بنائے کیونکہ برطانیہ میں دہشت گردی میں ملوث 87افراد میں سے21 افراد غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہوئے تھے۔مصنفین کا خیال ہے کہ یورپی یونین کے مزیدپھیلاو¿ سے برطانیہ کے لئے اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ امریکی تھینک ٹینک ادارے ”دی ہیریٹیج فاو¿نڈیشن“ کی یہ رپورٹ یقینا برطانیہ کے لئے ہے۔اور یہ رپورٹ برطانوی اخبارات میں شامل بھی ہوئی ہے،مگر اس رپورٹ کا جو مکھڑا بنا ہے وہ برطانیہ میں دہشت گردی میں پاکستانیوں کی شمولیت ہے۔ حالانکہ رپورٹ کے مندرجات کے مطابق اگر دہشت گردوں کی تعداد سو تھی تو اس میں سے75 لوگ ایسے تھے جن کی نہ تو پاکستان میں رشتہ داریاں تھیں اور جو کہ پاکستانی بھی نہیں تھے۔جب کے باقی ماندہ چوتھائی میں سے صرف ایک پاکستانی شہری تھا،اور باقی لوگ برطانوی شہری تھے ۔دہشت گردی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس چوتھائی میں شامل افراد یہیں برطانیہ میں پیدا ہوئے اور یہیں پروان چڑھے۔یقینا ایسے پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی رشتہ داریاں پاکستان میں ہونا ایک یقینی امر ہے۔وہ اس لئے کہ ان کے خاندان پاکستان میں ہی مقیم ہیں، مگر وہ دہشت گرد نہیں۔امریکا اور یورپ کی جانب سے پاکستان کے بارے میں جو منفی پراپیگنڈہ کیاجا رہا ہے یہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔گزشتہ چھ دنوں میں ہم لیڈز،بریڈ فورڈ اور آرچ لینڈ گھومے،ہم جہاں بھی گئے اور جن جن مقامی لوگوںسے بات چیت ہوئی سب کا خیال یہ تھا کہ جیسے ہر پاکستانی دہشت گردوں کی تربیت کر رہا ہے۔یقینا یہ تاثر حقیقت سے ناواقفیت اور منفی پراپیگنڈہ کے زیر اثر ہے۔کیونکہ صورتحال تو یہ ہے کہ اس وقت خود اینگلو امریکن گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی جارحیت جس نے میڈل ایسٹ ، افغانستان اور پاکستان کو اپنی گرفت میںلیا ہواہے سب اس کا شاخسانہ ہے۔اس مبینہ رپورٹ کے مطابق ان برطانوی شہریوں جن کو دہشت گردی کی وارداتوں میں سزائیں سنائی گئیں کی تربیت برطانیہ اور پاکستان میں کی گئی۔
رپورٹ کی سب سے حیران کن بات امریکا کا برطانیہ کو یہ سمجھانا ہے کہ برطانیہ میں گزشتہ آٹھ سالوں کے درمیان ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے کون لوگ ہیں، اور برطانیہ کو اس کے سدباب کے لئے کیا کرنا چاہئے۔گویا برطانوی حکومت اور اس کی سرکاری ایجنسیاں اس بات کا ادراک نہیں رکھتیں۔یہ رپورٹ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ جب تک امریکا برطانوی حکومت کی مدد نہ کرے تب تک برطانوی حکومت برطانیہ میں ہونے والی دہشت گردی پر قابو نہیں پا سکتا۔جب کہ صورتحال اس کے بر عکس ہے ،پاکستان میں تو امریکا اور برطانیہ کی پھیلائی ہوئی اس عالمی دہشت گردی کی جنگ اب گلی محلوں میں لڑی جا رہی ہے، آئے روز خود کش دہشت گرد خود کو اڑا کر ہزروں بے گناہ انسانوں کو لقمہ ءاجل بنا رہے ہیں،ان میں سے کوئی بھی پاکستانی نہیں ہے۔ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد جو اسلحہ استعمال کر رہے ہیں وہ یا تو انڈین ہے یا امریکی اور یا پھر اسرائیلی۔تو پھر کیا یہ سمجھا جائے کہ امریکا ،اسرائیل اور انڈیا پاکستان کے دشمن ہیں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے بارے میں گزشتہ ایک سال سے برطانوی سوچ میںتبدیلی آئی ہے۔برطانوی وزیر داخلہ، وزیر خارجہ اور وزیر اعظم کے بیانات اور عملی اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اب امریکا کی دہشت گردی کے بارے میں پالیسی،اوراس کے سد باب کے بارے میں امریکی حکمت عملی سے کلی طور پر متفق نہیںہیں۔انہوں نے پاکستانی نقطہ نظر کو قبول کیا ہے۔مگر امریکا چونکہ افغانستان میں ابھی موجود رہنا چاہتا ہے اور موجود اس وقت تک رہنا چاہتا ہے جب تک کہ وہ ایران سے نہ نپٹ لے اس لئے وہ دہشت گردی کی آگ کو تب تک سرد نہیں ہونے دے گا۔کیونکہ دہشت گردی کے تھمنے یا اس میں کمی سے مراد امریکا کا افغانستان سے نکلنا ہے۔لہٰذا اب امریکا برطانیہ کو گھیر گھار کر اپنی دہشت گردی کی تعریف اور پالیسی کا اسیر بنانا چاہتا ہے۔تا کہ اینگلو امریکن اتحاد برقرار رہے۔کیونکہ افغانستان میں پہ درپہ ناکامیوں کی وجہ سے امریکا کو اب اپنی ساکھ کو بچانا جہاں نہایت ہی دشوار ہو گیا ہے وہاں افغانستان میں موجود اتحادی فوجوں کو بھی روکنا خاصا دشوار ہو رہا ہے۔ایسے میں امریکی اداروں کی جانب سے ایسے تجزیئے اور رپورٹیں سامنے لانا ایک قدرتی امر ہے،جس میں دہشت گردی کی ہب اور تربیت گاہ پاکستان کو ظاہر کیا جائے،برطانوی حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ دہشت گردی کے پاکستانی مو¿قف کو قبول نہ کرے اور امریکی مو¿قف اور پالیسی کا ساتھ دے۔مگر برطانیہ کو یہ سوچنا ہوگاکہ اس نے اگر دہشت گردی سے کسی ملک کو محفوظ بنانا ہے تو کیا وہ اس کا اپنا ملک برطانیہ ہونا چاہئے یا کہ امریکا۔۔۔؟یقینا برطانیہ کی اولیت اس کا اپنا ملک ہی ہو سکتا ہے،لہٰذا برطانیہ کو اپنے تھنک ٹینکس کی بات سننی چاہئے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔برطانیہ کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جب تک وہ خلیجی جنگ اور افغانستان میں امریکا کا اتحادی نہیں بنا تب تک برطانیہ میں دہشت گردی کی کوئی بھی واردات نہیں ہوئی ۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ برطانیہ میں ہونے والی دہشت گردی کے اصل اور حقیقی اسباب کا خاتمہ کیا جائے اور برطانیہ اپنی افواج کو خلیج اور افغانستان سے واپس بلائے۔
Tags: Haroon Adeem , ; column
November 2nd, 2009 · Comments Off
رائے عامہ ۔ ۔۔ ۔یونس مجاز
ایک طرف پشاور کے سانحہ میں جہاں صوبہ سرحد ابھی تک سوگ میں ڈوبا ہوا ہے ملبے تلے دبی مزید لاشوں کی برآمدگی سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک سو گیارہ سے اوپر ہوگئی ہے جب کہ مزید پچیس سے تیس لاشیں موجود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے وہاں دوسری طرف حکمران ان آقاو¿ں کی آو¿ بھگت میں مصروف ہیں جن سے سوائے لالی پاپ کے کچھ نہیں ملنے والا دلفریب وعدوں حسین خوابوں ،شاباش اور واہ واہ کے عوض ڈومور کا سبق پڑھا یاجارہا ہے ہیلری کلٹن صاحبہ جن کا پاکستان کا مجموعی طور پر پانچواں اور بطور وزیر خارجہ یہ پہلا دورہ ہے جہاں میزبان غلاموں کی سیوا کا لطف اٹھارہی ہیں وہاں ان کے منہ پر طمانچے بھی رسید کر رہی ہیں لیکن منہ ہو، تو کچھ اثر بھی ہو، ہیلری کے خوبصورت خطابات میں سب کچھ پرانا ہے سوائے دو باتوں کے جن میں ایک پر امن رہنے کے خواہش مند طالبان سے مذاکرات کا عندیہ جو امریکہ کے مسقبل کے پلان کا پتہ دیتا ہے اور ان مذاکرات کی شروعات ہوچکی ہیں ۔ دوسرا لوگر بل کے متعلق ا صحافیوں کے سوال پر دوٹوک یہ کہنا کہ اگر پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ کیری لوگر بل کے ذریعے ملنے والی امداد ان کے مفادات کے خلاف ہے تو وہ امداد لینے سے انکار کر سکتا ہے یہ کوئی زبردستی نہیںاور آگے چل کر پاکستانی عوام کو یہ باور کراتے ہوئے کہ آپ کے حکمرانوں کو ڈالروں کی چکا چوند میں نظر ہی نہیں آیا یا ہم نے آنے ہی نہیں دیا انھوں نے کہاکہ اگر پاکستان میں کیری لوگر بل پر بحث بر وقت شروع ہوجاتی تو عین ممکن تھا کہ اس بل کی زبان زیادہ بہتر ہوتی ۔جس کا جواب امریکہ میں سفیر حسین حقانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے مانگا جانا چائیے کہ یہ قوم کے ساتھ غداری نہیں تو کیا ہے ؟یہ الگ بات ہے کہ بش دور کے سینٹر جو بائیڈن نے یہ امدادی بل پیش کیا تھا جس پر قانون سازی کا آغاز مشرف دور سے ہوگیا تھا اور یہ امداد فوجی مقاصد کے بجائے عوامی مفادات کے لئے دی جانی تھی لیکن حکمرانوں کی تبدیلی نے سارا معاملہ چوپٹ کر دیا تھا تاہم بعد میں دوبارہ بائیڈن بل کو جان کیری اور سینٹر لوگر نے آگے بڑھایا جو مختلف مراحل سے گزرتا ہوا س وقت منظر عام پر آیا جب محترم آصف زرداری امریکہ کے دورے پر تھے اور صدر اوبامہ سے ملاقات کے دوران انھیں یہ خوشخبری سنائی گئی ۔لیکن بل کی شرائط نے جہاں پاکستان میں بھونچال کی سی کیفیت پیدا کر دی وہاں امریکیوں کو بھی ورطہ ءحیرت میں ڈال دیا کہ غلاموں کی یہ جرا ءت ۔عوام کو تو ان حکمرانوں نے نہ پہلے کبھی لفٹ کرائی نہ اس موقع پر کوئی خوش فہمی ہے تاہم فوج کی طرف سے تحفظات نے جہاں حکمرانوں کے تن بدن میں آگ لگا دی وہاں عوام کو بھی یہ باور ہوگیا کہ حکمران ان کے ساتھ کیا کھیل چکے ہیں اور یہ صورت حال جوں کی توں باقی ہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی قسم کی تبدیلی اور نہ لینے کا ٹکہ سا جواب سن کر بھی ہمارے حکمران نہ صرف بے مزہ نہیں ہوئے بلکہ اس بات پر مصر ہیںکہ یہی ہماری زندگی اور بقاہے حالانکہ ساٹھ سالوں میں پاکستانی عوام کو تو سوائے مہنگائی اور بے روزگاری کے کچھ نہیں ملا اور نہ آگے کوئی توقع ہے لیکن ااقتدار کے ایوانوں میں موجود ان غریبوں مسکینوں کی دال روٹی ان ہی ڈالروں کے عوض چل رہی ہے دوران تحریر ایک میسج کے ذریعے ملنے والی یہ خوشخبری بھی سن لیں کہ نیشنل اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے لا اینڈ جسٹس نے اکثریتی رائے سے این آر او منظور کر کے اس پر مہر ثبت کر دی ہے کہ اس ملک کے خزانے کو لوٹنا حکمرانوں کا پیدائشی حق ہے اور یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا آئندہ کے لئے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے ان گاموں ماجھوں کی ایسی کی تیسی کمائیں اور ہمیں کھلائیں بس ۔
ادھرسانحہ پشاور کے حوالے سے طالبان کی تمام تنظیموںکی طرف سے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا جارہا ہے جس کے بعد اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے پاکستان میں جاری آگ اور خون کی ہولی کے پیچھے ہمارے وہی مہربان ہیں جن کو ہم نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے اس حوالے سے میڈیا اور قائمہ کمیٹی میں ہونے والے ان انکشافات کی طرف رجوع کریں تو بات سمجھ میں آجائے گی جو حال ہی میں منظر عام پر آئے ہیں ۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعرات 29 اکتوبرکو پارلیمنٹ ہاوس میںکنوئینرمخدوم جاویدہاشمی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے اراکین ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ ،کشورزہرہ اور دفاع ،خارجہ ،داخلہ ،اقتصادی امور کی وازارتوں نے شرکت کی اجلاس غیر ملکی سیکورٹی ایجنسیوں کی سرگرمیوں کی چھان بین اور قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈراو¿ں حملوں کے نتیجے میں انسانی حقوق کی پامالی کے جائزہ کے لئے طلب کیا گیا تھا۔ اجلاس کے دوران اسلام آباد پولیس کے آئی جی سید کلیم امام نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند روز قبل اسلام آباد میں پوچھ گچھ کے دوران پانچویں واقعہ کے تحت چار مسلح امریکیوں کو گرفتار کیا گیا جن کے پاس غیر قانونی اسلحہ اور گاڑی کی نمبر پلیٹ بھی جعلی تھی انھیں صوابدیدی اختیارات کے تحت چھوڑا ہے کیوں کہ غیر ملکی سفارت کاروں کو بعض امور میں چھوٹ ہوتی ہے ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ انٹر رسک غیر قانونی سرگرمیوں مین ملوث تھی چھاپے کے دوران جدید گنیں برآمد ہوئیں جن کے جعلی لائسنس تھے کیس ایف آئی اے کو منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ صوبہ سرحد کے آئی جی ملک نوید کا کہنا ہے کہ کہ صوبہ سرحد میں ہونے والے دھماکوں میں افغانستان ،بھارت اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں اور یہ اسی طرز کے دھماکے ہورہے ہیں جو روس اور افغانستان جنگ کے دوران ہورہے تھے جس میں” را “ملوث تھی انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تحقیقات کے مطابق سرحد میں بلیک واٹر سے ملتی جلتی ڈائنکور نامی امریکی ایجنسی کام کر رہی ہے ڈائنکور نے امریکی کونصلیٹ کے توسط سے ہماری سر زمین پر پاکستان کے سابقہ فوجیوں کو بھرتی کر کے تر بیت شروع کر دی ہے پشاور میں ڈائنکورکے 29 اہلکار موجود ہیں اس ایجنسی نے انٹر رسک کے ذریعے پچاس سابقہ فوجیوں کو بھرتی کیا وزارت دفاع کے ایڈیشنل سیکرٹری حید رعلی نے کمیٹی کو بتا یا کہ امریکہ پاکستان کو ڈراو¿ں ٹیکنالوجی نہیں دینا چاہتا جس پر کمیٹی نے امریکہ اور نیٹو کو دی جانے والی لاجسٹک سپورٹ کی تفصیلات طلب کر لی ہیں ۔اس موقع پر ڈاکٹر عطیہ کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے بے گناہ لوگ مساجد اور مدارس نشانہ بن رہے ہیںجنوبی وزیرستان میں آپریشن کے لئے پاک فوج کی موجودگی کے باوجود ڈراو¿ن کیسے آرہے ہیں ، کمیٹی نے ہوائی اڈوں کے استعمال اور دیگر سامان کی تفصیلات بھی مانگی ہیںجب کہ کمیٹی نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکی سفارت خانہ نے مزید دوسو ویزوں کے لئے رابطہ کیا ہے اور اقتصادیات کی وازارت نے کمیٹی کو آگا ہ کیا ہے کہ پاکستان میں 87 بین الاقوامی این جی اوز کام کر رہی ہے جن میں فارم تقسیم کیے گئے ہیں کہ وہ اپنی فنڈنگ کے ذرائع سے حکومت کو آگا ہ کریں جبکہ مخدوم جاوید ہاشمی اور دیگر اراکین کمیٹی نے وزارت داخلہ اور اسلام آباد پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا ملکی قوانین امریکیوں کو اس طرح مسلح ہوکر سر گرمیوں کی اجازت دیتے ہیں ؟جب کہ انٹر رسک کو بلیک لسٹ قرار دیتے ہوئے اس کا لائسنس منسوخ کیا گیا ہے تو اس نے پشاور میں کس طرح پچاس سابقہ فوجیوں کو بھرتی کیا؟ آئی جی اسلام آباد نے اعتراف کیا کہ دوروز قبل جن امریکیوں سے پوچھ گچھ کی گئی ان کے پاس اسلحہ کی موجودگی جرم تھی مگر ہم یہ رپورٹ وازارت داخلہ کو دیتے ہیں
جس پر وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری شاہداللہ بیگ نے کہا کہ اس واقعہ کی رپورٹ مل گئی تھی وزارت خارجہ کے ذریعے امریکی سفارت خانہ سے احتجاج کیا جائے گا ۔اس پر جاوید ہاشمی نے اپنے ریمارکس میں بجا کہا ہے کہ امریکیوں کی جانب سے ملکی قوانین کی مٹی پلید کی جارہی ہے کوئی شہری زور سے چھینک بھی مارے تو ہماری پولیس گرفتار کر لیتی ہے اور یہاں امریکی غیر قانونی اسلحہ لے کر جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں ، پاکستان میں غیر ملکی کمپنیوں کی مشروم کی طرح گروتھ ہورہی ہے جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد اٹھ رہا ہے کمیٹی نے جب استفسار کیا کہ ان امریکیوں کے پاس اسلحہ کہاں سے آرہا ہے تو وزارت داخلہ کے حکام کمیٹی کو تسلی بخش جواب نہ دے سکے جب کہ ایڈیشنل سیکرٹری دفاع نے کہا کسی غیر ملکی کو ائیر پورٹ کے ذریعے اسلحہ لانے کی اجازت نہیں ہے ،وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے اعتراف کیا کہ امریکہ کی جانب سے دوسو مزید ویزوں کی درخواست آئی ہے امریکی سفارت خانے میں 750 کا عملہ تعینات ہوتا ہے اس وقت سفارت خانے میں 379امریکی کام کر رہے ہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئی دہلی کے امریکی سفارت خانے میں سٹاف کی تعداد 325ہے جس پر کمیٹی نے سفارش کہ امریکیوں کو ویزہ دینے کے معاملے میں چو کنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیاامریکی سفارت خانے نے اپنے عملے کے لئے 284 ہاو¿سز ہائر کیے ہیں ۔ملک میں 19 سیکورٹی ایجنسیاں کام کر رہی ہیں جن میں ویکن بٹ نامی غیر ملکی ایجنسی بھی شامل ہے جس پر جاوید ہاشمی کا موقف تھا کہ غیر ملکی سیکورٹی ایجنسیاں غیر قانونی طور پر کام کررہی ہیں کوئی روک ٹوک نہیں میڈیا رپورٹس موجود ہیں اور ہم اپنی رپورٹ سے قائمہ کمیٹی کوآگاہ کریں گے ۔
ادھر دوبئی کے ایک ا خبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ مختلف پاکستانی حکومتی عناصر کی مدد سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی جاسوسی کر رہا ہے ۔ایشین ایج جریدے نے ایک معروف ویب سائٹ ”انٹر نیشنل اینا لسٹ نیٹ ورک “ کی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی خفیہ نگرانی کرنے کے ٹھوس شوائد موجود ہیں اور یہ بات تصدیق شدہ ہے کہ امریکی سفارت کار اور حکام کہوٹہ میں جاسوسی کر رہے ہیں جس میں حکومت کے مختلف عناصر بھی مدد کر رہے ہیں ۔رپورٹ میں وزارت داخلہ کے کردار کو سوالیہ نشان بنا کر پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ امریکیوں کو اپنی سر زمین پر مشکوک سر گرمیوں کی اجازت دے رہے ہیں اور وزارت داخلہ نے یہ تسلیم کیا ہے امریکی دفاعی کنڈیکٹر پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کو آگا ہ کئے بغیر مشکوک سرگرمیاں خفیہ طور پر کرتے ہیں ۔قبل ازیں یہ رپورٹ سامنے آچکی ہے کہ امریکی حکام سہالہ تربیتی کالج کے ذریعے کہوٹہ میں ایٹمی نیصیبات کی نگرانی کر رہے ہیں اور سہالہ میں زمین کے ایک بڑے حصہ پر امریکی بیس قائم ہے جس کے گرد اونچی دیوار ہے اور اس میں تربیتی کالج کی سینئر مینجمنٹ کو بھی داخلے کی اجازت نہیں امریکی حکام نے اپنے بیس کے گرد بڑی تعداد میں سائن بورڈ نصب کر رکھے ہیں جن میں غیر ملکیوں کا داخلہ ممنوعہ قرار دیا گیا ہے ادھر سینئر پاکستانی حکام مسلسل امریکی مداخلت کے معاملے اٹھا رہے ہیں مگر ان کے تحفظات کو تاحال نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ قارئین ! ڈالروں کی چمک کیا کیا کمالات دکھاتی ہے، آگے آگے دیکھتے جائیے اور سر دنتے جائیے ؟
کالم۔۔۔ رائے عامہ ۔ ۔۔ ملک کی فکر کرناداں ،ان سے کچھ نہیں ملنے والا؟۔یونس مجاز
ایک طرف پشاور کے سانحہ میں جہاں صوبہ سرحد ابھی تک سوگ میں ڈوبا ہوا ہے ملبے تلے دبی مزید لاشوں کی برآمدگی سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک سو گیارہ سے اوپر ہوگئی ہے جب کہ مزید پچیس سے تیس لاشیں موجود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے وہاں دوسری طرف حکمران ان آقاو¿ں کی آو¿ بھگت میں مصروف ہیں جن سے سوائے لالی پاپ کے کچھ نہیں ملنے والا دلفریب وعدوں حسین خوابوں ،شاباش اور واہ واہ کے عوض ڈومور کا سبق پڑھا یاجارہا ہے ہیلری کلٹن صاحبہ جن کا پاکستان کا مجموعی طور پر پانچواں اور بطور وزیر خارجہ یہ پہلا دورہ ہے جہاں میزبان غلاموں کی سیوا کا لطف اٹھارہی ہیں وہاں ان کے منہ پر طمانچے بھی رسید کر رہی ہیں لیکن منہ ہو، تو کچھ اثر بھی ہو، ہیلری کے خوبصورت خطابات میں سب کچھ پرانا ہے سوائے دو باتوں کے جن میں ایک پر امن رہنے کے خواہش مند طالبان سے مذاکرات کا عندیہ جو امریکہ کے مسقبل کے پلان کا پتہ دیتا ہے اور ان مذاکرات کی شروعات ہوچکی ہیں ۔ دوسرا لوگر بل کے متعلق ا صحافیوں کے سوال پر دوٹوک یہ کہنا کہ اگر پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ کیری لوگر بل کے ذریعے ملنے والی امداد ان کے مفادات کے خلاف ہے تو وہ امداد لینے سے انکار کر سکتا ہے یہ کوئی زبردستی نہیںاور آگے چل کر پاکستانی عوام کو یہ باور کراتے ہوئے کہ آپ کے حکمرانوں کو ڈالروں کی چکا چوند میں نظر ہی نہیں آیا یا ہم نے آنے ہی نہیں دیا انھوں نے کہاکہ اگر پاکستان میں کیری لوگر بل پر بحث بر وقت شروع ہوجاتی تو عین ممکن تھا کہ اس بل کی زبان زیادہ بہتر ہوتی ۔جس کا جواب امریکہ میں سفیر حسین حقانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے مانگا جانا چائیے کہ یہ قوم کے ساتھ غداری نہیں تو کیا ہے ؟یہ الگ بات ہے کہ بش دور کے سینٹر جو بائیڈن نے یہ امدادی بل پیش کیا تھا جس پر قانون سازی کا آغاز مشرف دور سے ہوگیا تھا اور یہ امداد فوجی مقاصد کے بجائے عوامی مفادات کے لئے دی جانی تھی لیکن حکمرانوں کی تبدیلی نے سارا معاملہ چوپٹ کر دیا تھا تاہم بعد میں دوبارہ بائیڈن بل کو جان کیری اور سینٹر لوگر نے آگے بڑھایا جو مختلف مراحل سے گزرتا ہوا س وقت منظر عام پر آیا جب محترم آصف زرداری امریکہ کے دورے پر تھے اور صدر اوبامہ سے ملاقات کے دوران انھیں یہ خوشخبری سنائی گئی ۔لیکن بل کی شرائط نے جہاں پاکستان میں بھونچال کی سی کیفیت پیدا کر دی وہاں امریکیوں کو بھی ورطہ ءحیرت میں ڈال دیا کہ غلاموں کی یہ جرا ءت ۔عوام کو تو ان حکمرانوں نے نہ پہلے کبھی لفٹ کرائی نہ اس موقع پر کوئی خوش فہمی ہے تاہم فوج کی طرف سے تحفظات نے جہاں حکمرانوں کے تن بدن میں آگ لگا دی وہاں عوام کو بھی یہ باور ہوگیا کہ حکمران ان کے ساتھ کیا کھیل چکے ہیں اور یہ صورت حال جوں کی توں باقی ہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی قسم کی تبدیلی اور نہ لینے کا ٹکہ سا جواب سن کر بھی ہمارے حکمران نہ صرف بے مزہ نہیں ہوئے بلکہ اس بات پر مصر ہیںکہ یہی ہماری زندگی اور بقاہے حالانکہ ساٹھ سالوں میں پاکستانی عوام کو تو سوائے مہنگائی اور بے روزگاری کے کچھ نہیں ملا اور نہ آگے کوئی توقع ہے لیکن ااقتدار کے ایوانوں میں موجود ان غریبوں مسکینوں کی دال روٹی ان ہی ڈالروں کے عوض چل رہی ہے دوران تحریر ایک میسج کے ذریعے ملنے والی یہ خوشخبری بھی سن لیں کہ نیشنل اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے لا اینڈ جسٹس نے اکثریتی رائے سے این آر او منظور کر کے اس پر مہر ثبت کر دی ہے کہ اس ملک کے خزانے کو لوٹنا حکمرانوں کا پیدائشی حق ہے اور یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا آئندہ کے لئے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے ان گاموں ماجھوں کی ایسی کی تیسی کمائیں اور ہمیں کھلائیں بس ۔
Tags: column , ; younas majaz