Sacc header image 4

Entries Tagged as 'younas majaz'

Pages: 1 2

ملک کی فکر کرناداں ،ان سے کچھ نہیں ملنے والا؟

November 2nd, 2009 · Comments Off

رائے عامہ ۔ ۔۔ ۔یونس مجاز

ایک طرف پشاور کے سانحہ میں جہاں صوبہ سرحد ابھی تک سوگ میں ڈوبا ہوا ہے ملبے تلے دبی مزید لاشوں کی برآمدگی سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک سو گیارہ سے اوپر ہوگئی ہے جب کہ مزید پچیس سے تیس لاشیں موجود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے وہاں دوسری طرف حکمران ان آقاو¿ں کی آو¿ بھگت میں مصروف ہیں جن سے سوائے لالی پاپ کے کچھ نہیں ملنے والا دلفریب وعدوں حسین خوابوں ،شاباش اور واہ واہ کے عوض ڈومور کا سبق پڑھا یاجارہا ہے ہیلری کلٹن صاحبہ جن کا پاکستان کا مجموعی طور پر پانچواں اور بطور وزیر خارجہ یہ پہلا دورہ ہے جہاں میزبان غلاموں کی سیوا کا لطف اٹھارہی ہیں وہاں ان کے منہ پر طمانچے بھی رسید کر رہی ہیں لیکن منہ ہو، تو کچھ اثر بھی ہو، ہیلری کے خوبصورت خطابات میں سب کچھ پرانا ہے سوائے دو باتوں کے جن میں ایک پر امن رہنے کے خواہش مند طالبان سے مذاکرات کا عندیہ جو امریکہ کے مسقبل کے پلان کا پتہ دیتا ہے اور ان مذاکرات کی شروعات ہوچکی ہیں ۔ دوسرا لوگر بل کے متعلق ا صحافیوں کے سوال پر دوٹوک یہ کہنا کہ اگر پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ کیری لوگر بل کے ذریعے ملنے والی امداد ان کے مفادات کے خلاف ہے تو وہ امداد لینے سے انکار کر سکتا ہے یہ کوئی زبردستی نہیںاور آگے چل کر پاکستانی عوام کو یہ باور کراتے ہوئے کہ آپ کے حکمرانوں کو ڈالروں کی چکا چوند میں نظر ہی نہیں آیا یا ہم نے آنے ہی نہیں دیا انھوں نے کہاکہ اگر پاکستان میں کیری لوگر بل پر بحث بر وقت شروع ہوجاتی تو عین ممکن تھا کہ اس بل کی زبان زیادہ بہتر ہوتی ۔جس کا جواب امریکہ میں سفیر حسین حقانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے مانگا جانا چائیے کہ یہ قوم کے ساتھ غداری نہیں تو کیا ہے ؟یہ الگ بات ہے کہ بش دور کے سینٹر جو بائیڈن نے یہ امدادی بل پیش کیا تھا جس پر قانون سازی کا آغاز مشرف دور سے ہوگیا تھا اور یہ امداد فوجی مقاصد کے بجائے عوامی مفادات کے لئے دی جانی تھی لیکن حکمرانوں کی تبدیلی نے سارا معاملہ چوپٹ کر دیا تھا تاہم بعد میں دوبارہ بائیڈن بل کو جان کیری اور سینٹر لوگر نے آگے بڑھایا جو مختلف مراحل سے گزرتا ہوا س وقت منظر عام پر آیا جب محترم آصف زرداری امریکہ کے دورے پر تھے اور صدر اوبامہ سے ملاقات کے دوران انھیں یہ خوشخبری سنائی گئی ۔لیکن بل کی شرائط نے جہاں پاکستان میں بھونچال کی سی کیفیت پیدا کر دی وہاں امریکیوں کو بھی ورطہ ءحیرت میں ڈال دیا کہ غلاموں کی یہ جرا ءت ۔عوام کو تو ان حکمرانوں نے نہ پہلے کبھی لفٹ کرائی نہ اس موقع پر کوئی خوش فہمی ہے تاہم فوج کی طرف سے تحفظات نے جہاں حکمرانوں کے تن بدن میں آگ لگا دی وہاں عوام کو بھی یہ باور ہوگیا کہ حکمران ان کے ساتھ کیا کھیل چکے ہیں اور یہ صورت حال جوں کی توں باقی ہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی قسم کی تبدیلی اور نہ لینے کا ٹکہ سا جواب سن کر بھی ہمارے حکمران نہ صرف بے مزہ نہیں ہوئے بلکہ اس بات پر مصر ہیںکہ یہی ہماری زندگی اور بقاہے حالانکہ ساٹھ سالوں میں پاکستانی عوام کو تو سوائے مہنگائی اور بے روزگاری کے کچھ نہیں ملا اور نہ آگے کوئی توقع ہے لیکن ااقتدار کے ایوانوں میں موجود ان غریبوں مسکینوں کی دال روٹی ان ہی ڈالروں کے عوض چل رہی ہے دوران تحریر ایک میسج کے ذریعے ملنے والی یہ خوشخبری بھی سن لیں کہ نیشنل اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے لا اینڈ جسٹس نے اکثریتی رائے سے این آر او منظور کر کے اس پر مہر ثبت کر دی ہے کہ اس ملک کے خزانے کو لوٹنا حکمرانوں کا پیدائشی حق ہے اور یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا آئندہ کے لئے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے ان گاموں ماجھوں کی ایسی کی تیسی کمائیں اور ہمیں کھلائیں بس ۔

ادھرسانحہ پشاور کے حوالے سے طالبان کی تمام تنظیموںکی طرف سے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا جارہا ہے جس کے بعد اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے پاکستان میں جاری آگ اور خون کی ہولی کے پیچھے ہمارے وہی مہربان ہیں جن کو ہم نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے اس حوالے سے میڈیا اور قائمہ کمیٹی میں ہونے والے ان انکشافات کی طرف رجوع کریں تو بات سمجھ میں آجائے گی جو حال ہی میں منظر عام پر آئے ہیں ۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعرات 29 اکتوبرکو پارلیمنٹ ہاوس میںکنوئینرمخدوم جاویدہاشمی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے اراکین ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ ،کشورزہرہ اور دفاع ،خارجہ ،داخلہ ،اقتصادی امور کی وازارتوں نے شرکت کی اجلاس غیر ملکی سیکورٹی ایجنسیوں کی سرگرمیوں کی چھان بین اور قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈراو¿ں حملوں کے نتیجے میں انسانی حقوق کی پامالی کے جائزہ کے لئے طلب کیا گیا تھا۔ اجلاس کے دوران اسلام آباد پولیس کے آئی جی سید کلیم امام نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند روز قبل اسلام آباد میں پوچھ گچھ کے دوران پانچویں واقعہ کے تحت چار مسلح امریکیوں کو گرفتار کیا گیا جن کے پاس غیر قانونی اسلحہ اور گاڑی کی نمبر پلیٹ بھی جعلی تھی انھیں صوابدیدی اختیارات کے تحت چھوڑا ہے کیوں کہ غیر ملکی سفارت کاروں کو بعض امور میں چھوٹ ہوتی ہے ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ انٹر رسک غیر قانونی سرگرمیوں مین ملوث تھی چھاپے کے دوران جدید گنیں برآمد ہوئیں جن کے جعلی لائسنس تھے کیس ایف آئی اے کو منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ صوبہ سرحد کے آئی جی ملک نوید کا کہنا ہے کہ کہ صوبہ سرحد میں ہونے والے دھماکوں میں افغانستان ،بھارت اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں اور یہ اسی طرز کے دھماکے ہورہے ہیں جو روس اور افغانستان جنگ کے دوران ہورہے تھے جس میں” را “ملوث تھی انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تحقیقات کے مطابق سرحد میں بلیک واٹر سے ملتی جلتی ڈائنکور نامی امریکی ایجنسی کام کر رہی ہے ڈائنکور نے امریکی کونصلیٹ کے توسط سے ہماری سر زمین پر پاکستان کے سابقہ فوجیوں کو بھرتی کر کے تر بیت شروع کر دی ہے پشاور میں ڈائنکورکے 29 اہلکار موجود ہیں اس ایجنسی نے انٹر رسک کے ذریعے پچاس سابقہ فوجیوں کو بھرتی کیا وزارت دفاع کے ایڈیشنل سیکرٹری حید رعلی نے کمیٹی کو بتا یا کہ امریکہ پاکستان کو ڈراو¿ں ٹیکنالوجی نہیں دینا چاہتا جس پر کمیٹی نے امریکہ اور نیٹو کو دی جانے والی لاجسٹک سپورٹ کی تفصیلات طلب کر لی ہیں ۔اس موقع پر ڈاکٹر عطیہ کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے بے گناہ لوگ مساجد اور مدارس نشانہ بن رہے ہیںجنوبی وزیرستان میں آپریشن کے لئے پاک فوج کی موجودگی کے باوجود ڈراو¿ن کیسے آرہے ہیں ، کمیٹی نے ہوائی اڈوں کے استعمال اور دیگر سامان کی تفصیلات بھی مانگی ہیںجب کہ کمیٹی نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکی سفارت خانہ نے مزید دوسو ویزوں کے لئے رابطہ کیا ہے اور اقتصادیات کی وازارت نے کمیٹی کو آگا ہ کیا ہے کہ پاکستان میں 87 بین الاقوامی این جی اوز کام کر رہی ہے جن میں فارم تقسیم کیے گئے ہیں کہ وہ اپنی فنڈنگ کے ذرائع سے حکومت کو آگا ہ کریں جبکہ مخدوم جاوید ہاشمی اور دیگر اراکین کمیٹی نے وزارت داخلہ اور اسلام آباد پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا ملکی قوانین امریکیوں کو اس طرح مسلح ہوکر سر گرمیوں کی اجازت دیتے ہیں ؟جب کہ انٹر رسک کو بلیک لسٹ قرار دیتے ہوئے اس کا لائسنس منسوخ کیا گیا ہے تو اس نے پشاور میں کس طرح پچاس سابقہ فوجیوں کو بھرتی کیا؟ آئی جی اسلام آباد نے اعتراف کیا کہ دوروز قبل جن امریکیوں سے پوچھ گچھ کی گئی ان کے پاس اسلحہ کی موجودگی جرم تھی مگر ہم یہ رپورٹ وازارت داخلہ کو دیتے ہیں

جس پر وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری شاہداللہ بیگ نے کہا کہ اس واقعہ کی رپورٹ مل گئی تھی وزارت خارجہ کے ذریعے امریکی سفارت خانہ سے احتجاج کیا جائے گا ۔اس پر جاوید ہاشمی نے اپنے ریمارکس میں بجا کہا ہے کہ امریکیوں کی جانب سے ملکی قوانین کی مٹی پلید کی جارہی ہے کوئی شہری زور سے چھینک بھی مارے تو ہماری پولیس گرفتار کر لیتی ہے اور یہاں امریکی غیر قانونی اسلحہ لے کر جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں ، پاکستان میں غیر ملکی کمپنیوں کی مشروم کی طرح گروتھ ہورہی ہے جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد اٹھ رہا ہے کمیٹی نے جب استفسار کیا کہ ان امریکیوں کے پاس اسلحہ کہاں سے آرہا ہے تو وزارت داخلہ کے حکام کمیٹی کو تسلی بخش جواب نہ دے سکے جب کہ ایڈیشنل سیکرٹری دفاع نے کہا کسی غیر ملکی کو ائیر پورٹ کے ذریعے اسلحہ لانے کی اجازت نہیں ہے ،وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے اعتراف کیا کہ امریکہ کی جانب سے دوسو مزید ویزوں کی درخواست آئی ہے امریکی سفارت خانے میں 750 کا عملہ تعینات ہوتا ہے اس وقت سفارت خانے میں 379امریکی کام کر رہے ہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئی دہلی کے امریکی سفارت خانے میں سٹاف کی تعداد 325ہے جس پر کمیٹی نے سفارش کہ امریکیوں کو ویزہ دینے کے معاملے میں چو کنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیاامریکی سفارت خانے نے اپنے عملے کے لئے 284 ہاو¿سز ہائر کیے ہیں ۔ملک میں 19 سیکورٹی ایجنسیاں کام کر رہی ہیں جن میں ویکن بٹ نامی غیر ملکی ایجنسی بھی شامل ہے جس پر جاوید ہاشمی کا موقف تھا کہ غیر ملکی سیکورٹی ایجنسیاں غیر قانونی طور پر کام کررہی ہیں کوئی روک ٹوک نہیں میڈیا رپورٹس موجود ہیں اور ہم اپنی رپورٹ سے قائمہ کمیٹی کوآگاہ کریں گے ۔

ادھر دوبئی کے ایک ا خبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ مختلف پاکستانی حکومتی عناصر کی مدد سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی جاسوسی کر رہا ہے ۔ایشین ایج جریدے نے ایک معروف ویب سائٹ ”انٹر نیشنل اینا لسٹ نیٹ ورک “ کی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی خفیہ نگرانی کرنے کے ٹھوس شوائد موجود ہیں اور یہ بات تصدیق شدہ ہے کہ امریکی سفارت کار اور حکام کہوٹہ میں جاسوسی کر رہے ہیں جس میں حکومت کے مختلف عناصر بھی مدد کر رہے ہیں ۔رپورٹ میں وزارت داخلہ کے کردار کو سوالیہ نشان بنا کر پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ امریکیوں کو اپنی سر زمین پر مشکوک سر گرمیوں کی اجازت دے رہے ہیں اور وزارت داخلہ نے یہ تسلیم کیا ہے امریکی دفاعی کنڈیکٹر پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کو آگا ہ کئے بغیر مشکوک سرگرمیاں خفیہ طور پر کرتے ہیں ۔قبل ازیں یہ رپورٹ سامنے آچکی ہے کہ امریکی حکام سہالہ تربیتی کالج کے ذریعے کہوٹہ میں ایٹمی نیصیبات کی نگرانی کر رہے ہیں اور سہالہ میں زمین کے ایک بڑے حصہ پر امریکی بیس قائم ہے جس کے گرد اونچی دیوار ہے اور اس میں تربیتی کالج کی سینئر مینجمنٹ کو بھی داخلے کی اجازت نہیں امریکی حکام نے اپنے بیس کے گرد بڑی تعداد میں سائن بورڈ نصب کر رکھے ہیں جن میں غیر ملکیوں کا داخلہ ممنوعہ قرار دیا گیا ہے ادھر سینئر پاکستانی حکام مسلسل امریکی مداخلت کے معاملے اٹھا رہے ہیں مگر ان کے تحفظات کو تاحال نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ قارئین ! ڈالروں کی چمک کیا کیا کمالات دکھاتی ہے، آگے آگے دیکھتے جائیے اور سر دنتے جائیے ؟

کالم۔۔۔ رائے عامہ ۔ ۔۔ ملک کی فکر کرناداں ،ان سے کچھ نہیں ملنے والا؟۔یونس مجاز
ایک طرف پشاور کے سانحہ میں جہاں صوبہ سرحد ابھی تک سوگ میں ڈوبا ہوا ہے ملبے تلے دبی مزید لاشوں کی برآمدگی سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک سو گیارہ سے اوپر ہوگئی ہے جب کہ مزید پچیس سے تیس لاشیں موجود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے وہاں دوسری طرف حکمران ان آقاو¿ں کی آو¿ بھگت میں مصروف ہیں جن سے سوائے لالی پاپ کے کچھ نہیں ملنے والا دلفریب وعدوں حسین خوابوں ،شاباش اور واہ واہ کے عوض ڈومور کا سبق پڑھا یاجارہا ہے ہیلری کلٹن صاحبہ جن کا پاکستان کا مجموعی طور پر پانچواں اور بطور وزیر خارجہ یہ پہلا دورہ ہے جہاں میزبان غلاموں کی سیوا کا لطف اٹھارہی ہیں وہاں ان کے منہ پر طمانچے بھی رسید کر رہی ہیں لیکن منہ ہو، تو کچھ اثر بھی ہو، ہیلری کے خوبصورت خطابات میں سب کچھ پرانا ہے سوائے دو باتوں کے جن میں ایک پر امن رہنے کے خواہش مند طالبان سے مذاکرات کا عندیہ جو امریکہ کے مسقبل کے پلان کا پتہ دیتا ہے اور ان مذاکرات کی شروعات ہوچکی ہیں ۔ دوسرا لوگر بل کے متعلق ا صحافیوں کے سوال پر دوٹوک یہ کہنا کہ اگر پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ کیری لوگر بل کے ذریعے ملنے والی امداد ان کے مفادات کے خلاف ہے تو وہ امداد لینے سے انکار کر سکتا ہے یہ کوئی زبردستی نہیںاور آگے چل کر پاکستانی عوام کو یہ باور کراتے ہوئے کہ آپ کے حکمرانوں کو ڈالروں کی چکا چوند میں نظر ہی نہیں آیا یا ہم نے آنے ہی نہیں دیا انھوں نے کہاکہ اگر پاکستان میں کیری لوگر بل پر بحث بر وقت شروع ہوجاتی تو عین ممکن تھا کہ اس بل کی زبان زیادہ بہتر ہوتی ۔جس کا جواب امریکہ میں سفیر حسین حقانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے مانگا جانا چائیے کہ یہ قوم کے ساتھ غداری نہیں تو کیا ہے ؟یہ الگ بات ہے کہ بش دور کے سینٹر جو بائیڈن نے یہ امدادی بل پیش کیا تھا جس پر قانون سازی کا آغاز مشرف دور سے ہوگیا تھا اور یہ امداد فوجی مقاصد کے بجائے عوامی مفادات کے لئے دی جانی تھی لیکن حکمرانوں کی تبدیلی نے سارا معاملہ چوپٹ کر دیا تھا تاہم بعد میں دوبارہ بائیڈن بل کو جان کیری اور سینٹر لوگر نے آگے بڑھایا جو مختلف مراحل سے گزرتا ہوا س وقت منظر عام پر آیا جب محترم آصف زرداری امریکہ کے دورے پر تھے اور صدر اوبامہ سے ملاقات کے دوران انھیں یہ خوشخبری سنائی گئی ۔لیکن بل کی شرائط نے جہاں پاکستان میں بھونچال کی سی کیفیت پیدا کر دی وہاں امریکیوں کو بھی ورطہ ءحیرت میں ڈال دیا کہ غلاموں کی یہ جرا ءت ۔عوام کو تو ان حکمرانوں نے نہ پہلے کبھی لفٹ کرائی نہ اس موقع پر کوئی خوش فہمی ہے تاہم فوج کی طرف سے تحفظات نے جہاں حکمرانوں کے تن بدن میں آگ لگا دی وہاں عوام کو بھی یہ باور ہوگیا کہ حکمران ان کے ساتھ کیا کھیل چکے ہیں اور یہ صورت حال جوں کی توں باقی ہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی قسم کی تبدیلی اور نہ لینے کا ٹکہ سا جواب سن کر بھی ہمارے حکمران نہ صرف بے مزہ نہیں ہوئے بلکہ اس بات پر مصر ہیںکہ یہی ہماری زندگی اور بقاہے حالانکہ ساٹھ سالوں میں پاکستانی عوام کو تو سوائے مہنگائی اور بے روزگاری کے کچھ نہیں ملا اور نہ آگے کوئی توقع ہے لیکن ااقتدار کے ایوانوں میں موجود ان غریبوں مسکینوں کی دال روٹی ان ہی ڈالروں کے عوض چل رہی ہے دوران تحریر ایک میسج کے ذریعے ملنے والی یہ خوشخبری بھی سن لیں کہ نیشنل اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے لا اینڈ جسٹس نے اکثریتی رائے سے این آر او منظور کر کے اس پر مہر ثبت کر دی ہے کہ اس ملک کے خزانے کو لوٹنا حکمرانوں کا پیدائشی حق ہے اور یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا آئندہ کے لئے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے ان گاموں ماجھوں کی ایسی کی تیسی کمائیں اور ہمیں کھلائیں بس ۔

Tags: column , younas majaz

ہم سب کا پاکستان جل رہا ہے ۔ خدا خیر کرے

May 17th, 2009 · No Comments

یونس مجاز

صا حبو ! یوں تو غم اورخوشیا ں انسان کی زندگی کا حصہ ہیں ۔لیکن گزشتہ ایک عرصہ سے وطن عزیز میں ایسا لگتا ہے جیسے خوشیاں ہم سے روٹھ گئی ہیں صدمات پہ صدمات ہمارا مقدر بن گئے ہیں ذاتی کرب سے لے کر آفاقی کرب تک ایک مسلسل دکھوں کی چین اس ملک کے عوام کے اذہان و قلوب کو اپنی مٹھی میں لیئے ہوئے ہے غم جاں میں غم جاناں بھی شامل کر لو کے مترادف گزشتہ ہفتے راقم کو جواں سالہ بیٹے عمیر یونس کا لاشہ اٹھانے کاجو کرب ناک تجربہ ہوا ہے اس کا دکھ اپنی جگہ جو ایک ٹریفک حادثہ میں شدید زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں دودن زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد ہم سے ہمیشہ کے لیئے جدا ہوگیا لیکن اپنے کرب کو سمیٹ کر اس لیئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ میں اس کرب کا اظہار کر سکوں جو مجھے ان لاکھوں مجبور اور لاچار مہاجرین کے لیئے بے چین کیئے ہوئے ہے ۔جواپنے ہی وطن بے وطن ہوکر سوات بونیر اور دیر سے نقل مکانی کر رہے ہیں ۔تاریخ کا یہ وہ المناک المیہ ہے جس نے تحریک پاکستان کے بعد قیام پاکستان کے ان الم ناک لمحوں کی یاد تازہ کر دی ہے جب لاکھوں مہاجرین کو اپنے ہرے بھرے کھیت اور سجے سجائے گھر چھوڑ کر نقل مکانی کرنی پڑی ۔وہ زخم بھی تازہ ہوگئے ہیں جب آٹھ اکتوبر کوکشمیر اور ہزارہ میں المناک زلزلہ کی صورت میں لاکھوں زندگیاں پل بھر میں قصہ پارینہ بن گئیں ۔لاکھوں معذور اور بے گھر ہوئے ۔لیکن آفرین اس قوم کو جس نے ہر المیہ میں اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیا ہے آج ایک بارپھر قوم اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور انصار مدینہ کی سنت کو جس طرح زندہ کیا گیا ہے ان دشمنوں کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔ جن کی مہربانیوں سے ہم ایک اور المیہ سے دوچار ہوئے ہیں ۔تاریخ کی اس انوکھی ہجرت کے موقع پر میڈیا خصوصا الیکٹرانک میڈیا کوچاہئے کہ وہ کمزوریوں پر انگشت نمائی کرنے کے بجائے ان مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرے جن کو دیکھ کر ان لوگوں کو بھی ترغیب ملے جو ابھی تک اس المیہ کی شدت سے ناآشنا ء ہیں ۔

صاحبو !اپنی خیرات ہماری سلامتی کو گروی رکھنے سے مشروط کرنے والے شاہد اسی وقت کا انتظار کر رہے تھے اپنی جنگ کو ہماری جنگ بنانے والوں نے جس ہوشیاری سے پتے کھیلیں ہیں ان کی ذہانت پر شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔اور اس سازش سے قربانیوں کی ایک لمبی تاریخ رکھنے والی یہ قوم بخوبی آگا ہ ہے اور اب اس بات میں کوئی شبہ نہیں سوات ہو یا دیگر شورش زدہ علاقوں میں اس وطن کی سلامتی کے خلاف بر سرِ پیکار دہشت گرد ہمارے اپنے نہیں بلکہ وہ غیر ہیں جو ہمیں ایک منصوبہ بندی کے تحت نیست و نابود کرنے کے مشن پر گامزن ہیں ہوس زر اور مفادات کے کیچڑ میں لتھڑے حکمران کچھ بھی کہیں دل نہیں مانتا کہ دنیاکی بہترین افواج میں اپنا شمار رکھنے والی پاکستانی فوج سے وہ مٹھی بھر طالبان پنجہ آزمائی کر رہے ہیں جن کا ڈھنڈورا مغرب پیٹتا چلا آرہا ہے ہمیں یہ بات مان لینی چائیے جدید اسلحہ سے لیس بھارت ،اسرائیل ،روس اور امریکہ سمیت دیگر اس وطن عزیز کے چھپے اور کھلے دشمنوں کے ایجنٹ ان پہاڑوںمیں ہمیں الجھائے ہوئے ہیں جن کے بارے میں جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ اگر کسی نے قبائلی علاقوں میں زمینی فوج اتارنے کی کوشش کی تو یہ گنجلک پہاڑ ان کے قبرستان بن جائیں گے جو آج بدقسمتی سے ہمارے عسکری جوانوں کا خراج وصول کر رہے ہیں۔امریکہ اور اس کے حواریوںنے اپنی شروع کی گئی اس لاحاصل جنگ سے دامن صاف بچا لیا ہے ۔ممبئی کے واقع کے بعد بھارت نے جب اپنی فوج ہماری سرحدوں پر لاکھڑی کی تھی ۔تو نہ صرف پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی تھی بلکہ وہ حقیقی طالبان جو دراصل امریکی دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما تھے پاکستان کی پشت پر آکھڑے ہوئے تھے جس کی وجہ سے پاکستانی فوج کو مغربی سرحدوں سے مشرق کی جانب منتقل کرنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا ۔بھارت کی پسپائی اس سازش کا حصہ تھی جس کا ہم اس وقت شکار ہیں ۔امریکی امداد کی بارش کے پر فریب اعلانات نے ہمارے حکمرانوں کی آنکھوں پرایسی پٹی باندھی ہوئی ہیں کہ ہم یہ فیصلہ ہی نہیں کر پارہے کہ کیا ہمارے مفاد میں ہے کیا نہیں ہے ۔نہ ہماری کوئی اپنی پالیسی ہے نہ اقدامات، ہم وہی کچھ کرتے چلے جارہے ہیں جو ہمارے دشمن ہماری گردن کے گرد پھانسی کا پھندا تنگ کرنے کے لیئے ہم سے کروا رہے ہیں ،ملک جل رہا ہے صدر محترم اپنے مصاحبوں اور ان وزیروں اور مشیروں کے ہمراہ جن کے شراب و شباب کے قصوں سے مغربی میڈیا بھرا پڑا ہے اور اس مغرب کی میزبانی کا شرف حاصل کیئے ہوئے ہیں جو ہمیں نیست و نابود کرنے پر تلا ہے ۔ قوم اس غداری پر ماتم کناں ہے جو ہم ے ہوس زر کے غلام ذاتی مفادات میں تھڑ ے ہمارے حکمران گزشتہ کئی دائیوں سے کر رہے ہیں ۔

صاحبو ! ان کالموں میں کئی بار جن خدشات کا تذکرہ شدت سے کیا جاتا رہا شاہد اس کا وقت قریب آگیا ہے۔بگلے کی طرح منہ چھپا لینے سے خطرے ٹل نہیں جایا کرتے بلکہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ جانے اور طوفانوں کا رخ موڑ دینے کے عزم صمیم کی ضرورت ہے ۔جو اس قوم میں ہے اور رہے گا ۔صرف قیادت کا فقدان ہے ۔امریکہ اور اس کے حواری ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ایران اور کوریا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔اس میں بھی اب کوئی شک کی گنجائش باقی نہیںکہ ہمارے دشمن جہاں اپنے اصل حدف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے اس آخری آپشن کو بھولی نہیں جہاں اسے ذلت کی زندگی یا عزت کی موت میں سے کسی ایک کا فیصلہ کرنا ہے ۔ ڈو مور کی رٹ لگانے والے ہمارے خیر خواہوں کو چائیے تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی فیصلہ کن کاروائی میں ان کی جدید اسلحہ اور اقتصادی مشکلات کو دور کرنے میں مدد کرتے ۔مگر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ ہماری پیٹھ میں چھرا گھوپنے کی تیاریوں میں ہیں ۔

صاحبو!امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج کے انسداد دہشت گردی کے خصوصی سکواڈ ’’سپر سیکرٹ کمانڈوز ‘‘نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو طالبان اور عسکریت پسندوں سے بچانے کے لیئے پاک افغان سرحد پر خصوصی مشن کا آغاز کر دیا ہے ۔اس مشن کو ’’قلعہ براگ‘‘میں واقعہ امریکی جوائنٹ سپیشل آپریشن کمانڈ کے ہیڈ کو اٹرسے شروع کیا جائے گا سپر سیکرٹ کمانڈ وز بارک اوبامہ کے احکامات ملتے ہی پاکستان میں داخل ہو جائیں گے ۔اس کے لیئے انتظامات مکمل کر لیئے گئے ہیں اس بات کا انکشاف ایک امریکی ٹیلی ویژن نے امریکی انٹیلی جنس کے افغانستان میں کام کرنے والے ایک اعلیٰ اہلکار کے حوالے سے کیا ہے امریکی ٹیلی ویژن کے مطابق امریکی فوج کے انسداد سہشت گردی کے خصوصی سکواڈ کے ایک یونٹ کو جو اس وقت پاک افغان سرحد پر کام کر رہا ہے ایک دوسرا اہم مشن سونپ دیا گیا ہے جس پر اس نے کام شروع کر دیا ہے ذرائع کے مطابق اس سکواڈ کو طالبان اور القاعدہ کے مبینہ طور پر پاکستان پر قابض ہونے کی صورت میں پاکستان کے ایٹمی وار ہیڈ کو طالبان اور القاعدہ کے ہاتھ لگنے سے روکنا ہے ٹی وی چینل کے مطابق امریکہ نے پاکستان کے راستے افغانستان میں دراندازی اور پاکستان نیوکلئیر وار ہیڈ کے موبائل ہتھیاروں کو طالبان کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی تر تیب دی ہے ۔انٹیلی جنس ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کایہ آپریشن قلعہ براگ میں واقع سپر سیکرٹ کمانڈوز کے ہیڈ کواٹر سے شروع کیا جائے گا ۔ یہ وہ سکواڈ ہے جس کا کام پاک افغان سرحدپر کام کرنا ہے تاہم اسے اب ایک دوسرا مشن سونپ دیا گیا ہے اس دوسرے مشن میں اس خصوصی فوجی دستے کو غیر ملکی ایٹمی ہتھیاروں کو محفوظ بنا نا یا اپنے قبضے میں لینا شامل ہے اس مقصد کے لئے اس فوجی دستے کو نویدہ کے علاقے میں خصوصی تربیت دی گئی ہے ذرائع کے مطابق اس بات کا فیصلہ پاکستان کے اندر طالبان کے بڑھتے ہوئے زور اور حکومت کے کمزور ہونے کی صورت میں کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق اوبامہ کے پاکستان مین خفیہ طور پر داخل ہونے کے احکامات تک اس دستے کو اپنے مشن کے متعلق آگاہ رکھا جاتا رہے گا ۔ذرائع نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کے خفیہ اداروں کے اندر ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو امریکہ کے اس مشن کے لئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں ۔امریکہ کا یہ وہ فوجی یونٹ ہے جس نے عراق میں ابو مصعب الزقاوی کو ڈھونڈکر قتل کیا تھا جب کہ پاکستان ہمیشہ سے یہ کہتا چلا آیا ہے کہ اس کے ایٹمی اثاثے مضبوط ہاتھوں میں ان کے عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگنے کے کوئی امکانات نہپیں ۔قبل ازیں امریکی اراکین کانگرس یہ بھی کہہ چکے ہیں امریکی کمانڈوز طالبان کے تعاقب میں پاکستان کے اندر عسکریت پسندوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں ۔جب کہ نیویارک ٹائم نے پاک فوج کے ایک اعلیٰ افسر کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف بر سر پیکار امریکی فوج میں اضافے کا مقصد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں خانہ جنگی کو ہوا دے کر حالات خراب کرنا ہے تازہ دم امریکی فوجی دستے پاکستان کے خلاف جارحیت اور اس کے ایٹمی ہتھیار تباہ کرنے کے لیئے آرہے ہیں ۔لیکن دنیا یہ جانتی ہے کہ پاکستانی قوم نے یہ اثاثے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر حاصل کیے ہیں جن کی حفاظت بھی انھیں آتی ہے ۔اس قوم کا ایک شخص بھی اگر بچا تو وہ ان اثاثوں کی طرف بڑھنے والوں کو سبق سکھا دے گا ۔کیونکہ ساٹھ سالوں سے سسک سسک کر جینے والے ان پاکستانیوں کے پاس فخر سے سر اٹھا کر جینے کا قرینہ سکھانے والے اس کے ایٹمی اثاثے ہی تو ہیں ۔مگر آج تک اس قوم کو زلیل اور رسوا اس سیاسی قیادت نے کیا ہے جو کرپشن کے کیچڑ میں لتھڑی امریکہ کے آگے ہر وقت کاسہ لیس رہتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ صدر محترم زرداری صاحب بھی سوائے رسوائی کے وہاں سے کچھ لے کر آتے دکھائی نہیں دیتے کہ ان کے چہرے اترے ہوئے ان کے اندر کی گوائی دے رہے ہیں اور بیانات کا لہجہ بھی اس کی گواہی دے رہا ہے ۔اس شرمندگی کو کم کرنے کے لیئے ہی تو موصوف ابھی تک غیروں کی میزبانی کا شرف حاصل کیے بیٹھے ہیں ۔شاہد وہ اس انتظار میں ہیں کہ انھیں واپس جانے کا تکلف ہی نہ کرنا پڑے ۔جب کہ میرا پاکستان تیرا پاکستان ہم سب کا پاکستان جل رہا ہے ۔خدا خیر کرے ۔

Tags: column , younas majaz

حکومت آپریشن جلد ختم کرئے

May 16th, 2009 · No Comments

ضمیر آفاقی

ہمارئے سرکاری اداروں ، بیرونی اور ملکی میڈیا میں ایک نئی اسطلاح ’’ڈس پلیس پرسن‘‘ کافی کہی اور سنی جا رہی ہے،انسانی المےئے چند سینکنڈوںمیں جدید دور میں کسی نہ کسی اسطلاح کا روپ دھار لیتے ہیں جسے جدید دور میں مارکیٹنگ بھی کہا جاتا ہے ،سوال اسطلاح کا نہیں ہے سوال تو یہ ہے کہ بے گھر و در ہو جانے والے لاکھوں افرادکے دکھ غم اور تکلیفیں کہیں اس اسطلاح کے ملبے تلے دفن نہ ہو جائیں، اپنے گھر بار چھوڑنے کا احساس ہی جان لیوا ہوتا ہے لیکن جب گھر بار کے ساتھ اپنا علاقہ بھی چھوڑنا پڑئے تو یہ دکھ اور سواء ہو جاتا ہے ہجرت بذات خود ایک المیہ ہے اس کے شکار لوگ کس کرب اور تکلیف سے گزرتے ہیں خدا کسی کو بھی ایسا دن نہ دکھائے،پاکستانی قوم میں لاکھ برائیاں ہو سکتی ہیں مگر اس کی اس اچھائی کا اعتراف پوری دنیا کرتی ہے کہ یہ قوم اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کو دکھ اور تکلیف میں تنہا نہیں چھوڑتی جس کی کئی مثالیں موجود ہیں جبکہ اس بار تو انصار مدینہ کی یاد تازہ کر دئی گئی انسانیت کے دکھوں پر اس قدر اظہار اور جذبہ رکھنے والی یہ قوم بد قسمتی سے چند طالع آزماوں کے ہتھے چڑھ کر انتشار اور افتراق کا شکار ہو چکی ہے اور یہی اس کا سب سے بڑا المیہ ہے جس پر ہم سب کو سوچنے کی ضرورت ہے۔تازہ مصیبت سے پہلے جتنی بھی مصیبتیں اس قوم پر آئیں وہ یا تو قدرتی تھیں یا دشمنوں نے نازل کی تھیں لیکن اب کی بار جو مصیبت آئی ہے یہ ہمارئے ہی بھائی بندوں کی کرتوتوں کی وجہ سے آئی ہے، یہ لوگ دوسروں کی لگائی ہوئی آگ کو اپنے ہی گھر میں لے آئے ہیں جس سے نشیمن کے جلنے کا خطرہ ہے، طالبان اور اسی قبیل کے لوگوں نے اپنے ہی ملک کو کشت و خون کی آماجگا بنا دیا ہے لیکن حیرت ہے کہ اب بھی ان کے کچھ حمائیتی موجود ہیں جو ان سے مزاکرات کی بات کرتے ہیں ،کیا ریاست کے باغیوں،معصوم انسانوں کے قاتلوں اور دنیا میں فساد برپا کرنے والوں سے مذکرات کرنے چاہیں؟۔ او پھر یہ لوگ تو انسانیت،انسانی قدروں کے قاتل ہیں۔

مجھے کافی ساری ای میل موصول ہوتی ہیں جن میں جس طرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے اسے دنیا کے کسی بھی اخلاقی پیمانے پر ناپا اور تولا نہیں جا سکتا،جان سے مارنے کی دھمکیوں سے لیکر گالی گلوچ تک کہا جاتا ہے ،کیوں صرف اس لئے کہ میں اس بیمار سوچ کے خلاف لکھتا ہوں جس سے ہمارا پورا ملک اور دوسری دنیا لرزاں و ترساں ہونے کے ساتھ اسلام جیسا پر امن اور سلامتی کا حامل دین تشدد اور دہشت کی علامت بن کر رہ گیاہے،کیا ایسے لوگوں کی حمائیت کی جا سکتی ہے؟جن کی وجہ سے ایسا ہوا ہے؟بہر حال مالاکنڈ سے ایک صاحب جنہوںنے اپنا نام نہیں لکھا اپنی میل میں چند ایسے مسائل کی نشان دہی کی ہے جس پر توجہ دینا بہت ضروری ہے ان کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں بے گناہ لوگوں کے مرنے کی تعداد زیادا اور بے گھر ہو جانے والے افراد کی مدد بھی ٹھیک طریقے سے نہیں ہو پارہی اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان کے مین لیڈروں کو حکومت گرفتار کیوں نہیں کرتی جبکہ حکومت کو ان کے ٹھکانوں کا علم بھی ہے اگر ان کو گرفتار کر لیا جائے تو یہ آپریشن چند دنوں میں ختم ہو سکتا ہے اور کسی بڑئے نقصان سے بھی بچا جا سکتا ہے،ان کی اس بات میں وزن ہے کہ جو مین کلپرٹ ہیں انہیں فوری گرفتا کر لینے سے باقی کے لوگ خود بخود سرنڈرکر دیں گے اور جنگ بھی کسی نتیجے پر پہنچ کر اختام پزیر ہو جائے گی ۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے جس طرح سے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے اس پر وہ قابل ستائش ہیں قوم کو ان کے جذبات کی قدر کرنی چاہیے،اس کے علاوہ حکومت کو جلد از جلد اس آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچا دینا چاہیے تاکہ ملک دشمن عناصر اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں، ریاست کے باغیوں اور پاکستان عوام اور اسلام کے دشمن دہشت گردوں کے حمائیتوں کے حوالے سے بھی حکومت کو کوئی واضع پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ سادہ لوح لوگوں کو ورغلانے کا نہ صرف ہنر جانتے ہیں بلکہ ریاست میں انتشار پھیلا رہے جس سے ان کے کاروبار چلتے رہیں کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں یہ لوگ نہ ہی وطن کے دوست ہیں اور نہ ہی اس ملک کے عوام سے انہیں کوئی ہمدردی یا دلچسپی ہے انہیں صرف اپنی دوکانداریاں بند ہونے کا ڈر ہے اس کے لئے یہ لوگ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اس لئے ان سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔

Tags: column , younas majaz

طالبان کی نئی کروٹ

May 16th, 2009 · No Comments

یونس مجاز

صاحبو ! ایک شخص کو اپنی بیوی کو پیٹنے کی لت پڑ گئی تھی ہر روز کوئی نہ کوئی تلاش کر کے اسے پیٹنا شروع کردیتا ایک دن ایسا بھی آیا کہ تمام کوشش کے باوجود اسے کوئی بہانہ ہاتھ نہ آیا صحن میں بیٹھ کر سوچنے لگا کہ آج بیوی کو کس غلطی پر پھینٹی لگائی جائے اتنے میں اس کی بیوی تمام احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آٹا گوندھنا شروع کر دیا خاوند جو پہلے خاموشی سے اس کی غلطی پکڑنے کی تلاش میں تھا اچانک اٹھا اور بیوی کو پیٹنا شروع کر دیا ۔جس پر بیوی نے احتجاج کرتے ہوئے وجہ پوچھی تو خاوند نے کہا تم آٹا گوندھتے ہوئے ہل کیوں رہی ہو؟صاحبو یہ محض لطیفہ نہیں بلکہ ان رویوں کی عکاسی ہے جس کا بحیثت مجموعی آج کل ہم شکار ہیں یعنی ہر ایک اپنے اپنے مفادات کی تکمیل کے لیئے کوئی نہ کوئی بہانہ تراش لیتا ہے ۔اور اس وقت وطن عزیز میں بھی صورت حال کچھ ایسی ہے جو عوام کی سمجھ سے بالا تر ہے حکومت ہو کہ طالبان یا امریکہ ہر آنے والے دن میں ان کے ذہنوں پر کوڑے برسانے کے لیئے کوئی نہ کوئی بہانہ تراش لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے نئے نئے وسوسے اور خدشات جنم لے رہے ہیں اور قوم کی مایوسی اس انتہا کو چھونے لگی ہے جہاں سے کسی انقلاب کی راہ استوار ہو جانے کے امکانات بڑھ رہے ہیں ۔ممکن ہے بعض مبصرین اس سے متفق نہ ہوں لیکن طالبان کی نئی نئی شرائط امریکہ کی بڑھتی ہوئی ترغیبات میں لپٹی دھمکیاں اور حکومت کی بے بسی عوام کو اس نکتہ پر متفق کر سکتی ہیں کہ وہ تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے کر یہ فیصلہ کریں کہ کون ان کے ساتھ مخلص اور کون گیم کھیل رہا ہے ۔کیونکہ وہ طالبان برانڈ اسلام سے جہاں خوف زدہ ہیں وہاں امریکہ کی مہربانیاں اور لن ترانیاں بھی ان کے کے لیئے قابل قبول نہیں تو حکومت کی کنفیوژڈ پالیسی بھی ان کے سینے پر مونگ دل رہی ہے ۔ ایسے میں’’ جیو اور جینے دو ‘‘کا نعرہ لے کر اٹھنے والی تحریک کا حیا ہو گیا تو وہ وقت دور نہیں دکھائی دیتا جب وکلاء کی تحریک کی طرح عوام سڑکوں پر ہوں گے اور حکمران محلوں میں محصور اپنی لالچ و ہوس میں لتھڑی غلطیوں کو کوس رہے ہوں گے ۔جبکہ استحکام پاکستان کے نام پر ایک مخصو ص مکتبہ فکر کے مزہبی راہنماؤں کا حکومت کی چھتری کے نیچے اجتماعات کے انعقاد سے فرقہ واریت کی ایک نئی آگ بھڑکنے کی جو بنیاد پڑتی دیکھائی دے رہی ہے آنے والے وقتوں میں اس کے شعلوں سے وطن عزیز کا چہرہ مزید مسخ ہوتا دیکھائی دیتا ہے کیونکہ قبل ازیں شیعہ سنی فسادات کے نام پر ہمارے دشمن کئی دھائیوں تک اس آگ مین اپنا حصہ ڈال کر ہماری سلامتی کی بنیادوں کو کمزور کر چکے ہیں ۔لیکن نائن الیون کے بعد یہ آگ اس لیئے بھی کچھ کم ہوگئی ہے کہ ہمارے دشمنوں نے اپنے مہرے بدل لیئے ہیں جو ابھی مکمل طور پر پٹے نہیں کہ ہم ان کے ہاتھ میں نئے مہرے تھمانے کی غلطی کر رہے ہیں ۔

صاحبو !سوات امن معائدہ کے بعد عام آدمی یہ توقع کر رہا تھا کہ چلو اتمام حجت ہی سہی ایک قضئیہ تو کنارے لگا ۔لیکن عدل ریگو لیشن پر صدر کے دسخطوں کے ساتھ ہی طالبان کا بونیر پر قبضہ اور مسلح گشت نے اس معائدہ کی تکمیل سے قبل ہی اس کی ناکامی کے لیئے پہلی کیل ٹھونک دی ۔جس پر ان کالموں میں عرض کی گئی تھی کہ طالبان اگر واقعی نفاذ عدل سے مخلص ہیں تو پھر عدل ریگولیشن کے اعلان کے ساتھ ہی انھیں معائدہ کی پاس داری کرتے ہوئے ہتھیار پھینک کر نہ صرف مسلح گشت ختم کر دینی چائیے بلکہ اپنے روئیے اور عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی جدوجہد صرف اورصرف اسلام کی سر بلندی کے لیئے ہے جس کے وہ دعوے دار بھی ہیں ۔ نہ کہ اقتدار کے حصول کے لیئے ۔اور وہ ملک میں موجود ایک جمہوری سیٹ اپ کے اندر رہتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ والے علاقے میں جہاں نظامِ عدل کا نفاذ کر دیا گیا ہے ۔امن قائم کرکے ایسی مثال قائم کریں کہ دوسرے علاقے جو اس برکت سے محروم ہیں از خود یہ خواہش کریں کہ ان کے ہاں بھی ایسا ہی نظام عدل نافذ کیا جائے ۔جس کی تصدیق آنے والے انتخابات میں طالبان عوام کی عدالت میں خود کو پیش کرکے کروا سکتے ہیں ۔لیکن مزکورہ معائدہ کے بعد جہاں ہمارے دشمنوں نے اس معائدہ پر طوفان اٹھاتے ہوئے اس کی ناکامی کے لیئے تمام وسائل اور ذرائع استعمال کرنے میں کسر نہیں چھوڑی وہاں طالبان کے روئیے اور نئی کروٹ نے بھی عوام کو جس طرح خوف میں مبتلا کیا ہے ۔اس سے عوام کے ذہنوں پر طالبان کے بارے میں مزید شکوک وشبہات ابھرے ہیں اور ان کے خدشات درست ثابت ہونے لگے ہیں جو طالبان کے ساتھ ہونے والے معائدات کے بعد پیدا ہوئے تھے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دارلقضا ء کا قیام ان کا مطالبہ تھا جسے صوبائی حکومت نے معائدے کے مطابق پورا کر دیا ہے اور پھر یہ کام صوبائی حکومت کا ہی تھا نہ کہ صوفی محمد یا کسی اور کا ۔جب کہ صوفی محمد صاحب کی ذمہ داری تھی کہ وہ طالبان کو غیر مسلح کرواتے جس کے تحت عدل ریگولیشن کے نفاذ معائدہ طے پایا تھا ۔لیکن صوفی محمد صاحب طالبان سے اسلحہ پھینکوانا تو درکنار وہ انھیں بونیر سمیت دیگر علاقوں پر قبضہ کرنے اور اسلحہ کی کھلم کھلا نمائش سے بھی نہ روک سکے ۔جس کی بنا پر ہمارے دشمنوں کو یہ پرپیگنڈا کرنے کا موقع ملا کے طالبان اسلام پر قبضہ کرنے والے ہیں جس سے عوام میں جہاں خوف و حراس پھیلا وہاں حکومت کو بیرونی اور اندرونی دباؤ کے تحت مجبورا٘دیراور بونیر میں آپریشن کر کے طالبان کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے پڑے ۔جسے مزید بہانہ بنا کر صوفی محمد اور ان کے ساتھیوں کو طالبان کو غیر مسلح کرنے میں ناکامی کو چھپانے کا موقع مل گیا ۔ اور وہ نئی نئی شرائط کے تحت اس معائدہ سے نہ صرف انحراف کر رہے ہیں بلکہ امن قائم کرنے کی ذمہ داری سے بھی خود کو مبرا سمجھ رہے ہیں حالاں کہ طالبان کوغیر مسلح کرنے کی ذمہ داری صوفی محمد صاحب پوری کردیتے تو امن خود بخود قائم ہوجاتا ۔اب جب کہ سوات میں بھی طالبان نے امن معائدہ ختم کرتے ہوئے سیکورٹی فورسسز اور حکومتی عہدیداروں پر حملوں کا اعلان کر دیا ہے تو آنے والے حالات مزید تباہی کا سبب بنیں گے یہی ہمارے دشمنوں کی خواہش بھی ہے ۔جس کو ارادی یاغیر ارادی طور پر طالبان کے اقدامات اور اعلانات بخوبی پورا کر رہے ہیں ۔جس سے عوام میں ان کے خلاف نفرت مین اضافہ ہو نا فطرتی بات ہے ۔کیونکہ عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں جبر اور استبداد کی کوئی گنجائش نہیں جو امن اور رواداری کا دین اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔جہاں کسی کی ذاتی پسند وناپسند کی بھی گنجائش نہیں ۔ ادھر اے این پی کی صوبائی حکومت کی ترجمانی کرتے ہوئے زاہد خان نے ایک ٹی وی چینل پر کہا ہے کہ ہم اب بھی اس کوشش میں ہے کہ عدل ریگو لیشن کا وعدہ ہر حال میں پورا کیا جائے کیونکہ ایسا ہی ریگو لیشن پہلے والی حکومتوں کے دور میں بھی نافذ کیا جاتا رہا ہے ہم صرف اس میں کچھ ترامیم کر کے نافذ کر رہے ہیں ۔اور ایسا ہم عوام کی خواہش کے احترام میں کر رہے ہیں ۔جبکہ ان کا یہ بھی موقف تھا کہ وہ صوفی محمد سے رابطے میں ہیں جو ایک امن پسند شخصیت ہیں اور آج تک ہتھیار نہیں اٹھایا ۔تاہم جو لوگ ہتھیار اٹھا کر حکومت کی رٹ کو چیلنج کریں گے ان کے خلاف کاروائی ہوگی ۔

Tags: column , younas majaz

یونس مجاز سے اظہار تعزیت

May 16th, 2009 · No Comments



Tags: younas majaz