Entries Tagged as 'Waqar Khan'

وقار خان
اچھی شاعری کے حوالے سے بات کی جائے تو ہماری ناقص فہم میں اس کی دوہی اقسام ہیں ۔ خوبصورت شاعری اور خوبصورت خواتین کی شاعری ۔ ہر دو قسم میں وہی فرق ہے جو گانا سننے اور گانا دیکھنے میں ہے ۔ جیسے استاد حامد علی خان کا گانا سننے سے تعلق رکھتا ہے اور حمیرا ارشد کا دیکھنے سے ۔ پٹھانے خان مرحوم کی
پر سوز آواز کانوں میں رس گھولتی ہے جبکہ شاہدہ منی کے گیت آنکھوں کو بھلے لگتے ہیں ۔ تبھی تو لوگ حامد علی خان یا پٹھانے خان کو سنتے ہوئے آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور حمیرا ارشد یا شاہدہ منی کی ’’ گلو کاری ‘‘ کو دیدے پھاڑ کر دیکھتے ہیں۔ تا ہم بعض ایسے فنکار بھی ہیں کہ جن کا گانا بذریعہ بصارت ملاحظہ کیا جائے تو سر بھاری سا ہو جاتا ہے اور اگر آنکھیں بند کر کے سماعت کیا جائے تو نیند غالب آ جاتی ہے ۔ ماضی قریب میں کہا جاتا تھا کہ مہدی حسن کا فن سننے میں لطف دتیا ہے اور ناہید اختر کے گیت دیکھنے میں ۔ اگرچہ اب دونوں نہیں گاتے لیکن پچھلے دنوں ہم نے ٹی وی پر ناہید اختر کو دیکھا تو خیال آیا کہ وقت ان کے پاس سے یوں دبے پاؤں گزرا ہے کہ اگر وہ اب بھی گائیں تو انکے گیت ’’ سنگیت ‘‘ ہیں۔ اس تمہید دل پذیر کا مقصد اچھی شاعری کی دونوں اقسام کے درمیان اس فرق کو واضح کرنا ہے کہ امجد اسلام امجد کی شاعری سن کر لطف اندوز ہو ا جا سکتا ہے اور اداکارہ ریشم کی ’’ شاعری ‘‘ کو دیکھ کر ۔ اول الذکر شاعر فقط دلوں کے تار چھیڑ سکتے ہیں جبکہ ثانی الذکر شاعرہ اسی ’’ چھپڑ چھاڑ ‘‘ میں سالم دل چرا بھی سکتی ہے ۔
اخبار کی ایک فرحت بخش خبر ہے کہ فلمی ہیروئن ریشم نے شاعری بھی شروع کر دی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ جس تیزی سے انہوں نے شوبز میں اپنا مقام اور لاہور میں اپنا مکان بنایا ، اسی تیز رفتاری سے انہوں نے اپنا پہلا (خالصتاً ذاتی ) شعری مجموعہ بھی تیار کر لیا ہے ۔ علم و ادب کے دلدادہ اور اصحاب ذوق کو مثردہ ہو کہ بہت جلد ریشم کی ’’ ریشمی شاعری ‘‘ مارکیٹ میں دستیاب ہو گی ۔ ہمیں ریشم پر اتنا اندھا اعتماد ہے کہ انکی شاعری کا ایک لفظ پڑھے بغیر ہم انکے فن کے بے طرح گرویدہ ہو چکے ہیں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ریشم نے جس طرح اب تک اعضاء کی ہیجان انگیز شاعری کی ہے ، اسی طرح انکی قلمی شاعری بھی اہل دل کو برا نگیختہ کر کے رکھ دے گی ۔ اعضاء کی شاعری میں جیسے انہوں نے بدن کی بھڑاس نکالی ہے ، اب قلمی شاعری میں دل کی بھڑاس نکالیں گی تو لوگ دانتوں میں انگلیاں دبالیں گے ۔ انکی شاعری بادِ نسیم کا جھونکا ثابت ہو گی اور اربابِ ذوق کے سوکھے دہانوں پر ابرِ بہار بن کر بر سے گی ۔ ان کا حسن اب انکے بالوں کے علاوہ خیالوں سے بھی جھانکے گا اور انکی زلفِ گرہ گیر کے اسیر انکے قلم کے بھی فقیر بنیں گے ۔ ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ریشم ایک معجز قلم شاعر ہ ثابت ہو نگی جو اپنی نظموں میں وارداتِ قلبی اور واردات ہائے دیگر کو اسی خوبی سے بیان کریں گی ، جیسے فلموں میں کرتی ہیں۔ شرط لگا لیجئے کہ ان کی مارکیٹ میں آنے والی شاعری میں نئے عہد کی تمنا جگمگا رہی ہے اور انکے اس فن کے آگے ان کے لب و رخسار اور آنکھ کے قصیدہ خواں اپنی کم مائیگی پر شرمندہ ہو ں گے ۔ ان کے قلم کی کاٹ سے بھی خنجر ایسے ہی پناہ مانگے گا ، جیسے انکی نظروں کی کاٹ سے مانگتا ہے ۔ بس یوں سمجھئے کہ جس طرح فلموں میں انکے حسن و شباب کی گھنگور گھٹائیں بر سنے کو تیار رہتی ہیں ، اسی طرح انکے کلام کی بر کھا بھی اب جل تھل کرنے کو ہے ۔
ادب کے اس شعبے میں ریشم کے ’’ استاد ‘‘ کا نام صیغہ ء راز میں ہے ۔ ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیشہ پسِ پردہ ہی رہے اور نوشی گیلانی کے استاد کی طرح بعد ازاں انکے ’’ کلام ‘‘ اور ’’ حسن بیا ن‘‘ کی خوبیاں طشت ازبام کرنا نہ شرو ع کر دے۔ تاہم وہ استاد جو کوئی بھی ہے ، یقینابڑا ’’ استاد‘‘ہے اور قابل رشک بھی کہ جس کا فیض ریشم کی ذات اور قلم میں جاری ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کا شمار ان ’’ اساتذہ ‘‘ میں ہر گز نہیں ہوتا ، جو اس شعر کی مجسم تشریح ہیں کہ
کوئی مشتری ہو تو آواز دے
میںکم بخت جنسِ ہنر بیچتا ہوں
جو لوگ بصد حسد ریشم کے کلام پر شکوک و شبہات کا اظہار کریں گے ، ان کو لاجواب کرنے کے لیے اس حقیقت کی طرف اشارہ کافی ہے کہ اگر ریما کالم نگا ر بن سکتی ہے ، میرا انگریزی بول سکتی ہے اور ثنا ء باقاعدہ شادی کر سکتی ہے تو ریشم شاعری کیوں نہیں کر سکتی ؟ نیز جو لوگ شاعری کر رہے ہیں ، کیا انکی شکلیں ریشم سے زیادہ اچھی ہیں ؟ ہم حسن ظن رکھتے ہیں کہ ریشم کے حسنِ نازک اندام کی طرح انکا حسنِ بیان بھی انکی ذاتی خداداد صلاحیتوں کا’’ شاخسانہ‘‘ ہے جو ٹنوں کے حساب سے دادفن وصول کرے گا ۔ تاہم عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ ریشم اپنی ہر نظم اور غزل کے آخر میں دستخط کر کے ساتھ ’’ بقلم خود‘‘ ضرور لکھیں تاکہ دشمنان ادب کے منہ بند کیے جا سکیں۔
ریشم ایسی کثیر المشاغل اور مصروف خاتون کا اپنی زلفوں کے ساتھ ساتھ گیسوئے ادب سنوارنے کے لیے وقت نکالنا یقینا ادب پر ان کا احسان ہے ۔ ان کی یہ کاوشِ جمیلہ اور ریشمی شاعری آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے ۔ اس سے پہلے کہ کوئی دو نمبر نقاد اپنے نمبر ٹانکنے کے لیے ریشم کو وقت کی پروین شاکر کہے، ہم بہ نفس نفیس سب سے پہلے انہیں عصرِ حاضر کی پروین شاکر قرار دیتے ہیں( چاہے مرحومہ کی روح ہی کیوں نہ تڑپ جائے) ۔ ۔ ۔ یا درہے کہ ’’ نقاد ‘‘ کے اندر بھی ایک ’’ جھاکا ‘‘ ہی ہوتا ہے ۔ اگر یہ جھاکا یا حیاء اتر جائے تو بڑی آسانی سے ریشم کو وقت کی پروین شاکر یا ریما کو دورِ حاضر کی عصمت چغتائی قرار دیا جا سکتا ہے ۔
Tags: Waqar Khan , column

وقار خان
پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے ’’طالبان پاکستان کو پسماندہ رکھنا چاہتے ہیں ‘‘۔انہوں نے کہا ’’امریکہ پاکستانی عوام کو شدت پسندوں سے تحفظ دینا چاہتا ہے اور اس کے لئے ہم پاکستان کی امداد جاری رکھیں گے ‘‘۔ ۔ ۔ جہاں تک پاکستان کو پسماندہ رکھنے کا تعلق ہے تو اس ’کارِ خیر‘ میں طالبان اکیلے نہیں بلکہ ان کے ’موجد‘ امریکہ اور طالبان کے فنانسر بھارت اور اسرائیل کی ’مساعی جمیلہ‘ کا بھی پورا پورا ہاتھ ہے ۔امریکی ارباب اختیار ہمیں اپنا اتحاد ی قرار دیتے ہوئے ہمیں شدت پسندوں سے تحفظ کے بھاشن دیتے ہیں اور امداد کے اعلانات کرتے ہیں ، جبکہ عملی طور پر ہمیں اپنے گھر بلا کرافغان بھارت تجارت کے لئے ہماری سر زمین استعمال کرنے کے معاہدے پر ہم سے دستخط کرواتے ہیں تاکہ بھارت کو ہمارے مقابلے میں مزید مضبوط بنایا جا سکے ۔ دوسری طرف ہمیں اپنے ’مقبوضہ پانیوں‘ کے لئے بھی آواز اٹھانے کی اجازت نہیں ۔ انور مسعود نے خوب کہا ہے
ہمیں کہتا ہے اپنا اتحادی
مگر بھارت پہ کتنا مہرباں ہے
کوئی یہ بات امریکہ سے پوچھے
تِرے انڈے کہاں، کُڑ کُڑ کہاں ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمن نے راولپنڈی میں استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب کے دوران پرائیویٹ ٹی وی چینلز کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیوز چینلز نے مولانا صوفی محمد کے ’شیخ الاسلام ‘ ہونے کا لبادہ اتار دیا ، جس سے مولانا کا فہم اسلام اور اسلامی احکام سے واقفی کا سحر ٹوٹ گیا اور ان کی حقیقت پوری قوم اور دنیا پر آشکار ہو گئی ۔ ۔ ۔ مولانا منیب الرحمن صاحب کے خیالات قابل قدر ہیں ، لیکن ہم بصد ادب عرض کریں گے کہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو زیادہ تھپکی دینا خطرے سے خالی نہیں ۔ یہ پیرومرشد ضیاء الحق کا دور تو ہے نہیں کہ میڈیا کو لگا م دی جا سکے ۔ پرائیویٹ نیوز چینلز آزادی صحافت کی آڑ میں اتنے ’شتر بے مہار‘ ہو چکے ہیں کہ اگر وہ مولانا کی شاباش پر خوش ہوکر ’شیخ الاسلام‘قبیلے کی حقیقت کھوجنے پر لگ گئے تو خدا جانے کتنے اور’شیخ الاسلام‘ اور ’مفتی اعظم ‘ اپنے لبادے گنوا بیٹھیں گے اور ان کا فہم اسلام اور اسلامی احکام سے واقفی کا سحر ٹوٹ جائے گا۔ نیز صوفی محمد صاحب کی طرح ان کی حقیقت پوری قوم اور دنیا پر آشکار ہو جائے گی ۔ لہذا عافیت اسی میں ہے کہ میڈیا سیاستدانوں کے لبادے ہی اتار تارہے اور مقدس جبوں کی طرف دھیان دینے کی فرصت نہ پا سکے ۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ قوم کے سامنے مقدس جبوں کا بھرم کھل گیا تو اس بات کاشدید خطرہ ہے کہ رویت ہلال کمیٹیوں کی جگہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی لے لے ، جو سعودی عرب کی طرح عید کاچاند نظر آنے کی تاریخیں دو ، دو سال قبل ہی کھوج لے ۔ اس سے جہاں وطن عزیز کے عوام تین، تین عیدیں منانے کی سعادت سے محروم ہو جائیں گے ، وہاں کئی مفتیوں کے حلوے مانڈے بھی جاتے رہیں گے ۔لہذا ۔ ۔ ۔ مفتی ہوشیار باش !
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
چونکہ چکوال میں ہونے والے خود کش دھماکے کے تیس شہیدوں کا چہلم بھی گزر گیا ہے اور چونکہ اس دھماکے کی تفتیش میں ابھی تک رتی برابر پیش رفت نہیں ہو سکی اور چونکہ شہر بھر میں ابھی تک خوف و ہراس کی فضاقائم ہے اور چونکہ چکوال کے گاؤں گاؤں،قریہ قریہ غیر قانونی اور مشکوک افغان مہاجرین دندناتے پھررہے ہیں اور چونکہ ضلع بھر میں پولیس کی نفری نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ۔ ۔ لہذا چکوال کے 58پولیس اہلکاروں کو لاہور رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ، تاکہ بڑے شہروں کی وی آئی پی مخلوق کے تحفظ کو یقینی بنا یا جا سکے ۔ جبکہ قبل ازیں درج بالا حقائق کی روشنی میں یہاں سے 50پولیس ملازمین کو پہلے ہی راولپنڈی رینج کے دوسرے علاقوں میں شفٹ کیا جا چکا ہے ۔دراصل اس سانحے پر وطن عزیز میں رائج اعلیٰ ترین روایات کے مطابق ’مٹی پاؤ‘ پروگرام پر غیر محسوس طریقے سے کام جاری ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ عوام کے جان ومال کے مقروض اس سانحے پر مٹی ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں ۔ لیکن بے رحم تاریخ کبھی بھی ایسے واقعات پر مٹی نہیں ڈالتی، بلکہ وہ تو ظالموں، نااہلوں اور نالائقوں کو پورا ننگا کر کے اپنے کوڑے دان کی نذر کردیتی ہے ۔ اگر یقین نہ آئے تو کوڑے دان مذکور میں جھانک کر دیکھ لیں ۔ اس میں انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنانے والے بھی ننگے ہیں اور عوام کو بنیادی حقوق فراہم کرنے اور انکے تحفظ میں ناکام رہنے والے بھی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سندھ میں سکول اساتذہ کی بھرتیوں کے لئے منعقدہ تحریری امتحانات میں 10397امیدواروں میں سے صرف159(دو فیصد ) جبکہ جونیئر اساتذہ کے 14690امیدواروں میں سے 1792(سات فیصد) کامیاب ہوئے ۔ یہ ’حوصلہ افزا نتائج‘ دراصل ہمارے فرسودہ نظام تعلیم کے عکاس ہیں ۔ تعلیم کی بیخ کنی کے سلسلے میں’’حکومت اور ’سواتی مکتبہ فکر‘ کے مقاصد ایک ہیں ، طریقہ کار مختلف ہے ‘‘سرکار تعلیم، تعلیم کی گردان کر تے علم و آگہی کی جڑوں میں بیٹھی ہوئی ہے اور ’سواتی دانش‘ سکول جلا کر اور انہیں دھماکوں سے اڑا کر۔ اب دیکھئے کہ اگر ہمارا نظام تعلیم کسی قابل ہوتا تو اپنے حاجی پرویز خان علم سے اتنے ناواقف ہوتے کہ مطالعہ پاکستان کے پیپر میں اپنی جگہ دوسرا امیدوار بٹھاتے ؟ حاجی صاحب تو اتفاقاً پکڑے گئے یا بقول خود حاجی صاحب ،انکے خلاف سازش ہوئی (جس کی بنا پر انکی چوری پکڑ گئی ) تاہم سارے ’حاجی صاحبان‘ تو نہیں پکڑے جاتے ۔ خدا معلوم کتنے ہی حاجی پرویز خان جعلی سندوں کے سہارے ہماری اسمبلیوں اور ہماری گردنوں پر سوار ہیں؟ بہرحال! ہم حاجی پرویز خان کو مشورہ دینگے کہ اسمبلی سے مستعفی ہونے کے بعد وہ سیاست کے گندے تالاب سے باہر نکل آئیں اور کوئی دوسرا دھنداشروع کریں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مخالفین کسی نئی ’سازش‘ کے تحت انکی میٹرک کی سند چیک کروا لیں اور نیا’سیاپا‘ پڑ جائے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اخبارات کو اب وینا ملک کی شادی کے سکینڈلز چھاپنے بند کردینے چاہیں ، کیونکہ قارئین سکینڈلز مذکور پڑھ پڑھ کر کنفیوزہو چکے ہیں ۔ ایک دن کرکٹر محمد آصف کے ساتھ شادی کا اعلان تو دوسرے دن ببرک شاہ کے ساتھ پریس کانفرنس۔ کبھی محمد آصف سے پیسے کھانے کا الزام ،کبھی ببرک شاہ کو چکر دینے کی خبریں ۔ ہر دو امیدواروں کو بھی آپس میں سمجھوتہ کرلینا چاہیے ۔مثلاً اس دفعہ وینا آصف سے شادی کرلے اور اگلی دفعہ ببرک سے کرلے گی ۔ ایک اداکارہ سے انٹرویو کے دوران پوچھا گیا ’’شادی شدہ؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’کبھی کبھی
Tags: Waqar Khan , column

وقار خان
نپولین نے کہا ’’میری ڈکشنری میں ’ناممکن‘ کا لفظ نہیں ہے ‘‘ ایک سردار نے جواب دیا ’’تے ویکھ کے لینی سی ناں‘‘ (دیکھ کر خریدنی چاہیے تھی ) ۔ ۔ ۔ خیر یہ تو ایک تاریخی واقعہ تھا ، جسے ہم نے تاریخ کی کسی نامعلوم کتاب سے کشید کیا۔ ویسے ’ڈکشنریوں‘ کے معاملے میں انسانوں کی غالب اکثریت ہر دور میں بد قسمت ہی رہی ہے کہ ان میں کئی اہم الفاظ سرے سے موجود ہی نہیں ہوتے یا ان کے غلط معانی درج ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ نپولین کی طرح اپنی ’نامکمل لغات ‘ کو اپنے لئے باعث فخر و مباہات تو خیال کرتے ہیں ،مگر اس کا اظہار نہیں کرتے ۔ مثلاً ہم نے کبھی کسی بشر سے نہیں سنا کہ’’ میری ڈکشنری میں ’خرد‘ کا لفظ نہیں ہے ‘‘یا ’’میری ڈکشنری میں عقل کی جگہ ’موجاں ای موجاں‘ لکھا ہوا ہے ‘‘وغیرہ وغیرہ۔ معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے بے شمار لوگ عقل و دانش ،فہم و فراست، شعور و آگہی، صبرو برداشت، معاملہ فہمی، عفو و درگزر ، ظرف ،ضمیر اور انسانیت جیسے اہم ترین الفاظ سے تہی اپنی ’ڈکشنریاں‘ بغل میں دابے دھرتی پر یوں دگڑ دگڑ کر رہے ہیں کہ دل میں کوئی ملال نہ لب پہ کوئی شکوہ ۔وہ جو کہتے ہیں کہ آنکھیں اور کان نہ ہوں تو دماغ آسودہ رہتا ہے ، سو یہ اپنے خیالات کے گنبدوں میں مکمل آسودہ ہیں ۔بس تاریخ عالم میں نپولین ہی وہ واحد مضطرب کردار ہے کہ جس نے اپنی ڈکشنری میں محض ایک لفظ کی کمی کا اتنا ڈھنڈورا پیٹا کہ بالآخر ایک عقلمند سردار کو باقیوں کی ’لغات‘ کا بھانڈا پھوٹنے کے ڈر سے اسے چپ کرانا پڑا۔
’ادھوری ڈکشنریوں‘ کی اکثریت میں ’دیانت‘ اور ’سچ‘ایسے الفاظ عنقا ہیں ۔ ایسی لغات کے حامل اصحاب معاشرے میں تجارت، سیاست، مذہب، صحافت، دفاتر، بزنس غرض ہر شعبہ حیات میں چھائے ہوئے ہیں ۔ان کی ڈکشنریوں کو کھول کر دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ بد دیانتی اور جھوٹ ان کے قول و فعل سے ہویدا ہے ۔ ان کے ’اعمال صالح‘ میں ملاوٹ، کم تولنے، فراڈ، فتنہ انگیز فتوے، رشوت خوریاں، حرام خوریاں، کام چوریاں، مینڈیٹ چوریاں، ضمیر فروشیاں، قلم فروشیاں، حتیٰ کہ جعلی ڈگریاں تک شامل ہیں ۔ کئی’ نامکمل لغات ‘ایسی ہیں جن میں ’عدل و انصاف‘ جیسے الفاظ مفقودالخبر ہیں ۔ مفقود الحال نسل در نسل انصاف کے لئے رُل رہے ہیں ،لیکن اگلوں کی’ڈکشنریوں‘ میں ’عدل و انصاف‘ لکھا ہو تو انہیں فراہم کریں ۔ اس کے علاوہ بہت سی لغات میں ’شرافت‘ اور اس کے ہم معنی الفاظ وقت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ تیزی سے نایاب ہوتے جا رہے ہیں ۔
ہمارے معاشرے کے لئے سب سے خطرناک ’ملائیت کی ادھوری ڈکشنریاں‘ اور ان کے طفیلی’سواتی دانش‘ کے حامل دانشوروںاوراہل قلم کی ’نامکمل لغات‘ ہیں ۔ ان دیمک زدہ ڈکشنریوں میں درج بالا تمام الفاظ کی کمی کے علاوہ ان کے ساتھ ’مس پرنٹنگ‘ کی ایسی ایسی خطرناک وارداتیں ہوئی ہیں کہ تلوار کے معنی ’اہل ایمان کو ذبح کرنے کا ہتھیار‘ اور قلم کا مطلب ’ازار بند ڈالنے کا آلہ ‘لکھا ہوا ہے ۔ ان سب کا خرد دشمنی پر مبنی ماٹو بڑا واضح اور صاف ہے کہ
کسی بھی انقلابی فکر نے جب گھر پہ دستک دی
دکھا کر ہم نے ڈنڈا اس کو چوکھٹ سے بھگایا ہے
ایک صالح محترم کی لامحدود دانش جب موتی بکھیرتی ہے کہ آئین،قانون ،جمہوریت ،پارلیمنٹ، عدلیہ،تعلیم نسواں اورعورتوں وبچوں کے لئے حفظانِ صحت کے اصول وغیرہ کفر ہیں ،تو دوسرے اولوالابصار اپنے بارے میں تمام تر خوش خیالی پر پانی پھیرتے ہوئے ، بے ساختہ دلوں کو چھو لینے والی تان اٹھاتے ہیں کہ ’’ہمارے اور ان کے مقاصد ایک ہیں ، طریقہ کار مختلف ہے ‘‘ گویا انسانی ذبیحوں اور جوان بچیوں کو سر بازار الٹا لٹا کر کوڑے مارنے کے کریہہ مناظر ،عبادت گاہوں میں انسانی خون و جسموں کے لوتھڑے ، بیواؤں کے اجڑے چہرے، یتیموں کی چیخوں اور والدین کی آہ و فغاں کے شقی القلب ذمہ داروں اور ان کے مقاصد ایک ہیں ۔ اگر اختلاف ہے تو فقط ایک اسلامی ملک میں مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما جنگجوؤں کے اندازِ جنگ یامخلوقِ خدا کی گردنوں پر سواری کے طریقہ کار پر ۔تعلیمی اداروں کو بموں سے اڑانے یا جلانے جیسی ’حکیمانہ کارروائیاں‘ جس بلندو بالا خرد دشمنی کی مرہون منت ہیں، اس میں یہ جتھہ مکمل طور پر خود کفیل ہے ۔ ’سواتی مکتبہ فکر‘ کے ان غیر اسلامی، غیر اخلاقی، غیر انسانی اور شرمناک عزائم کو عین اسلام ثابت کرنے کے لئے یہ طفیلی دانشور اور لے پالک قلمکار اپنی گز گز بھر لمبی زبانوں اور اپنے ازار بند ڈالنے کے ’ہتھیاروں‘ سے ایسی ایسی تاویلیں گھڑتے ہیں کہ اہل خرد سر پیٹ کر رہ جاتے ہیںاورافیون وبھنگ کے سرکس میں جدید سائنس بمقابلہ جاہلانہ جوش کے کرتبوں کا تماشا کرتے انسانی عقل چکرا کر رہ جاتی ہے ۔’کنفیوزڈ مائینڈڈ ‘ یہ دانش و حکمت کے ساہو کار ملائیت اور ملوکیت کے ان کارہائے نمایاں کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے فکری بد دیانتی کی تمام حدیں پھلانگ جاتے ہیں ۔ ایک نیم جاہل معاشرے میں جذبات کی مارکیٹنگ ویسے بھی سہل کام ہے ، سو انہیں آمنا و صدقنا کہنے والوں کی کھیپ با آسانی میسر آ جاتی ہے ۔ عظمت نوح بشر سے نا آشنا ملائیت اور اس کے حواریوں نے اپنی ڈکشنریوں سے فکر و تدبیر ، مصالحت، باہمی عزت و احترام، اختلاف اور تحقیق ایسے الفاظ کھرچ کھرچ کر مٹائے ہوئے ہیں ۔ لہذا خود تو علمی طور پر خالی برتن کی طرح ہیں، مگر دوسروں پر بھی علم و آگہی کے دریچے بند کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں کہ یہی ’نصب العین ‘انہیں سُوٹ بھی کرتا ہے اور اسی میں ان کی بقا کا راز بھی پنہاں ہے ۔ شورش پسندوں اور ریاستی رِٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف فوجی آپریشن کی مخالفت سواتی مکتبہ فکر کے دانشوروں اور قلمکاروں کوزیبا ہے کہ جہالت کے تیل سے ہی ان کے ’چراغ‘ فروزاں ہیں اور اگر اس ’تیل‘ کی سپلائی بند ہو گئی تو ان کے لئے اندھیرا ہے ۔ ۔ ۔ مگر قوم کے لئے روشنی کی کرن۔
’’غلطی بانجھ نہیں رہتی ، بچے دیتی چلی جاتی ہے ‘‘مولانا مودودی کا یہ فرمان ’غیروں ‘ سے زیادہ ’اپنوں‘ کی’ادھوری ڈکشنریوں‘ اور ’مقبوضہ اذہان‘ کو دعوت فکر دیتا ہے ۔
Tags: Waqar Khan , column

وقار خان
ڈائریکٹر جنرل پیپکو جناب طاہر بشارت نے لاہور میں ’میٹ دی پریس ‘ تقریب میں ایک انقلابی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی چوری کی اطلاع دینے والے کو انعام سے نوازا جائے گا۔ ۔ ۔ اب آپ سے کیا چھپانا کہ ہم نے ذاتی طور پر انعام کے لالچ میں بجلی چوری کی وارداتوں کا سراغ لگانے کی بڑی سعی کی ۔ لیکن افسوس صد افسوس! کہ ناکامی نے ہمارے قدم چومے ۔ گہرے غوروغوض کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایسا کوئی انعام سرے سے ہمارے مقد رمیں ہے ہی نہیں ، کیونکہ ہم ’مینڈیٹ چوراں‘ کی نشاندہی تو کر سکتے ہیں لیکن ’بجلی چوراں‘ میں سے کسی کو نہیں جانتے ۔ البتہ ہمارے پاس بجلی کی ڈکیتی میں ملوث وارداتیوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے ۔ تاہم وہ ہمارے کسی کام کی نہیں کیونکہ ایسی ڈکیتیوں کی اطلاع دینے والے کے لئے ڈی جی پیپکو نے کوئی انعام مقرر نہیں کیا۔ یہاں پر ہم ایک عجیب حسن اتفاق کی طرف اشارہ بھی کریں گے کہ ’مینڈیٹ چوراں‘اور بجلی کے ڈکیتوں کی فہرست میں بہت سے نام ملتے جلتے ہیں ‘ بلکہ کئی نام تو ہو بہو وہی ہیں۔
’تیز رفتارترقی کے سنہرے دور ‘ میں آٹھ سالوں کے بجلی کی پیدوار بڑھانے کے اخباری دعوے اور کاغذی منصوبے اکٹھے کئے جائیں تو اس کی ردی بیچ کر بجلی پید اکرنے کا کوئی چھوٹا موٹا منصوبہ شروع کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن جب جناب شوکت عزیز اور پرویز مشرف ترقی کو ’کیفر کردار‘ تک پہنچا کر ’با عزت ‘رخصت ہوئے تو یہ عقدہ وا ہوا کہ اس روشن خیال دور میں ’روشنی‘ کے لئے ایک میگا واٹ بجلی کی پیدوار بھی نہ بڑھائی گئی ۔ ہماری ناقص فہم میں اس کارنامے کو بجلی کی چوری میں شمار کرنا اس کی اہمیت گھٹانے کے مترادف ہے ۔ اس کو کم از کم بجلی ڈکیتی کی ایک دلیرانہ واردات تسلیم کیا جانا چاہیے ۔ اس دور کے چیئرمین متبادل توانائی بورڈ شاہد حامد، ایم ڈی پیپکو منور نصیر اور ممبر واپڈا چوہدری مشتاق وغیرہ کو مئی 2008ء میں موجودہ حکومت نے فارغ کردیا۔ یہ حضرات قومی خزانے سے 3لاکھ روپے سے 7لاکھ روپے تک ماہانہ وصول کرتے رہے ، مگر بجلی کا بحران ترقی کی راہ پر گامزن رہا۔ اب ان رقموں کو بھی محض’بجلی چوری‘ کی فہرست مین ڈال دینا ہر گزقرینِ انصاف نہیں ۔
جرمنی کے ایک انجینئر نے کٹاس راج مائننگ کالج (چکوال) کے ایک سیمینار میں کہا تھا ’’اگر پاکستان کوئلے کا صحیح استعمال سیکھ لے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ترقی یافتہ ممالک میں شامل نہ ہو سکے ‘‘۔ ۔ ۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ یہاں تو فقط اختیارات کا ’صحیح‘ استعمال ہی سیکھا گیا ہے ۔ کوئلے کو دنیا بھر میں تیل اور گیس کے مقابلے میں بجلی پیدا کرنے کا سستا ذریعہ مانا گیا ہے ۔اس وقت کوئلے کے ذخائر میں امریکہ247بلین ٹن کے ساتھ پہلے، پاکستان185بلین ٹن کے ساتھ دوسرے، روس175بلین ٹن کے ساتھ تیسرے اور چین115بلین ٹن کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے ۔ پاکستان کے کوئلے کے ذخائر ایران اور سعودی عرب کے مشترکہ تیل کے ذخائر سے بھی زیادہ ہیں ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان ذخائر کی مالیت25کھرب ڈالر تک ہے اور ان سے بجلی پیدا کی جائے تو وہ آئندہ100سے300سال کے لئے کافی ہے ۔ صوبہ سندھ کے صحرائے تھر میں دنیا کے کوئلے کا پانچواں بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔ تھر میں 9ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے 850ٹی ای این ٹریلین کیوبک کوئلہ کے یہ ذخائر ،400کھرب بیرل تیل کے برابر ہیں ۔ اگر ان ذخائر کا صرف2فیصد استعمال کیا جائے تو40سال کے لئے 20ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ، جو ہماری موجودہ ضرورت کے لئے کافی ہے ۔ سر دُھنیے! کہ اس وقت انڈیا اپنی توانائی کا 68فیصد، آسٹریلیا77فیصد،چین79فیصد اور پاکستان صرف0.2فیصد کوئلے سے حاصل کر رہا ہے ۔ جرمنی ہواسے20ہزار میگا واٹ بجلی پید اکر رہا ہے ۔ شگن منائیے ! کہ صوبہ سندھ میں ہوا کی وہ پٹی موجود ہے جو 50ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا پوٹینشل رکھتی ہے مگر مراعات پر جھگڑنے والوں کو اس طرف دھیان دینے کی فرصت ہی نہیں ۔ شادیانے بجائیے ! کہ بھارت نہروں اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ سے ٹربائن چلا کر سستی بجلی حاصل کر رہااور سمندر کے مدو جزر سے بھی 7900میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے مگر ہمارے ہاں سال ہا سال سے فزیبلٹیاں ہی بن رہی ہیں اور انجینئرنگ رپورٹس سے کاغذ ہی کالے کئے جا رہے ہیں جبکہ حقیقت میں ہمیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ، جو عوام کا خون جلا کر بجلی پید اکرتی ہیں اور پھر ان کے خون سے بھی مہنگی بجلی فروخت کرتی ہیں ۔ لاکھوں کیوبک فٹ پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو رہا ہے اور بجلی پیدا کرنے کا ’ٹھیکہ‘ ایسی کمپنیوں کو دے دیاگیا ہے جو بحران کے وقت ضروریات پوری کرنے کے لئے اپنے منافع پر سمجھوتہ نہیں کرتیں ۔ آئی پی پیز کو واجبات کی ادائیگی کر کے ایک دن میں بجلی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر وزیر بجلی بحران شدید ہونے کا مژدہ دے رہے ہیں ۔ ’آستانے‘ قمقموں سے منور ہیں لیکن غریب کے دن بھی اس کی راتوں کی طرح سیاہ ہیں ،بلکہ سیاہ تر ہو تے جا رہے ہیں۔
اب آپ ہی بتائیے کہ درج بالا ’وارداتوں‘ کوتاہیوں اور نالائقیوں کو بجلی کی ڈکیتیوں اور مینڈیٹ کی چوریوں سے تعبیر نہ کیا جائے تو پھر ان کے لئے کون سے الفاظ مناسب ہیں؟ ہمارا بجلی کا بحران کیسے حل ہو کہ جب ہم بجلی کے ہزاروں میگا واٹ پر سرقہ بالجبر کی وارداتوں سے صرف نظر کر کے چند یونٹ بجلی چوری کرنے والوں کو پکڑنے پر انعام مقرر کر دیتے ہیں؟ راجہ پرویز اشرف صاحب اس سال کے آخر تک لوڈ شیڈنگ ختم ہونے کے اعلان کرتے ہیں تو سادہ دلوں کی امیدوں کے چراغ ایک دفعہ پھر فروزاں ہو جاتے ہیں ۔ تاہم انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر دسمبر تک کوئی ایسا’معجزہ‘ رونما نہ ہو سکا تو ’لوڈ شیڈنگ زدگان، توان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے ، البتہ بے رحم تاریخ اذن سے ضرور انصاف کرے گی ، جیسے کہ ان کے پیشروؤں سے کرتی چلی آئی ہے ۔
Tags: Waqar Khan , column

وقار خان
آخر وہی ہوا جس کا ہمیں خدشہ تھا ۔ پورے 100دن تک ہم اس راز کو راز رکھنے میں کامیاب رہے ،لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ عشق، مشک اور کُھرک چھپ نہیں سکتیں ۔ اسی طرح ہماری عاجزانہ سی فہم یہ بھی کہتی ہے کہ دونامور شخصیات کے درمیان ذہنی ہم آہنگی اور خیالات میں یکسانیت بھی ایک دن طشت از بام ہوکر ہی رہتی ہے ۔ اب جبکہ باراک حسین اوباما کی پرائم ٹائم نیوز کانفرنس کے بعد ہماری اور ان کی سوچ میں مماثلت اور باہمی انڈر سٹینڈنگ کھل کر سامنے آ چکی ہے تو ہم بھی اپنا بھانڈا پھوٹنے کے بعد اس حقیقت کو مزید چھپانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ امریکی صد رنے اس نیوز کانفرنس میں ہمارے کسی کالم کا حوالہ نہیں دیا، باقی انہوں نے کوئی ایسی بات چھوڑی نہیں جو ہم ان دنوں نہ لکھتے رہے ہیں ہوں۔ مثلاً آپ نے پاکستان کے حالات پر فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’وہاں سویلین حکومت کمزور ہے اور وہ عوام کو تعلیم، صحت اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہے ، جو عوامی حمایت اور وفاداری حاصل کرنے کے لئے ضروری ہیں ‘‘کچھ ہم دونوں کی مادری زبانیں مختلف ہونے کی بنا پر الفاظ میں ہیر پھیر ضرور ہے ، ورنہ کون نہیں جانتا کہ ہم اپنی حکومت کی اس ’مردانہ کمزوری‘ کی طرف بار ہا مرتبہ اشارہ کر چکے ہیں ۔
امریکہ میں حالیہ صدارتی انتخابی مہم کے دوران ہی مسٹر اوباما کی تقریریں سن کر ہم نے بین الاقوامی امور پر ’انڈر سٹینڈنگ ہذا‘ کی بو محسوس کر لی تھی ، لیکن اپنی روایتی منکسر المزاجی اور محتاط طبیعت کی بدولت ہم اسے ’پی‘ گئے ۔ نامور اور زود قلم تجزیہ نگاروں کی پر مغز نگارشات سے لیڈروں کا رہنمائی حاصل کرنا اور مختلف امور پر ان بے لاگ تجزیوں کے زیر اثر اپنا وژن یا بصیرت تشکیل دینا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔ ہم اپنی عاجزانہ طبیعت کی بناپر کوئی ’ناروا قسم کا دعویٰ‘ کرنے سے ہچکچا رہے ہیں ، ورنہ ہمارا ماتھا تو اسی وقت ٹھنک گیا تھا جب اس سال فروری میں امریکی سفارت خانہ اسلام آباد کے پریس اتاشی مسٹر لُوفِنٹرنے روزنامہ ’آج کل‘ میں چھپنے والے ہمارے ایک کالم پر ہمیں ای میل کی ۔ مسٹر لُو فِنٹر نے ای میل کے شروع میں لکھا کہ وہ اردو پڑھنے سے قاصر ہیں ،تاہم خوش قسمتی سے انہیں ایسا محنتی سٹاف میسر ہے جو اردو کالمز کا ترجمہ کر کے انہیں پیش کرتا ہے ۔ ہم چونکہ ذاتی طور پر امریکیوں کی کسی بات کو جھٹلانا اخلاقیات کے منافی ،بلکہ ’گناہِ کبیرہ‘ کے قبیل کا جرم سمجھتے ہیں ، اور ویسے بھی قبل ازیں امریکی پریس اتاشی ایک تقریب میں ترجمہ کرنے والے اپنے سٹاف سے ہمیں ملوا چکے ہیں ۔ لہذا ان کی بات کا یقین نہ کرنے کی کوئی عقلی دلیل باقی نہیں رہتی ۔ پس ! ہم نے بھی جواباً ان کی ای میل بہ زبان انگریزی کا اردو ترجمہ کرانے کیلئے اپنے پڑھے لکھے دوستوں کا ’بورڈ‘ بٹھایا تو منکشف ہوا کہ مسٹر لُو فِنٹرنے ہمارے کالم کی تعریف کی تھی اور ہمارے بلند خیالات کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ سو ہم نے موقع ضائع کئے بغیر اپنی جوابی ای میل میں انکا ’ترکی بہ ترکی‘ شکریہ ادا کردیا،تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے ۔ اگرچہ ہمیں کسی بھی غیر ملکی کی طرف سے اپنے کالم پڑھنے یا ان سے رہنمائی حاصل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ۔لیکن گمان غالب ہے کہ امریکی سفارت کار عورتوں کی طرح بات کو پیٹ میں رکھنے پر قادر نہیں اور ہر بات من وعن وائٹ ہاؤس تک پہنچا دیتے ہیں ۔ بے شک ہمیں امریکی صدر کی طرف سے ابھی تک کوئی ای میل موصول نہیں ہوئی ، لیکن ہمارے شبہے کو اس امر سے تقویت ملتی ہے کہ باراک اوبامہ کی تختی افکار پر ہمارے خیالات و نظریات کی چھاپ نمایاں ہے ۔ ہم کسی کو الزام دینا نہیں چاہتے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ بین الاقوامی امور، خصوصاً پاکستانی معاملات پر امریکی صدر کی تکنیکی گفتگو سے متشرح ہے کہ ہماری ’کالمانہ باتیں‘ کہیں نہ کہیں سے ضرور’لِیک‘ ہو رہی ہیں ۔تاہم جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں کہ ہم اپنی تحریروں سے کسی لیڈر کا رہنمائی حاصل کرنا قطعی مائنڈ نہیں کرتے ۔بلکہ ہمارا حال تو محسن نقوی جیسا ہے کہ
اپنی سوچوں کے خزانے نہیں چھپتے مجھ سے
کوئی آئے جو مجھے مجھ سے چرا لے جائے
اس نیوز کانفرنس کے موقع پر باراک حسین اوبامہ کے کنج لب سے پھوٹنے والے الفاظ کی نشست وبرخاست، تراکیب و بندش ،طرزِتکلم، طرزِتخاطب اور طرزِ گفتار میں ہمارے افکار کی جھلک واضح طور پر محسوس ہو رہی تھی ۔ انہوں نے کہا ’’پاکستانی فوج بھارت دشمنی کے تاریخی روایتی تاثر سے نکل کر محسوس کرنے لگی ہے کہ بڑا خطرہ اندرونی ہے ‘‘ آپ نے مزید کہا ’’پاکستان کے جوہری اثاثے محفوظ ہیں کیونکہ پاک فوج اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر ایٹمی ہتھیار غلط ہاتھوں میں چلے گئے تو کتنا خطرناک ہوگا ‘‘ ہمیں یہ ارشادات سن کر ایک گو نہ فرحت کا احساس ہوا کہ پاک فوج کا امیج بہتر بنانے کے سلسلے میں ہماری محنت اکارت نہیں گئی ۔ تاہم اب یہ ہماری مسلح افواج کا فرض ہے کہ وہ اس امیج کو برقرار رکھنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحتیں بروئے کار لائے اور آئندہ جمہوریت کو فتح کرنے کے بجائے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز رکھے ۔ کیونکہ اگر اس دفعہ انہوں نے اپنی ’ریپوٹیشن‘ خراب کی تو پھر شاید ہمارا قلم بھی ان کی کوئی مدد نہ کر سکے کہ
اب آئینہ شکنی کی تو تلافی نہیں ہو گی
اس بار خطا کی تو معافی نہیں ہو گی
ہم اپنے ’ہم خیال‘ امریکی صدر کو جانکاری دینا چاہتے ہیں کہ ہماری سویلین حکومت کی مذکورہ’کمزوریوں‘ کا سبب خود امریکی حکومت کی ہمارے حق میں ’سوتیلی پالیسیاں‘ ہیں ۔ ورنہ کوئی بھی منتخب عوامی حکومت اتنی کمزور نہیں ہوتی کہ وہ اپنے عوام کو تعلیم، صحت اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات فراہم نہ کر سکے ۔ہمارا مشورہ ہے کہ اگر باراک اوباما ،آصف زرداری کے حالیہ امریکی دورے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے تمام معاملات صرف اسکے منتخب صدر کے ساتھ طے کریں اور دیگر غیر منتخب طاقتوں اور ہمارے اندرونی و بیرونی مخالفین کو ’کشتے‘ کھلانا بند کردیں توہماری حکومت اپنی کمزوریوں پر قابو پا سکتی ہے ۔ امریکی مفادات کا بار گراں اٹھاتے اٹھاتے ہماری کمر بھی دوہری ہو چلی ہے ۔ ان حالات میں ڈیرھ ارب ڈالر کی دیمک زدہ بیساکھیاں ہماری کمزوری میں اضافہ تو کر سکتی ہیں لیکن کوئی ’ٹانک‘ ثابت نہیں ہو سکتیں ۔ ہماری داخلی و خارجی پالیسیوں کے نقوش پر امریکی مہر ثبت ہے ۔ ایسے میں اپنے ہم خیال صدر کیلئے ایک صائب مشورہ ہے کہ اگر ہمارے فیصلہ سازی کے مرکز کو واشنگٹن سے اسلام آباد منتقل کردیا جائے تو پاکستانی حکومت اپنی بہت سی کمزوریوں پر قابو پا کر طاقتور بن سکتی ہے اور عوامی حمایت اور وفاداری میں خود کفیل ہو سکتی ہے ۔
Tags: Waqar Khan , column