Sacc header image 4

Entries Tagged as 'zameer afaqi'

Pages: 1 2

ملا ،ملٹری اور مسلم لیگوں کی تکون

November 7th, 2009 · Comments Off

zameer-afaqi

ضمےر آفاقی
عوام کی آواز
ملا ،ملٹری اور مسلم لےگوں کی تکون

ضمیر آفاقی

عوام کی آواز

ملا ،ملٹری اور مسلم لیگوں کی تکون

گلشن کے کاروبار مےں اےک بار پھر آگ لگانے کی کوششےں عروج پر ہےں اور افواہ ساز فےکٹرےوں مےں لوڈ شےڈنگ کے باوجود چوبےس گھنٹے کام جاری ہے ، پاکستان دنےا کے تقرےباً اڑھائی سو ممالک مےں واحد اےسا ملک ہے جہاں جب جمہورےت ہوتی ہے تو خاکےوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ حضور گلشن کاروبار آپ سے زےادا بہتر طرےقے سے کوئی نہےں چلا سکتا اور جب وہ آجاتے ہےں تو پوری قوم چند ہی مہےنوں مےں ان سے بھی اوازار ہو جاتی ہے اور پھر جمہورےت کے فےض و برکات گنوائے جاتے ہےں اس کام مےں چند رےٹائر جنرل اور جہمورےت کے خدا وسطے کی بےری تجزےہ نگار،کالم نوےس ، اےنکر پرسن اور عوام کی جانب سے مسترد سےاستدان اور مذہبی راہنما پےش پےش ہوتے ہےں سرگوشےوں مےں اےک افواہ ےہ بھی پاس اون کی جا رہی ہے کہ صدر آصف زرداری نے ےہ کہا ہے کہ ’ایوان صدر سے میری لاش ہی جائے گی۔‘ ممکن ہے آصف زرداری کے وہم و گمان مےں بھی ےہ بات نہ ہو مگر کےا کےجےے ان کے شخصی تاثر جو بنا دےا گےا ہے کے پس منظرمیں یہ جملہ قبولیت کی سند لیے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں گردش کر رہا ہے۔صحافےوں کو تو اللہ دئے۔بہر حال ملک کی موجودہ سےاسی کشمکش کے پس پردہ وجوہات کبھی چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع بیان کی جاتی ہےں تو کبھی شیخ رشید سمیت بعض سیاستدان اورمبصر کہتے ہیں کہ تعلقات کی خرابی کا آغاز کیری لوگر بل میں ہونے والی شرائط سے شروع ہوا۔ امریکی امدادی پیکج پر مبنی کیری لوگر بل میں فوج کی سیاسی معاملات میں عدم مداخلت کی شرط بھی شامل ہے۔ کےا ےہی سچ ہے؟ ےا صرف مہم جوئی کی خواہش رکھنے والوں کا افترا ہے بات بہر حال جو بھی ہو افواہےں تھوک کے حساب سے پھےلائی جا رہی ہےں۔پاکستان پےپلز پارٹی کی حکومت جب بھی آتی ہے تو جہمورےت مےں کےڑئے کےوں نظر آتے ہےں اصل مےں اس سوال کا جواب ڈھنونڈنا ضروری ہے ،بےن الاقومی ذرائع ابلاغ کی اس رپورٹ کو دےکھنے کے بعد شائد اس سوال کا جواب مل جائے جس مےں بتاےا گےا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سکیورٹی اسٹیبلشمینٹ کی لڑائی کی کہانی تقریباً تین عشروں پر محیط ہے اور اس لڑائی میں تاحال نقصان پیپلز پارٹی کو ہی اٹھانا پڑا ہے۔ چاہے وہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہو یا ان کے دو بیٹوں مرتضیٰ اور شاہنواز یا پھر ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کی ’سٹیٹ آف دی آرٹ‘ منصوبہ سازی سے قتل کی کہانیاں۔لیکن تاحال ایک بات ضرور ہوئی ہے کہ اس ملک کی ’غریب، بھوکی اور ان پڑھ‘ عوام نے پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا اور پانچ مرتبہ اس جماعت کو اقتدار کے ایوانوں میں اپنے کندھوں پر بٹھا کر پہنچایا۔گلگت سے گوادر اور کشمیر سے کراچی تک ملک کے کونے کونے میں اس جماعت کے حامی آج بھی نمایاں طور پر پائے جاتے ہیں اور ایسی سیاسی حمایت آج تک کسی جماعت کو نصیب نہیں ہوسکی۔ویسے تو پیپلز پارٹی کی قیادت پر بھی الزام لگتا ہے کہ وہ بھی سٹیبلشمینٹ کے گھوڑے پر سوار ہوکر اقتداری ایوانوں میں پہنچے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے ساتھ ان کا نبھاو¿ زیادہ دیر تک نہیں ہوسکا اور جیسے ہی پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت بنی تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیشہ سے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی اتحاد بنا کر اس جماعت کا راستہ روکنا پڑا اور اس عمل میں انہیں ایم کیو ایم اور مسلم لیگ جیسے گروہوں کو بھی تخلیق کرنا پڑا۔عین وقت پر متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ’این آر او‘ کے معاملے پر جس طرح صدر آصف علی زرداری کو جھٹکا دیا گیا ہے اس سے ان کی آنکھیں کھل جانی چاہیں اور ان کے ساتھ کوئی مہنگا سودا کرنے کے بجائے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اپنی مرحومہ لیڈر کے وعدے وفا کرنا زیادہ سود مند ثابت ہوگا۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے جن کو بوتل میں بند کرنے کا اگر یہ موقع گنوا دےا گیا تو شاید ہی انہیں مستقبل میں ایسا موقع نصیب ہوجب وقت کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) سیاسی قوتیں بنیں تو انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو ’بلینک چیک’ دینا بند کیا تو ان کے خالق نے انہیں توڑنے کی کوشش کی لیکن دونوں جماعتوں کی قیادت کی بالغ نظری کی وجہ سے یہ جماعتیں ٹوٹ پھوٹ کے تمام مراحل طے کرنے کے بعد بھی ملک کی قابل ذکر سیاسی قوتیں بنیں۔ جس کے بعد سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو مسلم لیگ (ق) کو اپنے بدن سے جنم دینا پڑا۔ دو بڑی عوامی حمایت رکھنے والی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف جلاوطن ہو گئے اور جلا وطنی میں بیٹھ کر ا±ن دونوں زیرک سیاستدانوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔ میثاق جمہوریت سے پاکستان میں ایک نئے سیاسی کلچر پنپنے کی امید پیدا ہوئی کیونکہ دونوں نے محسوس کیا کہ انہیں پاکستان کی اسٹیبلشمینٹ نے ’لڑاو¿ اور حکومت کرو‘ کے اصول کے تحت استعمال کیا ہے۔میثاق جمہوریت پر دونوں بڑی جماعتوں کے اتفاق نے اسٹیبلشمینٹ کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں کیونکہ اس دستاویز کی بنیادی روح یہ ہے کہ پاکستان میں پارلیمان کو بالادست ادارہ بنانا ہے اور دنیا کے مہذب ممالک کی طرح فوج سمیت تمام اداروں کو پارلیمان کا ماتحت بنانا ہے۔ ساٹھ سال سے پاکستان میں سیاہ و سفید کی مالک اسٹیبلشمینٹ یہ کیسے قبول کرتی اور انہوں نے اپنی چالیں چلنا شروع کیں۔اس دوران بینظیر بھٹو کا قتل ہوگیا جس کا الزام پرویز مشرف کی حکومت نے بیت اللہ محسود پر عائد کیا۔ جس کے بعد انتخابات ہوئے اور اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اکٹھے حکومت بنائی اور میثاق جمہوریت کے جذبے کے تحت مسلم لیگ (ن) کے وزراء نے پرویز مشرف کے ہاتھوں حلف اٹھایا۔ دونوں جماعتوں نے مل کر پرویز مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا اور راستہ صاف ہوتے ہی آصف علی زرداری کے صدر بننے کی خواہش اور پرویز مشرف کے برطرف کردہ ججوں کو بحال نہ کرنے پر دونوں جماعتوں میں اختلافات شروع ہوگئے۔دونوں میں اختلافات کی چنگاری کو اسٹیبلشمینٹ نے پھونکیں مار مار کر اس نہج پر پہنچایا کہ فروری میں اقتدار کے نشے میں چ±ور صدر آصف علی زرداری نے میاں برادران کو نا اہل قرار دلوا کر پنجاب میں گورنر راج نافذ کر دیا۔ ایسے میں اسٹیبلشمینٹ کو یقین ہوچلا ہے کہ اب دونوں میں دوبارہ رفاقت ممکن نہیں۔اب کی بار کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر زرداری کے لیے یہ آخری موقع ہے کہ وہ کوئی چال چلنے کے بجائے سترہویں ترمیم کے خاتمے اور میثاق جمہوریت پر اس کی روح کے مطابق فوری عمل کریں تو وہ ایوان صدر کی مسند پر آئندہ بھی بیٹھے رہیں گے

اس دوران کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمینٹ کو پارلیمان کے طابع کرنے کے لیے صدر آصف علی زرداری نے ملک کی ایک مقبول جماعت مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کر امریکہ پر انحصار کیا۔جس سے اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ (ن) میں قربت کی راہ ہموار ہوئی۔ لیکن تاحال مسلم لیگ (ن) نے اپنے پتے بڑی سمجھداری سے کھیلے ہیں اور کیری لوگر بل کی مخالفت سمیت کچھ معاملات میں محدود پیمانے پر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہوئے بھی اپنا بھرم برقرار رکھا ہے اور ججوں کی بحالی سمیت بعض معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کو استعمال سے فائدہ زیادہ حاصل کیا ہے۔بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے پر پیپلز پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ سے اب کی بار شروع ہونے والے اختلافات اب اس نہج پر پہنچے ہیں جہاں آئین کے مطابق جمہوری انداز سے منتخب ہونے والے صدر کو ایک سال میں نکالنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی میں فریق تو مسلم لیگ (ن) بھی تھی جسے صدر آصف علی زرداری نے خود ہی دور کردیا۔ لیکن آج انہیں اس بات کا احساس اور پختہ یقین ہوا ہوگا کہ یہ لڑائی پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) دونوں اکیلے طور پر شاید ہی لڑ سکیں۔اس بات کا اداراک مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی بخوبی ہے اور وہ نا اہلی کے گھاو¿ کے بعد بھی بظاہر ان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ جس کی ایک اہم وجہ بعض مبصرین کی نظر میں تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی ختم کرانا بھی ہوسکتا ہے۔لیکن صدر زرداری کو جو یہ ڈر ہے کہ سترہویں ترمیم کے خاتمے سے جیسے ہی میاں نواز شریف کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوگی تو وہ انہیں چاروں شانوں چت کرنے میں دیر نہیں کریں گے، وہ ڈر اب ختم کرنا ہوگا اور ان پر بھروسہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ان کے پاس اور کوئی پائیدار ’آپشن‘ بھی نہیں بچا۔ اورم±لا،ملٹری، مسلم لیگیں اور میڈیا کے بعض مجاہدین ان کے خلاف متحد ہوچکے ہیں۔ ماضی مےں جو ہو چکا اسے بھول کر دونوں بڑی جماعتوں کو اےک دوسرے کا ساتھ اس لئے بھی دےنا چاہےے کہ اسی اتحاد مےں ان کی سلامتی بھی ہے ،مےاں نواز شرےف کو بروقت اس بات کا ادراک ہونا ان کی بالغ نظری کا ثبوت ہے امےد ہے صدر مملکت اور پےپلز پارٹی بھی بالغ نطری کا مظاہرہ کرےں تاکہ ملا ملٹری اور مسلم لےگوں کی تکون نہ بن سکے۔

Tags: column , zameer afaqi

عوام کے بڑھتے ہوئے مسائل پر حاکموں کی مجرمانہ خاموشی

May 25th, 2009 · No Comments

ضمیر آفاقی

عوام کی آواز

پاکستان عملاً مسائل کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے اور جو اس کے کرتا دھرتا ہیں ان کے نذدیک پاکستان کے عام عوام کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے بتیا جاتا ہے کہ ریاست کے حاکم اہنی قلمرو میں بسنے والے تمام افراد کے لئے ماں باپ کا درجہ رکھتے ہیں جن کی تمام ضرورتیں پوری کرنا ان کا فرض منصبی ہوتا ہے کم سے کم ’’کافروں‘‘ کے ملکوں میں تو ایسا ہی ہوتا ہے جبکہ ’’اسلامی‘‘ حکومتوں میں اسلام کے بول بالا کرنے پر زور دیا جاتا مگر اسلام کے ماننے والے عام اور مجبور انسانوں کی فلاح و بہبود پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی،یہاں کھمبیوں کی طرح اگی ہوئی مذہبی جماعتیں ہیں لیکن ان کی بھی ترجیعات میں عام آدمی کے مسائل کا حل نہیں ہے یہ لوگ کیونکہ آخرت کی زندگی پر زیادہ یقین رکھتے ہیں اس لئے زمینی مخلوق کس حال میں ہے اس بات سے انہیں غرض ہی نہیں ہے یہی لوگ حکمرانوں کو خدا کا سایہ قرار دینے میں تو سو طرح کی دلیلیں وضع کر لیتے ہیں غربت اور امارت کو اللہ کی دین قرار دیتے ہیں اور بھوکے ننگے لوگوں کو صبر کی تلقین کرتے ہوئی کہتے ہیں کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جبکہ جن لوگوں نے عام عوام کی زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں ان کی شان میں گستاخی کرنے کا سوچتے بھی نہیں۔ اللہ ایسے ناانصافی پر مبنی نظام کو قائم اور اس کی حمائیت کرنے والوں پر کیسے رحم کر سکتا ہے؟

پورا ملک بد امنی مہنگائی بے روز گاری ذخیرہ اندوزوں کے شکنجے میں ہے بجلی کی بندش نے اس شدید گرم موسم میں لوگوں کی زندگیاں عذاب بنا رکھی ہیں مگر یہاں کسی کو اس بات کی پرواہ ہی نہیں اس لئے کہ حکمران طبقہ ہو یا ان کے حواری یا طبقہ امرا ان سب کے گھروں میں بجلی کی دو دو لائنیں لگی ہوئی ہیں ایک طرف اگر بجلی بند ہو تو دوسری لائین میں آرہی ہوتی ہے اور یہ لوگ بڑ ئے فخر سے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ہمارئے یہاں تو بجلی جاتی ہے نہیں اور اگر پھر بھی چلی جائے تو جرنیٹر موجود ہیں بھلا ان لوگوں سے خیر کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے ؟ جو خود اس تکلیف سے گذرئے ہی نہ ہوں جس کا شکار اس ملک کی عوام ہے انہیں اسکا اندازہ کیسے ہو سکتا ہے؟

لوگوں کی حالت زار دیکھ کر ہر صاحب دل کا دل کڑھتا اور دکھتا ہے مگر ان ’’واٹر پروف‘‘ لوگوں پر اس کا اثر ہی کوئی نہیں ہوتا زرداری صاحب نے چند دن پہلے اپنے ایک بیان میں واپڈا والوں کو ہدایت جاری کی تھی کہ رات کی لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے اس سے عوام کو تکلیف ہوتی ہے ان کے اس بیان کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ رات کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ کر دیا گیا،رات کو چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بوڑھے اور خواتیں کی حالت کیا ہوتی ہے ان کی اس تکلیف کا اندازہ ہے کسی کو ؟ بے شرمی اور ڈھٹائی کی تمام حدیں ہمارئے یہ ’’ماں باپ‘‘ اور ان کی پالتو اولادیں (سرکاری ادارئے) پار کرتے نظر آتے ہیں۔

منشیات فروشی سرکار کی سرپرستی میں دھڑلے سے ہو رہی ہے اور قوم کے نونہال اس لعنت کا شکار ہو کر اپنے کنبوں کے لئے وبال جان بنتے جا رہے ہیں ،منشیات کی روک تھام کے لئے جو ادارئے موجود ہیں ان کی کار کردگی کا بھی کبھی جائزہ لینے کی کسی نے کوشش کی ہے ؟ پولیس اس ضمن میں کیا کر رہی ہے اس کی باز پرس کون کرئے گا ؟جبکہ شہروں اور دیہاتوں میں یہ وبا اتنی عام ہو چکی ہے کہ اندھوں کو بھی نطر آتا ہے کہ کون لوگ ہیں جو اس مکروہ کاروبار میں ملوث ہیں لیکن نظر نہیں آتا تو ان کو نہیں آتا جو اس کے سدباب کے ذمہ دار ہیں ان کی چشم پوشی سے تو یہ لگتا ہے جیسے اس کام کو سرکار کی باضابطہ سر پرستی حاصل ہے ورنہ اپاہج ہوتی ہوئی نسلوں اور قوم کے مسقبل کا کسی کو تو خیال ہوتا ؟ عوامی مسائل کو ختم کرنے کی طرف حکومت کی توجہ نہ ہونے سے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت کے کارپرداز عوام کو انہی مسائل میں جان بوجھ کر متبلا رکھنا چاہتے ہیں تاکہ عوام اپنی پریشانیوں میں ہی الجھے رہیں اور وہ حکمرانوں کے بلنڈرز کی طرف دیکھ ہی نہ سکیں جو وہ عوام کے ساتھ کرتے ہیںورنہ کچھ تو عوام کے دکھوں کا مداوا کیا جاتا۔دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ملک کے دیگر مسائل کو سرئے سے ہی فراموش کر دیا جائے،حکومت نے پولیس کی تنخواہوں میں تو خاطر خواہ اضافہ کر دیا ہے مگر ان کی تربیت کی طرف توجہ نہیں دی گئی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کا عوام سے ہتک اور توہین آمیز سلوک اسی طرح جاری ہے جیسے پہلے تھا، اور ان کے اسی سلوک کی بنا پر جرائم اور دہشت گردوں میں اضافہ ہوتا ہے اس کے ساتھ ہی ٹریفک وارڈن جن کا کام ٹریفک کی روانی کو بہتر کرنا ہے وہ ٹریفک کی روانی کی طرف کم اور چالان کرنے پر زیادہ زور دیتے دکھائی دئے رہے ہیں بلکہ جو کوئی ان کے اس ناروا سلوک کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس پر ’’کار سرکار‘‘ میں مداخلت کا جواز بنا کر مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں ان کا شہریوں کے خلاف توہین آمیز سلوک اس ادارئے کے خلاف بھی نفرت میں اضافہ کرنے کا سبب بن رہا ہے، سنا ہے پنجاب پولیس اور ٹریفک پولیس کے سربراہان نیک اور اچھی شہرت کے حامل افسران ہیں انہیں اپنی نیک نامی کو بچانے کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

Tags: column , zameer afaqi

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کا کردار؟

May 21st, 2009 · No Comments

ضمیر آفاقی

قبائلی علاقوں سے جو فتنہ پاکستان کی سالمیت اس کے عوام اور فوج کے خلاف اٹھا تھا تومیں نے اس وقت ہی اس فتنے کی نشان دہی کرنی شروع کر دی تھی اس وقت غالباً میں ہی پاکستان کا واحد کالم نگار تھا جس نے ان نام نہاد اسلام پسندوں کو پاکستان اور اسلام کے خلاف فتنہ کہنا اور لکھنا شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں مجھے اس وقت سے لیکر اب تک نا صرف تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے بلکہ اس ذہنیت کے حامل لوگوں کی جانب سے بھی مجھے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں ان دھمکیوں کا انداز کیا اور کیسا ہے یہ اب وہ کالم نگار دوست بھی جانتے ہیں جو ان کی دھمکیوں کا شکار ہیں،جس بات کو میں گزشتہ تین چار سال سے مسلسل کہتا آرہا ہوں آج اس پر ماسوائے ان چند لوگوں یا جماعتوں کے جن کی دوکانداریاں اب بند ہونے کو ہیں تقریباً پوری قوم متفق ہو چکی ہے بلکہ اس ملک کے دانشوروں نے بھی اس ذہنیت کو ریاست کا باغی اور فتنہ کہنا شروع کر دیا ہے ، اس حقیقت سے اب انکار ممکن نہیں کہ اس فتنے کے مکمل سدباب کے بغیر ملک میں امن و امان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا ،پاکستان میں بھی اب لوگوں کو اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ ملا فضل اللہ کا گروہ بھارت کے پیسوں اور مدد سے اپنے ہی ملک اور شہریوں کے خلاف بر سرپیکار ہے اسی طرح دیگر طالبان کے گروہ اور گروپ بھی کسی نہ کسی کی مدد جو اسلحہ اور پیسے کی شکل میں وصول کر رہے ہیں کا استعمال پاکستان کے خلاف ہی کر رہے ہیں، ملا صوفی محمد ہو یا مسلم خان، عزت خان ، بیت اللہ محسود ان سب کے ڈانڈے پاکستان مخالف قوتوں سے ملتے ہیں جہاں سے انہیں بھر پور امداد اور ہر طرح کی اعانت مل رہی ہے اور یہ ’’مجاہدین‘‘ اس ملک کو ہی تباہ کرنے کے درپے ہیں جہاں یہ رہتے ہیں ،پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اس طرح کے گروہ پیدا ہوتے ہیں جو دوسروں سے پیسہ لیتے ہیں اور اپنے ہی ملک کے خلاف جنگ شروع کر دیتے ہیں جسے ’’اسلامی‘‘ بنانے کے لئے یہ لوگ جہاد کا نام دیتے ہیں تاکہ عوام کی ہمدردیاں حاصل کر سکیں اور ان کی ہی سوچ جیسی بعض مذہبی جماعتیں ان کی مارکیٹنگ کرتی ہیں جس کا وہ بھی حصہ وصول کرتے ہیں،یہ لوگ اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور مسجدوں اور مدرسوں پر بھی ان کا قبضہ ہے ، دہائی خدا کی ایک خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواوں کو ان دکانداروں نے محض اپنے ذاتی مفاد کی خاطر نہ صرف تقسیم کرنے کا گناہ عظیم کیا ہے بلکہ ان کے درمیان فرقوں کی شکل میں ایسی نفرت کی دیواریں کھڑی کر دی ہیں جنہیں پاٹنا بہت ہی مشکل ہو گیا ہے ان کی پیدا کی ہوئی نفرت کی کوکھ سے ہزار طرح کی سماجی اور انسانی برائیوں نے جنم لیا ہے اور معاشرے کے ارتقاء کا سفر رک گیا،یہ لوگ اس ملک اور عوام کے خلاف اب بھی سازشوں سے بعض نہیں آرہے اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف برسرپیکار گروہوں کو قرون اولیٰ کے مجاہدین بنا کر پیش کر رہے ہیں میں نے کئی بار انہی صفحات پر یہ بات لکھی ہے کہ ہمیں کسی دشمن کی ضروت نہیں ہے اور ہمارئے اپنے ہی ’’یہ مہربان ‘‘ کافی ہیں اس کام کے لئے۔

اب جبکہ دہشت گردوں کے خلاف ایک باضابطہ جنگ ریاست نے شروع کر دی ہے اور دہشت گردوں کا صفایا بھی ہو رہا ہے تو پورے ملک کے عوام کو اس جنگ کی نہ صرف حمایت کرنی چاہیے بلکہ حکومت اور افواج پاکستان کا ہر طریقے سے ساتھ دینا چاہیے یہ ہماری قومی اور اسلامی ذمہ داری ہے اور حکومت کو بھی یہ جنگ اس وقت تک ختم نہیں کرنی چاہیے جب تک استحکام پاکستان کے خلاف برسر پیکار گرہوں اور افراد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا یا یہ لوگ حکومت کی اطاعت نہیں کرلیتے اور اپنے ہتھیار پھینک کر ریاست کے طابع شہری بن کر رہنے کا یقین نہیں دلا دیتے،اس وقت جو فوجی جوان و افسر اس جنگ میں شہید ہو رہے ہیں ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے سول سوسائٹی، کاروباری اداروں اور دیگر افراد معاشرہ کو آگے بڑھنا چاہیے اور ان کے لئے یاد گاری تعزیتی ریفرنس پیش کرنے کے ساتھ ان کی یادگاروں پر پھول چڑھانے کے لئے فوری حرکت میں آجانا چاہیے تاکہ فوج اور قوم کا مورال بلند ہو ۔

Tags: column , zameer afaqi

سوات میں جہاد یا فساد؟

May 10th, 2009 · No Comments

ضمیر آفاقی

پاکستان کو بیرونی دشمنوں کی ضرورت اس لئے نہیں رہی کہ اس کے اپنے ہی اس کام کے لئے کافی ہیں ایک اچھا خاصا دنیا کی تمام نعمتوں سے مالا مال ملک اس ملک کے ہی مکینوں کی وجہ سے کھنڈر بنتا جا رہا ہے،دنیا ترقی کی جانب محو سفر ہے اور ہم تنزلی کو اپنے گھر کی راہ دکھاتے ہیں،ہم جیسا بھی روئے زمین پر شائد ہی کوئی اور ہودنیا بھر کے ملکوں میں سائنس دان ،مفکر، آئی ٹی انجینر،ریسرچر اور ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو دنیا بھر کے انسانوں کے دکھوں ،تکلیفوںاور مصائب کے خاتمے کے لئے اپنی صلاحیتں بروئے کا ر لاتے ہیں اور یوں دنیا کے انسانوں کے مصائب کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انسانوں میںپیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لئے نئی سے نئی دوایوں پر تحقیق کی جاتی ہے ،انسان کے لئے کس طرح مزید آسانیاں پیدا ہوں وہ اپنا زیادہ تر وقت اس پر صرف کرتے ہیں آج جو کچھ بھی ہم استعمال کر رہے ہیں اور جو آسانیاں بھی ہمیں میسر ہیں وہ دوسروں کی دین ہیں۔جبکہ ہمارے ہاں ملا صوفی محمد( جو ہزاروں نوجوانوںکو مروانے کے بعد بھی شرم نہیں کرتے اور نہ ہی خدا کا خوف انہیں دامن گیر ہوتا ہے افغانستان میں لوگوں کے بچے مروا کر انہیں تسلی نہیں ہوتی تو اپنے ہی ملک جو ان کو عزت دیتا ہے اس کے خلاف ہی بغاوت کر دیتے ہیں اور یہاں کے بچوں کو بھی مروانے کے لئے تنہا چھوڑ کر خود غائب ہو جاتے ہیں)،مسلم خان، منگل باغ، بیت اللہ محسود،عزت خان ،قاضی حسین احمد،منور حسن ،عمران خان حافظ حسین احمد جیسے ’’نابغے‘‘ پیدا ہوتے ہیں جن کی زندگی کے دامن میں کائنیات کی پہنایوں میں چھپے قدرت کے رازوں کو دریافت کرنے جیسا کوئی ’’گناہ‘‘ نہیں ہے ۔غور فکر، کائینات کی تسخیر اور اس کے ارتقا جیسے مسائل پر یہ لوگ وقت ہی ضائع کرنا نہیں چاہتے یہ لوگ اس سے بھی بڑئے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں جس کا تقریباً پاکستانی عوام کو اب اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہے ۔ ،یہاں مذہبی لیڈر پیدا ہوتے ہیں جو انسانوں کو تقسیم کرنے جیسے کاموں میں مشغول رہ کر انسانیت کی ’’خدمت‘‘ کررہے ہیں،یہاں کی سیاسی لیڈر شپ کے ویژن کی وسعت میں بھی انسانیت کے دکھوں کا مداوا کہیں نظر نہیں آتا۔پاکستان کے کئی شہر آگ اور خون میں ڈوبے ہوئے ہیں اور انسانیت بین کر رہی ہے مگر وہ اجتماعی شعور اجاگر ہی نہیں ہو رہا جس کی کسی قوم کو ضرورت ہوتی ہے،پاکستان کی فوج باغیوں،ملک دشمن عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہے اور پاک فوج کے جوان شہید ہو رہے ہیں لیکن جس قوم کو ان شر پسندوںاور باغیوں سے بچانے کے لئے پاک فوج یہ سب کچھ کر رہی ہے اس قوم کا ایک غالب حصہ مندرجہ بالا نابغوں کے حصار میں ہے جو فوج کی کاروائی کو متنازعہ بنانے میں ہی اپنی توانائیاں صرف کر رہا ہے،دنیا کی تاریخ اس سچائی سے لبریز ہے کہ ملک کے خلاف بغاوت کا ارتقاب کرنے والوں کو پوری قوت سے روکنا اور ان کا قلع قمع کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے اور جو ریاست اپنا یہ فریضہ سر انجام نہیں دیتی اس کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں شر پھیلانے اور زمین پر فساد برپا کرنے والے گروہوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف پاک فوج کا جہاد جاری ہے اس جہاد کو سوائے مذہبی جماعتوں کے، ملک کے زیادہ تر عوام ، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور سوات کے لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس قومی جہاد کی حمایت پاکستان کی وہ مذہبی جماعتیں بھی کرتیں جو خود ہر وقت جہاد جہاد کا نعرہ لگاتی رہتی ہیں لیکن یہاں وہ اس لئے خاموش ہیں کہ اس جہاد میں ان کے ذاتی فائدئے کے لئے مال غنیمت کا حصول تقریباً ناممکن ہے ورنہ جہاد تو ان کا تکیہ کلام ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوا کرتیں مگر جب ریاست اور اس کے شہریوں کے خلاف شر پسند مورچہ زن ہو جائیں تو ان کی سرکوبی انتہائی ضروری ہو جاتی ہے، صوبہ سرحد اور سوات میں جو جہاد پاک فوج نے ملک کے سربراہ کے حکم سے جاری کیا ہے اس کیجواز کے لئے کئی واقعات موجود ہیں طالبان نامی شر نے اس علاقے کے لوگوں کی نہ صرف زندگیاں اجیرن کر رکھی تھیں بلکہ لوگ بھوکوں مرنے پر بھی مجبور ہو چکے تھے ،اس طرح کی ایک داستان مہاجر کیمپ میں مقیم غالب گل کی بھی ہے جو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کو یوں بیان کرتا ہے کہ’میں نے چار سال کی محنت سے ایک سکول قائم کیا لیکن طالبان کے سر تن سے جدا کرنے کی دھمکی نے میری محنت کو غارت کردیا۔‘غالب گل ضلع بونیر کوگا کے دمغار کا رہائشی ہے اس نے بتایا کہ اس کے علاقے میں کوئی سکول نہیں تھا تو اس نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک سکول قائم کیا جس میں ابتداء میں اٹھائیس بچوں کو داخل کروایا گیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تعداد بڑھتی ہوئی نوے تک پہنچ گئی۔غالب گل گزشتہ چار سال سے ان بچوں کو پڑھاتا رہا ہے اور اس نے پہلی کلاس سے شروع ہونے والے سکول کو درجہ چہارم تک پہنچایا کہ ایک دن بونیر میں طالبان کی آمد ہوئی جو گشت لگاتے ہوئے غالب گل کے گاؤں بھی پہنچ گئے۔غالب گل کے بقول طالبان نے انہیں دھمکی بھجوائی کہ ’وہ این جی او کے تحت سکول چلا رہا ہے لہذا سکول بند کردئے نہیں تو اسے ذبح‘ کردیا جائے گا۔اس کے بعد غالب گل نے گاؤں والوں کو بلایا اور کہا کہ وہ مزید بچوں کی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتا یوں سکول کو بند کردیا گیا۔غالب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا’اتنے اچھے اور ذہین بچے تھے کہ جب بھی کوئی اہلکار سکول کا دورہ کرتا تو وہ ہمیں انعام دیتا لیکن جس دن میں نے بچوں کو کہا کہ کل سے سکول بند ہوگا تو وہ بھی رونے لگے اور میں بھی۔علم دشمن ان لوگوں کے کارناموں کی اتنی زیادہ تعداد ہے جس پر میں سوچ رہا ہو کہ ایک کتاب لکھوں تاکہ ان لوگوں کی بھی آنکھیں کھلیں جو ان کی حمائیت کرتے ہیں،یہاں پر میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ پوری قوم کو اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بے گھر و در ہو جانے والے لوگوں کی ہر طرح سے مدد کرنی چاہیے تاکہ یہ طالبان کے ظلم کے بعد ہماری بے حسی کا شکار نہ ہو جائیں اس کے علاوہ پاک فوج کی حمائیت اور شہید ہونے والے فوجی جوانوں کو خراج عقیدت ضرور پیش کریں کیونکہ ان کی یہ شہادت ہماری جان مال اور آبرو بچانے کے نتیجے میں ہو رہی ہے ۔

کالم نگار ساوتھ ایشین کالمسٹ کونسل (ساک) www.southasiancc.org کے سیکرٹری جنرل اور سینئرصحافی ہیں،

Tags: column , zameer afaqi

آگ کبھی گلستان نہیں بنتی

May 4th, 2009 · No Comments


ضمیر آفاقی

جب آپ دہشت گردوں اور ریاست کے باغیوں کو ہیرو بنا کر پیش کریں گے تو پھر یہ ہیرو آپ کے ساتھ جو چاہے سلوک کریں آپ کو اسے قبول کرنا چاہیے،نہ کبھی آگ گلستان بنتی ہے اور نہ ہی شعلوں پہ آشیانے بنائے جاتے ہیں مگر ہم نے بحثیت مجموعی فطرت کے اصولوں کی نفی کی ہے جس کی سزا تو ملنی تھی لیکن ہم پھر بھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں،پاکستان کے عوام ہوںیا خواص یہ ہمیشہ فکری بحران کا شکار رہے ہیں اس فکری بحران کو آموختہ کر نے میں ملک کا مذہبی طبقہ ہمیشہ پیش پیش رہا اور اس کا فائدہ بھی انہی طبقات نے اٹھایا اور یہی طبقہ قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا آیا ہے ،قوم کی اصلاح کس حد تک ہوئی اس کا اندازہ قومی انتشار سے لگایا جا سکتا ہے ۔

پوری دنیا کے دستور میں یہ بات درج ہے کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والے باغی کہلائے جائیں گے اور ریاست ان باغیوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا حق رکھتی ہے اور ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا ہے ورنہ کسی بھی ریاست کا وجود ہی سلامت نہ رہتا،لیکن پاکستان دنیا کا غالباً پہلا ملک ہے جو ریاستی باغیوں کے ساتھ مزاکرات بھی کرتا ہے اور ان کے مطالبات بھی مانتا ہے اور ریاست پاکستان کا میڈیا ان باغیوں کو ہیرو بنا کر نہ صرف پیش کرتا ہے بلکہ ان کے بیانات اور انٹر ویو تک نشر کرتا ہے جسے وہ صحافتی ذمہ داری اورآزادی سے تعبیر کرتا ہے جبکہ صحافتی آزادی اور ذمہ داری کا مظاہرہ عوام کے مسائل کی نشان دہی کرنے میں کم ہی کیا جاتا ہے،اس وقت ملک کا عام آدمی کن مسائل کا شکار ہے ’’صحافتی ذمہ داری‘‘ اس ضمن میں خاموش ہی نظر آتی ہیپورا پاکستان مہنگائی اور بدامنی کا شکار ہے تھوک کے حساب سے لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں لیکن یہ تمام مسائل طالبان کی شریعت کے نفاذ اور دہشت گردی کی کاروئیوں کو میڈیا پر منظر عام پر لانے کے جنون کے ملبے تلے دفن ہو چکے ہیں ،دہشت گرد اور ان کی کاروائیوں پر بحث و مباحثے جاری ہیںصوفی محمد اور ان کے حواری صرف ایک ہی بات جانتے ہیں کہ ان کے فہم کے مطابق شریعت کا نفاذ لیکن وہ اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے ہیں کہ جن پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے ان کی حالت زار کیا ہے؟ انسانیت دشمن گروہ غلبہ حاصل کر رہے ہیں اور انسانیت بین کر رہی ہے،ان انسانیت دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے اور ان کا قلعہ قمہ کرنے کے لئے اگر ریاستی فورسز حرکت میں آتی ہیں تو ملک کے ’’ سکہ بند‘‘ دانشور‘‘ فوج کے خلاف محاذ کھولتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ ریاستی فوج کا یہ فرض ہے کہ وہ ملک کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے بچائے،

یہ ایک عجیب منطق ہے کہ بے گناہ مسلمانوں کاخون بہا نے والوںاور ریاست پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے والوں کے لئے تو ہمدردی رکھی جاتی ہے اور جو ان کو بچانے کی سعی کر رہے ہیں ان کے خلاف محاذ کھول دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے میڈیا پر اپنی بات کو ’’ فیصلہ‘‘ قرار دینے والے دانشوروں کا قبضہ ہے اور ان میں ایک ہیجانی کیفیت طاری ہے ۔’’سکہ بند‘‘ دانشوروں میں اگر انتہاپسندی کی طرف جھکاؤ صاف نظر آرہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اْن کا اپنا رحجان کیا ہے اور ان کے ذہنی اجزاے ترکیبی کیسی علمی فضاء میں تیار ہوے ہیں اور وہ ریاست کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ جن ’’بوریہ نشنیوں‘‘کی یہ لوگ حمایت کر رہے ہیں ”درویشوں اور بوریہ نشینوں” کا یہ ٹولہ صدق دل سے جدید ترین آٹو میٹک گاڑیوں،جدید ترین ہتھیاروں، ہیروئن کے وسیع ذخائر،زمرد کی کانوں اور بے گناہ مسلمانوں کی چھینی ہوئی املاک اور دولت سے پاکستان میں اسلام کا بول بالا کرنا چاہتے ہیں، جرائم پیشہ افراد اور دہشت گرد وں کو ہیرو قرار دیا جا رہا ہے ۔ ہم فطرت کے اس اصول کو فراموش کر چکے ہیں کہ نہ کبھی آگ گلستان بنتی ہے اور نہ ہی شعلوں پہ آشیانے بنائے جاتے ہیں اور فطرت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں سے خود فطرت انتقام لیتی ہے جس کا ہمیں نہ ادراک ہے اور نہ احساس۔

Tags: column , zameer afaqi