Entries Tagged as 'Rauf Amir'
تحریر۔۔۔روف عامر پپا بریار
وار بینیفٹ نے کہا تھا چار الفاظ بہت خطرناک ہیںTHIS TIME ITS DIFFERENTپاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا ہے۔مختلف نقطہ ہائے نظر کے جرنلسٹ تجزیہ نگار دورے کے وزن کو کامیابی اور ناکامی کے ترازو میں تول رہے ہیں۔ مگر ایک سچ تو روز روشن کی طرح ہماری انکھوں میں روشن ہوچکا ہے کہ صدر کا دورہ کامیاب اور احسن ثابت ہوا ہے امریکی یاترا سے پہلے وائٹ ہاوس جمہوری حکومت کو کمزور ترین اور عوامی حمایت سے تہی داماں ہوجانے کے راگ گارہا تھا۔امریکہ نے سوات پر حملے کی دھمکی بھی دے رکھی تھی مگر دورے کے دوران اوبامہ نے یہاں نہ صرف جمہوری حکومت کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ پاکستان میں لوگوں کو بنیادی سہولتوں سے بہرہ مند کرنے کے لئے امریکی صدر نے کانگرس کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان میں سڑکوں کی تعمیر ہسپتالوں کے قیام اور سکولوں کا جال بچھا دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کرے۔وائٹ ہاوس کی پاکستان کے متعلق تبدیل ہونے والی پالیسی کا کریڈٹ اور پاک بھارت افغانستان کے درمیان سہہ رکنی تجارتی معاہدے پاکستانی وفد کی مثبت کاوش کا طرہ امتیازہیں۔اوبامہ نے زرداری اور کرزئی کے ساتھ بیس بیس منٹ کی علحیدہ ملاقات کی اور پھر ایک مشترکہ میٹنگ بھی ہوئی جس میں تینوں فریق کرزئی ،اوبامہ و زرداری شامل تھے۔اوبامہ نے دونوں پر واضح کیا کہ رولز آف بزنس کی تبدیلی سے اب نہ تو وائٹ ہاوس کابل میں ہفتہ وارویڈیو کانفرنس ہوگی اور نہ ہی صدر طویل ٹیلیفونک گفتگو کریں گے۔تینوں کے درمیان روابط کی بازپرس طے کردہ مشترکہ مقاصد اور أنکے حصول کی مانیٹرنگ کی بنیاد پر ہوگی۔اوبامہ نے دونوں کو بدترین حکومتی امور میں سوجھ بوجھ رکھنے اور تینوں کے مشترکہ انتہاپسند دشمن القاعدہ کے خلاف متحد ہوجانے کی نصیحت کی۔ یہ ایک حقیقت ہے پاکستان میں اٍنتہا پسندی کے فیکٹر کا ادراک کرنے میں کافی سست روی سے کیا گیا۔میڈیا نے مذہبی جذبات کے پیش نظر سوات میں خون کے گلستان سینچنے والے درندوں اور پاکستان میں دہشت گردی کے ملزمان کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔یوں طالبان کے حق اور حکومت کے خلاف بل ترتیب حمایت اور مخاصمانہ نفرت کی لہر پیدا ہوئی جس کا واضح نتیجہ مالاکنڈ ڈویژن میں عسکریت پسندوں کی خونخوار کاروائیوں کی صورت میں نکلا۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دہشت گردی کی جنگ ہماری داخلی جنگ کا روپ دھار چکی ہے۔میڈیا سے وابستہ صنعت کے کاریگروں نے حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے تمام منفی اور مثبت معاہدوں کی کھل کر تائید کی جیسا کہ اٹھائیس مارچ کو نظام عدل معاہدہ تھا جو عسکریت پسندوں کا درینہ مطالبہ تھا جسے حکومت نے کڑوے گھوٹ کی طرح پی لیا مگر بعد میں اٍس معاہدے کی پاسداری کو پھانسی دینے والے بھی عسکریت پسند تھے۔پاکستان میں یکے بعد دیگرے تین ایسے واقعات رونما ہوئے کہ بازی ہی پلٹ گئی۔ اول ۔سوات میں لڑکی پر وحشیانہ کوڑوں کی جھنکار دوم۔مولانا صوفی محمد نے سرعام پارلیمنٹ سے لیکر عدلیہ تک اور حکومتی اداروں سے لیکر شاہی محلات کو کفر کا نام دیا سوم۔اسلام کے نام لیواوں یعنی انتہاپسندوں نے میڈیا کو زبان بندی کا حکم دیا۔پیروی نہ کرنے کی صورت میں میڈیا کے نمائندگان کو اپنی مسلکی اور خود تراشیدہ شریعت کی رو سے نشان عبرت بنانے کی شعلہ افروزی کی۔اٍن واقعات نے میڈیا میں ہلچل پیدا کردی اور زرائع ابلاغ پہلی مرتبہ طالبان کی بربربیت کو بے نقاب کرکے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے اپنا قومی فریضہ خشوع و خضوع سے انجام دیا۔امریکہ پاکستان اور ایجنسیوں پر تواتر سے الزام تراشی کررہا تھا وہ طالبان کے خلاف نرم گوشہ رکھتے ہیں۔اٍدھر وزیراعظم پاکستان نے قوم کے نام خطاب میں دہشت گردوں کے خلاف پرعزم اپریشن کا اعلان کیا تو دوسری طرف امریکہ میں پہلی مرتبہ کہا گیا ہے کہ پاک فوج خوش دلی سے جنگجووں کو نکیل ڈالنے کے لئے صف آرا ہے۔نیوز ویک میں حال ہی میں فرید زکریا کے کالم بعنوان صورتحال میں تبدیلی میں کالم نگار نے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے حوالے یہ لکھا ہے کہ پاکستانی فوج اب پوری ریاست میں پھیلی ہوئی دہشت گردی کا ادراک کرکے طالبان کو سوات دیر اور شانگلہ سے نکالنے کے مساعی جلیلہ کررہی ہے۔امریکی ٹی وی چینل سی این این نے اپنی رپورٹ میں سیکیورٹی اداروںکی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اٍسلام اباد سے ساٹھ میل کی دوری پر طالبان کی موجودگی نے پاک فوج کو جگا دیا ہے۔یہ سچ ہے کہ ماضی میں مشرف نے طالبان کی باقیات پر دست شفقت رکھتے ہوئے اٍس امید کا اظہار کیا کہ وہ وقت انے پر اٍن جنگجووں کو اپنے مفادت کے لئے استعمال کیا جاسکے۔ امریکہ میں تعینات سفیر حسین حقانی نے کچھ عرصہ پہلے ایک کتاب pakistan betwwen moxqueمیں لکھا تھا کہ مشرف طالبان کی سرپرستی فرمارہے ہیں۔حسین حقانی لکھتے ہیں کہ پاکستان میں عسکریت پسندوں کا دوبارہ عروج پکڑنا کسی ایک حکومت کے غیر اٍرادی طرز عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ تاریخ کا حصہ ہے۔مصنف لکھتا ہے کہ پاکستانی فوج نے ابتدا سے ہی فوج میں جہادی ونگ بنانے شروع کردئیے۔پاکستان ایک اٍسلامی نظریاتی ملک کی شکل میں وجود میں ایا تھا جسکی ابادی نسلی لسانی اور گروہی طور پر بہت کم تھی۔ماضی میں ڈکٹیٹرز نے اپنے تخت کی طوالت کے لئے مذہب کو ایک نظرئیے کے طور پر اٍستعال کیا۔اٖفغان سوویت جنگ میں جہادی عناصر اور فوج کو باہم شیر و شکر ہونے کا موقع ملا۔یوں دونوں کے درمیان گہرے مراسم پیدا ہوگئے۔حقانی صاحب نے اپنی کتاب میں یہاں تک لکھ دیا کہ ماضی میں پاک فوج کا بہانہ بنا کر حکومتیں امریکہ سے فنڈز حاصل کرتی رہی ہیں۔پچھلے ہفتے حسین حقانی نے اپنے ایک ارٹیکل میں لکھا ہے کہ پاکستانی فوج دیدہ دلیری سے اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ لڑرہی ہے مگر واحد مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کو فنڈ اورز ہتھیار مناسب مقدار میں فراہم نہیں کئے جارہے۔حسین حقانی کے ارٹیکل سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ طالبان کے خلاف پاکستان کی پالیسی تبدیل ہوچکی ہے۔وارن بیفنٹ نے ایک بار کہا تھا کہ چار الفاظ بہت خطرناک ہیںTHIS TIME ITS DIFFERENTًََِ ۔دہشت گردانہ طوائف الملوکی روز بروز ہمارے ہاں پھیل رہی ہے۔مغرب اور امریکہ اٍس نقطے سے جان نہیں چھڑواسکتے کہ مسلمانوں کے خلاف نائن الیون کے فوری بعد اپنائے گئے ظالمانہ رویوں کے کارن ہی دہشت گردی کی اکائیوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔امریکہ اور عالمی برداری کا فرض ہے کہ وہ خطے میں پائیدار امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنی خطاوں و لغزشوں کی تلافی کرتے ہوئے ایک طرف پاکستان کو ترقی یافتہ جمہوری سٹیٹ میں تبدیل کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار اد کرے اور دوسری طرف پاکستان کو جدید اسلحہ اور اچھی خاصی امدا دے تاکہ دہشت گردوں کو کچلا جائے۔اب جبکہ امریکہ کو یقین ہوچکا ہے کہ پاکستانی فوج سینہ سپر بن کر دہشت گرودوں کو کچل رہی ہے تو پھر پینٹگان کے راجوں و مہاراجوں کو فاٹا پر ڈرون حملوں سے گریز کرنا ہوگا کیونکہ اٍن حملوں میں حکومت عوامی قہر کا نشانہ بنتی ہے۔کیا یہ درست نہیں کہ امریکہ جاسوس طیاروں کا کنٹرول پاکستان کے سپرد کردیا جائے؟ بحرف آخر پوری قوم پاکستانی میڈیا اور پرو طالبان مذہبی جماعتیں ملک کی سلامتی کے لئے اتحاد کا جھنڈا بلند کریں ورنہ دہشت گردی کا عفریت ایک روز ہمارے وجود کو ہی نگل جائے گا۔
Tags: Rauf Amir , column
تحریر….روف عامر پپا
تھامس مور نے کہا تھا کہ قوموں کی سلامتی صرف اتحاد و یکجہتی سے ممکن ہے۔پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانے،صوبہ سرحد بالخصوص مالاکنڈ ڈویژن میں کینسر کی طرح پھیلی ہوئی دہشت گردی کے خاتمے اور انتہاپسندوں کا قومی یکجہتی کے ہتھیاروں سے قلع قمع کرنے کے لئے پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے قوم سے خطاب کیا۔گیلانی نے جہاں ایک طرف سیاسی جماعتوں سے مفاہمت کے نیک شگون جذبات کا اظہار کرکے عالمی برادری کو باور کروایا کہ دہشت گردوں کی جڑ اکھاڑنے کے لئے ریاست کی تمام سیاسی قیادت باہم متفق ہے تو وہاں انہوں نے بے حسی کے خول میں بند پاکستانیوں کو انتہاپسندی کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے اپنا قومی فرض ادا کرنے کی ترغیب دی۔وزیراعظم نے فوجی اپریشن کے متعلق قوم کو اعتماد میں لینے کی کامیاب مساعی جلیہ کی۔جمہوری وزیراعظم نے ایک طرف حکومت کے اٍس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پوری قوت سے غیر ملکی اسلحے اور روپے کے بل پر عام لوگوں کی زندگیوں میں زہر گھولنے والے تخریب کاروں کے خلاف جنگ جاری رکھے گی تو دوسری طرف انہوں نے غیر ملکی دباو کے تحت کئے کام کرنے کے الزام کی نفی کرتے ہوئے اپنی خود حمیتی کو قائم رکھنے کا غیرت مندانہ اعلان بھی کیا۔مجموعی طور پر وزیراعظم کا خطاب مدلل اور عوام کو دہشت گردوں کے خلاف متحد کرنے کی اچھی کاوش تھی۔وزیراعظم نے دہشت گردوں کے مکو ٹھپنے کے لئے مذید فوج متاثرہ علاقوں میں بھیجنے کا حکم دیکر یہ ثابت کیا کہ وہ ایک جمہوری سیٹ اپ کے بااختیار چیف ایگزیٹو ہیں اور پاک فوج ماضی کے برعکس منتخب وزیراعظم اور صدر کے احکامات قبول کرنے کا آئینی فرض پورا کررہی ہے۔وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کے عسکریت زدہ بدنصیب لوگوں اور نقل مکانی کرکے دوسرے شہروں اور امدادی کیمپوں میں رہائش پزیر پاکستانیوں کی دامے درمے سخنے اور قدمے امداد و دستگیری کرنے کا وعدہ کیا۔مرکزی حکومت نے ایک ارب روپے کا اعلان کیا مگر ساتھ ہی انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ بھی پانچ لاکھ سے زائد دربدر ہونے والے سواتیوں کی مالی و اخلاقی تعاون کریں۔ ۔وزیراعظم پاکستان کی اپیل پر پندرہ کروڑ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ باغیوں اور ملک دشمن جنگجووں کی سرکوبی کے لئے سربکف ہوجائیں ورنہ دہشت گردی کے ناسور کی جو خونخوار اندھی نائن الیون کے رد عمل میں افغانستان پر امریکی حملے کے کتھارس میں شروع ہوئی تھی اب وہ طوفان بنکر شمالی علاقوں اور صوبہ سرحد کے پچاس فیصد حصے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔اگر اٍنتہاپسندی کے طوفان بلاخیز کو روکنے کے لئے مملکت کے ہر شہری نے اپنا فرض پورا نہ کیا تو یہ پھر کل کلاں پنجاب اندرون سندھ اور بلوچستان کے پشتون علاقوں تک پھیل کر قرون وسطی کے ظالمانہ ادوار کی یاد زندہ کرے گی۔علاوہ ازیں ملک کے وہ مذہبی حلقے اور دینی جماعتیں امریکی نفرت کے طفیل جنگجووں کے متعلق نرم جذبات کے رسیا ہیں۔انہیں اپنے کردار پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ ریاست کے اندر بندوق کے زور پر اپنی شریعت لاگو کرنے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں کو اغوا کرنے عورتوں اور بچوں کو اپنی ڈھال بنانے اور خود کش حملوں کی آڑ میں انسانیت کو سسکانے والے نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی وہ جہاد کے پیروکار ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسے بھپرے ہوئے مسلح غنڈے اٍسلام اور انسانیت کے دائرے سے خارج ہیں۔وزیراعظم کے خطاب پر مولانا منیب الرحمن نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسند فساد پھیلانے والے فسادی ہیں اور قران کریم میں ان کا تذکرہ خدا کی زمین پر فساد برپا کرنے والے منافقوں کی صورت میں موجود ہیں۔یہ وہی ٹولہ ہے جو خواص کی صورت میں خلافت راشدہ کے زمانے میں بھی موجود تھا یہ جابر اور جذباتی مگر دشمنان دین اصحابہ کرام اور علمائے کرام کو شہید کرکے خدا کی خودشنودی کا نعرہ بلند کرتے تھے۔اس دور کے فسادی اور یزیزی طالبان کی شکل میں آجکل سرحدی علاقوں میں سفاکیت کے پرچار بنے ہوئے ہیں جنہیں شکست دینا محب وطنی اور خدمت دین کے مترادف ہے۔دوسری طرف پاکستان کے ارمی چیف کیانی نے جمعرات کے روز کور کمانڈرز کانفرنس کے ایک سو اٹھارویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ قومی طاقت کے تمام مراکز دہشت گردی کے خلاف متحد ہوکر لڑیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جنرل کیانی نے کہا کہ پاکستان ایک خود مختیار ملک ہے اور قوم و فوج جمہوری حکومت کی سرکردگی میں دہشت گردوں کو شکست دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔جی ایچ کیو کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ کورکمانڈرز کانفرنس میں پاکستانی سلامتی کے امور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دیگر آپریشنل امور کے متعلق نہ صرف آگاہی دی گئی بلکہ مندوبین کو اعتماد میں لیا گیا۔بی بی سی نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ گو کہ فوجی ترجمان اٍس کانفرنس کو معمول کی کاروائی کہتے ہیں مگر کانفرنس کا انعقاد ایک ایسے وقت پر ہورہا ہے جب پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت امریکہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اوبامہ کی نئی حکمت عملی پر بات چیت کررہی ہے۔امریکی فوج کے کمانڈر مائیک ملن نے کچھ ہفتے پہلے جگالی کی تھی کہ پاکستان میں فوج سویلین حکومت کا تختہ الٹنے والی تھی مگر کور کمانڈر کانفرنس میں اعلی عسکری عہدیداران نے جمہوری سیٹ اپ کی ماتحتی قبول کرنے کا اعلان کرکے مولن کی ٹرٹراہٹ کا جنازہ نکال دیا۔پاکستان میں اس وقت پاک فوج، جمہوری بندوبست اور پوری قوم دہشت گردی کے خلاف ایک ہی جسم کا روپ دھار چکی ہیں جو ایک طرف ریاستی سلامتی کے دشمنوں کے لئے قیامت کی گھڑی سے کم نہیں تو دوسری طرف اٍس ٹرائیکا کا اتحاد دہشت گردوں کی شکست کا پیش خیمہ بنے گا۔اگر یہ ٹرائیکا سیاست،فوج اور عوام ہمیشہ کے لئے ایک پلیٹ فارم پر یکسو ہوجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے ہاں جمہوریت کا نوزائیدہ پودا شجر سایہ دار کا روپ دھار لے۔یاد رہے کہ دنیا کی تاریخ میں جہاں بھی دہشت گردی اور انتہاپسندی کو شکست دینے کا کوئی بھی واقعہ زیر غور لایا جائے تو یہ سچائی سامنے اتی ہے کہ جمہوریت کے اوصاف جلیہ ہی انتہاپسندی کو راندہ درگاہ بنانے کا کریڈٹ حاصل کئے ہوئے ہیں۔ فوج ، حکومت اور عوام کی ٹرائیکا کا اتحاد وقت کی ناگزیر ضروت ہے ۔ٹرائیکا کوتھامس مور کے اٍس جملے پر نظر دوڑانی ہوگی کہ روئے عالم کی تاریخ میں صرف وہ قومیں اپنا وجود قائم رکھنے میں قائم رہیں جہاں سارے ریاستی ادارے اتحاد و یکجہتی کی لڑی میں پروئے ہوئے تھے حالانکہ یہ اقوام اقتصادی طور پر کمزور تھیں مگر ہر وہ امیر طاقتور قوم اپنا وجود و سلامتی گم کربیٹھی جہاں اتحاد و اتفاق رواداری اور مساوات کا فقدان تھا۔
Tags: Rauf Amir , column
روف عامر پپا بریار
مولانا شوکت علی جوہر نے کہا تھا کہ بوڑھے کتے بلاوجہ نہیں بھونکا کرتے۔امریکہ اور اٍسرائیل نے ایرن کے جوہری پروگرام کو بارود میں نہانے کا اٍرادہ ابھی تک ترک نہیں کیا۔ گو کہ اوبامہ کے نیو برانڈ مشیروں نے متعدد مرتبہ تہران سے جڑے ہوئے تمام تحفظات و خدشات کو جنگ کی بجائے مذاکرات کے زریعے حل کرنے کی نوید سنائی تھی مگر سچ تو یہ ہے مسلمانوں کی جوہری طاقت کو ختم کرنے کی ابلیسی خواہش کی ٹھسیں امریکی و اٍسرائیلی حکمرانوں کے دلوں میں ابھی تک زندہ و تابندہ ہیں۔مغرب اور وائٹ ہاوس کی منافقانہ پالیسیوں ، دورنگی چہرے پر صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ کوے سے تدفین کا عمل سیکھنے والا اٍبن آدم جب پستی کی انتہا تک پہنچ جائے تو وہ چوپائیوں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔تہران کو ٹارگٹ کرنے کے صلیبی منصوبے کو برطانوی اخبار ٹائمز آن لائن عیاں کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ تل ابیب کے فوجی افسر نے تسلیم کیا ہے کہ اٍسرائیلی فضائیہ کے ایف16 ،ایف15 طیارے حملے کے لئے ریڈ الرٹ ہیں جو اوپر سے اشارہ ملتے ہی اڑان بھرد یںگے۔اٍسی اخبار سے تعلق رکھنے والی نامہ نگار shera frankle نے اسرائیلی وزارت دفاع کے ماہرین سے انٹرویو کئے اور شیرا فرینکل نے ہی رپورٹ میںیہ خبر بریک کی ہے کہ ایرانی تنصیبات کو خش و خاک بنانے کے لئے اٍسرائیل کی تمام فضائی و زمینی کاروائیاں مکمل ہیں۔وزارت دفاع کے بازیگر حملے کے لئے سرخ سگنل کے منتظر ہیں اور اٍسرائیلی فوجی افیسرز ہی بتاتے ہیں کہ حملے کا سگنل جلد ہی ملنے کا امکان ہے۔اٍسرائیلی فوج امریکہ سے تین وار رنگ سسٹم اواکس کے ملنے کے فوری بعد کوئی عذر تراش کر تہران کو لتاڑنے کا فائنل پروگرام مرتب کرچکی ہے۔شیرا فرینکل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران پر حملے، ممکنہ ایرانی جوابی وار سے بچاو کے لئے اسرائیلی فوج دو مشقیں کرچکی ہے جس میں شہریوں ،سول ڈیفینس پولیس اور فوجی رضاکاروں کو ضروری تربیت کا اہتمام بھی ہوچکا ہے۔خاتون صحافی تل ابیب کی وزارت دفاع کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ حالیہ حملے کی تیاری کو ماضی کی دھمکیوں سے نہیں جوڑا جاسکتا کیونکہ یہ کاروائی اب چند دنوں کی بات ہے۔برطانوی اخبار کی اٍس رپورٹ کو اٍسرائیلی میڈیا میں کافی کوریج دی گئی ۔یہودی میڈیا کی خبروں میں تو ان اہداف کی نشان دہی کی گئی ہے جنہیں نیست و نابود کرنے کا ارمان حسرت ناتمام بنکر ہر یہودی کے سینے میں مچل رہا ہے۔سب سے پہلا ہدف نتانزا کا جوہری پلانٹ ہے جہاں دن رات سینٹری فیوجز یورینیم افزودہ کررہے ہیں۔اٍسکے بعد اصفہان کی وہ خندقیں و سرنگیں ہیں جہاں اٍسرائیل کے مطابق ہزاروں ٹن زہریلی گیس زخیرہ کی گئی ہے۔تیسرے نمبر پر اراک اتا ہے جہاں بھاری پانی سٹور کیا جاتا ہے۔یہودیوں نے اپنے طیاروں کی اڑان کے لئے جن ہوائی اڈوں کا انتخاب کیا ہے وہ ٹارگٹ و اہداف سے870 کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔اٍسرائیلی فضائیہ اٍن حملوں کے لئے بار بار مشق کررہی ہے۔لڑاکا طیاروں کے علاوہ مشقوں میں حملہ اور طیاروں کو کور دینے والے گن شپ ہیلی کاپٹروں اور فضا میں جنگی طیاروں کو فیول مہیا کرنے والے فضائی ٹینکرز نے حصہ لیا۔7 جون1981 میں یہودی طیاروں نے عراق کے اوسی راک ایٹمی پراجیکٹ کو اوپیرا آپریشن میں طے کردہ وقت سو سیکنڈ میں زمین بوس کردیا تھا اور اٍسرائیلی وزارت دفاع ایران کے آپریشن کو سو سیکنڈوں سے بھی کم وقت میں مکمل کرنے کا دعوی کررہی ہے۔شیرا فرینکل نے رپورٹ میں اسرائیلی انٹیلی جینس کے عہدیداروں کے خیالات کو بھی قلم بند کیا ہے۔ اٍنٹیلی جینس زرائع نے خبر دی ہے کہ اوبامہ انتظامیہ تہران کو ایک سفارتی موقع دینا چاہتی ہے کہ وہ جنگ کے بغیر ہی اپنے جوہری پلانٹ ختم کردیں مگر تہران کسی صورت میں ایسا نہیں کرے گا یوں پھر آخری آپشن کے طور پر اسرائیل کو حملہ کرنے پڑے گا۔ایران پر حملہ عراق و اردن کی مشاورت سے ہوگا کیونکہ حملہ آور طیاروں کو اٍنہی ملکوں کا فضائی راستہ درکار ہوگا۔عراق اور اردن یہ اجازت دے دیں گے۔اٍسرائیلیوں نے خاتون صحافی کو برملا کہا کہ ہم کاروائی کے لئے آزاد ہیں۔ہم جب چاہیں گے حملہ کردیں گے۔ہمیں اپنی سلامتی کے تحفظ کے لئے ہر قسم کے حملے کرنے کا اٍختیار ہے۔اگر واشنگٹن ہمیں حملے سے روکتا بھی ہے تو بھی اٍسرائیل اپنی منصوبہ بندی کے تحت تہران کو ضرور ٹارگٹ کریں گے۔اٍسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی کے ترجمان افراہیم نے ٹائمز آن لائن کو بتایا کہ اسرائیل حملے کے لئے صد فیصد تیار ہے مگر اٍس مرتبہ ہمیں (اسرائیل) کو اوبامہ کیمپ سے زیادہ تعاون و گرین سگنل ملنے کی زیادہ توقع نہیں کیونکہ اوبامہ کے قریبی فیصلہ ساز ساتھیوں کی صفوں میں اٍسرائیلی فوجی صلاحیت کے متعلق شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ۔ابراہیم نے امریکی ایسٹیبلشمنٹ میں موجود اعلی آفیسرز کے حوالے سے آگاہ کیا کہ وائٹ ہاوس کے سرخیل اٍس وسوسے میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ اٍسرائیل کی کارکردگی کا معیار وہ نہیں کہ وہ اپریشن کی کامیابی کے اہداف حاصل کرلے یا پھر ایران کے ممکنہ حملے کا توڑ کرسکے۔اٍسرائیلی تجزیہ نگار افراہیم نے کہا کہ صدر اوبامہ جون2009 میں اسرائیل کا دورہ کریں گے اور یہ وہ وقت ہوگا جب ایران میں صدارتی انتخابی میلہ عروج پر ہوگا۔اوبامہ چاہیں گے کہ وہ نئی ایرانی حکومت پر دباو ڈالیں کہ وہ جوہری ہتھیار و پروگرام تلف کردے۔اسرائیل نے حال ہی میں ایک قافلے پر سفاکانہ حملہ کردیا جس پر یہ چارج شیٹ عائد کی گئی کہ وہ سوڈان سے حماس کے لئے اسلحہ لارہا تھا۔اسرائیلی پترکار (صحافی) رونین برگ مین نے اٍس حملے پر تبصرہ کیا کہ اسرائیل سوڈان میں کئے جانیوالے حملے کو امریکی انتظامیہ کے سامنے بطور مثال پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔تل ابیب سے جاری ہونے والے اخبار حارث نے فوجی کرنل سوفر کا انٹرویو شائع کیا ہے جس میں کرنل سوفر نے کہا کہ عنقریب پورے اسرائیل میں شہریوں کو ضروری مشق کروائی جارہی ہے جس کا مقصد شہریوں کو دشمنوں کے میزائل سے بچاو کی ٹرینگ کروائی جارہی ہے۔ٹائمز آن لائن کی محولہ بالا رپورٹ سے یہ حقیقت آموختہ ہورہی ہے کہ صلیبی صہیونی اور مسلم دشمن ممالک تہران پر حملے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ایران اور مسلم دنیا کو اٍسرائیل کے موجودہ اعلان کو گہرائی کی نظروں سے دیکھنا ہوگا تاکہ اٍسرائیل کو تہران پر حملے کے اوچھے ہتھکنڈے سے روکنے کی زمہ داری تہران کے علاوہ ہر مسلم حکمران اور ریاست پر عائد ہوتی ہے۔شیرا فرینکل کی رپورٹ کو نظر انداز کرنا کم عقلی ہوگی کیونکہ مولانا شوکت علی جوہر نے درست ہی کہا تھا کہ بوڑھے و بذدل کتے بلا وجہ نہیں بھونکا کرتے۔
Tags: Rauf Amir , column
.روف عامر پپا بریار
مولانا شوکت علی جوہر نے کہا تھا کہ بوڑھے کتے بلاوجہ نہیں بھونکا کرتے۔امریکہ اور اٍسرائیل نے ایرن کے جوہری پروگرام کو بارود میں نہانے کا اٍرادہ ابھی تک ترک نہیں کیا۔ گو کہ اوبامہ کے نیو برانڈ مشیروں نے متعدد مرتبہ تہران سے جڑے ہوئے تمام تحفظات و خدشات کو جنگ کی بجائے مذاکرات کے زریعے حل کرنے کی نوید سنائی تھی مگر سچ تو یہ ہے مسلمانوں کی جوہری طاقت کو ختم کرنے کی ابلیسی خواہش کی ٹھسیں امریکی و اٍسرائیلی حکمرانوں کے دلوں میں ابھی تک زندہ و تابندہ ہیں۔مغرب اور وائٹ ہاوس کی منافقانہ پالیسیوں ، دورنگی چہرے پر صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ کوے سے تدفین کا عمل سیکھنے والا اٍبن آدم جب پستی کی انتہا تک پہنچ جائے تو وہ چوپائیوں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔تہران کو ٹارگٹ کرنے کے صلیبی منصوبے کو برطانوی اخبار ٹائمز آن لائن عیاں کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ تل ابیب کے فوجی افسر نے تسلیم کیا ہے کہ اٍسرائیلی فضائیہ کے ایف16 ،ایف15 طیارے حملے کے لئے ریڈ الرٹ ہیں جو اوپر سے اشارہ ملتے ہی أڑان بھرد یںگے۔اٍسی اخبار سے تعلق رکھنے والی نامہ نگار shera frankle نے اسرائیلی وزارت دفاع کے ماہرین سے انٹرویو کئے اور شیرا فرینکل نے ہی رپورٹ میںیہ خبر بریک کی ہے کہ ایرانی تنصیبات کو خش و خاک بنانے کے لئے اٍسرائیل کی تمام فضائی و زمینی کاروائیاں مکمل ہیں۔وزارت دفاع کے بازیگر حملے کے لئے سرخ سگنل کے منتظر ہیں اور اٍسرائیلی فوجی افیسرز ہی بتاتے ہیں کہ حملے کا سگنل جلد ہی ملنے کا امکان ہے۔اٍسرائیلی فوج امریکہ سے تین وار رنگ سسٹم اواکس کے ملنے کے فوری بعد کوئی عذر تراش کر تہران کو لتاڑنے کا فائنل پروگرام مرتب کرچکی ہے۔شیرا فرینکل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران پر حملے، ممکنہ ایرانی جوابی وار سے بچاو کے لئے اسرائیلی فوج دو مشقیں کرچکی ہے جس میں شہریوں ،سول ڈیفینس پولیس اور فوجی رضاکاروں کو ضروری تربیت کا اہتمام بھی ہوچکا ہے۔خاتون صحافی تل ابیب کی وزارت دفاع کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ حالیہ حملے کی تیاری کو ماضی کی دھمکیوں سے نہیں جوڑا جاسکتا کیونکہ یہ کاروائی اب چند دنوں کی بات ہے۔برطانوی اخبار کی اٍس رپورٹ کو اٍسرائیلی میڈیا میں کافی کوریج دی گئی ۔یہودی میڈیا کی خبروں میں تو أن اہداف کی نشان دہی کی گئی ہے جنہیں نیست و نابود کرنے کا ارمان حسرت ناتمام بنکر ہر یہودی کے سینے میں مچل رہا ہے۔سب سے پہلا ہدف نتانزا کا جوہری پلانٹ ہے جہاں دن رات سینٹری فیوجز یورینیم افزودہ کررہے ہیں۔اٍسکے بعد اصفہان کی وہ خندقیں و سرنگیں ہیں جہاں اٍسرائیل کے مطابق ہزاروں ٹن زہریلی گیس زخیرہ کی گئی ہے۔تیسرے نمبر پر اراک اتا ہے جہاں بھاری پانی سٹور کیا جاتا ہے۔یہودیوں نے اپنے طیاروں کی أڑان کے لئے جن ہوائی اڈوں کا انتخاب کیا ہے وہ ٹارگٹ و اہداف سے870 کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔اٍسرائیلی فضائیہ اٍن حملوں کے لئے بار بار مشق کررہی ہے۔لڑاکا طیاروں کے علاوہ مشقوں میں حملہ اور طیاروں کو کور دینے والے گن شپ ہیلی کاپٹروں اور فضا میں جنگی طیاروں کو فیول مہیا کرنے والے فضائی ٹینکرز نے حصہ لیا۔7 جون1981 میں یہودی طیاروں نے عراق کے اوسی راک ایٹمی پراجیکٹ کو اوپیرا آپریشن میں طے کردہ وقت سو سیکنڈ میں زمین بوس کردیا تھا اور اٍسرائیلی وزارت دفاع ایران کے آپریشن کو سو سیکنڈوں سے بھی کم وقت میں مکمل کرنے کا دعوی کررہی ہے۔شیرا فرینکل نے رپورٹ میں اسرائیلی انٹیلی جینس کے عہدیداروں کے خیالات کو بھی قلم بند کیا ہے۔ اٍنٹیلی جینس زرائع نے خبر دی ہے کہ اوبامہ انتظامیہ تہران کو ایک سفارتی موقع دینا چاہتی ہے کہ وہ جنگ کے بغیر ہی اپنے جوہری پلانٹ ختم کردیں مگر تہران کسی صورت میں ایسا نہیں کرے گا یوں پھر آخری آپشن کے طور پر اسرائیل کو حملہ کرنے پڑے گا۔ایران پر حملہ عراق و اردن کی مشاورت سے ہوگا کیونکہ حملہ آور طیاروں کو اٍنہی ملکوں کا فضائی راستہ درکار ہوگا۔عراق اور اردن یہ اجازت دے دیں گے۔اٍسرائیلیوں نے خاتون صحافی کو برملا کہا کہ ہم کاروائی کے لئے آزاد ہیں۔ہم جب چاہیں گے حملہ کردیں گے۔ہمیں اپنی سلامتی کے تحفظ کے لئے ہر قسم کے حملے کرنے کا اٍختیار ہے۔اگر واشنگٹن ہمیں حملے سے روکتا بھی ہے تو بھی اٍسرائیل اپنی منصوبہ بندی کے تحت تہران کو ضرور ٹارگٹ کریں گے۔اٍسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی کے ترجمان افراہیم نے ٹائمز آن لائن کو بتایا کہ اسرائیل حملے کے لئے صد فیصد تیار ہے مگر اٍس مرتبہ ہمیں (اسرائیل) کو اوبامہ کیمپ سے زیادہ تعاون و گرین سگنل ملنے کی زیادہ توقع نہیں کیونکہ اوبامہ کے قریبی فیصلہ ساز ساتھیوں کی صفوں میں اٍسرائیلی فوجی صلاحیت کے متعلق شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ۔ابراہیم نے امریکی ایسٹیبلشمنٹ میں موجود اعلی آفیسرز کے حوالے سے آگاہ کیا کہ وائٹ ہاوس کے سرخیل اٍس وسوسے میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ اٍسرائیل کی کارکردگی کا معیار وہ نہیں کہ وہ اپریشن کی کامیابی کے اہداف حاصل کرلے یا پھر ایران کے ممکنہ حملے کا توڑ کرسکے۔اٍسرائیلی تجزیہ نگار افراہیم نے کہا کہ صدر اوبامہ جون2009 میں اسرائیل کا دورہ کریں گے اور یہ وہ وقت ہوگا جب ایران میں صدارتی انتخابی میلہ عروج پر ہوگا۔اوبامہ چاہیں گے کہ وہ نئی ایرانی حکومت پر دباو ڈالیں کہ وہ جوہری ہتھیار و پروگرام تلف کردے۔اسرائیل نے حال ہی میں ایک قافلے پر سفاکانہ حملہ کردیا جس پر یہ چارج شیٹ عائد کی گئی کہ وہ سوڈان سے حماس کے لئے اسلحہ لارہا تھا۔اسرائیلی پترکار (صحافی) رونین برگ مین نے اٍس حملے پر تبصرہ کیا کہ اسرائیل سوڈان میں کئے جانیوالے حملے کو امریکی انتظامیہ کے سامنے بطور مثال پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔تل ابیب سے جاری ہونے والے اخبار حارث نے فوجی کرنل سوفر کا انٹرویو شائع کیا ہے جس میں کرنل سوفر نے کہا کہ عنقریب پورے اسرائیل میں شہریوں کو ضروری مشق کروائی جارہی ہے جس کا مقصد شہریوں کو دشمنوں کے میزائل سے بچاو کی ٹرینگ کروائی جارہی ہے۔ٹائمز آن لائن کی محولہ بالا رپورٹ سے یہ حقیقت آموختہ ہورہی ہے کہ صلیبی صہیونی اور مسلم دشمن ممالک تہران پر حملے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ایران اور مسلم دنیا کو اٍسرائیل کے موجودہ اعلان کو گہرائی کی نظروں سے دیکھنا ہوگا تاکہ اٍسرائیل کو تہران پر حملے کے اوچھے ہتھکنڈے سے روکنے کی زمہ داری تہران کے علاوہ ہر مسلم حکمران اور ریاست پر عائد ہوتی ہے۔شیرا فرینکل کی رپورٹ کو نظر انداز کرنا کم عقلی ہوگی کیونکہ مولانا شوکت علی جوہر نے درست ہی کہا تھا کہ بوڑھے و بذدل کتے بلا وجہ نہیں بھونکا کرتے۔
Tags: Rauf Amir , column
روف عامر پپا بریار
جبران نے کہا تھا کہ ظالم کی امداد کرنا خود اپنے اوپر ظلم ڈھانے کے مترادف ہے۔دیر سوات اور بونیر میں دوبارہ آپرشن کے بعد چند ہفتے پہلے منصفہ شہود پر انے والے امن معاہدے کے سامنے سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔سرحد حکومت کے ترجمان افتخار حسین بھلے چاہے اپنی فراخ دلی صداقت اور دیانت کے ساتھ معاہدے کے قائم رہنے کی جتنی بھی تاویلات پیش کرتے رہیں مگر یہ تلخ حقیقت عیاں ہوچکی ہے کہ فوجی اپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے پچھتر جنگجووں کی ہلاکت نے معاہدے کو ہمیشہ کے لئے ماضی کے قبرستان میں درگور کردیا ہے۔نظام عدل کے نفاز کے بعد خیبر سے کراچی تک پاکستانیوں کی اکثریت نے جس سکھ چین کا اظہار کیا تھا وہ دوبارہ مایوسی و نراسیت میں بدل چکا ہے۔یوں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مالاکنڈ ڈویژن دوبارہ عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان دوبارہ قشت و قتال کا گڑھ بن جائے گا۔اب سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ چند ہفتے قبل وجود میں انے والا امن و بھائی چارے کا رشتہ طرفین کے مابین وجہ عناد کیوں بنا؟ اگر حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو دونوں اطراف سے ہوش مندی اور فراست کا استعمال نہیں ہوا۔طالبان کو بونیر میں وحشیانہ جھنڈے لہرانے کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی؟ بونیر میں اسلحے کی سرعام نمائش وہ بنیادی تضاد ہے جسکی کوکھ سے ایک نئی بغاوت نے جنم لیا۔مرکزی حکومت اور پالیسی ساز مغرب کی تنقید زیادہ دیر برداشت کرنے میں ناکام ہوئے۔صاحبان اقتدار اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے صبر و تحمل کا دامن تھام کر عسکری اپریشن کا آپشن کسی تالالے والی صندوق میں کچھ دنوں کے لئے رکھ دیتے تو شائد طرفین کی معرکہ ارائی اور خون مسلم کے بہتے دریا کی بلاوں کو ٹالا جانا ممکن تھا۔امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ہمارے ایٹمی اثاثوں اور معاہدہ سوات کے متعلق جس قسم کا شعبدہ دکھایا وہ ہماری اندرونی خود مختیاری پر کاری وار سے کم نہیں۔ہیلری کے بیانات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اہل مغرب ہماری ایٹمی طاقت کو تباہ و برباد کرنے کے لئے کتنے مضطرب ہیں۔ستائیس اپریل کو ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ہیلری نے کہا کہ پاکستان کے جوہری اثاثے ابھی تک محفوظ ہیں مگر طالبان کے سفر اٍسلام اباد کے بعد وہ دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں۔اگر پاکستان نے ہماری تجاویز کی روشنی میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی نہ کی تو پھر میں پوری دنیا کو یقین دلاتی ہوںؓ کہ ایسے پر آشوب حالات میں پاکستانی جوہری طاقت کی کنجی ہمارے ہاتھ میں ہوگی۔ہیلری حکومتی اٍداروں کو بائی پاس کرتے ہوئے پاکستانی قوم سے براہ راست گویا ہوئیں کہ طالبان پورے ملک پر قابض ہونے کا پروگرام بنائے ہوئے ہیں اٍسی لئے پاکستانی قوم معاہدہ سوات کے خلاف أٹھ کھڑی ہو۔کیا طالبان کے خلاف دیر بونیر کا حالیہ اپریشن ہیلری کی دھمکیوں کا نتیجہ ہے؟ اٍسکا حال تو مقتدرہ ہاتھ جانتے ہیں مگر حکومتی ترجمانوں کے یہ قیافے کہ ہم غیر ملکی دباو کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں تو ایسی دلیل سے اتفاق کرنا ممکن نہیں۔یہاں ایک اہم ترین سوال ہر محب وطن قلم کار کے زہن میں شور مچائے ہوئے ہے جس کا جواب ڈھونڈا جانا بھی لازم ہے کیا حکومت اپنے اقدامات سے طالبائینیشن کو روکنے کی کوشش کررہی ہے یا پھر اٍسے فروغ دینے کا کمال کررہی ہے۔جو جنگ26 جون 2002 میں جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر نیک محمد اور ساتھیوں کی ہلاکت سے شروع ہوئی تھی آج تک ایسے جاری ہے کہ قبائل کی ساتوں ایجنسیاں سیکیورٹی فورسز کے لئے نو گو ایریاز بن چکی ہیں۔یہی حالت اج مالاکنڈ میں درپیش ہے۔سولہ فروری کو حکومت سرحد اور صوفی محمد کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔سوات میں امن جلسے منعقد کئے گئے۔نظام عدل کی کامیابی پر خوشیوں کے طبلے بجائے گئے۔امن ریلیاں نکالی گئیں مگر پھر امن و عدل کے نغمے میزائلوں و گن شپ ہیلی کاپٹروں کی گڑ گڑاہٹ میں گم ہوگئے۔مبصرین کے مطابق جب وزیرستان باجوڑ درہ ادم خیل اور سوات میں ہونے والے معاہدوں سے طالبان کی قوت میں اضافہ ہوا تو پھر بھلا ایسی مشق کی ضرورت ہی کیا تھی؟ معاہدے سے پہلے صرف سوات میں فوجی اپریشن جاری تھا اب یہ دیر باجوڑ اور بونیر تک پھیل گیا ہے؟ کیا کوئی حکومتی کارندہ اٍسکی وجہ بتانے کی زحمت کریگا؟طالبان سے مذاکرات اور معاہدے کرنے پر اندرون و بیرون ملک تنقید بھی ہوتی رہی۔ٹی وی چینلز پر حکومتی کیمپ کے وزرا بار بار یہ کہتے رہے کہ مسئلہ طالبان کا نہیں بلکہ عدل ریگولیشن کے نفاز کا ہے۔معاہدے کے سرکاری محافظین و مبلغ نظام عدل کو طالبان کے مطالبے کی بجائے عوام کی دیرینہ خواہش کا نام دیتے رہے۔سابقہ الیکشن میں سوات سے لبرل ازم کی محافظ اے این پی نے مکمل کلین سوئیپ کیا تھا مگر انکے منشور میں نظام عدل کا تذکرہ تک موجود نہ تھا۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ابھی سوات میں قاضی عدالتیں قائم نہیں ہوئیں تھیں کہ دیر بونیر اور شانگلہ میں فوجی کاروائی کا بغل بجادیا گیا۔کیا اٍن علاقوں میں بچ جانیوالے طالبان کو ہانک کر سوات میں لایا جارہا ہے تاکہ انکے خلاف فائنل جنگ کی جائے۔ویسے امریکہ بھی سوات پر فضائی حملے کرنے کا اعلان کرچکا ہتے۔پہلے وہاں ڈیڈھ سال اپریشن راہ حق لانچ تھا جس نے سوات کی سرسز و شاداب زندگیوں میں وحشت کا زہر بھر دیا۔راہ حق آپریشن میں فورسز کو کامیابی نہ مل سکی۔اب وہاں کالی اندھی نام کا اپریشن جاری رہے گا پھر سے جنت نظیر وادیوں میں ماتم کدے جمیں گے؟ سکولوں کو بارود سے اڑایا جائے گا خود کش حملوں کی آڑ میں غیرملکی طاقتیں اپنے خونخوار کھیل کھیلتی رہیں گی۔امن پسند لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہونگے۔یاد رہے کہ حالیہ اپریشن کے تین دنوں میں لاکھوں لوگ پھر کف افسوس ملتے ہوئے سوات سے در در کی خاک چھاننے کے لئے پیدل بھاگ نکلے۔اگر سرکار امریکی خوشنودی کے لئے ایسا کررہی ہے تو پھر یاد رہے یوں طالبائنیزیشن کو ختم کرنے کی بجائے مضبوط کیا جارہا ہے۔سوات کے طالبان ابھی تک حکومتی اپریشن میں فوج کے خلاف میدان میں نہیں أترے۔یوں اب بھی مخلصانہ کاوشوں سے نظام عدل کو بچایا جاسکتا ہے۔طرفین کا پہلا فرض ہے کہ وہ مسائل کو نو ریٹرن لائن تک پہنچانے سے پہلے درمیانی راہ نکالیں اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پھر ان سر پھرے انتہاپسندوں کو سرکشی سے روکنا ممکن نہ ہوگا اور ہماری فورسز بھی نیٹو کی طرح مصائب کے گرداب میں ایسی دھنسے گی کہ نکلنے کی ساری کوشش اکارت ہوجائے گی۔ارباب دستر خواں خدا راہ اپنی خود مختیاری کا سودا نہ کریں۔ہم کب تک امریکیوں کی دادا گیری پر اپنے ملک میں اپنے بھائیوں کا خون بہاتے رہیں۔امریکہ کی حمایت کرنا بڑا ظلم ہے اور جبران نے درست کہا تھا کہ ظالموں کی مدد کرنا اپنے اوپر ظلم ڈھانے کے مترادف ہے۔خدا کے نذدیک ظلم کرنے والوں کا انجام انتہائی بھیانک ہوا کرتا ہے۔سوات میں خون ریزی روکنے کا واحد حل نظام عدل کے نفاز ہی میں مضمر ہے۔
Tags: Rauf Amir , column