آخر کب تک۔۔۔۔نقیب اللہ
آج اگر ہمارا کوئی ایک مسئلہ ہوتا تو ہم بحیثیت قوم اس کا سامنا کرلیتے لیکن ہم تو مسائل کے بھنور میں پھنستے ہی جارہے ہیں کوئی ایسا تنکا نہیں رہا جسے بطور سہارا سمجھ کر پکڑ لیا جائے۔جتنے بھی تنکے تھے سارے خود غرض مفاد پرست اور اقتدار کے سامنے انتہائی بے بس۔آج پاکستان کا عام شہری بھوک و افلاس سے تنگ،بے روزگاری کے سبب زندگی سے دلبرداشتہ ،امن وامان کی بگڑی ہوئی صورتحال سے انتہائی خوف زدہ،سیاستدانوں کے جھوٹے وعدؤں سے بے زار اور اُوپر سے (از اکسیلنسی جناب صوفی محمد کا اسلام) ایسے حالات میں کوئی خاک ہم سے ایک قوم کی توقع رکھ پائے گا۔آج تو ہم وہ منتشر کردی جانے والی انوکھی قوم ہے جس کی شاید کوئی مثال موجود ہو۔کوئی ہمیں شریعت کے نعروںسے ۔کوئی یکجہتی کے نعروں سے۔کوئی ہمیں گریٹر بلوچستان کے نعروں سے ۔کوئی ہمیں گریٹر پختونستان کے نعروں سے ۔کوئی ہمیں پاکستان کھپے کے نعروں سے تو کوئی ہمیں جناح پور کے نعروں سے ورغلاتے آرہے ہیں۔لیکن حقیقی معنوں میں مسیحا نہ مل سکا۔پاکستان کے سترہ کروڑ عوام نے بار بار چہروں کو آزمایا لیکن افسوس صد افسوس یہاں کے عوام کو تبدیلی کے نام پر محض دھوکے اور فریب ہی کا سامنا کرنا پڑا۔یہاں چہرے تو بدلے مگر نظام وہی فرسودہ ۔آج سوات سلگ رہا ہے لاکھوں محب وطن پاکستانی اپنے وطن میں مہاجر بن چکے ہیں ان کے آباد آنگن ویران کردئیے گئے ہیں ۔ان کی ساری خوشیاں چھین لی گئی۔ان کے ننگ وناموس کے ساتھ خوب کھیلا جارہا ہے۔ننے معصوم بچے آرام دہ بستر سے آج خیمے میں اپنی زندگی کی خوبصورت راتیں بسر کرنے مجبور ہیں۔سینکڑوں تعلیمی ادارے کھنڈرات اور ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں۔سوات ،بونیر اور دیر کے رہائشی آج دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔لیکن معذرت کے ساتھ پشتون قیادت منظر سے غائب ۔۔۔؟ وہ جو اپنی سیاست کو امن اور پشتونوں کے حقوق کی جنگ گرداندتے ہیں ۔جو اسمبلی اور عوام میں کھڑے ہوکر اپنی ہر بات کا آغاز پشتونوں کے حقوق اور وسائل سے کرتے ہیں کہاں ہیں۔۔۔؟ وہ پشتون قیادت جنہیں ہر بار غیور اور نڈر پشتونوں نے اسمبلی فلور اور اقتدار تک پہنچنے کا راستہ دیا غفار خان کے سیاسی وارث اور خان عبدالولی خان کے سپوت اسفندیار ولی خان اور خان عبدالصمد خان کے فرزند محمود خان اچکزئی کہاں ہیں۔۔۔؟وہ سیاسی رہنما جنہوں نے مذہب کی آڑ میں پشتونوں سے ووٹ لیے مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمدیہ ہستیاں اتنی طویل خاموشی کیوں لئے پھر رہے ہیں۔۔۔؟ ملکی فلاح وبہود میں ایک (icon) کی حیثیت رکھنے والے عمران خان سوات کے حالات میں صحیح کپتانی کے فرائض سر انجام کیوںنہیں دے رہے ہیں۔۔۔؟
کیا سلگتے سوات سے بہتر یورپی ممالک کے دورے ہیں یا پھر طویل خاموشی؟ اسلام کا پرچار کرنے والے مولانا اور قاضی حقائق بیان کرنے سے کیوں قاصر ہیں؟اگر متعلقہ جماعتوں کے کارکنوں اور سرکردہ ممبران یہ کہتے ہوئے میرے الفاظ اور تاثرات کو غلط کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ ہم نے تو دھرنے ،احتجاج،جلسے اور جلوس نکالے ہیں تو میں اسے ان کے فرائض میں شمار کروں گالیکن قیادت ،قیادت ہوتی ہے۔اگر میاں صاحب نقل مکانی کرنے والوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے کیلئے کیمپوں کا دورہ کرسکتے ہیں تو اسفندیار ،اچکزئی ،مولانا ، عمران اورقاضی صاحب کیوں نہیں؟کیا لاکھوں نقل مکانی کرنے والے اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں یقینا نہیں بلکہ اُنھیں تو اپنوں سے بہتری لانے کی توقع تھی۔اب اگر کوئی یہ کہے کہ ہم آپریشن نہ کرتے تو کیا کرتے ۔بیشک آپریشن کریں لیکن اس کا کیا ردعمل ہوگا ۔کیسے ہوگا اور کہاں ہوگا؟ یہ بھی تو سوچنا چائیے۔بہرحال آپریشن جاری ہے لیکن اب تک (از اکسلینسی صوفی محمد کا کوئی سرکردہ کمانڈر یا ساتھی پکڑا نہیں جاسکا)۔سوات ،بونیر اور دیر سے ایسی اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ وہاں پر نام نہاد طالبان کی بجائے عام شہریوں کی ہلاکتیں انتہائی زیادہ ہوچکی ہیں کیا ہم نے اس رٹ کیلئے آپریشن شروع کیا ہے تو پھر اس رٹ کی مد میں ہمیں اور کتنی رٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ ہمارے تصور سے بھی بڑھ کر ہوگا۔پورا پاکستان اپنی استعداد کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں کیلئے چندہ اور عطیات جمع کررہا ہے مگر ہمارے بلوچستان میں آباد پشتون خواب غفلت کے شکار ،یہاں کے قوم پرست نہ جانے کس مخصمے کا شکار اپنے مصائب زدہ بھائیوں کی مدد کیلئے کچھ نہیں کرپارہے ہیں۔یہاں کے پشتون قوم پرست اگر بارہ مئی کے سلسلے میں مقابلتاً ریلیاں اور جلسے منعقد کروا سکتے ہیں تو پھر سوات کے بھائیوں کیلئے نقد،عطیات اور خوارک کی اشیاء جمع کرنے کی مہم کیوں نہیں چلا سکتے؟ کیا یہاں پر بھی ہم نظریاتی وابستگی اور پارٹی پوزیشن کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے اگر سرحد اسفندیار ولی کا مسکن ہے تو کوئٹہ اچکزئی کا مسکن ہے تو پھر یہاں کے پشتون خاموش کیوں ہیں؟پشتون اپنے اس وصف کی وجہ سے پورے پاکستان میں انتہائی مقبول ہیں کہ ان کی مہمان نوازی اپنی مثال آپ ہے۔اگر اپنے اس تاریخی ورثے کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں کے پشتون جن میں قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کے لوگ شامل ہیں یہاں پر کیمپ بھی بنا سکتے ہیں۔کیمپ نہ بنائے تو بطور میزبان کئی خاندانوں کو اپنے یہاں ٹھہرانے کا بندوبست کرسکتے ہیں۔کیا بلوچستان میں آباد پشتون اتنے گئے گزرے ہیں کہ اپنے مصائب اور مشکلات میں گرفتار بھائیوں کی آواز پر لبیک نہیں کہیں گے۔نہ جانے ہم کس مخصمے کا شکار ہیں اگر ہمارے سامنے نظریاتی وابستگی ہے تو پھر ایسی سیاست کرنے پر لعنت ہو جس میں انسانیت سے اُلفت نہیں بلکہ مفادات اور ذاتیات نے جگہ لی ہو۔میں بذریعہ کالم یہاں کے پشتون سیاسی کارکنوں عام شہریوں تاجربرادری اور ملازمت پیشہ افراد سے استدعا کررہا ہوں کہ خدارا اپنے مشکل زدہ بھائیوں کی صدا سن لو۔ان کی پکار پر یک زبان ہوکر جتنا آپ کے بس میں ہو کچھ کر گزرو۔آپ کی ھٹ دھرمی ،آپ کی مفاداتی سیاست ،آپ کی نظریاتی وابستگی،آپ کی آنا پرستی آپ ہی کے آڑے آئے گی۔وہ جن سے آپ اپنے حقوق اور پشتون قوم کے حقو ق کی سیاسی جنگ لڑرہے ہو اُن کے سامنے کیا افادیت اور اہمیت رہ جائے گی یہ آپ حضرات بہتر طور پر جانتے ہیں ۔اگر آپ مذہبی قوتوں کو پشتونوں کی تباہی کے موجب گرداندتے ہیں تو پھر آج کی صورتحال میں یہ طویل خاموشی نہ جانے آپ لوگوں کو کس زمرے میں شمار کرے ۔بلوچستان کے پشتونوں سوات سلگ رہا ہے اور آپ حضرات نظریاتی اور سیاسی وابستگیوں میں تقسیم ہوکر خواب خرگوش لئے سوئے ہوئے ہو۔خدارا جاگو اور جاگ کر اپنے بھائیوں کی مدد کو پہنچو کیونکہ آپ کی سیاست کا محور دکھی انسانیت کی خدمت ہے اور ہونا چائیے۔اس وقت سوات کے بھائی آپ کے امداد اور خدمات کے منتظر ہیں۔
