ضمیر آفاقی
پاکستانی میڈیا کے ہاتھ پھر ایک ایسا نان ایشو آگیا ہے جسے وہ صبح شام کورس کی شکل میں گنگنا رہا ہے ،ہمارا یہ المیہ بڑھتا جا رہا کہ ہم تحقیق اور تفتیش کی جستجو سے دور سے دور ہوتے جا رہے ہیں ، دنیا کے کسی کونے میں کوئی گمنام واقعہ ہو جائے اور اس میں پاکستان کا نام آجائے تو پاکستان کا میڈیا بلا تحقیق اسے شہہ سرخیاں بنا کر شائع کرنے لگ جاتا ہے ،یہ بھی غالباً اجتمائی انحطاط کی ایک شکل ہے جس کا شکار ہم بحثیت مجموعی ہو چکے ہیں منصور اعجاز نامی شخص کے خط کے چرچے زد عام ہیں،جس کو ایشو بنا کر پاکستانی میڈیا نے تو صدر اور حسین حقانی کے لیے سزا بھی تجویز کرنی شروع کر دی ہے جبکہ پاکستان میں مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف واحد انسان ہیں جنہوں نے خطرے کی بو سونگھ کے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جمہورت کو نقصان پہنچانے والے کسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ (ن) لیگ کسی غیر آئینی اقدام کی حمایت کریگی نہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ تحریکوں کا حصہ بنے گی، انہوں نے سیاستدانوں سے کہا کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں اور ان ہاتھوں میں ہرگز نہ کھیلیں جنہوں نے ماضی میں اسمبلیاں، سپریم کورٹ اور دیگر ادارے توڑے، دریاؤں کا پانی بیچااور بھارت سے جنگیں کرائیں،نائن الیون کے بعد قوم سے پوچھے بغیر بالاہی بالا معاملات طے کئے، منصور اعجاز کے مضمون میں حسین حقانی پر آنے والے الزامات کے ضمن میں انہوں نے کہا کہ مائیک مولن کو لکھے خط کے معاملے میں دال میں ضرور کچھ کالا ہے، یہ انتہائی سنجیدہ اور قومی سلامتی کا معاملہ ہے اسے کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کیاجانا چاہیے، تاہم انہوں نے ایک متبادل تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ خط کی تحقیقات کیلئے کمیشن کی بجائے سول سوسائٹی ‘اراکین سینیٹ وقومی اسمبلی ‘ وکلاء اور سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل کمیٹی بنا کر اسے تحقیقات کر کے حقائق 15روز میں قوم کے سامنے لانے کا ٹارگٹ دیا جائے میان نوازشریف نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ اتنے بڑے معاملے کو نظر انداز کردیا جائے اور بقول ان کے ہرصورت میں اس معاملے کا فیصلہ ہوگا۔مسلم لیگ نون کے صدر نے الزام لگایا کہ ان کی جماعت کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں کہ فوجی ایجنیساں ایک مخصوص سیاسی جماعت کی بھر پور حمایت کی رہی ہیں اس عمل کو فوری رکنا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کو سیاست میں مداخلت کرنے کی بدنامی مول نہیں لینی چاہئے۔نواز شریف نے کہا کہ آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی کی پوری پوری ذمہ داری ہے کہ اگر فوجی ایجنسیاں سیاست میں ملوث ہورہی ہیں تو ان کو روکنا چاہئے اور ان کے اس کردار کو فوری ختم کیا جانا چاہئے اور ایسا نہ ہوا تو پھر ان پر بھی یقینا الزام آئے گا۔ میاں نوز شریف جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کو بھانپ چکے ہیں اور جمہورت کو بچانے کے لئے ان کا تازے موقف کی تمام محب وطن جماعتیں اور افراد تائید اور توصیف کر رہے ہیں،ضروت بھی اس امر کی ہے کہ ملک کو انتشار اور انارکی سے بچانے کے لئے میاں صاحب کے موقف کی تائید کی جائے۔ میاں نواز شریف حالات کی نزاکت کو جان گئے ہیں اور انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ بروقت ہے اگر اب بھی سیاستدان متحد نہ ہوئے تو ماضی کا کھیل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے اور جو کچھ ماضی میں ہو چکا ہے اس سے بد تر ہونے کے چانسسز زیادہ ہیں اس لے ہوش مندی کا تقاضا یہی ہے جس کی جانب میاں نوز شریف نے توجہ دلائی ہے دوسری جانب اس خط کے حوالے سے کئی سوال ابھی تشنہ طلب ہیں مثلاً منصور اعجاز کا یہ کہنا کہ اسے جمہوریت عزیز ہے اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ منصور اعجاز کو پاکستان میں جمہوریت کی بقا عزیز تھی اور اسی تناظر میں وہ پیغام رسانی پر آمادہ خاطر بنے مگر یہاں سوال تو یہ ہے کہ میمو میں اس نے پاکستان کی سیکرٹ معلومات اور حساس اداروں کی نشان دہی کیوں کی؟ کہیں ایسا تو نہیںمائیک مولن نے دوہرا کھیل کھیلا ہو۔ وہ پہلے اس میمو کی تردید کرچکے ہیں مگر اب انہوں نے میمو کی تصدیق کرد ی ہے۔ دی گیبل کے مطابق صدر کے سیاسی حریف اس معاملے کو اچھال رہے ہیں جبکہ افواج پاکستان کے بڑے صدر سے میمو سیکنڈل کی تحقیق کا دباو ڈال رہے ہیں اور حسین حقانی کی برطرفی کے معاملات بھی اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر نے کئی مواقع پر افواج پاکستان کا کیس دیانت و صداقت سے لڑا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسے موقع پر انہیں فوج کی طرف سے تنگ کیا جانا مضحکہ خیز ہوگا اب اس بات پر بھی غور کر لینا چاہیے اور قوم کو سوچنا چاہیے کہ جب سفیر امریکی انتظامیہ میں گہرے تعلقات کا حامی ہو بھلا وہ کسی تیسرے اور مشکوک شخص کو نازک ایشوز سے متعلق کوئی فریضہ کیوں اور کیسے سونپ سکتا ہے؟ افسوس ناک امر تو یہ ہے کہ ہمارا میڈیا ایسے غیر معمولی واقعات کو مرچ مصالحوں سے مزین کرکے اپنا سارا زور اسی پر صرف کردیتا ہے اور میڈیا ایسے تجزیات کو سامنے لاتا ہے جو داخلی انتشار کو ہوا دیتا ہے۔کیا ایسی حساس معلومات کا تبادلہ وہ بھی کسی درمیان کے آدمی کے ساتھ ای میل سے کیا جاتا ہے ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ منصور اعجاز کے اس خط سے چالبازی کے ایک ایک حرف سے سازش کی بو آرہی ہے۔ اور یہ حرکت ان غیرجمہوری عناصر کی بھی ہو سکتی جو سویلین حکومت اور افواج پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات سے الرجک رہتے ہیں۔ ایسی گھناونی سازش میں پاک مخالف غیر ملکی ایجنسیاں بھی ملوث ہوسکتی ہیں۔ ملک ایک ایسے نازک موڑ پر ہے جہاں ہم اپنے بڑوں سے یہ گزارش کریں گے کہ جنرل کیانی صدر اور وزیراعظم باہم شیر و شکر ہوکر ایسے من گھڑت قصوں کا توڑ تلاش کریں۔ پاکستان کی سلامتی اور جمہوری استحکام اور معاشی خوشحالی کے لئے حکومت وقت اور سیکیورٹی فورسز کے مابین باہمی انڈر سٹیڈنگ وقت کا جزولانفیک ہے جس سے کسی طور پر بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔


