ربیعہ عالیہ خان۔۔ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور
نقطہ نظر
اب تو اخبارات پڑھتے اور ٹی وی چےنلز پر خبرےں سنتے ڈر سا لگنے لگا ہے۔ڈر اس بات کا نہےں کہ ہمےں مختلف حادثات کا سامنا رہتا ہے کےونکہ حادثات تو انسان کے بس مےں نہےں ہوتے ےہ تو خدا کی طرف سے آتے ہےں ڈر تو اس بات کا رہتا ہے کہ آج ہمارے قابل حکمران کےا نےا گل کھلانے والے ہےں۔آج ےہ قابل سپوت اےسا کےا فےصلہ کرنے والے ہےں جو وطن عزےز کو مزےد اےک جھٹکا اوردے گامےں ےہ سوچ رہی ہوں کہ سبھی اخبارات اےک جےسے اخبارات اور بےانات سے بھرے ہوئے ہےں فرق صرف الفاظ کا اور نماےاں نظر آتی سرخےوں کا ہے ۔وہی اےک جےسے موقف وہی تائےد و تردےد وہی تنقےد وہی اےک دوسرے کے خلاف زہر اگلتے بےانات۔مےں ےہ سوچ رہی ہوں کےا ضروری ہے ہم ہر وقت مشرف کو کوستے رہےں؟ آج اےک نئی بات ہمارے قابل سپوتوں نے سوچی ہے اور وہ ہے ہفتے مےں دو چھٹےوں کا فےصلہ اس سے پہلے وقت اےک گھنٹے آگے کر دےا گےا تھا ےہ بات کہتے ہوئے کہ انرجی کو بچانے کا بہترےن طرےقہ ہے۔ےہ طرےقے بھی ہمارے حکمران ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہےں ہمارے تو پلے کچھ پڑتا نہےںاب دو چھٹےوں کا شوشہ چھوڑ دےا گےا ہے ہمارے جےسے ترقی پذےر ملک مےں دو چھٹےاں بہت بہترےن فےصلہ ہے۔درحقےقت ہمارے ان حکمرانوں کو سمجھ نہےں آرہی کہ اتنے دھماکے بھی ہو رہے ہےں بجلی کا بحران بھی پےدا کےا عوام پر ہر ضرورت تنگ کر کے بھی دےکھ لےا ےہ تو بڑی ڈھےٹ قوم ہے مرتی ہی نہےں تو چلو اپنے آقاو¾ں کو خوش کرنے کے لئے اس ملک کے عوام کو چھٹےوں پر لگا کر ان کو بلکل ناکارہ بنا دےتے ہےںجب صنعتےں بند ہو جائےں گی دفاتر بند ہوں گے اسکول تو پہلے سے ہی بند کر دئےے گئے ہےں تو ملک کا نظام تو خود ہی بند ہو جائے گا۔اب ان کے لئے اپنے آقاﺅں کو خوش کرنا کوئی مس¾لہ نہےں رہے گا۔اب ان قابل سپوتوں نے گےس کی لوڈ شےڈنگ کا اعلان بھی کر دےا ہے مےں نے اِن لوگوں کو کبھی کسی معاشی مسئلہ کو سلجھاتے نہےں سنا ےہ صرف اور صرف کےری لوگر بل کا دفاع کرتے ہےںاپنے کارنامے بتاتے ہوئے عوام کو بس تنبےہ کرتے ہےں کہ محتاط ہو جائےں آپ پر مزےد دھماکے ہونے والے ہےں اور دھماکے ہو بھی جاتے ہےں مگران کو روکنے کا کوئی سد باب نہےں کےا جاتا۔ےہ اس دربان کی طرح ہےں جب تک امرےکہ ان کے کے مونہہ مےں ڈالر ڈالتا رہے گا ےہ ملک کا سودا بھی کرتے رہےں گے اور امرےکہ کے گن بھی گاتے رہےں گے۔مےں سبھی سے اےک سوال کرنا چاہتی ہوں کہ ےہ ملک کِس کا ہے؟ےہ ملک کس کی ذمہ داری ہے؟ےقےنا جواب ہو گا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔۔۔لےکن ےہ بات تو صرف کہنے کی سننے کی حد تک صحےح ہے۔ےہ ملک نہ سےاستدانوں کا ہے نہ بےوروکرےٹس کا جو ا پنی بڑی بڑی گاڑےوں مےں ےا تو گھومتے رہتے ہےں ےا بےرون ملک کے دورے کرتے ہےں۔ےہ ملک ہے تو صرف غرےبوں کا محنت کشوں کا جن کا خون اور حلال کا پےسہ اس ملک کو ابھی تک بچائے ہوئے ہے۔لمبی لمبی گاڑےوں مےں سفر کرنے والے بےرون ملک عےاشےاں کرنے والے اس ملک کے لئے کےا درد رکھےں گے۔مےں جانتی ہوں مےرا لہجہ کڑوا اور قلم کی دھار تےز ہوتی جا رہی ہے لےکن جو کچھ بھی کہہ رہی ہوں ےہ وہ حقےقت ہے جس سے ہم نظرےں تو چرا سکتے ہےں لےکن اِسے غلط نہےں کہہ سکتے۔بہت آسان ہوتا ہے اخبارات کی شہہ سرخےوں مےں رہنا،باتوں کے لمبے لمبے تےر چھوڑنا،ہمےں اقتدار دو ہم ےہ کر دےں گے ہم وہ کر دےں گے،لمبی لمبی پرےس کانفرنس بڑے بڑے بےانات،عوام ہمارا ساتھ دےں ہم دنےا بدل دےں گےااقتدار کی بھوک نہ جانے اور کےا قربانی لے گی۔عوام تو پہلے ہی اِن کی لوٹ مار کا قرض اتار رہی ہے وہ تو غربت اور مہنگائی مےں پِس رہی ہے وہ تو دھشت گردی کا شکار ہے تو ےہ بار بار عوام کو سڑکوں پر لانے کی بات کےوں کر رہے ہےں؟عوام کو سڑکوں پر ضرور آنا چاہےے تاکہ ان ظالم لوگوں کوملک بدر کر دےا جائے تاکہ کبھی بھول کر بھی کوئی ہمارے ملک کا برا نہ سوچ سکے۔کتنا پےار ہے اِنہےں عوام سے، وہ تو دو سال مےں عوام نے دےکھ ہی لےا ہو گا اب تو وقت ہے عملی مظاہرہ کرنے کا۔کوئی اِن سے پوچھے کہ عوام تو پہلے ہی سڑک پر آ چکے ہےں ےہ اب اور کےا چاہتے ہےں؟پاکستان مفاد پرست لوگوں سے گِھر گےا ہے۔ جس ملک مےں اےن آر او جےسے غےر قانونی بل کو منظور کروانے کی جدوجہد کی جا رہی ہے تاکہ اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالا جا سکے اس ملک کا کیا حال ہو گا۔ ہر شخص ےہاں اقتدار کے لئے بھاگ رہا ہے ڈالر کی ہوس حکمرانوں کو دےوانہ بنائے ہوئے ہے۔اپنے پرائے کی پہچان ختم ہو چکی ہے لالچ مادہ پرستی ہماری حکومت کا حصہ بن چکی ہے اےک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکا جا رہا ہے جس کو جہاں موقع ملتا ہے وہاں دوسرے کا حق مار لےتا ہے۔ہم نے کبھی سوچا ہے ہمارا معاشرہ کِس اخلاقی گندگی کی دلدل مےں ڈبوےا جا رہا ہے۔ےہ سب برائےاں انگرےزوں مےں نہےں امرےکنوں مےں نہےں صرف ہم مےں ہےں جو خود کو پاکستانی حکمران کہلاتے ہےں پر۔۔ان حکمرانوں نے اپنے ملک کو بدنامی کے سوا کچھ نہےں دےا،انہوں نے اِس ملک کو صرف نوچ نوچ کے کھاےا ہے نہ صرف کھاےا ہے بلکہ اِس کے دامن کو بھی بھری دنےا کے سامنے داغدار کر دےا ہے۔ہمارا ملک پاکستان عالمی دنےا کے سامنے اپنا وقار کھو چکا ہے،سر سبز مےدانوں کا ملک چاندی جےسی چمکتی فصلےں،جھومتے پھول،درےاﺅں اور سنہری پہاڑوں کی سرزمےن تھی ےہ لےکن ہم نے اِسے دھشت گردی کا ٹھکانا بنا دےا ۔آج ملک کی فضا سوگوار ہے خوبصورت وادےاں لہو رنگ ہےں،آج ہم سب اےک دوسرے کو موردِ الزام ٹہرارہے ہےں کوئی سابقہ حکومت کو کوس رہا ہے تو کوئی امرےکہ کو برا کہہ رہا ہے کوئی افغانستان کی طرف اِشارہ کرتا ہے تو کوئی انڈےا کا اِشارہ دےتا ہے،لےکن کےا کِسی مےں اِتنی ہمت ہے کہ وہ آئےنہ کی سامنے کھڑے ہو کر خود اپنا محاسبہ کر سکے۔کےاصدر آصف علی زرداری ،رحمان ملک، پروےز مشرف، شوکت عزےزاور بھی ان جےسے لوگ کےا اپنی غلط پالےسےوں کا اعتراف کر سکتے ہےں؟آج ملک مےں بجلی نہےں ہے چےنی کا بحران ہے گےس بند کر دی گئی ہے تو عام آدمی نے کےسے جےنا ہے؟ان حکمرانوں نے اس ملک کو خسارے کے سوا کچھ نہےں دےاکےا انہوں نے اپنا کردار صحےح سے نبھاےاان پر جو معاشرتی ذمہ دارےاں تھےںان مےں سے کوئی اےک بھی پوری کی؟جو حکمران اپنے عےش و عشرت نہےں چھوڑتے وہ ملک کا دفاع کےسے کر سکتے ہےں ۔حکمرانوں کی کمزورےاں ملک کو کمزور کرتی ہےں۔اپنے ملک سے پےار کرےں معاشرے کی برائےوں کو بری نظر سے دےکھےں۔ دوست کون ہے دشمن کون اس کی پہچان کےجےے پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اسے دشمنوں سے محفوظ رکھےں۔آمےن
