Entries Tagged as 'Riaz Ch'
November 11th, 2009 · Comments Off
مقبوضہ جموں کشمیر کے فرزندان توحید ہر سال 27 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق کے خلاف یوم احتجاج مناتے آرہے ہیں۔ اس دن مہاراجہ کشمیر نے ساز باز کے ذریعے مقبوضہ ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کر دیا تھا حالانکہ اس کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہ تھا۔ ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی اور مسلم اکثریتی ریاست کی حیثیت سے اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ڈوگرہ حکمرانوں نے سازش کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کو بھارت کا غلام بنا دیا۔
14 اگست1947ءکو پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد کشمیری یہی سمجھتے رہے کہ وہ پاکستان کا حصہ ہیں۔ کیونکہ کشمیر میں 90 فیصد مسلمان ہیں کیا ہوا اگر ان کا راجہ ہندو ہے لیکن عوام تو مسلمان ہے مگر جب 27 اکتوبر کو ماو¿نٹ بیٹن نے بھارتی فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کا حکم دیا تو کشمیری مسلمانوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ بھارت کو تقسیم ہوئے دو ماہ ہو چکے تھے مگر مہا راجہ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہ کیا تھا۔
جغرافیائی، مذہبی، تہذیبی، قومی اور اصولی طور پرکشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا اور یہ ضابطہ آزادی تاج برطانیہ نے برصغیر سے رخصتی کے وقت خود طے کیا تھا۔ دو قومی نظریے کی صداقت پر اصرار مسلمانان ہند اور انکے لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کا تھا لیکن ہندوو¿ں کی جماعت کانگریس کو بھی یہ نظریہ تسلیم کرنا پڑا یوں باو¿نڈری کمیشن کی ضرورت پڑی اور بھارت میں دو آزاد ملکوں کی تشکیل اور فطری ضرورت کو انگریزوں نے بھی سند قبولیت بخشی۔
یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ 27 اکتوبر کو ماو¿نٹ بیٹن نے کشمیری راجہ کو خط لکھا اور 27 اکتوبر کو ہی بھارتی فوج کشمیرمیں داخل ہوگئی۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ بھارتی فوج ایک منصوبے کے تحت کشمیر میں داخل ہونے کےلئے پہلے سے تیار تھی۔ اس کے بعد نومولود پاکستان کےلئے کس طرح ممکن تھا کہ وہ کشمیر کی صورتحال سے لا تعلق رہ سکے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے پاس افرادی قوت، اسلحہ گولہ بارود، ذرائع آمدورفت کی بھی کمی تھی اور بھارت نے پاکستان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔ اسے یقین تھا کہ بھارتی افواج باآسانی پورے کشمیر کو اپنے قبضے میں کر لیں گی۔
تنازعہ کشمیر دراصل تقسیم ہند کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ جس طرح پاکستان شمالی ہند میں مسلم اکثریت کی بنیاد پر وجود میں آیا، اسی اصول کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو 1947 پاکستان میں شامل ہو نا چاہیے تھا۔ لیکن ہندو اور انگریزوں کی سازش کی وجہ سے ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان میں شامل ہونے میں رکاوٹ ڈالی گئی اور جموں و کشمیر کا سازش کے ذریعے بھارت سے الحاق کیا گیا۔ 1947 میں مہاراجہ کشمیر اور بھارتی حکمرانوں نے ناپاک گٹھ جوڑ کر لیا اور بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے اسکے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ تاہم کشمیریوں کی بھر پور جدو جہد کے نتیجے میں جب کشمیر آزاد ہونے کے قریب تھا تو بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ اٹھایا۔
ریاض احمد چوہدری
مقبوضہ جموں کشمیر کے فرزندان توحید ہر سال 27 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق کے خلاف یوم احتجاج مناتے آرہے ہیں۔ اس دن مہاراجہ کشمیر نے ساز باز کے ذریعے مقبوضہ ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کر دیا تھا حالانکہ اس کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہ تھا۔ ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی اور مسلم اکثریتی ریاست کی حیثیت سے اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ڈوگرہ حکمرانوں نے سازش کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کو بھارت کا غلام بنا دیا۔
14 اگست1947ءکو پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد کشمیری یہی سمجھتے رہے کہ وہ پاکستان کا حصہ ہیں۔ کیونکہ کشمیر میں 90 فیصد مسلمان ہیں کیا ہوا اگر ان کا راجہ ہندو ہے لیکن عوام تو مسلمان ہے مگر جب 27 اکتوبر کو ماو¿نٹ بیٹن نے بھارتی فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کا حکم دیا تو کشمیری مسلمانوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ بھارت کو تقسیم ہوئے دو ماہ ہو چکے تھے مگر مہا راجہ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہ کیا تھا۔
جغرافیائی، مذہبی، تہذیبی، قومی اور اصولی طور پرکشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا اور یہ ضابطہ آزادی تاج برطانیہ نے برصغیر سے رخصتی کے وقت خود طے کیا تھا۔ دو قومی نظریے کی صداقت پر اصرار مسلمانان ہند اور انکے لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کا تھا لیکن ہندوو¿ں کی جماعت کانگریس کو بھی یہ نظریہ تسلیم کرنا پڑا یوں باو¿نڈری کمیشن کی ضرورت پڑی اور بھارت میں دو آزاد ملکوں کی تشکیل اور فطری ضرورت کو انگریزوں نے بھی سند قبولیت بخشی۔
یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ 27 اکتوبر کو ماو¿نٹ بیٹن نے کشمیری راجہ کو خط لکھا اور 27 اکتوبر کو ہی بھارتی فوج کشمیرمیں داخل ہوگئی۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ بھارتی فوج ایک منصوبے کے تحت کشمیر میں داخل ہونے کےلئے پہلے سے تیار تھی۔ اس کے بعد نومولود پاکستان کےلئے کس طرح ممکن تھا کہ وہ کشمیر کی صورتحال سے لا تعلق رہ سکے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے پاس افرادی قوت، اسلحہ گولہ بارود، ذرائع آمدورفت کی بھی کمی تھی اور بھارت نے پاکستان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔ اسے یقین تھا کہ بھارتی افواج باآسانی پورے کشمیر کو اپنے قبضے میں کر لیں گی۔
تنازعہ کشمیر دراصل تقسیم ہند کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ جس طرح پاکستان شمالی ہند میں مسلم اکثریت کی بنیاد پر وجود میں آیا، اسی اصول کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو 1947 پاکستان میں شامل ہو نا چاہیے تھا۔ لیکن ہندو اور انگریزوں کی سازش کی وجہ سے ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان میں شامل ہونے میں رکاوٹ ڈالی گئی اور جموں و کشمیر کا سازش کے ذریعے بھارت سے الحاق کیا گیا۔ 1947 میں مہاراجہ کشمیر اور بھارتی حکمرانوں نے ناپاک گٹھ جوڑ کر لیا اور بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے اسکے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ تاہم کشمیریوں کی بھر پور جدو جہد کے نتیجے میں جب کشمیر آزاد ہونے کے قریب تھا تو بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ اٹھایا۔
اقوام متحدہ نے تنارعہ کشمیر کے حل کے لئے دو قراردادیں منظور کیں۔ جن میں نہ صرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا بلکہ یہ طے ہوا کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کےلئے رائے شماری کا موقع فراہم کیا جائےگا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے یہ وعدہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے فراہم کریں گے۔ لیکن اس کے بعد بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں کو نہ صرف حق خود ارادیت دینے سے انکار کر دیا بلکہ یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔حالانکہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے ساری ریاست کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ کشمیری لیڈروں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ 1947 سے اپنے لیڈروں کی طرف سے کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے۔
بھارت نے کشمیر کو اپنی نو آبادی بنا لیا ہے۔ بھارتی سپاہی شناختی کارڈ دیکھتا ہے، تلاشیاں لیتا ہے، مار پیٹ کرتاہے۔ حتی کہ کشمیری خواتین کے ساتھ بد تمیزی سے پیش آتا ہے۔ یہ 1947ءکی لیڈر شپ کا غلط فیصلہ تھا جس کا خمیازہ آج تک قوم بھگت رہی ہے۔ شیخ محمد عبداللہ مرحوم نے کہا تھا کہ بھارت پر اعتماد کرنا میری سب سے بڑی غلطی تھی۔
بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے غاصبانہ قبضے کو دائمی بنانے کےلئے کئی منصوبوں پر عمل کر رہا ہے۔ لیکن بھارتی حکمران یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کشمیر بھارت کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے وہ چاہے مقبوضہ کشمیر میں جتنا پیسہ خرچ کرے وہ کسی طرح کشمیریوں کے دل جیت نہیں سکتا کیونکہ وہ بھارت کی غلامی سے ہر صورت نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور انہیں کوئی بھی لالچ آزادی کی جدوجہد سے باز نہیں رکھ سکتا۔
بھارت نے اقوام متحدہ کے فیصلے کو پس پشت ڈال کر ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کر رکھا ہے اور کشمیر کے اس بڑے حصے پر قابض ہے۔ جسے دنیا مقبوضہ کشمیر کے نام سے جانتی ہے۔ بھارت اب اس مسئلہ میں اتنا الجھ چکا ہے کہ ہر قسم کے ہتھکنڈوں کے باوجود اسے کوئی رستہ نہیں مل رہا۔ یہاں تک کہ اب ریاستی دہشت گردی بھی حالات کو قابو میں نہیں لا سکتی۔ کشمیری اتنے سال کے انتظار کے بعد مایوس ہو کر ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جس پر بھارت مزید سیخ پا ہے۔ بھارتی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ وہ اس تحریک آزادی کو دہشت گردی کے زمرے میں لا کر عالمی سطح پر بد نام کر سکے۔ اس سلسلے میں وہ اسے سرحد پار دہشت گردی کا نام بھی دیتا ہے۔ حالانکہ بھارت خود اپنی پوری ریاستی طاقت کے ساتھ، نہتے کمشیریوں کے ساتھ دہشت گردی میں ملوث ہے۔
بھارتی حکومت نے کشمیر کے ڈوگرہ حکمرانوں کے ساتھ 27 اکتوبر1947ءمیں جو غیر قانونی اور نام نہاد معاہدہ کیا تھا اس کے مطابق بھارت نے کشمیر میں اپنی افواج داخل کر کے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما لیا۔ اس کے بعد بھی بہت کچھ ہوتا رہا لیکن ایک بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ پوری دنیا ، اقوام متحدہ اور کشمیری خود، اس قبضہ کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی سمجھتے ہیں اورسمجھتے رہیں گے۔ اس کا ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے استصواب رائے۔
Tags: Riaz Ch , column
ریاض احمد چوہدری
سوات اور مالاکنڈ میں شدت پسندوں کی پشت پناہی غیر ملکی قوتیں کر رہی ہیں۔ طالبان کے نام پر دہشت گرد سوات اور گردونواح میں حکومت کی عمل داری ختم کرنے کے درپے تھے۔ شدت پسندوں نے پورے نظام کو چیلنج کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ بندوق کے زور پر اپنا ایجنڈا لاگو کرناچاہتے تھے جس کا اسلام کا دور دور تک تعلق نہیں تھا۔
بھارت امریکی آشیرباد سے پاکستان کو اندرونی طورپر غیر مستحکم کرنے اور یہاں انتشار پیدا کرنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ فاٹا اور وزیرستان کے نقص امن کے ذمہ دار افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانے ہیں جو آج کل امریکی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔ ہمارے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی قوتوں نے اپنے ایجنٹ داخل کر دیے ہیں جو حکومتی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔
دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاک سرحد کے ساتھ ساتھ افغانستان میں اتنی بڑی تعداد میں بھارتی قونصل خانوں اور سفارت خانوں کاکیا کام ہے؟ ان علاقوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را سرگرم ہے جو دہشت گردوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرتی ہے اور افغانستان میں بھارتی قونصل خانے ان دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ کے طور پر کام کررہے ہیں۔
امریکہ اور بھارت فاٹا میں حالات خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں تاکہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہوجائے اور اس کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کیا جا سکے۔ را افغانستان میں بیٹھ کر بلوچستان کے حالات خراب کر رہی ہے اور اس کے لئے اسے افغانستان میںسی آئی اے کی سرپرستی اور تعاون حاصل ہے۔ افغانستان میں بھارتی سفارت خانے اپنے معمول کے فرائض سے ہٹ کر پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ افغانستان کے شہر مزار شریف سے پاکستان میں آپریشن کئے جاتے ہیں جن کو بھارت کنٹرول کرتا ہے۔ یہی حال جلال آباد اور قندھار میں قائم بھارتی قونصل خانوں کا ہے۔
افغانستان میںموجود بھارتی آفیسر بلوچستان میں باغیوں کو مالی امداد دیتے ہیں۔ یہاں دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے بیرونی ممالک سے اسلحہ اور پیسہ آرہا ہے اور اب تک پچاس کروڑ روپے کا جدید اسلحہ آچکا ہے۔بلوچستان میں بدامنی کے دوران یہ خبر آئی تھی کہ بلوچستان لبریشن آرمی نے ہتھیار خریدنے کیلئے قندھار کے بھارتی قونصلٹ سے بڑی رقم وصول کی تھی۔
افغانستان کی آبادی بھارت کے ایک صوبے سے بھی کم ہے مگر افغانستان میں لاتعداد بھارتی قونصل خانے کام کر رہے ہیں۔ ان کاکیا مقصدہے؟ عسکریت پسندوں کو امداد کہاں سے مل رہی ہے ، امریکہ کو اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔
پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سرحد وں پر فوج اور افغانستان میں اپنے سویلینز کی کارروائیوں کے باعث نہ صرف دہشت گردی کے خلاف امریکی مہم متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس کے پاک افغان تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
افغانستان میں طالبان کے بعد نئی حکومت میں شمالی اتحاد کی شمولیت پر پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا مگر اس وقت کی بش انتظامیہ نے اس پر کوئی توجہ نہ دی ۔ اس کے بعد نہ صرف افغانستان میں موجود بھارت سفارت خانے بلکہ شمالی اتحاد کی حکومت بھی پاکستان کے خلاف الزام تراشی میں مصروف رہی۔ یہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ جہاد کے ذریعے سوویت یونین کے فوجی تسلط سے نجات حاصل کرنے والے افغانستان کے حکمران بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں حالانکہ ساری دنیا کو علم ہے کہ جب سوویت یونین نے افغانستان میں فوج داخل کی اور افغانستان کا اسلامی تخشص ختم کر کے فوجی قبضہ کیا تو بھارت نے افغان عوام کی قومی مزاحمت کی حمایت کرنے کی بجائے جارح سپر پاور کا ساتھ دیا جبکہ پاکستان نے دس سال تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سوویت یونین کی مداخلت کے خلاف افغان جہاد میں مدد کی اور اپنی سلامتی تک کو داؤ پر لگا دیا۔
بہرحال پاکستان نے امریکہ کو افغانستان میں بھارتی سرگرمیوں اور بالخصوص پاکستان مخالف سرگرمیوں سے آگاہ کر دیا ہے اب امریکہ کو بھی چاہیے کہ بھارت کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے روکے۔ پاکستان، سری لنکا، نیپال ، مالدیپ اور بنگلہ دیش غرض خطے کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں جس کے معاملات میں بھارت نے دخل اندازی نہ کی ہو۔ بد قسمتی سے بھارت اپنی توسیع پسندی پر مبنی پالیسی کی وجہ سے اپنے ہمسایہ ممالک کیلئے خطرے کی علامت بنا رہتا ہے۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت تو یہی ہے یہ خطہ جنوبی ایشیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جو بھارت کے رویے سے کسی نہ کسی طرح نالاں نہ ہو۔
بھارت ہمارا ازلی اور مکار دشمن ہماری سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کیلئے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرنا چاہتا ہے مگر اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک ایٹمی قوت ہونے کے ناطے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ہم بھارت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کوئی کمزور ملک نہیں ہے۔ یہ ممالک کوئی ایکشن ویکشن کا نہ سوچیں۔ ہم بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ کوئی ہماری طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھے گا تو ہم اسے منہ توڑ جواب دیں گے۔
دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اصل دشمن کو بھی بے نقاب کرنا چاہیے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو بتائے کہ بھارت امریکی پشت پناہی میں یہاں کیاکھیل کھیل رہاہے۔ پاکستان کے خلاف امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی ٹرائیکا سرگرم عمل ہے۔ ہم امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا بھیانک چہرہ دنیا کو دکھائے بغیر علاقے میںامن قائم نہیںکر سکتے۔
Tags: Riaz Ch , column
ریاض چوہدری
صدر آصف زرداری نے واضع کیاہے کہ ہمارے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں اور اس بارے عالمی برادری کے خدشات درست نہیں جبکہ عالمی برادری کا خیال ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی صورت میں وہ طالبان کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ ایٹمی اثاثوں کے پھیلاؤ کا کوئی خدشہ نہیںہے۔ ان کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کا مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہے جو بخوبی کام کر رہا ہے۔ پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کے خلاف بین الاقوامی سازش کی جا رہی ہے۔ تخریب کار پاکستان میں دہشت پھیلانا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کے حملوں نے دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔امریکی اور یورپی میڈیا مسلسل پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں۔ اپنے اتحادی کے مقابلے میں وہ بھارت کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کر چکے ہیں جس کے تحت امریکہ بھارت کو ہر قسم کی ایٹمی امداد فراہم کرے گا لیکن پاکستان کے ایٹمی اثاثے اس کی نگاہوں میں کھٹک رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور مغربی ممالک کسی مسلمان ملک کو ایٹمی طاقت دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ بھارت اور اسرائیل کی ایٹمی سرگرمیوں کو نہ صرف نظرانداز کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں اقتصادی اور فوجی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ اسرائیل سمیت کئی ممالک میں پاکستان سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ہیں۔ وہاں عسکریت پسندی بھی زیادہ ہے۔ امریکہ نے کبھی ان ممالک سے تو نہیں کہا کہ ان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ نہیں ہیں۔ پاکستان کے جوہری پروگرام پر امریکی شکوک و شبہات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ انہیں تحفظ کے نام پر امریکہ لے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ پیش بندی کے طور پر پاکستان میں اسامہ کی تلاش اور ہمارے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کے نام پر دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔بعض عناصر پاکستان کو ایٹمی طاقت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے۔ جنہوںنے پاکستان کو ایٹمی طاقت تسلیم نہیں کیا انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان اپنی خود مختیاری اور ایٹمی صلاحیت کو لاحق کسی بھی خطرے کو ناکام بنانے کی پوری استعداد رکھتا ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور اس کا ایٹمی پروگرام انتہائی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے عوام کو ایک جذباتی وابستگی ہے۔ یہی وہ پروگرام ہے جس نے وطن عزیز کی سرحدوں کی جانب بڑھنے والی یلغار کو ہمیشہ کی طرح آج بھی روک رکھا ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیاء میں طاقت کے ذریعے امن کا خواہش مند نہیں ہے اور نہ ہی کبھی اپنے ایٹمی پروگرام پر کوئی سودے بازی کرے گا۔ اپنا ایٹمی پروگرام کسی دوسرے کے ہاتھ میں دینے کا مطلب ہے کہ آپ نے اپنی آزادی پلیٹ میں رکھ کر دے دی ہے۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ کچھ عناصر پاکستان کے بارے میںمنفی اور تخلاتی صورتحال پیش کرتے رہتے ہیں۔ انہیں پاکستان کے بارے میں بات کرتے وقت محتاط رہنا چاہیے۔ پاکستان کی مسلح افواج اعلیٰ ترین پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی مالک ہیں اور ملک کو لاحق کسی بھی نوعیت کے خطرے کے تدارک کی مکمل استعداد رکھتی ہیں۔ پاکستان غیر ملکیوں کی نظر میں ایک بھیانک خواب ہے۔ بیرونی طاقتوں کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث ہی پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ لیکن پاکستان شدت پسندوںسے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ہم شرپسندوں کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور نہ ہی ملکی مفاد پر کوئی سودے بازی ہوگی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں معلومات نہیں ہیں کہ اسامہ بن لادن زندہ بھی ہیں یا وہ مر چکے ہیں۔ لیکن ان کی تلاش جاری ہے۔جہاں تک اسامہ کی گرفتاری کا تعلق ہے تو سابق امریکی صدر جارج بش کے دور سے ہی اسامہ اور القاعدہ کے دوسرے لیڈروں کی گرفتاری کیلئے 5 کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ آئے دن اسامہ کے بارے میں متضاد اطلاعات دیتے رہتے ہیں۔ چند ہفتے قبل امریکی ذرائع ابلاغ سے یہ اطلاع آئی کہ اسامہ بن لادن کئی سال قبل انتقال کر گئے تھے لیکن یہ امر موجب تعجب ہے کہ امریکہ اور پاکستانی حکام اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے اسامہ کا نام لیتے ہیں۔ 2001 کے بعد امریکہ کئی بار اسامہ کے زندہ ہونے اور ان کی مبینہ آڈیو ویڈیو ٹیپس کے ذریعے عوام کو اپنے وجود سے ڈراتے رہتے ہیں۔ یہ کھیل کب تک جاری رہے گا اس بارے میں کسی کو معلوم نہیں۔ ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ اسامہ پاکستان میں نہیں ہیں اور جب امریکی ذرائع نے نہایت وثوق کے ساتھ یہ اطلاع فراہم کر دی کہ اسامہ اس دنیا میں نہیں رہے تو پھر وہ پاکستان یا افغانستان میں کیسے موجود ہو سکتے ہیں۔
Tags: Riaz Ch , column