Universal Truth by Zameer Afaqi
Category Archives: ضمیرآفاقی
پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سازش؟
پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سا
زش؟
پاکستان کو کمزور نا تواں اور افراتفری کا شکار بنانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر کس طرح سازشیں تیار ہو رہی ہیں اور میڈیا کے ذریعے کس قدر موثر پراپیگنڈا کرایا جا رہا ہے اس کا اندازہ گزشتہ چند سالوں سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں مختلف حوالوں سے شائع ہونے والی رپورٹوں سے لگایا جا سکتا ہے، کچھ عرصہ قبل سید کمال نامی شخص کے ذریعے کتاب لکھوا کر مارکیٹ میں بیچی جاتی ہے جس میں پاکستان کے ٹوٹنے کی نشاندہی کی جاتی ہے ، اس کتاب کا مصنف چونکہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہے اس لئے اس کتاب کی تشہیر کا موثر بندوبست بین الاقوامی نشریاتی ادارے سی این این کے ذریعے کیا جاتا ہے جس پر چند دن بڑے زور و شور سے پاکستان کے خلاف شرانگیز مہم چلانے کے بعد بوجوہ ختم کر دی جاتی ہے، اس کے بعد ایک گمنام ویب سائٹ پر پاکستان کے ٹوٹنے اور نئے پاکستان کے حوالے سے ایک نقشہ جاری کیا جاتا ہے جس میں بھی ان ملکوں کی نشان دہی کی جاتی ہے جو امریکن مفادات کی راہ میں کسی نہ کسی حوالے سے رکاوٹ ہیں اور انہیں مختلف القابات اس نقشے میں دئیے گئے تھے جیسے مشرقی وسطیٰ ” بدکار“ بھارت ” امریکی عالمگیریت کا ایجنٹ“ چین کو ” بلیاں“ کینیڈا کو ” ویرانہ“ میکسیکو لاطینی امریکہ کو ” امریکہ کے دھوبی“ وغیرہ اور اس نقشے میں جن ملکوں پر بم برسانے کی بات کی گئی ہے ان میں مشرقی وسطیٰ کے ممالک اور پاکستان شامل تھے، اس نقشے کو دنیا امریکہ کے مطابق کہا گیا ہے اور پاکستان کے حوالے سے ایک خبر جسے گزشتہ خبروں کا تسلسل ہی کہا جا سکتا ہے اور جسے پاکستان کی ایک نیوز ایجنسی کے ذریعے پاکستانی میڈیا میں شائع کروایا گیا تھاجس میں یہ بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں خانہ جنگی پر امریکی فوجی ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرنے کیلئے تیار ہیں، یہ خبر یا رپورٹ کسی ویب سائٹ سے مذکورہ نیوز ایجنسی نے حاصل کی تھی لیکن اس ویب سائٹ کا ایڈریس نہیں لکھا اور اگر ویب سائٹ کا ایڈریس لکھ بھی دیا جاتا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ ہزاروں بوگس ویب سائٹس پر آج کل اسی طرح کا پرا پیگنڈا کیا جا رہا ہے، امریکہ پاکستان کے ساتھ کیا کرنے کا ارداہ رکھتا ہے یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور منفی پروپےگینڈہ اس کی ہی ایک شکل ہے اب یہی دیکھ لیں میمو کا معاملہ کس طرح اچھالا گیا ،اور پھر صدر پاکستان کی بیماری کو کون سا رنگ دیا گیا اگر ہم ذرا سی بھی توجہ دیں تو پاکستان کے اندر ہونے والی بیرونی سازشوں کا بھانپ سکتے ہیں مگر ہم تحقیق سے بھاگتے ہیں اور اپنی آسانی کی خاطر بیرونی پریس میں جو شائع ہوتا ہے من و عن اپنے میڈیا میں شائع کر دیتے ہیں ہمیں اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ جتنا خطرہ اس وقت پاکستان کے سر پر بیرونی طور پر منڈلا رہا ہے اس سے پہلے ایسا خطرہ نہیں تھا، اس بات کا احساس حکومت اور افواج پاکستان کو ہے اور یہ اس کی حکمت عملی ہے کہ وہ حالات پیدا نہیں ہونے دئیے گئے جس طرح کے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ طاقتیں خاموش نہیں بیٹھیں وہ اپنی سازشوں میں مصروف عمل ہیں، آئندہ دنوں اسی طرح کی مزید رپورٹوں کی اشاعت کی توقع بھی کی جا سکتی ہے، اس لئے آج پھر میں اسی بات پر اکتفا کرتے ہوئے کالم کا اختتام کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ خدارا اس ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، مذہبی پارٹیوں کو وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ملک کے خلاف ہونے والی بین الاقوامی سازشوں پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانے کی کوشش پر بھی زور دینا ہو گا، یہ وقت نہ ہی حکومت کی مخالفت میں کوئی تحریک چلانے کا ہے اور نہ ہی آپس میں دست و گریباں ہونے کا ، یہاں اس موقع پر ملکی میڈیا کو بھی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ملکی سالمیت کے خلاف شائع ہونے والی رپورٹوں کو من و عن منظر عام پر لانے سے گریز کرنا چاہیے، ہمارے یہاں تحقیق کرنے کا فقدان ہے، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں جو بھی شائع ہوتا ہے ہم بغیر تحقیق کئے اور اس کی صحت کو بغیر جانچے شائع کر کے انہی قوتوں کے کام آسان کر رہے ہیں، اس لئے ہمارے دانشور طبقے کو آگے بڑھ کر ملک میں وسیع ترمفاہمتی فضا کو ساز گار بنانے کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔اس وقت ہمارے ملک کی سیاسی فضاءپھر نفرتوں کی آبیاری کرتی نظر آ رہی ہے اوربڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں جس سے نفرتوں میں اضافہ ہو گا اس لئے سیاسی جماعتوں کو نفرت اور انتشار کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے ملک کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بادشاہ کی جوتی کبھی نہیں ٹوٹتی: ضمیرآفاقی
ضمیر آفاقی
ایک زمانہ تھا جب دنیا بھر پر بادشاہت کا غلبہ تھا اور بادشاہ کا ہر فیصلہ حرف آخر تصور کیا جاتا تھا کسی کو بھی اس فیصلے سے انحراف کی جرات نہیں ہوتی تھی، پھر رفتہ رفتہ زمانہ بدلا، بادشاہت کی جگہ جمہوریت نے لے لی مگر جمہور رعایا کی رعایا ہی رہی جمہوری طرز حکومت میں ایک صدر ہوتا ہے ، ایک وزیر اعظم اور ایک آدھ ان کی ’’ سٹپنیاں صدو اور وزیر اعظم کو قیمتی مشوروں سے نوازتی ہیں اور ان کی مشوروں کی رہنمائی میں امور مملکت چلائے جاتے ہیں ان سٹپنیوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ یہ ہمہ وقت صدور اور وزراء اعظم کو سب اچھا کی رپورٹیں دیتے رہیں ملک میں کیا ہو رہا ہے کون کون سے بحران پیدا ہوئے ہیں ، ان کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں ،ان سب باتوں سے صدور اور وزراء اعظم کو لاتعلق رکھا جاتا ہے کیونکہ سٹپنیوں کی یہی ڈیوٹی ہوتی ہے جسے وہ سرانجام دینے کے لئے دن رات ایک کئے دیتے ہیں، آج کچھ پرانے قصے کہانیوں پر گزارا کرتے ہوئے بات کو جاری رکھتے ہیں اور ان قصے کہانیوں میں دیکھتے ہیں کہ طرز حکمرانی جمہوری ہو یا بادشاہت اس میں تبدیلی کتنی آتی ہے۔
ایک بادشاہ کے دربار میں ایک آدمی آیا اور انصاف، انصاف کی دہائی دینے لگا، بادشاہ کے احتساب کا شہرہ ہر طرف پھیلا ہوا تھا اور کہا جاتا تھا کہ یہ بادشاہ ’’ نیک نیت‘‘ انصاف پسند اور احتساب کا قائل ہے اور ایسا انصاف اور احتساب کرتا ہے کہ جو دکھائی بھی دیتا ہے، منافقت کا تو وہ بالکل قائل نہیں تھا جو بات کہتا دو ٹوک کہتا خواہ دوسرے کو بری لگے ’’ انصاف پسند اتنا تھا کہ اس نے عدالتوں کو آزادی دے رکھی تھی اور ’’ خود انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہونے سے بھی نہیں ہچکچاتا تھا کیونکہ وہ انصاف کا کٹہرا اس کا اپنا ہی بنایا ہوا تھا جس کے قاضی اس کی آنکھوں کے اشارے پر فیصلے سنایا کرتے تھے، وہ آدمی اس ’’ نیک نیت‘‘ انصاف پسند اور زبردست احتسابی بادشاہ کے حضور انصاف، انصاف کی دہائی دے رہا تھا، بادشاہ اور اس کے مشیروں نے اس آدمی کی طرف دیکھا، انہوں نے دیکھا کہ اس کی ایک آنکھ کا ڈیلا باہر نکلا ہوا ہے اور خالی جگہ سے خون بہہ رہا ہے ۔’’ نیک نیت‘‘ بادشاہ نے اس آنکھ نکلے شخص سے پوچھا تم پر کیا واردات گزری؟ اس نے جواب دیا اے نیک نیت بادشاہ آپ کے انصاف اور احتساب کے بہت چرچے سن کر آیا ہوں میرے ساتھ انصاف کیجئے ! بادشاہ نے کہا تمہارے ساتھ انصاف ضرور ہو گا!اور جن لوگوں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے ان کا احتساب بھی ہو گا! تم اپنی داستان سنائو! وہ شخص گویا ہوا ! جہاں پناہ! میں ایک پیشہ ور چور ہوں، عام چور نہیں ہوں، آج شب جبکہ چاند ابھی طلوع نہیں ہوا تھا میں ایک سرمایہ دار کو لوٹنے کے لئے گیا لیکن غلطی سے میں ایک جولاہے کے گھر میں داخل ہو گیا، جو نہی میں کھڑکی سے اندر کی جانب کودا میرا سر جولاہے کی کھڈی کے نوکدار حصے کے ساتھ ٹکرایا اور میری آنکھ پھوٹ گئی، اے عالم پناہ اب میں اس جولاہے کے معاملے میں انصاف چاہتا ہوں۔ بادشاہ نے فوراً ریاستی مشینری کو حکم دیا کہ جولاہے کو طلب کیا جائے، ریاستی اہلکار چند منٹوں میں جولاہے کو اس طرح لئے حاضر ہوئے کہ اس کی صورت پہنچاننا مشکل ہو رہی تھی اس کے گھر والوں کا کیا حشر کیا گیا طوالت کے ڈر سے اس کا ذکر یہاں نہیں کیا جا رہا ، بادشاہ نے فوراً فیصلہ صادر کیا کہ اس کی ایک آنکھ نکال کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں، جولاہا چلایا ظل سبحانی رحم آپ کی نیک نیتی کے بہت چرچے سنے ہیں، آپ کے اہلکاروں نے میری جو درگت بنا دی ہے وہ آپ کے سامنے ہے مگر میرے گھر والوں کا کیا حشر کیا ہے اس سے آپ واقف نہیں ہیں، یہ سب ٹھیک ہے میں اور میرے گھر والے ہیں ہی اسی قابل اور آپ کا فیصلہ بھی درست ہے کہ میری ایک آنکھ نکال دی جائے لیکن جناب والا میں جو کام کرتا ہوں اس کے نتیجے میں جو کپڑا تیار ہوتا ہے وہ آپ اور آپ کے مشیر پہنتے ہیں اس لئے اس کام میں دونوں آنکھوں کی ضرورت ہے تا کہ میں وہ کپڑے جو آپ کے بدن کی زینت بنتے ہیں اس کپڑے کے دونوں اطراف دیکھ سکوں جسے میں بنتا ہوں، ہاں میرے پڑوس میں ایک موچی رہتا ہے جس کی دونوں آنکھیں سلامت ہیں اس کے پیشے میں ان دونوں کی کوئی ضرورت نہیں اور آپ کو جوتی بھی مرمت نہیں کروانا ہوتی اس لئے …!
جولاہے کی بات سن کر بادشاہ نے پھر اہلکاروں کو حکم دیا جس کو فوراً تعمیل کی گئی، اہلکار موچی کی جوتیاں اس کے سر پر مارتے ہوئے اسے بادشاہ کے سامنے لے آئے، بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ اس موچی کی ایک آنکھ نکال دی جائے ، موچی بہت چیخا چلایا نیک نیتی کے واسطے دئیے لیکن اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ بادشاہوں کی جوتی کبھی نہیں ٹوٹتی یوں اس کی ایک آنکھ نکال دی گئی، اس طرح انصاف کا تقاضا پورا ہوا۔
دربار کے باہر یہ خبر جب عام لوگوں تک پہنچی تو لوگ دیوانہ وار بادشاہ کے محل کی طرف بھاگے اور بادشاہ کا انصاف زندہ باد کے نعرے لگانے لگے، ڈھول بجائے گئے اور آتش بازی کے مظاہرے کئے گئے۔