Sacc header image 4

Entries Tagged as 'Shakir Qureshi'

گوشوارے

November 11th, 2009 · Comments Off

گوشوارے
شاکر قریشی
پچھلے دنوںمیاں نواز شریف کے گوشوارے خوب زیربحث رہے۔ عوام ا لناس اور سیاسی تجزیہ نگار دانتوں تلے انگلیاںدبائے سراپا حیرت اور سراپا احتجاج بنے رہے۔میاں نواز شریف کے گوشوار وں کے علاوہ بھی کئی اور بڑے امراءکے گوشواروں کے تذکرے بھی بحث کی گرمی میں اضافہ کرتے رہے….سیاست دانوں، حکمرانوں…. وطن عزیز کے ان سپوتوں کے جاہ وجلال …. ان کی جائیدادوں کی ہیبت ان کے بیرون ملک اثاثوں کی باتیں اور ان کے ملک کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے غیر ملکی بنکوں میں جمع غیر ملکی کرنسیوں کے حساب کتاب بھی مجلسوں میں گفتگو کو دلچسپ بناتے رہے۔صدر آصف علی زرداری کے دنیا کے امیر تیرین لوگوں کی فرصت میں نمبر شمار بھی پریشان حال ملک اور بدحال سرزمین کا منہ چڑاتے رہے۔ قارئین یہ سب وہ لوگ ہیں۔ وہ ا مراءوہ سیاست دان وہ حکمران ہیں۔جن کو پاکستان نے ایک ملک کی حیثیت سے اور سرزمین پاکستان نے دھرتی ماں بن کے عطا کیئے لیکن یہ سب ماں کے سپوت اپنے مال و اسباب اور اپنی اولاد کو دھرتی ماں سے دور رکھنے میں کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کی بدحالی اپنے ان سپوتوں کی بے رخی پر حیران ہے اور دھرتی ماں کا سینہ اپنے ان بیٹوں اور لالوں کو اپنے سینے سے لگانے کو ترس رہے ہیں….لیکن ….دھرتی ماں کی یہ پیاس اور تڑپ ابھی یوں لگتا ہے کہ مزید جاری ساری رہے گی۔گوشواروں کے اس تذکرے سے قبل میاں نواز شریف کی پراسرار خاموشی بھی وجہ تنازعہ ،وجہ گفتگو اور بیان بازی کا محرک بنی رہے۔ کیری لوگر بل پہ….بھی خاموشی….اور NRO ….پہ بھی….لیکن پھر میاں صاحب کی واپسی کے بعد….NRO کے قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے میاں صاحب اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں تحریک پیدا ہوئی ہے….NRO کی مخالفت نے شدت اختیار کی ….اور کہنے والوں کا کہنا تھا کہ اتنی گرم جوشی بحرحال پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ڈرون اٹیک، کیری لوگر بال وغیر ہ پہ نہیںدکھائی تھی کہ جتنی NRO کی مخالفت کرنے پر اور اس کو تاریخ کا ایک کالا قانون اور پاکستانی سیاست اور اسمبلی پر بدنما داغ وغیرہ ثابت کرنے کے لئے میاں صاحب اور ساتھیوں نے دکھائی ۔
بہرحال دیر آئد درست آئد کے تحت …. میاں صاحب کا تند رویہ عوام میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔پاکستان کی عوام بلاشبہ آج کے حالات میں اک مسیحا کی تلاش میں ہے….ایک ایسے لیڈر کی تلاش میں ہے کہ جو مزید ملک وقوم اور سرزمین کی بے عزتی ہونے سے بچا سکے۔ایسے میں عوام کی نظریں بار بار میاں برادران کی طرف اٹھ رہی ہیں۔لیکن یہ کوئی ایسا آسان کام نہیں ہے کہ میاں برادران صرف اور صرف آج کے شہرت کے گراف پر بلندی کی وجہ لے کر پائیں گے۔ اس کے لئے میاں برادران کو ملک و قوم کے ساتھ بہترین محبت اور وطن عزیز پہ اپنے مفادات کو قربان کرنے کی پالیسی اپنانا پڑے گی۔
ملک اور عوام کا مسیحا صدر آٰصف علی زرداری بھی ہوسکتے ہیں پنجاب کے گورنر تاثیر بھی بن سکتے ہیں۔….لیکن اس سے قبل ان کو انپے خلاف جاری وساری تاثر کو ختم کرنے کی شدید کوشش کرنی پڑے گی۔ گورنر تاثیر کا ملک کے سب سے بڑے ٹیکس دہندہ ہونے کو ستائش کی نظر سے دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن صرف یہ خوبی ملک و قوم کا مسیحا بننے کے لئے کافی نہیں ہے ۔صدر آصف علی زرداری دنیا کے امیر ترین آدمیوں سے ایک بن جانے کے بعد اب اگر جی جان سے ملک و قوم کی قسمت بھی تبدیل کرنے کی قسم کھالیں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ ایسا کرپائیں کیونکہ آج کوئی دوسرا سیاست دان ان کی حکمرانی کے درپے بھی نہیں ہے۔ان کو اپنی مدت پوری کرنے کا بھی واضح پیغام ہے۔اب کرنا صرف یہ ہے کہ ملک و قوم کا مسیحا بننے کے لئے وہ گوشوارے بھرنے ہیں۔ جو عوام کی عدالت میں قابل قبول ہوں، دےکھےے ان حالات میں میاں نواز کی….صدر آصف زرداری سے ملاقات کیا رنگ لاتی ہے!!۔

shakir-qureshi

شاکر قریشی

پچھلے دنوںمیاں نواز شریف کے گوشوارے خوب زیربحث رہے۔ عوام ا لناس اور سیاسی تجزیہ نگار دانتوں تلے انگلیاںدبائے سراپا حیرت اور سراپا احتجاج بنے رہے۔میاں نواز شریف کے گوشوار وں کے علاوہ بھی کئی اور بڑے امراءکے گوشواروں کے تذکرے بھی بحث کی گرمی میں اضافہ کرتے رہے….سیاست دانوں، حکمرانوں…. وطن عزیز کے ان سپوتوں کے جاہ وجلال …. ان کی جائیدادوں کی ہیبت ان کے بیرون ملک اثاثوں کی باتیں اور ان کے ملک کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے غیر ملکی بنکوں میں جمع غیر ملکی کرنسیوں کے حساب کتاب بھی مجلسوں میں گفتگو کو دلچسپ بناتے رہے۔صدر آصف علی زرداری کے دنیا کے امیر تیرین لوگوں کی فرصت میں نمبر شمار بھی پریشان حال ملک اور بدحال سرزمین کا منہ چڑاتے رہے۔ قارئین یہ سب وہ لوگ ہیں۔ وہ ا مراءوہ سیاست دان وہ حکمران ہیں۔جن کو پاکستان نے ایک ملک کی حیثیت سے اور سرزمین پاکستان نے دھرتی ماں بن کے عطا کیئے لیکن یہ سب ماں کے سپوت اپنے مال و اسباب اور اپنی اولاد کو دھرتی ماں سے دور رکھنے میں کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کی بدحالی اپنے ان سپوتوں کی بے رخی پر حیران ہے اور دھرتی ماں کا سینہ اپنے ان بیٹوں اور لالوں کو اپنے سینے سے لگانے کو ترس رہے ہیں….لیکن ….دھرتی ماں کی یہ پیاس اور تڑپ ابھی یوں لگتا ہے کہ مزید جاری ساری رہے گی۔گوشواروں کے اس تذکرے سے قبل میاں نواز شریف کی پراسرار خاموشی بھی وجہ تنازعہ ،وجہ گفتگو اور بیان بازی کا محرک بنی رہے۔ کیری لوگر بل پہ….بھی خاموشی….اور NRO ….پہ بھی….لیکن پھر میاں صاحب کی واپسی کے بعد….NRO کے قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے میاں صاحب اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں تحریک پیدا ہوئی ہے….NRO کی مخالفت نے شدت اختیار کی ….اور کہنے والوں کا کہنا تھا کہ اتنی گرم جوشی بحرحال پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ڈرون اٹیک، کیری لوگر بال وغیر ہ پہ نہیںدکھائی تھی کہ جتنی NRO کی مخالفت کرنے پر اور اس کو تاریخ کا ایک کالا قانون اور پاکستانی سیاست اور اسمبلی پر بدنما داغ وغیرہ ثابت کرنے کے لئے میاں صاحب اور ساتھیوں نے دکھائی ۔

بہرحال دیر آئد درست آئد کے تحت …. میاں صاحب کا تند رویہ عوام میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔پاکستان کی عوام بلاشبہ آج کے حالات میں اک مسیحا کی تلاش میں ہے….ایک ایسے لیڈر کی تلاش میں ہے کہ جو مزید ملک وقوم اور سرزمین کی بے عزتی ہونے سے بچا سکے۔ایسے میں عوام کی نظریں بار بار میاں برادران کی طرف اٹھ رہی ہیں۔لیکن یہ کوئی ایسا آسان کام نہیں ہے کہ میاں برادران صرف اور صرف آج کے شہرت کے گراف پر بلندی کی وجہ لے کر پائیں گے۔ اس کے لئے میاں برادران کو ملک و قوم کے ساتھ بہترین محبت اور وطن عزیز پہ اپنے مفادات کو قربان کرنے کی پالیسی اپنانا پڑے گی۔

ملک اور عوام کا مسیحا صدر آٰصف علی زرداری بھی ہوسکتے ہیں پنجاب کے گورنر تاثیر بھی بن سکتے ہیں۔….لیکن اس سے قبل ان کو انپے خلاف جاری وساری تاثر کو ختم کرنے کی شدید کوشش کرنی پڑے گی۔ گورنر تاثیر کا ملک کے سب سے بڑے ٹیکس دہندہ ہونے کو ستائش کی نظر سے دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن صرف یہ خوبی ملک و قوم کا مسیحا بننے کے لئے کافی نہیں ہے ۔صدر آصف علی زرداری دنیا کے امیر ترین آدمیوں سے ایک بن جانے کے بعد اب اگر جی جان سے ملک و قوم کی قسمت بھی تبدیل کرنے کی قسم کھالیں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ ایسا کرپائیں کیونکہ آج کوئی دوسرا سیاست دان ان کی حکمرانی کے درپے بھی نہیں ہے۔ان کو اپنی مدت پوری کرنے کا بھی واضح پیغام ہے۔اب کرنا صرف یہ ہے کہ ملک و قوم کا مسیحا بننے کے لئے وہ گوشوارے بھرنے ہیں۔ جو عوام کی عدالت میں قابل قبول ہوں، دےکھےے ان حالات میں میاں نواز کی….صدر آصف زرداری سے ملاقات کیا رنگ لاتی ہے!!۔

Tags: Shakir Qureshi , column

گھنگرو

May 20th, 2009 · No Comments

شاکر قریشی

سوچنا منع ہے

گھنگرو ڈسکو کلب امریکہ کے ایسے ہی کلبوں میں شمار ہوتا ہے جیسے وہاں کے دیگر کلب ہیں اور جو کچھ ان کلبوں میںہوتا ہے اس سے دنیا آگاہ ہے اور ویسے بھی یہ یہاں کا کلچر ہے،بتایا گیا ہے اور یہ باتیں امریکہ میں زد عام بھی ہیںکہ گھنگرو کلب انڈین کی آماج گاہ ہے،اس کا مالک بھی انڈین ہے، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر اس کلب کا مالک لاکھوں ڈالر بھی خرچ کرتا تو اس کلب کو اتنی پبلسٹی نہ ملتی جتنی گزشتہ دنوں پاکستان سے امریکہ کے دورے پر آئے ہو ئے دو وفاقی وزرا کے اس کلب میں قدم رنجہ فرمانے سے ہوئی ہے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے لئے امداد مانگنے کے لئے آئے ہوئے اس وفد کے دو وزرا حضرات یہاں پر داد عیش دیتے ہو ئے پائے گئے، یہ ایک قابل افسوس مقام ہے کہ ہمارئے ملک کے وہ نمائندئے جو ملک کی نماندگی کرنے آتے ہیں یہاں پر آکر اپنا فرض منصبی بھول کر ذاتی خواہشوں کے غلام ہو جاتے ہیں اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ان کے اس عمل سے ملک اور قوم دونوں کی بدنامی ہوتی ہے اور دنیا ہمارے بارے میں منفی رائے قائم کر تی ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ جب بھی ایسے کسی دورئے کا اہتمام کیا جائے تو وفد میں شامل حضرات کو اس بات کا احساس بھی دلایا جائے کہ ان کے کسی اقدام سے پاکستان کی بدنامی نہ ہو ،اب اسی واقعے کو لے لیں جسے دبانے کی پوری کوشش کی گئی لیکن ایسی باتیں چھپی نہیں رہتیں وہ کسی نہ کسی ذریعے سے طشت از بام ہو ہی جاتی ہیں،بتایا جا رہا ہے کہ اس واقعہ پر صدر آصف علی زرداری نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔

ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ صرف نارا ضگی کا ہی اظہار نہ کیا جائے بلکہ ملک و قوم کی بدنامی بننے والے عناصر کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے تاکہ آیندہ اس طرح کے واقعات رونما ہی نہ ہو پائیں، یہ بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان کے وزرا و مشرا جب بھی بیرون ممالک دوروں پر جاتے ہیں تو ان کے ساتھ جڑی ہوئی کئی کہانیاں منظر عام پر آتی ہیں جس سے نہ صرف پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ وہاں پر مقیم پاکستانیوں کو بھی شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے اس لئے ضروری ے کہ کسی کو تو انصاف کے کہڑرئے میں لا کر نشان عبرت بنایا جائے جس سے اس طرح کے واقعات کی نہ صرف روک تھام ہو گی بلکہ عوام کا اعتماد بھی حکومت پر بڑھتا ہے۔

بیرون ممالک جانے والا کوئی بھی پاکستانی وفد پاکستان کا سفیر ہوتا ہے اگر سفیر ہی بدنامی کا باعث بننے لگیں تو پھر ایسے ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔

Tags: Shakir Qureshi , column

گیدڑ سنگھی

May 13th, 2009 · No Comments

سوچنا منع ہے
شاکر قریشی

صدر پاکستان آصف علی زرداری کے پاس ضرور کوئی گید ڑ سنگھی ہے ،یہ گیدڑ سنگھی ضرور ایران یا انڈیا کے کسی مشہور بابے نے ان کو دی ہے، سرگوشی اتنی آہستہ بھی نہ تھی کہ میں اسے سن نہ سکتا،کیوںکیا ہوا ؟ دوسری سرگوشی قدرے بلند تھی،دیکھو نہ ہر بار جب بھی کوئی بڑا مرحلہ آتا ہے زرداری صاحب ایسا چکر چلاتے ہیں کہ تمام دوست و دشمن ان کو سپورٹ کر دیتے ہیں،پہلی سرگوشی دیواروں کے کانوں سے شائد خوفزدہ تھی ، میں نے نگاہیں اخبار کی سطروں میںگہری گاڑ رکھی تھیں،جبکہ کان سرگوشیوںکی طرف تھے ،ارئے بھئی ہوا کیا ؟اب کس طرف اشارا کر رہے ہو؟تم نے دیکھا نہیں، ہر خاص و عام اور دوست و دشمن کی زبان پر ایک ہی بات ہے کہ صدر زرداری کا دورہ امریکہ بہت شاندار رہا ہے ،حالانکہ شاندار والی کوئی ایسی بات مجھے نظر نہیں آئی،وہ لندن،دبئی، لیبیا اور امریکہ کے لمبے دورئے سے بحفاظت واپس آگئے ہیں،کیا یہ کافی نہیں تہمارئے لئے؟ دوسری آواز تلخ تھی،یہی تو کہہ رہا ہوں، کہ ضرور کوئی گیدڑ سنگھی ہے یعنی یہ کمال آصف علی زرداری کا نہیں لگتا کہ ہم رکاب تو تعریف کریں ہی کریں،مخالف بھی اچھا ہے کا بیان دیں۔۔اورتو اور میڈیا کے وہ عناصر جو اکثر بڑی باریک بینی سے ان پر تنقید کرتے ہیں وہ بھی یا تو خاموش ہیں یا یہ کہہ رہے ہیں کہ زرداری صاحب ٹھیک ہو گئے ہیں۔

جناب آپ اتنی رازداری سے باتیں کیوںکر رہے ہیں،اسی کو کانا پھوسی کہتے ہیں،آپ جو بات کہہ رہے ہیں زرا کھل کر کہیںڈرنے کی کون سی بات ہے،اور لوگ بھی یہاں بیٹھے ہویئ ہیں اس طرح کانا پھوسی غیر اخلاقی حرکت ہے ،یہ آواز با آواز بلند تھی،چشمے کے پیچھے چمکتی آنکھیں لئے وہ صاحب پہلے صاحب پر تقریباً برس پڑئے،غیر اخلاقی نہیں جناب،صرف اس لئے آہستہ بول رہا ہوںکہ دوسرے دوست ڈسٹرب نہ ہوں،بہر حال میرا کہنے کا یہ مطلب ہے کہ ،جب بھی کوئی بڑا کام یا فیصلہ حکومت یا زرداری کو کرنا پڑتا ہے تو ، یا تووہ کسی کو بتائے بغیر وہ کام تمام کر دیتے ہیں،جس پر سب واویلا کرتے ہیں کہ ہم کو پوچھا نہیں،ہم کو بلایا نہیں،ہم ناراض ہیںوغیرہ وغیرہ۔اور دوسری صورت میں جب کبھی زرداری صاحب اگر ان سب کو بلا لیتے ہیں تو پھر کوئی ایسی سکیم یا چکر چلاتے ہیںکہ سب کے سب یک زبان ہو کر تاریخی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے،ہاں میں ہاں ملانے والوں کو بھی کئی ماہ کے بعد ہوش آتی ہے کہ ہم نے یہ کیا کیا،ہم نے ایسی اندھا دھند حمایت کیسے کر دی،میں کہتا ہوں کہ یہ کسی نہایت پاور فل گیدڑ سنگھی کا کمال ہے کہ اتنے بڑے سیاست دان ،مخالف،ذہین اور شاطر لوگ بھی زرداری صاحب کے چلائے ہوئے چکر میں آجاتے ہیں۔اگر بعد میں ان سے پوچھا جائے کہ ایسا کیوں کیا تو بغلیں جھانکنے لگتے ہیں،سرگوشی میں بولنے والے پہلے صاحب اب بڑئے حوصلے اور جرات کے ساتھ بولے ،تم تو یار کسی صورت میں بھی خوش نہیں ہوتے ،تمہیں تو سب ہی غلط دکھائی دیتا ہے۔ ،دوسرا شخص ابھی تک تلخ ہی بول رہا تھا۔

ارئے بھئی جو غلط ہے وہ غلط ہے،جو اچھا ہے وہ اچھا ،یعنی زرداری صاحب کو برا بھلا کہنے والے جب صدر بنانے کا وقت آیا تو سب نے متفقہ طور پر ان کو صدر بنوا دیا ۔اگر اتنے ہی غلط ہیں زرداری صاحب تو پھر تاریخی، متفقہ اور غیر متنازعہ صدر کیسے بن گئے۔ حالانکہ پاکستان کی متنازع ترین شخصیت وہ ثابت کئے جا چکے ہیں ،بلاول کو چیر مین بنوانا ہو، خود شریک چیر پرسن بننا ہو، رحمان ملک کو انتہائی خاص مقام دینا ہو ، سینٹ کا چیر مین ،الیکشن کشمنر کا مسلہ ہو ،یا اسی طرح کے دیگر ایشوہوں صدر زرداری نے یا تو یہ سب مسلے خود ہی اپنے زور پر حل کر ڈالے یاپھر ناقابل یقین حمائیت حاصل کر کے متفقہ طور پر کر لئے ہیں۔

اب آپ ہی بتایں کہ ایک طرف تو لوگ ان کی مخالفت کرتے دکھائی دیتے ہیںاور دوسری طرف وہ اب تک تمام فیصلے اپنی مرضی کے مطابق کر یا کروا چکے ہیں یہ سب آخر کیسے؟ لگتا ہے آپ بھی زرداری کی تعریف پر آج تلے ہوئے ہیں میں نے گفتگو میں لقمہ دیا۔۔ زرداری کی تعریف سمجھ لو یا کامیابی یا سب کی بد تعریفی اور ناکامی لیکن یہ ضرور ہے کہ یا تو زرداری بہت سمجھ دار ہو گئے ہیں یا پھر ان کے پاس کوئی گیدڑ سنگھی ہے ۔

Tags: Shakir Qureshi , column

بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کا مدفن

May 9th, 2009 · No Comments

شاکر قریشی

جی ہاں آپ کا ہی ذکر ہو رہا ہے،دائیں بائیں کیا دیکھ رہے ہیں،آپ ہی کی قوم کا ذکر ہو رہا ہے ، بھائیو میں تو صرف یہ لکھ رہا ہوں کہ پاکستان کے شہر لاہور میں ایک بہت ہی عظیم ہستی علامہ اقبال رہتی ہے جن کی تصویر اس ملک کے ایوانوں اور محلوںمیں لٹکی ہوئی ہے اور یہ تصویر ایک بھٹکی ہوئی روح بن کر آپ سب کو یہ طعنہ دئے رہی ہے، اس طعنے میں کتنا درد ہے ،کس قدر رنج ہے،اور کس قدر افسوس بھی ،

قارئین،اور ائے میرئے ہم وطنو ذرا اپنی آنکھیں تو کھولو کہ غیر ملکی ایوانوں میںہمارئے ملک اورقوم کا ذکر کس قدر تحضیک آمیز انداز میںہو رہا ہے،اٹھو اور اس ملک کے بچے ،بوڑھے اور جوان کو یہ بتا دو کہ دنیا کا دھوکے باز ترین اور مفاد پرست ملک امریکہ جس کو ہم اور اور ہمارئی حکومتں اپنا مددگار سجھتی ہیں،دراصل وہ ہمارا دشمن ہے اور ہماری تباہی کا باعث بن چکا ہے۔وہ ہماری زمیں اور ہمارئے حکمرانوں کو بے دردی سے استعمال کر رہا ہے، اس کے اعلی ترین ایونوں میں ان کے ارکان ہمارے ملک اور قوم کے لئے تحضیک آمیزالفاظ استعمال کرتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ وہ قوم ہے جو پیسے کے لئے اپنی ماں کو بھی فروخت کر دئے، یہ غلط ہے پاکستنی قوم ایسی نہیں ہے،لیکن ہمیں آخر ہو کیا گیا ہے،ہماری غیرت کہاں سو گئی ہے ،ائے قوم خود بھی جاگو اور دوسروں کو بھی جگاو اور اپنے حکمرانوں کی غیرت کو بھی جگاو!! پاکستان کے باسیو، حکومت کی مجبوریاں ،غلطیاں اور کوتاہیاںسولہ کروڑ عوام کی عزت ، وقار اور مستقبل اور غیرت کو تار تار اورتباہ کرنے کا باعث نہیں ہو سکتیں، زرا غور کرو آخر چند ایک حکمران جو بدل بدل کر آتے ہیں ان کی غلطیوں کے سبب آخر قوم ہی کیوں بدنام ہوتی ہے ،ہمارے مسقبل کو آخر کیوں ذلت اورر سوائی کے گہرے کنویں میں گرا دیا جاتا ہے ،اس لئے کہ اصل طاقت تم ہو مگر تمہیں اپنی طاقت کا اندازہ ہی نہیں،غلط خواہشوںکو غلط طریقوں سے پورا کرنے کا جنون،علم سے دوری، راتوں رات امیر بننے کا شوق ،بنا محنت کامیابی حاصل کرنے کا خواب،شخصیتوں کے بت بنا کر ان کی پوجا،اور چڑھتے سورج کی پرستش نے تم کو اور تمہارئے فیصلوں کو کھوکھلا کر دیا ہے،برائیوں کو اپنے ماتھے کا ٹیکہ بنانا،غیروں کے طعنے سننااور دشمنوں کے حملے اپنے گھر پر برداشت کرنا ہماری عادت سی بن گئی ہے۔

جن کو آتا نہیںدنیا میں کوئی فن تم ہو!

نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو!

بجلیاں ہوں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو!

بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کا مدفن تم ہو!

آج یقیناً علامہ اقبال کی روح تڑپ رہی ہے ہم سب کا برا حال اور ہمارے ملک کی زبون حالی دیکھ کر۔ میرے ہم وطنو اور حکمرانوں جاگو ذرا،اور جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے اس پر سوچو ذرا،زبان پر لگے قفل کو توڑ دو اور کہہ دو اب بس اور ذلت برداشت نہیں کر سکتے!

ہماری سر زمین کے دشمنوں کو فوراً ملک بدر کر دو امداد کے جھانسے لیکر امریکی و یہودیوں کو اپنے ملک میںداخل ہونے پر پابندی لگا دو،غیروں کی جنگ اپنے ملک میں بند کر دو،دہشت گرد اگر ہماری سر زمین پر پل رہے ہیں تو انہیںنیست و نابود کر دو،اور اس کے بعد اپنے بل بوتے پر ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لو اسی میں ہی ہم سب کی بھلائی ہے ۔

Tags: Shakir Qureshi , column