Sacc header image 4

Entries Tagged as 'Rana Abdul Baqi'

ارشاد احمد حقانی کے ارشادات اور ایٹمی دھماکہ

May 25th, 2009 · No Comments

تحریر : رانا عبدالباقی

ایک ایسے مشکل مرحلے پر جب پاکستان بظاہر بھارتی، یہودی اور مغربی بیرونی سازشوں کا شکار ہو کر اندرونی خلفشار میں مبتلا ہے ، آل پارٹیز کانفرنس کے منعقد کئے جانے کے باوجود پارلیمنٹ میں موجود اور پارلیمنٹ سے باہر مذہبی اور سیاسی جماعتیں ، بیرونی خطرات اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے متفقہ لائحہ عمل پر ایک مرتبہ پھر سے اختلافات کا منظر نامہ پیش کر رہی ہیں ، علماء مشائخ کانفرنس سے ایک مقتدر مذہبی رہنما کو مبینہ طور پر قائداعظم کی شخصیت کے بارے میں متنازعہ گفتگو کرنے کے حوالے سے تقریر کرتے ہوئے اِسٹیج سے گھسیٹ کر اُتارا گیا ہے ۔ بیرونی حمایت یافتہ چند ہزار ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف ملٹری آپریشن کے باعث بیس لاکھ کے قریب لوگ سوات ، دیر اور مالاکنڈ آپریشن میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ، یہ کہا جا رہا ہے کہ اِس آپریشن کو وزیرستان میں بھی دھرایا جائے گا جس کے باعث مزید تیس لاکھ کے قریب لوگ نقل مکانی کر سکتے ہیں ۔ صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں بیرونی مدد سے جاری تخریب کاری کے باعث قومی اداروں اور قومی تنصیبات پر حملوں کے باعث ہونے والے اخراجات کو عوام الناس کے کھاتے میں ڈال دئیے جانے کے باعث مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان ہر گھر پر دستک دیتا نظر آتا ہے جبکہ بھارتی ، یہودی اور مغربی ذرائع پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کیپ کرنے کیلئے موقع کی تلاش میں ہیں ، ایسے میں پاکستان کے سینئر اور مقتدر دانشور وں پر مثتمل ایک ہی ایسا گروپ رہ گیا تھا جو ملک و قوم کو درپیش مسائل کے اِس سیلاب میں سول سوسائیٹی اور اور عوام الناس کی آگہی میں اہم کردار ادا کر رہا تھا لیکن نامعلوم کیوں محترم ارشاد احمد حقانی نے میاں نواز شریف دور میں ایٹمی دھماکے اور یوم تکبیر کے حوالے سے بے وقت کی راگنی الاپنے کی ضرورت کیوں محسوس کی ہے جبکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بیرونی دباؤ کا شکار ہے ؟ یہ موقع ایٹم بم بنانے یا نہ بنانے، ایٹمی دھماکہ کرنے یا نہ کرنے کی بحث میں پڑنے کا نہیں تھا کیونکہ یہ سب کچھ تو ہو چکا ہے اور پاکستانیوں کو بحیثیت قوم ایٹمی طاقت بننے پر فخر ہے ۔ لہذا محترم حقانی صاحب سے میری یہی گذارش ہے کہ اِس وقت اگر کسی بحث میں پڑنے کی ضرورت تھی تو وہ یہی تھی کہ پاکستانی قوم کو ضروری آئینی اور معاشرتی اصلاحات کے ذریعے کس طرح قومی یکجہتی کی لڑی میں پرویا جا سکتا ہے اور بیرونی تخریب کاری کے باعث قومی دھارے سے باہر نکل جانے والے پاکستانیوں کو کس طرح واپس قومی دھارے میں لایا جا سکتا ہے ۔

مندرجہ بالا تناظر میں اگر سوچ کے دائروں کو وسیع تر کیا جائے تویہی ظاہر ہوتا ہے کہ محترم مجید نظامی پاکستان کے اہم نظریاتی اخبار نوائے وقت اور وقت ٹیلی ویژن چینل کے چیف ہونے کے علاوہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیف بھی ہیں اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے حوالے سے اُن کا نام ایک لیجنڈ کی حیثیت رکھتا ہے ، جناب مجیب الرحمن شامی نہ صرف پاکستان کے ایک شہرہ آفاق صحافی ہیں بلکہ پرنٹ میڈیا کو اخباری صنعت کے درجے تک لے جانے میں بھی اُن کی کاوشوں کا کافی دخل ہے اور محترم حقانی صاحب جنگ اخبار کے سنیئر ایڈیٹر ہونے کیساتھ ساتھ مشہور و معروف سینئر کالم نگار ہیں۔ اِن تینوں محترم شخصیتوں کو میڈیا میں ہی نہیں بلکہ پاکستانی عوام میں بھی مقبولیت کا درجہ حاصل ہے چنانچہ پاکستانی میڈیا کی اِن مقتدر شخصیتوں کے درمیان غلط فہمیوں کا پیدا ہونا پاکستانی پریس کی یکجہتی پر منفی اثرات ثبت کر سکتا ہے ۔ اندریں حالات ، اِس اَمر کو بھلایا نہیں جانا چاہئیے کہ بیرونی طاقتوں کی جانب سے عراق و افغانستان میں فرقہ واریت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور مغربی فکر و نظر کو اِن ممالک میں طبقاتی ، لسانی اور فرقہ وارانہ کشمکش کے ذریعے تقسیم کرو اور حکمرانی کرو ، کے مغربی سامراجی ایجنڈے کی تکمیل اور خطے کے عوام کو ڈِس انفارمیشن کے ذریعے بدظن کرنے کیلئے مغرب نے خطے کے میڈیا اور صحافیوں کو بے دریغ استعمال کرنے سے کبھی بھی گریز نہیں کیا ہے ۔ بالکل اِسی طرح اغیار نہ صرف پاکستان میں اندرونی خلفشار کو ہوا دے رہے ہیں بلکہ ایک نامحسوس طریقے سے پاکستان میں صحافت سے متعلق اہم مقتدر حلقوں کے درمیان غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی کر کے میڈیا کو نظریاتی ، لسانی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں جس کا باہمی معاملہ فہمی سے تدارک کیا جانا چاہئیے ۔ محترم ارشاد احمد حقانی ایک معروف قومی اخبار کے بہت ہی سینئر اور قابلِ احترام صحافی ہیں لہذا اُن پر اِس اَمر کی زیادہ ذمہ داری عائید ہوتی ہے کہ وہ اِس اَمر پر غور و فکر کریں کہ کہیں اُن کی کسی تحریر کے باعث میڈیا میں اختلافات کی خلیج کو مہمیز تو نہیں مل رہی ہے کیونکہ اِس سے قبل بھی قائداعظم کی ذات کے حوالے سے ماضی میں اُن کی کچھ تحریریں تلخ بحث و مباحثہ کا باعث بنی تھیں ۔

یہ درست ہے کہ محترم مجید نظامی صاحب اور مجیب الرحمن شامی صاحب نے پرنٹ میڈیا میں ارشاد احمد حقانی صاحب کے جواب میں اپنا اپنا موقف پیش کر دیا ہے جبکہ ایٹمی دھماکے کے حوالے سے جناب شامی صاحب کے اِس استدلال کے جواب میں کہ قرآن کی جو آیات محترم حقانی صاحب نے اپنے مخالفوں کیلئے لکھی ہیں وہ بے محل ہیں کیونکہ یہ اُنہی کے حامیوں پر لاگو ہونی چاہئیں، یقینا اُنہی کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے اور اُنہی کے کانوں اور آنکھوں پر پردے ڈال دئیے گئے ہیں ، پر بحث کو سمیٹے ہوئے حقانی صاحب نے اپنا وہی پرانا موقف دھرایا ہے کہ شامی صاحب نے یہ سارے دعوے کس طرح کر دیئے حالانکہ بحث تو یہ ہو رہی ہے کہ کہ ہمیں دھماکہ کرنا چاہئیے تھا یا نہیں ؟ میری رائے ہے کہ نہیں کرنا چاہئیے تھا اُن کی رائے ہے کہ کرنا چاہئیے تھا ، اِس صورتحال کا حل یہ ہے کہ ہم اپنے اپنے موقف پر قائم رہیں جیسا کہ انگریزی میں کہتے ہیں : Let us agree to disagree. ۔ راقم کی ناقص رائے یہی ہے کہ محض انگریزی کا یہ محاورہ استعمال کرنے سے یہ بحث سمیٹی نہیں جا سکتی کیونکہ فی الحقیقت حقانی صاحب نے قرآنی آیات کا استعمال نہ صرف بے محل کیا ہے بلکہ اِن آیاتِ مقدس کے محل وقوع کا احساس کئے بغیر اِن آیات کا ملبہ ایٹمی دھماکے کے حامیوں اور خصوصاً محترم مجید نظامی کے اِن ولولہ خیز جملوں پر ڈالنے کی کوشش کی ہے جب اُنہوں نے سابق وزیراعظم کو یہ شہرہ آفاق جملے کہے کہ میاں صاحب دھماکہ کر دیجئے ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی ۔ راقم کو محترم مجید نظامی صاحب کے اِن جملوں سے اتفاق ہے: حقانی صاحب نے قرآن شناسی کا بھی مظاہرہ کیا ہے لیکن قرآن مجید یہ بھی کہتا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں اپنے گھوڑے تیار رکھو ۔ ہمارا دشمن کون ہے ؟ بھارت! آج کے گھوڑے کیا ہیں ؟ ایٹم بم اور ایٹمی مزائل ! ۔ حقیقت یہی ہے کہ سورۃ البْقرۃ کی قرآنی آیات 6/7 جنہیں ملا کر پڑھا جاتا ہے، کے حوالے سے محترم حقانی صاحب کی ابتدائی بحث میں بے محل طور پر استعمال کی گئی ہیں لہذا دلیل کے طور پر اُن کی جانب سے پیش کئے گئے انگریزی محاورے سے متفق ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ اِن آیات میں اللہ تعالیٰ پیغمبر اسلام کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں : ” جو لوگ منکر ہوئے ، اُن کیلئے برابر ہے تو ڈرائے یا نہ ڈرائے ، وہ نہیں مانیں گے ، اُن کے دلوں اور اُن کے کانوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے اور اُن کی آنکھوں پر پردہ ہے اور اُن کے واسطے بڑا عذاب ہے ” میری ناقص رائے یہی ہے کہ قرآنی آیات کا بے محل استعمال اسلامی نقطہ نظر سے کوئی احسن اقدام نہیں ہے لہذا محترم حقانی صاحب کو اِن جملوں کو اپنے مضمون سے حذف کر دینا چاہئیے ۔ علامہ اقبال کہتے ہیں ……..

سخت باریک ہیں امراضِ اُمم کے اسباب

کھول کر کہیے تو کرتا ہے بیاں کوتاہی

دینِ شیری میں غلاموں کے امام اور شیوخ

دیکھتے ہیں فقط اِک فلسفۂ روباہی !

ہو اگر قوتِ فرعون کی در پردہ مرید !

قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللہٰی

Tags: Rana Abdul Baqi , column