Sacc header image 4

Entries Tagged as 'Nasir Ali Syed'

اب کوئی بھی یوسف کا خریدار نہیں ہے

November 11th, 2009 · Comments Off

ناصر علی سےد

اب کوئی بھی یوسف کا خریدار نہیں ہے
منظر نامہ
یوں تو سارا سال کارادب رواں دواں رہتا ہے حالات حاضرہ اس پر کبھی بالواسطہ اور کبھی بلاواسطہ اثر انداز بھی ہوتے رہتے ہیں مگر ایسا بالکل بھی نہیں ہو سکتا کہ ادب کا کاروان رک جائے یا لاتعلقی کی بکل مارکر ایک کونے میں بیٹھ جائے حالانکہ اردگرد کے حالات بسا اوقات اندر سے ہلاکر رکھ دیتے ہیں مگر شاعر ادیب اپنا محاذ نہیں چھوڑ سکتا اسے علم ہے کہ وہ جاب پر ہے اسے ڈیوٹی انجام دینی ہے اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ہر گزرتے لمحے کی اسے تصویر بنانی ہے اسلئے کوئی بھی ڈیپریشن اس کے راستے میں دیوار کھڑی نہیں کرسکتا ، گویا۔
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے
سویہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے لیکن غیر محسوس طریقے سے موسم بہار میں اس کی رفتار میں جو ایک سرخوشی اور مستی آجاتی ہے وہ دیدنی ہوتی ہے۔ ان دنوں بہار کے سنگ سنگ ادبی اور ثقافتی تقریبات کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور پچھلے ہفتہ عشرے سے تو صبح سے شام تک تین تین چار چار تقریبات میں شرکت کرنا پڑرہی ہے اس موسم میں احباب اپنی کتابیں بھی شائع کررہے ہیں اور ان دنوں پاکستان بھر سے شائع ہونے والی اور احباب کی بے پناہ محبت سے وصول ہونے والی کتب اور جرائد سے میری میز بھری پڑی ہے۔ کچھ احباب بیرون پاکستان شائع ہونے والی کتابوں کی فہرست الگ سے بھجوارہے ہیں کہ ان کتابوں کا پڑھنا بھی ضروری ہے۔ غنیمت ہے کہ وہ سب کتابیں انٹرنیٹ پر مکمل یا جزوی موجود ہیں خصوصاًعلی گڑھ کی ویب سائٹ پر تو اردو کی نایاب اور کم یاب کتب مکمل موجود ہیں کل ہی دبئی سے شکیلہ رحمن جو کہ ظہور احمد اعوان کی منہ بولی اوران دیکھی بہن اور جو ان سے اور باقی تمام کالم نگاروںسے مستقل اور مسلسل رابطہ میں رہتی ہیں انہوں نے افسانوں کے چھپے مجموعوں اور ایک ناول کی لسٹ فون پر لکھوائی ہے کہ یہ کتابیں فوراً منگواکر پڑھیں میں نے وہ فہرست جوان فکر افسانہ نگار جواد کے حوالے کردی ہے کہ وہ دکان ، دکان گھومے اور یہ کتب خرید کر لائے بصورت دیگر اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے احباب کو حسب سابق زحمت دینا پڑے گی۔ اسی دوران پشاور کے احباب کی بھی کتابیں آئی ہیں ان میں سے صابر حسین امداد کی کتاب وڈکارے اور صادق صبا کے پہلے ہندکو افسانوں کے مجموعہ کی رسید تو میں دے چکا ہوں ڈاکٹر محمد اعظم اعظم کہ پشتو شعروادب کی ایک طرحدار اور توانا آواز ہے اور پشتو ادب کے نقاد اس بات پر متفق ہیں کہ محمد اعظم اعظم جدید ترین شعراء میں شامل ایک ایسے سخنور ہیں جو نظم اور غزل کہنے پریکساں قدرت رکھتے ہیں اور دونوں میں ان کا ڈکشن تراکیب ، بندشیں اور ایک رومانی فضا ان کی شاعری کو وہ اپیل عطا کرتی ہے جس کی بنا پر وہ قاری کے دل کے قریب تر ہو جاتے ہیں ایک طویل انتظار کے بعد ان کی شاعری کا مجموعہ جنون اوڑوند ون کے نام سے آیاہے والدہ مرحومہ کی روشن یادوں کے نام معنون ساڑھے تین سو صفحات کے اس شعری مجموعہ میں ان کے پچھلے تیس چالیس، سال پر محیط مقبول غزلوں کا عمدہ انتخاب ہے اس شعری مجموعہ کو اجمل خٹک ایاز داو¿د زئے کے ساتھ ساتھ زبیر حسرت کے مضامین اور فلیپ پراباسین یوسفزئی اور حنیف خلیل کی آراء اور عبداللہ جان عابد کی کتاب سے ایک چند سطری اقتباس بھی معتبر بناتا ہے۔ گندھارا ہندکو بورڈ نے جن دس ہندکو کتب کی اشاعت کو مختصر عرصے میں ممکن بنا یا ان میں سے کھلیاں اکھیاں دا خواب اور وڈکارے کے بعد جن احباب نے محبت بھرا تحفہ عنایت کیا ان میں سب سے معتبر ومقدم تویقینا ” سچے رنگ “ ہے جسے سکندر حیات سکندر نے ترتیب دیا ہے یہ تحفہ احباب کی نعتوں کا مجموعہ ہے جس میں ہندکو کے قدیم وجدید سارے لہجوں کی نمائندگی موجود ہے۔

ناصر علی سید

منظر نامہ

یوں تو سارا سال کارادب رواں دواں رہتا ہے حالات حاضرہ اس پر کبھی بالواسطہ اور کبھی بلاواسطہ اثر انداز بھی ہوتے رہتے ہیں مگر ایسا بالکل بھی نہیں ہو سکتا کہ ادب کا کاروان رک جائے یا لاتعلقی کی بکل مارکر ایک کونے میں بیٹھ جائے حالانکہ اردگرد کے حالات بسا اوقات اندر سے ہلاکر رکھ دیتے ہیں مگر شاعر ادیب اپنا محاذ نہیں چھوڑ سکتا اسے علم ہے کہ وہ جاب پر ہے اسے ڈیوٹی انجام دینی ہے اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ہر گزرتے لمحے کی اسے تصویر بنانی ہے اسلئے کوئی بھی ڈیپریشن اس کے راستے میں دیوار کھڑی نہیں کرسکتا ، گویا۔

دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے

یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

سویہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے لیکن غیر محسوس طریقے سے موسم بہار میں اس کی رفتار میں جو ایک سرخوشی اور مستی آجاتی ہے وہ دیدنی ہوتی ہے۔ ان دنوں بہار کے سنگ سنگ ادبی اور ثقافتی تقریبات کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور پچھلے ہفتہ عشرے سے تو صبح سے شام تک تین تین چار چار تقریبات میں شرکت کرنا پڑرہی ہے اس موسم میں احباب اپنی کتابیں بھی شائع کررہے ہیں اور ان دنوں پاکستان بھر سے شائع ہونے والی اور احباب کی بے پناہ محبت سے وصول ہونے والی کتب اور جرائد سے میری میز بھری پڑی ہے۔ کچھ احباب بیرون پاکستان شائع ہونے والی کتابوں کی فہرست الگ سے بھجوارہے ہیں کہ ان کتابوں کا پڑھنا بھی ضروری ہے۔ غنیمت ہے کہ وہ سب کتابیں انٹرنیٹ پر مکمل یا جزوی موجود ہیں خصوصاًعلی گڑھ کی ویب سائٹ پر تو اردو کی نایاب اور کم یاب کتب مکمل موجود ہیں کل ہی دبئی سے شکیلہ رحمن جو کہ ظہور احمد اعوان کی منہ بولی اوران دیکھی بہن اور جو ان سے اور باقی تمام کالم نگاروںسے مستقل اور مسلسل رابطہ میں رہتی ہیں انہوں نے افسانوں کے چھپے مجموعوں اور ایک ناول کی لسٹ فون پر لکھوائی ہے کہ یہ کتابیں فوراً منگواکر پڑھیں میں نے وہ فہرست جوان فکر افسانہ نگار جواد کے حوالے کردی ہے کہ وہ دکان ، دکان گھومے اور یہ کتب خرید کر لائے بصورت دیگر اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے احباب کو حسب سابق زحمت دینا پڑے گی۔ اسی دوران پشاور کے احباب کی بھی کتابیں آئی ہیں ان میں سے صابر حسین امداد کی کتاب وڈکارے اور صادق صبا کے پہلے ہندکو افسانوں کے مجموعہ کی رسید تو میں دے چکا ہوں ڈاکٹر محمد اعظم اعظم کہ پشتو شعروادب کی ایک طرحدار اور توانا آواز ہے اور پشتو ادب کے نقاد اس بات پر متفق ہیں کہ محمد اعظم اعظم جدید ترین شعراء میں شامل ایک ایسے سخنور ہیں جو نظم اور غزل کہنے پریکساں قدرت رکھتے ہیں اور دونوں میں ان کا ڈکشن تراکیب ، بندشیں اور ایک رومانی فضا ان کی شاعری کو وہ اپیل عطا کرتی ہے جس کی بنا پر وہ قاری کے دل کے قریب تر ہو جاتے ہیں ایک طویل انتظار کے بعد ان کی شاعری کا مجموعہ جنون اوڑوند ون کے نام سے آیاہے والدہ مرحومہ کی روشن یادوں کے نام معنون ساڑھے تین سو صفحات کے اس شعری مجموعہ میں ان کے پچھلے تیس چالیس، سال پر محیط مقبول غزلوں کا عمدہ انتخاب ہے اس شعری مجموعہ کو اجمل خٹک ایاز داو¿د زئے کے ساتھ ساتھ زبیر حسرت کے مضامین اور فلیپ پراباسین یوسفزئی اور حنیف خلیل کی آراء اور عبداللہ جان عابد کی کتاب سے ایک چند سطری اقتباس بھی معتبر بناتا ہے۔ گندھارا ہندکو بورڈ نے جن دس ہندکو کتب کی اشاعت کو مختصر عرصے میں ممکن بنا یا ان میں سے کھلیاں اکھیاں دا خواب اور وڈکارے کے بعد جن احباب نے محبت بھرا تحفہ عنایت کیا ان میں سب سے معتبر ومقدم تویقینا ” سچے رنگ “ ہے جسے سکندر حیات سکندر نے ترتیب دیا ہے یہ تحفہ احباب کی نعتوں کا مجموعہ ہے جس میں ہندکو کے قدیم وجدید سارے لہجوں کی نمائندگی موجود ہے۔ ایک اور اہم معتبر شعری مجموعہ آواز بھی شائع ہوا ہے مگر پروفیسر صبیح احمد نے اپنا یہ ہندکو مجموعہ صرف دو دن کے لئے عنایت فرمایا تھا ور یہ کہتے ہوئے واپس لے لیا کہ مجھے ابھی تک صرف ایک ہی نسخہ ملا ہے البتہ ہندکو مزاحیہ نظموں کا مجموعہ ” اے کے مخول اے“ ظفر نوید جانی کا مجھے خود انہوں نے دیا ہے اس سے قبل ان کے افسانوں کا مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے اسی طرح گندھارا کے بینر تلے شائع ہونے والی ایک اور کتاب ” آٹھواں سر“ بھی احمد ندیم اعوان نے عنایت کی ہے اور یہ ان کے شگفتہ مضامین کا مجموعہ ہے۔ یہ مضامین انشائیہ اور فکاہیہ کالم کے قریب ترین ہیں اور شاید ہی کوئی مضمون آپ ادھورا چھوڑ سکیں بعض تحریریں خود کو قاری سے پڑھانے کا ہنر جانتی ہیں اور اٹھواں سران میں سے ایک ہے ہندکو کی اس دوران جتنی کتب گندھارا نے شائع کی ہیں ان کے صفحات اسی اور سو کی تعداد میں ہیں لیکن ان میں سے کم وبیش ساری اصناف پر کام سامنے آیا ہے خاکے، افسانے، شاعری ، مزاح، مضامین اور نعت اور یہ سب ہندکو زبان وادب کی اشد ضرورت تھی ابھی ایک اور اہم شعر ی مجموعہ انجروت کے نام سے ایم اسماعیل اعوان کا بھی آیا ہے یہ مجموعہ سنڈیکیٹ آف رائٹرز پاکستان کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے اور اس ہندکو شعری مجموعہ کا صدری ومعنوی حسن دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اس عمدہ شعری مجموعہ کا پہلا حصہ آیات قرآنی کے سلیس منظوم ترجمہ کیلئے مخصوص ہے اور اس قصے میں ان کے پیش نظر قرآن پاک کی 35سورتیں تھیں جبکہ دوسرے حصے میں ان کی نعتیں، مناجات سلام، نظمیں اور غزلیں شامل ہیں اور ایک خصوصی اردو نظم اس ہندکو مجموعے میں فراز کے نام بھی موجود ہے۔ اسماعیل اعوان کی اس سے قبل شائع ہونے والی تینوں کتابوں پر انہیںا باسین آرٹس کونسل کی طرف سے سال کی بہترین کتاب کا ایوارڈ مل چکا ہے مسلسل تین سال تین کتابوں پر تین گولڈ میڈل حاصل کرنے کی بناپر انہیں ایوارڈ کی ہیٹ ٹرک کرنے والا اکلوتا قلمکار کہا جاتا ہے اور آخر میں مجھے ذکر کرنا ہے علی احمد قمر کا جو حلقہ ارباب ذوق پشاور کے ایک مستقل رکن رہے ہیں ان دنوں وہ پی ٹی وی پشاور مرکزمیں تعینات تھے۔ دنیا کے بلند ترین میدان جنگ سیاچن کے دامن میں واقع گاو¿ں گوما سے تعلق رکھنے والے شاعر کا تیسرا مجموعہ ” لمس“کے نام سے آیا ہے، مجتبیٰ حسین کی رائے سے متفق ہوں کہ ” قمر غزل کہنے کا لہجہ اور سلیقہ لئے ہوئے ہے اور اس کی آواز تلخی کی باوجود دھیمی ہے”لمس “ میں ایسے اچھے اور عمدہ اشعار کی کمی نہیں جو قاری کو روک روک لیتے ہیں۔

ہرصبح نئے دکھ کی خبر لاتا ہے اخبار

دیکھی نہیں جاتی کسی اخبار کی صورت

اب کوئی بھی یوسف کا خریدار نہیں ہے دیکھے کوئی جا کر کسی بازار کی صورت

ہم بھی ہیں وہی راہ وہی شہر وہی ہے

بدلی ہوئی کیوں ہے درودیوار کی صورت

Tags: Nasir Ali Syed , column