پاکستان میں یوں تو بے شمار مسائل ہیں جو حل کے متقاضی ہیں مگر ایک ایسا مسلہ جسے غیر اہم سمجھا جاتا ہے وہ حکومت
،معاشرے اور سماجی خدمات پر مامور ادروں کی توجہ چاہتا ہے ، افراد معاشرہ کیسے بھی ہوں وہ حکومت اور معاشرے کی ہی زمہ داری ہوتے ہیں اور وہ افراد تو اور بھی قابل توجہ ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے معذور ہوتے ہیں پاکستان میں خصوصی افراد کے لئے تو کچھ نہ کچھ کام ہو رہا ہے مگر ذہنی معذوروں کے لئے وہ کام دکھائی نہیں دیتا جس کی ضرورت ہے، گزشتہ دنوں ایک رپورٹ نظر سے گزری جس میں ذہنی معذور افراد کی زبوں حالی کا کا تذکرہ کیا گیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ذہنی صحت کی سہولتوں کے ادارے ذہنی مریضوں کو ناقص دیکھ بھال فراہم کررے ہیں، جو ا±ن کی صحت یابی میں اکثر رکاوٹ پیدا کرتے ہیں عالمی ادارہ صحت عالمی ادارہ صحت نے ناروا حالات کو انسانی حقوق کی چ±ھپی ہوئی ہنگامی صورتِ حال قرار دیا ہے جِن کا سامنا ذہنی امراض میں مبتلہ افراد کو کرنا پڑتا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں ذہنی اور جسمانی معذوری کے شکار لوگ انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں اور امتیازی سلوک کا شکار ہوتے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ذہنی صحت کی سہولتوں کے ادارے ذہنی مریضوں کو ناقص دیکھ بھال فراہم کررے ہیں، جو ا±ن کی صحتیابی میں اکثر رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت میں ذہنی پالیسی کی رابطہ کار مشیل کہتی ہیں کہ ذہنی صحت کے اداروں میں اکثر مریضوں کو بے حد ناروا سلوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مریض غیر انسانی حالات میں زندہ رہتے ہیں اور ا±نھیں غیر معیاری علاج مہیا کیا جاتا ہے۔ا±ن کے الفاظ میں: ’مثال کے طور پر، لوگوں کو ضرورت سے زیادہ دوائیں دے دی جاتی ہیں، تاکہ وہ آسانی سے بات مانتے رہیں اور ا±نھیں سنبھالنا آسان ہو۔ ا±نھیں سیل میں بند کیا جاتا ہے یا دِنوں یا مہینوں کھانے اور پانی کے بغیر بند رکھا جاتا ہے۔ ا±ن سے انسانوں کا رابطہ بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی ا±نھیں باتھ روم کی سہولت دی جاتی ہے۔ اور سب سے سنگین بات یہ ہے کہ یہ سلوک وہ لوگ کرتے ہیں جو اِن مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں‘۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صحت ِ عامہ کے کارکنوں کی تربیت نہ ہونے کے برابر ہے، اور گروپ کے مطابق، کارکن یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ ذہنی امراض کے شکار لوگوں کے بھی حقوق ہیں جِن کا احترام کیا جانا چاہیئے، نہ کہ خلاف ورزی۔وہ کہتی ہیں کہ ڈبلیو ایچ او کے ’کوالٹی رائٹس‘ منصوبے کا مقصد اِن خلاف ورزیوں سے نمٹنا ہے۔ا±ن کا کہنا ہے کہ اِس منصوبے کا اولین مقصد ذہنی مریضوں کے حقوق اور ا±ن غیر انسانی حالات کو بہتر بنانا ہے جِن کا ا±نھیں سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں تو یہ صورت حال اور بھی خراب ہے یہاں ذہنی مریضوں کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کس طرح سڑکوں ،گلیوں،بازاروں ،اور پارکوں میں بے یار و مدگار پڑے ہوتے ہیں اس پر المیہ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ان افراد کو معاشرہ بھی ان کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا اور یہ لوگ اپنی زندگی بہت بری حالت میں گزارتے ہیں ،اسلام میں انسان کی تکریم کا بار بار کہا گیا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ذہنی امراض کے حامل افراد کے ساتھ کس قدر ناروا سلوک ہو رہا ہوتا ہے،اور ان کا شرف انسانی کس طرح مجروح کیا جاتا ہے، اصولی طور پر ایسے افراد ریاست کی ذمہ داری ہوتے ہیں مگر یہاں ریاست اپنی یہ ذمہ داری پوری کرتی دکھائی نہیں دیتی جو ہسپتال ان افراد کی نگداہشت کے لیے بنائے گئے ہیں وہاں بھی جملہ سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والی عملہ غیر تربےت ےافتہ ہوتا ہے ،یہاں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی انسان کوئی مرض خود اختیار نہیں کرتا اور پھر زہنی معذور افراد تو بہت ہی توجہ کا تقاضا کرتے ہیں ہونا یہ چاہےے کہ حکومت کے ساتھ ایسے اداروں کا وجود عمل میں لایا جائے جو ایسے افراد کی دیکھ بھال کا بندوبست کریں تا کہ معاشرئے سے بچھڑئے ہوئے ےہ لوگ بھی کچھ آبرو مندانہ زندگی گزار سکیں،انسان ایک دوسرے کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور ہر صحت مند انسان کو چاہےے وہ ان افراد کا ہر طرح سے خیال رکھےں جو صحت جیسی نعمت سے محروم ہیں ،حکومت کو اس ضمن میں ہر شہر میں ذہنی معذروں کے لئے ہسپتال قائم کرنے چاہےیں تا کہ ذہنی معذور یوں گلیوں،سڑکوں اور پارکوں میں بے یار و مدگار نہ بھٹکتے پھریں۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر میں این جی کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہےے۔
زہنی امراض میں مبتلا افراد کس کی ذمہ داری ہیں؟
پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سازش؟
پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سا
زش؟
پاکستان کو کمزور نا تواں اور افراتفری کا شکار بنانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر کس طرح سازشیں تیار ہو رہی ہیں اور میڈیا کے ذریعے کس قدر موثر پراپیگنڈا کرایا جا رہا ہے اس کا اندازہ گزشتہ چند سالوں سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں مختلف حوالوں سے شائع ہونے والی رپورٹوں سے لگایا جا سکتا ہے، کچھ عرصہ قبل سید کمال نامی شخص کے ذریعے کتاب لکھوا کر مارکیٹ میں بیچی جاتی ہے جس میں پاکستان کے ٹوٹنے کی نشاندہی کی جاتی ہے ، اس کتاب کا مصنف چونکہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہے اس لئے اس کتاب کی تشہیر کا موثر بندوبست بین الاقوامی نشریاتی ادارے سی این این کے ذریعے کیا جاتا ہے جس پر چند دن بڑے زور و شور سے پاکستان کے خلاف شرانگیز مہم چلانے کے بعد بوجوہ ختم کر دی جاتی ہے، اس کے بعد ایک گمنام ویب سائٹ پر پاکستان کے ٹوٹنے اور نئے پاکستان کے حوالے سے ایک نقشہ جاری کیا جاتا ہے جس میں بھی ان ملکوں کی نشان دہی کی جاتی ہے جو امریکن مفادات کی راہ میں کسی نہ کسی حوالے سے رکاوٹ ہیں اور انہیں مختلف القابات اس نقشے میں دئیے گئے تھے جیسے مشرقی وسطیٰ ” بدکار“ بھارت ” امریکی عالمگیریت کا ایجنٹ“ چین کو ” بلیاں“ کینیڈا کو ” ویرانہ“ میکسیکو لاطینی امریکہ کو ” امریکہ کے دھوبی“ وغیرہ اور اس نقشے میں جن ملکوں پر بم برسانے کی بات کی گئی ہے ان میں مشرقی وسطیٰ کے ممالک اور پاکستان شامل تھے، اس نقشے کو دنیا امریکہ کے مطابق کہا گیا ہے اور پاکستان کے حوالے سے ایک خبر جسے گزشتہ خبروں کا تسلسل ہی کہا جا سکتا ہے اور جسے پاکستان کی ایک نیوز ایجنسی کے ذریعے پاکستانی میڈیا میں شائع کروایا گیا تھاجس میں یہ بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں خانہ جنگی پر امریکی فوجی ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرنے کیلئے تیار ہیں، یہ خبر یا رپورٹ کسی ویب سائٹ سے مذکورہ نیوز ایجنسی نے حاصل کی تھی لیکن اس ویب سائٹ کا ایڈریس نہیں لکھا اور اگر ویب سائٹ کا ایڈریس لکھ بھی دیا جاتا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ ہزاروں بوگس ویب سائٹس پر آج کل اسی طرح کا پرا پیگنڈا کیا جا رہا ہے، امریکہ پاکستان کے ساتھ کیا کرنے کا ارداہ رکھتا ہے یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور منفی پروپےگینڈہ اس کی ہی ایک شکل ہے اب یہی دیکھ لیں میمو کا معاملہ کس طرح اچھالا گیا ،اور پھر صدر پاکستان کی بیماری کو کون سا رنگ دیا گیا اگر ہم ذرا سی بھی توجہ دیں تو پاکستان کے اندر ہونے والی بیرونی سازشوں کا بھانپ سکتے ہیں مگر ہم تحقیق سے بھاگتے ہیں اور اپنی آسانی کی خاطر بیرونی پریس میں جو شائع ہوتا ہے من و عن اپنے میڈیا میں شائع کر دیتے ہیں ہمیں اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ جتنا خطرہ اس وقت پاکستان کے سر پر بیرونی طور پر منڈلا رہا ہے اس سے پہلے ایسا خطرہ نہیں تھا، اس بات کا احساس حکومت اور افواج پاکستان کو ہے اور یہ اس کی حکمت عملی ہے کہ وہ حالات پیدا نہیں ہونے دئیے گئے جس طرح کے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ طاقتیں خاموش نہیں بیٹھیں وہ اپنی سازشوں میں مصروف عمل ہیں، آئندہ دنوں اسی طرح کی مزید رپورٹوں کی اشاعت کی توقع بھی کی جا سکتی ہے، اس لئے آج پھر میں اسی بات پر اکتفا کرتے ہوئے کالم کا اختتام کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ خدارا اس ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، مذہبی پارٹیوں کو وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ملک کے خلاف ہونے والی بین الاقوامی سازشوں پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانے کی کوشش پر بھی زور دینا ہو گا، یہ وقت نہ ہی حکومت کی مخالفت میں کوئی تحریک چلانے کا ہے اور نہ ہی آپس میں دست و گریباں ہونے کا ، یہاں اس موقع پر ملکی میڈیا کو بھی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ملکی سالمیت کے خلاف شائع ہونے والی رپورٹوں کو من و عن منظر عام پر لانے سے گریز کرنا چاہیے، ہمارے یہاں تحقیق کرنے کا فقدان ہے، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں جو بھی شائع ہوتا ہے ہم بغیر تحقیق کئے اور اس کی صحت کو بغیر جانچے شائع کر کے انہی قوتوں کے کام آسان کر رہے ہیں، اس لئے ہمارے دانشور طبقے کو آگے بڑھ کر ملک میں وسیع ترمفاہمتی فضا کو ساز گار بنانے کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔اس وقت ہمارے ملک کی سیاسی فضاءپھر نفرتوں کی آبیاری کرتی نظر آ رہی ہے اوربڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں جس سے نفرتوں میں اضافہ ہو گا اس لئے سیاسی جماعتوں کو نفرت اور انتشار کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے ملک کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔
عالمی شہری بننے کے بعد
سوچ کے پر
اشفاق رحمانی
میرے لکھنے لکھانے کے تجربے کا آغاز ضلع سیالکوٹ کی اہم تحصیل پسرور کے ایک ہفت روزہ ’’صدائے پسرور‘‘سے ہوا۔قلم کے ذریعے کاغذ پر بننے والی چند لکیروں کو اخبار ی کالم بننے تک کے مراحل آج کی صحافت سے بہت مختلف تھے۔لکھنے،ایڈیٹر کو بھیجنے اور شائع ہونے تک بہت سے پہا ڑ…1998سے2004ء تک مقامی اور قومی روزنامہ اخبارات سے واسطہ پڑا،پھرنومبر2004 سے لاہور میں باقاعدہ شعبہ صحافت سے منسلک گیا۔دنیا بھر کے صحافیوں کومفت پیشہ وارانہ تربیت کے لئے منتخب کرنے اور عالمی سطح پر ان کو سہولتیں فراہم کرنے والی عالمی تنظیم آئی سی ایف جے،واشنگٹن کی طرف سے کروائے جانے والے عالمی آن لائن کورس بعنوان ’’انٹرنیشنل کوریج آف ریلیجن ان دی ڈیجیٹل ایج‘‘ میں نمایاں کامیابی کے بعد گریجویٹ سرٹیفکیٹ حاصل کیا جو اب تک دو پاکستانی صحافیوں کو جاری کیا گیا ہے۔اللہ کا یہ بھی احسان ہوا کہ اُس کے فضل سے آئی سی ٹی تربیت کے لئے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے گھانا(ساؤتھ افریقہ) سے انٹرنیٹ اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں سپیشلائزیشن کی ڈگری حاصل کی جس کا اہتمام 38 ممالک کی عالمی صحافتی تنظیم پین پلس نے آن لائن کیا تھابعد ازاں ’’سمر اکیڈمی فار سارک جرنلسٹ 2011‘‘میں بطور مین سٹریم میڈیا پرسن پاکستان کی نمائندگی جس میںپاکستان سے دوصحافیوں کا عالمی صحافتی سلیکشن کمیٹی ’’GIZ‘‘کیطرف سے انتخاب عمل میں لایا گیا تھا۔ بطور پاکستانی میڈیا پرسن ایڈوانس صحافتی تربیت کے لئے منتخب ہوئے اور نیپال میں صحافتی ٹریننگ مکمل کرنے کا موقع بھی ملا۔ایڈز کے متعلقہ آٹھویںعالمی کانفرنس 2010 ویانا’’اسٹریا‘‘…یوتھ اینڈ میڈیا کانفرنس2011 ’’دبئی ‘‘…7روزہ بچوں کی تعلیمی نفسیات کے حوالے سے ہونے والی عالمی کانفرنس2011 UK -کے لئے بطور پاکستانی صحافی منتخب ہوا۔ مختلف قومی و عالمی تنظیموں کی طرف سے بہترین کالم نگار، اداریہ نویس،فیچر رائٹر اور بیسٹ جرنلیسٹ کے ایوارڈز بھی حاصل کئے۔جبکہ نوجوانوں کو مطالعہ و مکالمہ کی طرف راغب کرنے والی عالمی تنظیم YES کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر دوسری بار منتخب ہو ا ہوں’’یوتھ ایمپاور منٹ سوسائٹی ‘‘ اب تک سولہ ممالک کے 120نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اٹھارہ عالمی تنظیموںسے وابتہ ہے۔
قارئین محترم یہ ساری باتیں لکھنے کا مطلب اپنا پروفائل بتا نا نہیں،میں اکثر کہا کرتا ہوں میں مزدور آدمی ہوں اور مزدور کا بچہ ہوں،آج صحافت کی شکل بدل گئی ہے،میں صدائے پسرور سے عالمی شہری بننے تک کی چند چیزیں آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں، انٹرنیٹ اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں سپیشلائزیشن کے بعد میرا رحجان بلاگز کی طرف ہوا،میں نے ’’پیپل کین چینج دی ورلڈڈاٹ بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام کے نام سے بلاگ بنایا ، بلاگنگ کے ذریعے دنیا کے بارے میں میرا اندازِ فکر بدلنے لگا، اب میں عام ذرائع ابلاغ کے سنسر شدہ عدسے کا محتاج نہیں۔دنیا کی طرف کْھلنے والی میری کھڑکی، میرا فرار اور یہاں تک کہ میری روشن دماغی کا وسیلہ، بلاگنگ ہی ابلاغ کا وہ واحد ذریعہ بنا جو مجھے اپنے افکار کا آزادانہ اظہار کرنے کا موقع فراہم کرتا۔یہ وہ موقع تھا جب میںاپنا پبلشر خودبن گیا اس لئے میں سنسر یا ایڈیٹنگ کے ڈر سے آزاد ہو کر لِکھنے لگا۔ بلاگنگ نے میری زندگی ہی بدل دی اور مجھے خود کو جاننے اور دنیا کو دریافت کرنے کا موقع ملا۔ اپنے بلاگ کی وجہ سے میں عالمی صحافی بن گیا۔ مجھے دنیا بھر میں ورک شاپس میں شرکت اورآن لائن صحافتی ٹریننگ کی ای ملیز ملنا شروع ہوگئیں،بلاگز کی بدولت میں اپنی کْرسی سے اْٹھے بغیر ہی عالمی سفر کر نے لگا اور یہ دریافت کیا کہ دنیا کے دیگر حصّوں میں لوگ کس طرح رہتے اور کیا سوچتے ہیں۔ اپنے بلاگ کی وجہ سے ہی میں نے دیگر ثقافتوں کو دریافت کیا اور مجھے خود اپنے بارے میں نئی باتوں کا پتہ چلا ۔ بلاگنگ کے اس آزاد کْن تجربے کو چار سال ہونے والے ہیںپہلے پہل میں بلاگز پر لکھنا انوکھا سمجھتا تھالیکن صرف چند مہینوں میں نے لکھنے کی آزادی کا لطف اٹھانا شروع کیا: اپنے خیالات کا تحریر میں اظہار کرنے کے قابل ہونے کی آزادی، وہ باتیں کہنے کی آزادی جو میں کبھی بلند آواز میں نہیںکہہ سکتا تھا۔بلاگ پر لکھنے نے میرے ذہن کو کشادہ کر دیا۔ میں نے خود سے سوال کرنا سیکھا اور یہ بھی سیکھا کہ اپنی رائے سے مختلف آرا کو پڑھنے کے لئے وقت کیسے نکالا جائے اور اْن پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیسے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور آج کل میں مذاہب عالم کے درمیان پائے جانے والے تنازعات پر آن لائن ٹرئننگ کر رہا ہوں،یہاں میں آزادی سے اپنے عقیدے کی اصل روح کے بارے میں کھل کر بات کرتا ہوں اور اس عالمی ٹرئننگ میں48ممالک کے 61 صحافی اپنے عقدے اور سکول آف تھاٹ پر بات کرتے ہیں اور سب لوگ ’’برداشت کلچر ‘‘ کے ذریعے ٹھنڈے دماغ سے باتوں کو ہضم کرتے ہیں ایسا میرے ساتھ پہلے نہیں تھا،علاوہ ازیں بلاگز کی مرہون منت ملنے والی اہم ترین عالمی تربیت کے ساتھ ساتھ دنیا کو آٹی کی آنکھ سے دیکھا ہے تو دنیا میں امن کلچر کو پروان چڑھانے والے بہت سے کارآمد ذرائع نظر آنے لگے ہیں… مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف ہوں تاہم مجھے قبضے کے دفاع میں دلائل دینے والے کسی اسرائیلی کی تحریر شروع سے آخر تک پڑھنا ہوتی ہے۔میں نے یہ بھی سیکھا کہ عالمی شہری کیسے بنا جائے۔ جب آپ کوئی بلاگ لکھتے ہیں تو آپ خود اپنی ہستی اور کسی ناانصافی کے استرداد کے ذریعے اپنے عمل کرنے کی استعداد کا ضمیر بن جاتے ہیں۔ بعض ممالک میں آزادیِ اظہار کو قطعی حق نہیں سمجھا جاتا اور اگر حکومتیں اشاعتی مواد کو براہِ راست سنسر نہ کریں تب بھی ذرائع ابلاغ خود کو خود ہی سنسر کرنے کے لئے دباؤ محسوس کرتے رہتے ہیں۔ جن ممالک میں آپ کو اپنی رائے کے اظہار کے لئے تگ ودو کرنی پڑے وہاں بلاگ کا ہونا بسا اوقات اس درجے کی آزادی فراہم کرتا ہے جس کے لطف سے عمومی ذرائع ابلاغ محروم ہوتے ہیں اور یہ خیالات کو آزادانہ طور پر اور سہولت کے ساتھ دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچنے اور پڑھے جانے کا موقع دیتا ہے۔ بلاگنگ کے توسّط سے میں نے الفاظ کی ایک سحر ناک دنیا اور ایک دوسرے سے مختلف لیکن ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے والے بلاگرز کی کمیونٹی کو دریافت کیا۔ میں نے خود کو لکھاریوں، صحافیوں، کاروباری افراد اور دنیا کے دیگر شہریوں کے ساتھ گفتگو کرتے پایا۔ ان تبادلوں کا آغاز بلاگ پر ہوتا ہے لیکن اکثر وبیشتر یہ ای میل، سکائپ اور بعض اوقات بالمشافہ ملاقات کے ذریعے بھی جاری رہتے ہیں۔ یہ بات تو یقینی ہے کہ صرف ایک آواز کافی نہیں ہوتی، خیالات کو جب دوسروں کیساتھ بانٹ لیا جائے تو وہ زیادہ دلچسپ ہوجاتے ہیں۔ جب کوئی خیال کسی بلاگ پر شائع ہوتا ہے تو یہ مختلف نقطہ ہائے نظر رکھنے والوں کو اظہارِ خیال کی عام دعوت دیتا ہے اور اگر قارئین کی تعداد زیادہ ہو تو پڑھنے والوں کے تبصروں کے ذریعے گرما گرم بحث چھِڑ جاتی ہے۔ یہی وہ بات ہے جو اسے دلچسپ بناتی ہے۔ بلاگز جو تعامل پیدا کرتے ہیں وہ بہت خوبصورت ہے۔ لوگوں کو آہستہ آہستہ اب یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ایک نہ ایک دن ہمارے بعض جذبات اور خواہشات مشترک ہو جائیں گی۔ ہم چاہے پاکستان میں رہتے ہوں، تیونس ، نیویارک یاسائبیریا میں، ہم سب ایک ہی طرح سے پیار کرتے ہیں، ہم سب کامیابی، محبّت اور خوشیوں کی آس رکھتے ہیں اور ہم سب ایک بہتر دنیا پر یقین یا کم از کم اس کی اْمید ضرور رکھتے ہیں۔ بلاگنگ ہمیں دنیا کو اپنے سامنے کھولنے اور ان لوگوں کے ساتھ مشغولیت کا موقع فراہم کرتی ہے جن سے ہم بصورتِ دیگر کبھی مل نہیں سکتے۔ میرے بلاگ نے مجھے ایک عالمی شہری اور بین الاقوامی صحافی میں بدل دیا ہے اور مجھے صدائے پسرور سے عالمی صحافی بننے پر فخر ہے،سب سے بڑھکر ایک پاکستانی عالمی شہری۔ ۔ ۔ ۔ ۔
