عالمی شہری بننے کے بعد

سوچ کے پر

اشفاق رحمانی

میرے لکھنے لکھانے کے تجربے کا آغاز ضلع سیالکوٹ کی اہم تحصیل پسرور کے ایک ہفت روزہ ’’صدائے پسرور‘‘سے ہوا۔قلم کے ذریعے کاغذ پر بننے والی چند لکیروں کو اخبار ی کالم بننے تک کے مراحل آج کی صحافت سے بہت مختلف تھے۔لکھنے،ایڈیٹر کو بھیجنے اور شائع ہونے تک بہت سے پہا ڑ…1998سے2004ء تک مقامی اور قومی روزنامہ اخبارات سے واسطہ پڑا،پھرنومبر2004 سے لاہور میں باقاعدہ شعبہ صحافت سے منسلک گیا۔دنیا بھر کے صحافیوں کومفت پیشہ وارانہ تربیت کے لئے منتخب کرنے اور عالمی سطح پر ان کو سہولتیں فراہم کرنے والی عالمی تنظیم آئی سی ایف جے،واشنگٹن کی طرف سے کروائے جانے والے عالمی آن لائن کورس بعنوان ’’انٹرنیشنل کوریج آف ریلیجن ان دی ڈیجیٹل ایج‘‘ میں نمایاں کامیابی کے بعد گریجویٹ سرٹیفکیٹ حاصل کیا جو اب تک دو پاکستانی صحافیوں کو جاری کیا گیا ہے۔اللہ کا یہ بھی احسان ہوا کہ اُس کے فضل سے آئی سی ٹی تربیت کے لئے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے گھانا(ساؤتھ افریقہ) سے انٹرنیٹ اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں سپیشلائزیشن کی ڈگری حاصل کی جس کا اہتمام 38 ممالک کی عالمی صحافتی تنظیم پین پلس نے آن لائن کیا تھابعد ازاں ’’سمر اکیڈمی فار سارک جرنلسٹ 2011‘‘میں بطور مین سٹریم میڈیا پرسن پاکستان کی نمائندگی جس میںپاکستان سے دوصحافیوں کا عالمی صحافتی سلیکشن کمیٹی ’’GIZ‘‘کیطرف سے انتخاب عمل میں لایا گیا تھا۔ بطور پاکستانی میڈیا پرسن ایڈوانس صحافتی تربیت کے لئے منتخب ہوئے اور نیپال میں صحافتی ٹریننگ مکمل کرنے کا موقع بھی ملا۔ایڈز کے متعلقہ آٹھویںعالمی کانفرنس 2010 ویانا’’اسٹریا‘‘…یوتھ اینڈ میڈیا کانفرنس2011 ’’دبئی ‘‘…7روزہ بچوں کی تعلیمی نفسیات کے حوالے سے ہونے والی عالمی کانفرنس2011 UK -کے لئے بطور پاکستانی صحافی منتخب ہوا۔ مختلف قومی و عالمی تنظیموں کی طرف سے بہترین کالم نگار، اداریہ نویس،فیچر رائٹر اور بیسٹ جرنلیسٹ کے ایوارڈز بھی حاصل کئے۔جبکہ نوجوانوں کو مطالعہ و مکالمہ کی طرف راغب کرنے والی عالمی تنظیم YES کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر دوسری بار منتخب ہو ا ہوں’’یوتھ ایمپاور منٹ سوسائٹی ‘‘ اب تک سولہ ممالک کے 120نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اٹھارہ عالمی تنظیموںسے وابتہ ہے۔
قارئین محترم یہ ساری باتیں لکھنے کا مطلب اپنا پروفائل بتا نا نہیں،میں اکثر کہا کرتا ہوں میں مزدور آدمی ہوں اور مزدور کا بچہ ہوں،آج صحافت کی شکل بدل گئی ہے،میں صدائے پسرور سے عالمی شہری بننے تک کی چند چیزیں آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں، انٹرنیٹ اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں سپیشلائزیشن کے بعد میرا رحجان بلاگز کی طرف ہوا،میں نے ’’پیپل کین چینج دی ورلڈڈاٹ بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام کے نام سے بلاگ بنایا ، بلاگنگ کے ذریعے دنیا کے بارے میں میرا اندازِ فکر بدلنے لگا، اب میں عام ذرائع ابلاغ کے سنسر شدہ عدسے کا محتاج نہیں۔دنیا کی طرف کْھلنے والی میری کھڑکی، میرا فرار اور یہاں تک کہ میری روشن دماغی کا وسیلہ، بلاگنگ ہی ابلاغ کا وہ واحد ذریعہ بنا جو مجھے اپنے افکار کا آزادانہ اظہار کرنے کا موقع فراہم کرتا۔یہ وہ موقع تھا جب میںاپنا پبلشر خودبن گیا اس لئے میں سنسر یا ایڈیٹنگ کے ڈر سے آزاد ہو کر لِکھنے لگا۔ بلاگنگ نے میری زندگی ہی بدل دی اور مجھے خود کو جاننے اور دنیا کو دریافت کرنے کا موقع ملا۔ اپنے بلاگ کی وجہ سے میں عالمی صحافی بن گیا۔ مجھے دنیا بھر میں ورک شاپس میں شرکت اورآن لائن صحافتی ٹریننگ کی ای ملیز ملنا شروع ہوگئیں،بلاگز کی بدولت میں اپنی کْرسی سے اْٹھے بغیر ہی عالمی سفر کر نے لگا اور یہ دریافت کیا کہ دنیا کے دیگر حصّوں میں لوگ کس طرح رہتے اور کیا سوچتے ہیں۔ اپنے بلاگ کی وجہ سے ہی میں نے دیگر ثقافتوں کو دریافت کیا اور مجھے خود اپنے بارے میں نئی باتوں کا پتہ چلا ۔ بلاگنگ کے اس آزاد کْن تجربے کو چار سال ہونے والے ہیںپہلے پہل میں بلاگز پر لکھنا انوکھا سمجھتا تھالیکن صرف چند مہینوں میں نے لکھنے کی آزادی کا لطف اٹھانا شروع کیا: اپنے خیالات کا تحریر میں اظہار کرنے کے قابل ہونے کی آزادی، وہ باتیں کہنے کی آزادی جو میں کبھی بلند آواز میں نہیںکہہ سکتا تھا۔بلاگ پر لکھنے نے میرے ذہن کو کشادہ کر دیا۔ میں نے خود سے سوال کرنا سیکھا اور یہ بھی سیکھا کہ اپنی رائے سے مختلف آرا کو پڑھنے کے لئے وقت کیسے نکالا جائے اور اْن پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیسے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور آج کل میں مذاہب عالم کے درمیان پائے جانے والے تنازعات پر آن لائن ٹرئننگ کر رہا ہوں،یہاں میں آزادی سے اپنے عقیدے کی اصل روح کے بارے میں کھل کر بات کرتا ہوں اور اس عالمی ٹرئننگ میں48ممالک کے 61 صحافی اپنے عقدے اور سکول آف تھاٹ پر بات کرتے ہیں اور سب لوگ ’’برداشت کلچر ‘‘ کے ذریعے ٹھنڈے دماغ سے باتوں کو ہضم کرتے ہیں ایسا میرے ساتھ پہلے نہیں تھا،علاوہ ازیں بلاگز کی مرہون منت ملنے والی اہم ترین عالمی تربیت کے ساتھ ساتھ دنیا کو آٹی کی آنکھ سے دیکھا ہے تو دنیا میں امن کلچر کو پروان چڑھانے والے بہت سے کارآمد ذرائع نظر آنے لگے ہیں… مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف ہوں تاہم مجھے قبضے کے دفاع میں دلائل دینے والے کسی اسرائیلی کی تحریر شروع سے آخر تک پڑھنا ہوتی ہے۔میں نے یہ بھی سیکھا کہ عالمی شہری کیسے بنا جائے۔ جب آپ کوئی بلاگ لکھتے ہیں تو آپ خود اپنی ہستی اور کسی ناانصافی کے استرداد کے ذریعے اپنے عمل کرنے کی استعداد کا ضمیر بن جاتے ہیں۔ بعض ممالک میں آزادیِ اظہار کو قطعی حق نہیں سمجھا جاتا اور اگر حکومتیں اشاعتی مواد کو براہِ راست سنسر نہ کریں تب بھی ذرائع ابلاغ خود کو خود ہی سنسر کرنے کے لئے دباؤ محسوس کرتے رہتے ہیں۔ جن ممالک میں آپ کو اپنی رائے کے اظہار کے لئے تگ ودو کرنی پڑے وہاں بلاگ کا ہونا بسا اوقات اس درجے کی آزادی فراہم کرتا ہے جس کے لطف سے عمومی ذرائع ابلاغ محروم ہوتے ہیں اور یہ خیالات کو آزادانہ طور پر اور سہولت کے ساتھ دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچنے اور پڑھے جانے کا موقع دیتا ہے۔ بلاگنگ کے توسّط سے میں نے الفاظ کی ایک سحر ناک دنیا اور ایک دوسرے سے مختلف لیکن ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے والے بلاگرز کی کمیونٹی کو دریافت کیا۔ میں نے خود کو لکھاریوں، صحافیوں، کاروباری افراد اور دنیا کے دیگر شہریوں کے ساتھ گفتگو کرتے پایا۔ ان تبادلوں کا آغاز بلاگ پر ہوتا ہے لیکن اکثر وبیشتر یہ ای میل، سکائپ اور بعض اوقات بالمشافہ ملاقات کے ذریعے بھی جاری رہتے ہیں۔ یہ بات تو یقینی ہے کہ صرف ایک آواز کافی نہیں ہوتی، خیالات کو جب دوسروں کیساتھ بانٹ لیا جائے تو وہ زیادہ دلچسپ ہوجاتے ہیں۔ جب کوئی خیال کسی بلاگ پر شائع ہوتا ہے تو یہ مختلف نقطہ ہائے نظر رکھنے والوں کو اظہارِ خیال کی عام دعوت دیتا ہے اور اگر قارئین کی تعداد زیادہ ہو تو پڑھنے والوں کے تبصروں کے ذریعے گرما گرم بحث چھِڑ جاتی ہے۔ یہی وہ بات ہے جو اسے دلچسپ بناتی ہے۔ بلاگز جو تعامل پیدا کرتے ہیں وہ بہت خوبصورت ہے۔ لوگوں کو آہستہ آہستہ اب یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ایک نہ ایک دن ہمارے بعض جذبات اور خواہشات مشترک ہو جائیں گی۔ ہم چاہے پاکستان میں رہتے ہوں، تیونس ، نیویارک یاسائبیریا میں، ہم سب ایک ہی طرح سے پیار کرتے ہیں، ہم سب کامیابی، محبّت اور خوشیوں کی آس رکھتے ہیں اور ہم سب ایک بہتر دنیا پر یقین یا کم از کم اس کی اْمید ضرور رکھتے ہیں۔ بلاگنگ ہمیں دنیا کو اپنے سامنے کھولنے اور ان لوگوں کے ساتھ مشغولیت کا موقع فراہم کرتی ہے جن سے ہم بصورتِ دیگر کبھی مل نہیں سکتے۔ میرے بلاگ نے مجھے ایک عالمی شہری اور بین الاقوامی صحافی میں بدل دیا ہے اور مجھے صدائے پسرور سے عالمی صحافی بننے پر فخر ہے،سب سے بڑھکر ایک پاکستانی عالمی شہری۔ ۔ ۔ ۔ ۔