کچھ تواچھا ہوجائے: کرن احمد

کر ن احمد

ٹھہرے پا نی میں کنکر ما ر کر کپتا ن نے اچھا کیا ۔اثا ثو ں کا معا ملہ کم و بیش سبھی سیا سی پا رٹیوں کے لیے وہ اسم ممنو عہ اور شجر ممنو عہ ہے ۔ جس کا اول تو کو ئی نا م ہی سننا گو ارہ نہیں کرتا اور اگر کر بھی لے تو غلطی سے اس معا ملے کے قر یب بھٹکنا بھی دور کی با ت ہے ۔ اب چو نکہ ایک نئی روائت کی بنیا د رکھی گئی ہے حا لا نکہ سیاسی تا ریخ میں اچھی روایتیں بہت جلد د م توڑ جا تی ہیں یا پھر توڑ دی جا تی ہیں ۔ تو بلا ہا ئے تفریق سبھی عو امی نمائند وں کو اس کا ر خیر میں حصہ لینا چا ہیے ۔ عمر ان خا ن نے کل اسی مو قع پر شا ہ محمو د قر یشی کو بھی پا رٹی کا وائس چیر مین بنا ڈالا ۔اور کل تک جو حضر ات شا ہ محمو د قر یشی کی تحر یک انصا ف میں شمو لیت کو دال میں کچھ کالے کے مترادف لیتے تھے ۔ سو وہ بھی واضح ہو گیا کے حضر ت دال میں کچھ بھی کا لا نہیں تھا ۔ دال خو د کا لی ہے ۔ مگر اس جر ات مندانہ قد م کے بعد عمران خا ن سے ایک گزارش تو کر نی ہی پڑے گی کہ محتر م جا نشین یا گد ی نشین جو کہ اب پا رٹی کے وا ئس چیر مین بھی بن چکے ہیں اگر وہ بھی اپنے اثا ثے ڈکلیر کر لیں تو کیا ہی اچھا ہو ۔
ابھی عمران خا ن کی پر یس کا نفرنس ہو ئی ہی تھی کہ جو ہد ری نثار بمع الزاما ت اور تردیدی گردان کے ساتھ میدان میں اتر گئے ۔ انہیں دیکھ کر مجھے یہ گما ن ہوا تھا کہ وہ مو صوف تا و میں آکر اپنے خفیہ اثا ثے سا منے لا نے لگے ہیں ۔ پر وہ تو نہیں چھو ٹے میاں تا و میں آ گئے اور اپنے صا حبزادے کو اثا ثو ں کی فہر ست تھما کہ میڈیا کے زیر نظر کر دیا ۔ یو ں اثا ثوں کی بحث نے مسلم لیگ ن اور تحر یک انصاف کو خو ب لپیٹ لیا ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صر ف عو ام کو فہر ست تھما نا کا فی ہے ۔ اس ملک کو یا اس کی عوام کو کسی کے دولت کے انبار دیکھنے کا شو ق نہیں ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ لو گ اس ملک کی با گ دوڑ سھنبا لنے کے خواہا ں ہیں ۔ اور لیڈر کے عہدہ جس کا مطلب سب کچھ اپنے ہا تھ میں لے کر آگے بڑھنا ہے اگر انہی کی دولت جا ئد اد دوسر ے ملکوں میں ہے ۔ جب سا را فا ئد ہ ان دوسرے مما لک کو ہو گا تو یہ کس حق سے ملک کے سب سے اہم عہدے کو حا صل کر نے کے خو اہا ں ہیں ۔ اس لیے ان بڑی آسا میوں کی ڈکلیر یشن کا فی نہیں بلکہ یہ وقت ہے کہ اب جس نے یہا ں کی فصل کھا نی ہے وہ یہیں بیج بو ئے ،دن رات ایک کر کے سیوا کر ے اس کے بعد جو فصل تیا ر ہو گی اس پر ان کا پو را حق ہو گا ۔ اور اس نیک کا م کو وہ سبھی لو گ کر یں جو عوامی نما ئند ہ ہو نے کے دعوید ار ہیں ، کیونکہ اب تک تو سیا سی منظر نا مے پر اکژ یت کی جو پا لیسی رہی ہے وہ اطا لو ی سیا سی فلسفی نکو لو میکیا ولی کی تجو یز سے گہر ی مما ثلث رکھتی ہے ۔،ـیہ ایک الگ با ت ہے کہ وہ اپنی اس تجو یز کی وجہ سے خا صا بد نا م ہو ا تھا ۔ اس کا فلسفہ یہ تھا کہ جو حکمران اپنی طا قت کو بڑھا نے اور اسے قا ئم رکھنے کے خواہاں ہو ں انہیں فریب کا ری ،مکاری اور دروغ گو ئی کے سا تھ سا تھ طا قت کا بے رحما نہ استعما ل کر نا آنا چا ہیے ،دیکھا جا ئے تو ہما ری پور ی سیا سی تاریخ کا بیشتر حصہ اس قسم کے مظا ہر ات سے بھر ا پڑا ہے ۔
اسی سلسلے میں میکیا ولی نے کئی کتا بیں بھی لکھیں ، جن میں سے ایک، شہز ادہ، تھی ، اسکا خیا ل یہ ہی تھا کہ ایک شہز ادے کو اخلا قی اقدارکو یکسر فر امو ش کر دینا چا ہیے ۔ اوراپنی طا قت اور مکا ری پر ہی بھر وسہ کر نا چا ہیے ۔ ایک بڑی دلچسپ بات اور پا کستا ن کی تا ریخ سے قدرے مشتر ک فکر جو میکیا ولی نے نہا یت پر زور انداز میں بیا ن کی تھی کہ فو جی طا قت والی ریا ست بہت ضر وری ہے ۔ اسی پر اس نے کچھ اسطر ح بھی روشنی ڈالی کہ ریا ست کی اپنے شہر یوں میں سے جبری بھر تی کی گئی فوج زیا دہ قا بل اعتبا ر ہو تی ہے ۔ میکیا ولی شہزادے کو یہ نصیحت کر تا ہے کہ وہ آبا دی کی طا قت حا صل کر نے کی کو شش کر ئے ۔ بصورت دیگر اس کے پا س مصبیت میں کو ئی سہا را نہیں ہو گا ۔ شہز ادے کے لیے کیا بہتر ہے اس کے جو اب میں وہ کہتا ہے کہ یا تو اس سے محبت کی جا ئے یا پھر اس سے خو فز دہ ہو ا جا ئے یعنی انسا ن کو چا ہا بھی جا نا چا ہیے اور اسے خو ف ناک بھی ہو نا چا ہیے ۔ لیکن پھر بھی خو فنا ک ہو نا ہر دلعزیز ہو نے سے زیا دہ بہتر ہے ۔
اگر واقعی دونوں میں سے ایک کے بغیر گز ارہ کر نا پڑے تو ، کیونکہ محبت ایک طرح کی زمہ داری کی زنجیر میں جکڑی ہو تی ہے جسے انسان اپنی خو د غر ضی کے تحت اپنا مقصد پو را ہو جا نے کے بعد جب دل چا ہتا ہے تو ڑ دیتا ہے جبکہ خو ف طا قت کی دہشت پر رقا ئم ہے ، جو کبھی بے اثر نہیں ہو تا۔ میکیا ولی کے افکا ر بھلے ہی اس وقت اس کے لیے بدنا می کا سبب بنے ہو ں مگر اس کی روح یقینا خو ش ہو تی ہو گی ۔ جب ہما رے ملک میں ان افکا ر کو عملی طو رپر د یکھتی ہو گی ۔ لیکن سنا ہے کہ پا کستانی قو م جا گ گئی ہے ۔ تو ہو سکتا ہے کہ کسی بدنا م فلسفی کا فلسفہ دم تو ڑ جا ئے اور سب اچھا نہ صحیح کچھ اچھا ہو جا ئے ۔

میری خاموشیوں میں لرزاں ہے

کرن احمد

 اس دنیا میں سب سے قیمتی یا امیر ترین جگہ کو ن سی ہے سر نے سوال کیا ۔ کسی نہ کہا امر یکہ کسی نے کہاسعو دی عر ب تو کسی نے کہا آسٹر یلیا ۔ بو لے نہیں ۔یہ سب امیر تر ین جگہیں نہیں ہیں ۔ تو کو نسی جگہ امیر ترین ہے؟ ۔ ہا ل سے پھر کو ئی آواز اُٹھی ۔ تو انہوں نے جواب دیا ، اس دنیا میں سب سے امیر ترین جگہ قبر ستا ن ہے کیونکہ نا یا ب ،انمو ل لو گ وہیں دفن ہیں ۔ شہر خمو شا ں کا دل بہت وسیع ہے جس نے ان گنت ،چہر وں کو اپنے اندر چھپا لیا ہے ۔ یہا ں ایسے چہر ے بھی دفن ہیں جنہوں نے گمنا می کی زند گی گز اردی ایسے بھی جو کمیونٹی میں سب کے عز یز تھے ۔مگر کچھ چہر ے ایسے بھی دفن ہیں جو دھرتی کے آسما ن پر ستا رہ بن کے چمکتے تھے ۔ جن کے چا ہنے والوں کی کمی نہیں ۔ ایسا ہی ایک نا م فیض احمد فیض کا ہے ۔ فیض احمد فیض اردو ادب کا ایک بہت بڑا نا م ہے کہا جا تا ہے کہ اقبال اور غا لب کے بعد فیض احمد فیض ہی سب سے عظیم شا عر ہیں آپ 13فروری 1911کو سیا لکو ٹ میں اس وقت کے ایک علمی اور معزز گھر انے میں پیدا ہو ئے ۔ آپ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی آپ کے اسا تذ ہ میں مو لو ی شمس الحق جو علا مہ اقبا ل کے بھی استا د تھے شامل تھے ۔ آ پ نے انگلش اور عربی میں ایم ۔ اے کیا ۔ تعلیمی قا بلیت کا اندازہ اس با ت سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اس وقت جو گو رنمنٹ کا لج کا سنہر ی دور تھا ۔ بڑے بڑے نا مور اساتذہ مختلف شعبوں کے سر براہ تھے ۔پر وفیسر لنگ ہا رن انگر یز ی کے صدر شعبہ تھے ۔ تھر ڈ ائیر کے امتحا ن میں انھوں نے انگر یزی کے پر چے چیک کیے ۔ پر چے واپس ملے تو فیض کے پر چے پر ایک سو پینسٹھ نمبر درج تھے ۔ کسی طا لب علم نے پروفیسر صا حب سے پو چھا ان کو ڈیڑھ سو میں سے ایک سو پینسٹھ نمبر کیسے مل گئے جو اب ملا’’

Because i could not give more ‘‘

فیض کی انگر یز ی سے متعلق کسی نا مور انگر یز دان کے یہ الفا ظ ریکا رڈ رہیں گے ۔ فیض احمد فیض کی مرزا ظفر الحسن سے گفتگو کا ایک بند قارئین سے شئیر کر تی چلوں ۔سکو ل سے واپسی پر ابا ہمیں خط لکھنے کے لیے بلا لیتے اس زمانے میں انھیں خط لکھنے میں دقت محسو س ہو تی تھی ۔ اس کے علا وہ انہیں اخبا ر بھی پڑھ کر سنا تے تھے ۔ ان مصر وفیا ت کی وجہ سے ہما ری استعد اد میں کا فی اضا فہ ہو ا ۔ جب دسویں جما عت میں پہنچے تو ہم نے بھی تک بند ی شر وع کر دی اور ایک دو مشا عر وں میں شعر پڑ ھتے رہے منشی سر اج دین نے ہم سے کہا میاں ٹھیک ہے تم بہت تلا ش سے شعر کہتے ہو مگر یہ کا م چھو ڑ دو ابھی تو تم پڑھو لکھو اور جب تمھا رے دل و دماغ میں پختگی آ جا ئے تو تب یہ کا م کر نا ہم نے شعر کہنا تر ک کر دیے ۔ جب ہم مر ے کا لج سیا لکو ٹ میں داخل ہو ئے اور وہا ں پر وفیسر یو سف سلیم چشتی اردو پڑھا نے آ ئے انہوں نے مشا عر ے کی طر ح ڈالی اور کہا کہ اس طر ح پر شعر کہو ۔ ہم نے کچھ شعر کہے تو با لکل خلا ف مشورہ دیا ۔ اور کہا فو راً اس طر ف تو جہ دو ۔ شاید تم کسی دن شا عر ہو جا و فیض نہ صر ف شا عر ہو ئے بلکہ شا عر ی میں ایک عظیم مقا م بنا یا ۔ وہ بھی کسی مخصو ص علا قے کے نہیں بلکہ یونیورسل شا عر تھے ۔ فیض احمد فیض کی شا عر ی کا مطا لعہ کر نے والی رو سی ادب شنا س ڈاکٹر Lumila vassilye نے ان کے با رے میں ایک کتا ب لکھی جو روسی اردو اور انگر یز ی زبان میں شا ئع ہو ئی وہ فیض احمد فیض کے متعلق انٹرویو میں کہتی ہیں کہ فیض احمد فیض کا سو ویت یو نین سے رو حا نی تعلق تھا ، یہ با ت پو رے وثو ق سے کہی جا سکتی ہے کہ فیض احمد فیض دور حا ضر کی مشہور اور نما یا ں شخصیت ہیں ۔ وہ ایک لیجینڈ ہیں ۔ وہ شا عر ، نقاد ،مجا ہد امن اور استا د ہیں وہ پا کستا ن اور بر صغیر کی ثقافت اور تہذیبی زند گی میں ایک مثالی شخصیت رکھتے ہیں ۔ و ہ سا ری دنیا میں امن اور دوستی کی علا مت تھے ۔ ان کا سویت یونین میں پہلی با ر ذکر اس وقت ہو ا جب اخبا ر میں ان کے متعلق خبر آئی کہ پاکستان میں انصاف کے لیے جد وجہد کر نے والے ایک شا عر کو جیل میں قید کر دیا گیا ہے ۔اور سا تھ ان کے چند اشعا ر کا ترجمہ شا ئع ہو ا ، مگر فیض کو سویت یونین میں سب سے زیادہ شہر ت اس وقت ملی جب انہیں سو یت یو نین کی طرف سے لینن امن ایوارڈ دیا گیا جو کسی غیر ملکی شہر ی کے لیے سو یت یو نین کا سب سے بڑا ایوارڈ تھا ۔ اب اگر سو یت یو نین کے کسی بھی ادب سے لگاو رکھنے والے شہری سے فیض کے متعلق پوچھا جا ئے تو وہ یہ نہیں کہے گے کہ وہ لینن پیس ایوارڈ یا فتہ تھے بلکہ وہ یہ کہیں گے کہ یہ عظیم پا کستا نی شا عر کا نا م ہے ۔ اور میں سمجھتی ہو ں یہ کو ئی چھوٹی با ت نہیں ہے ۔یہ ایک بہت بڑی بات ہے ۔ قا رئین فیض احمد فیض واقعی آسما ن پر چمکنے والا وہ ستا رہ تھے جہنیں ادب سے لگا و رکھنے والے یقیناً تما م لو گ عقید ت اور محبت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ آپ کی تصا نیف میں ،دست صبا۔ زندان نامہ ،میرے دل میرے مسافر ،نقش فریادی۔ ،نسخہ ہا ئے وفا جیسی شاہکار کتابیں شا مل ہیں فیض احمد فیض سے متعلق یہ تحریر لکھنے کا مقصد 20 نو مبر کو انکی بر سی کے مو قع پر انہیں خر اج تحسین پیش کر نا تھا ۔ اللہ تعا لی مر حوم کو بلند درجا ت عطا فر ما ئے آمین

میر ی خا مو شیوں میں لرزاں ہے
میرے نا لو ں کی گم شدہ آواز