Entries Tagged as 'nadeem haider rizvi'
November 11th, 2009 · Comments Off

”تلخیاں“
ندیم حیدر رضوی
کہا جاتا ہے کہ جس کو اپنڈکس کا مرض لاحق ہوجائے اس کا آپریشن لاحق ہو جاتا ہے اس آپریشن میں جسم میں سے ایک فالتو آنت کو نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے اور مریض کو اس درد و تکلیف سے نجات مل جاتی ہے جو اس مرض کی صورت میں و ہ برداشت کرتا ہے‘ اس مرض کی تفصیلات سے تو ڈاکٹر حضرات ہی زیادہ واقف ہونگے مگریہ بات عام مشاہدے میں ہے کہ آپریشن اپنڈکس کا ہو یا کوئی اور فقط آپریشن کرنے یا جسم کے کسی فالتو حصہ کو باہر نکال دینے پر معاملہ ختم نہےں ہوجاتا بلکہ ڈاکٹر اس مرض کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لےے اےک مخصوص عرصہ تک مرےض کو ادوےات کے استعمال کا مشورہ دےتے ہےں اور خاص احتےاطی تدابےر سے بھی آگاہ کرتے ہےں۔ آج کل ہمارے ملک مےں بھی آپرےشن کےا جا رہا ہے کےونکہ اےک طوےل عرصہ تک کپسول اور ٹےبلٹ سے کام نہ بن سکا اس لےے دہشت گردوں کے خلاف اب باقاعدہ آپرےشن کےا جا رہا ہے اور قوم کو امےد ہے کہ ےہ آپرےشن کامےابی سے ہمکنار ہوگا اور ارض پاکستان نامی اس مرےض کو دنےا مےں صحت مند ملک کے طور پر جلد ہی دےکھا جائے گا مگر شاےد ہمےں بھی اس مرض کو فقط آپرےشن تک محدود رکھنے کے بجائے کچھ آگے لے جانا ہوگا ۔ہمےں کچھ تلخ فےصلے کرنے ہونگے‘ ہمےں ملک بچانے کے لےے چند کڑوی ادوےات کو کھانا ہی ہوگا۔ گزشتہ دنوں وزےر اعظم مملکت ترکی جناب طےب اردگان نے پاکستان کے دور ئے کے دوران کہا تھا کہ اےک زمانے مےں ترکی کی حالت بھی پاکستان جےسی ہی تھی وہاں پر حالات درست ہو چکے ہےں تو ےقےنا پاکستان مےں بھی بہتر ہو جائےں گے ۔ دےکھا جائے تو شاےد ہمارے ہاں کوئی کمال اتاترک تو نہ آسکے گا نہ کوئی خمےنی جےسا کہ جو ملک کے لےے بنا کسی خوف کے حتمی طور پر بہتر فےصلہ کر سکے جو کسی فےصلہ کرنے اور اس کو نافذ کرنے کے لےے کسی مصلحت سے کام نہ لے مگر ہمارے حکمرانوں اور عوام دونوں کو کسی حد تک تو خود سے ملک سے شدت پسندی اور نفرتوں کے خاتمے کے لےے سخت فےصلے کرنے ہونگے اور ان پر عمل درآمد بھی کرنا ہوگا ۔ سبھی جانتے ہےں کہ ہم اےک قوم ہوتے ہوئے بھی چند عناصر کے باعث فرقوں اور صوبائی عصبےت کے شکنجے مےں جکڑے ہوئے ہےں ۔ ےقےن ہے مجھے کہ اگر ہم صرف اور صرف اختلافی مسائل کو چھوڑ دےں اور اختلافی باتےں کرنا بند کردےں ‘ آپس کی نفرتوں کے خاتمے کے لےے اقدامات کرےں تو ملک سے نفرتوں اور شدت پسندی کے اس مرض کو ہمےشہ کے لےے ختم کر سکتے ہےں ۔ اس سلسلے مےں مےری چند گزارشات ہےں اگر ان کے حوالے سے چند سخت اقدامات کر لےے جائےں تو شاےد ہم نفرتوں کو ملک سے ختم کر سکےں۔ ہم سب جانتے ہےں کہ ہم پاکستانی و ہ قوم ہےں جو ہرمعاملے اور بات مےں خود کو ماہر سمجھتے ہےں ‘ ہم اصل صورتحال سے واقف ہوں ےا نہےں مگر رائے دےنا اور بحث برائے بحث کرنا اپنا فرض عےن جانتے ہےں ‘ اےک معمولی سی بات ہے کہ فرض کےا مےں نہےں جانتا کہ کےری لوگر بل کےا ہے مگر اس پر ملک مےں ہر جگہ بلکہ چائے خانوں تک مےں بحث ہوتی رہی ‘ بحث مباحثہ اچھی بات ہے اےک بہترےن قوم ہونے کا ثبوت ہے مگر مکمل علم نہ ہونے کے سبب سے ےہ دےکھا گےا کہ بنا کسی بات کے جانے ہونے والی بحث کے آخر مےں لوگ اےک دوسرے کا گرےبان پکڑے ہوئے تھے اور ہر اےک خود کو حق پر جان رہا تھا ‘ اس سے بری صورتحال ہمارے ہاں مذہب کے نام پر ہونے والی بحثوں مےں ہوتی ہے جس کے انجام کے طور پر نفرتوں مےں اضافہ ہورہا ہے اور ‘ پاکستانی قوم تقسےم در تقسےم ہوتی چلی جا رہی ہے ۔
ضروری ہے کہ اس سلسلے مےں حکومت نے جس طرح سے پبلک مقامات پر سگرےٹ نوشی پر پابندی لگائی ہے اسی طرح سے سےاسی و فرقہ وارنہ بحث مباحثوں پر پابندی لگائے ۔ خاص طور پر تمام سرکاری‘ نےم سرکاری اور پرائےوےٹ دفاتر مےں سختی کے ساتھ دفتری معاملات سے ہٹ کر مذہب ‘ زبان‘ علاقہ اور سےاسی جماعتوں کی وابستگی کے حوالے سے بحث پر پابندی لگا دی جائے ۔ تمام ہوٹلوں‘ چائے خانوں اور پارک وغےرہ مےں بھی اس طرح کی بحث پر پابندی ہونی چاہےے۔ اگر سچ کہوں تو فرقہ وارےت کچھ نہےں ہے اگر کچھ فروعی اختلافات ہےں تو بھی ان پر بحث کا حق فقط علماءکرام کو ہے نا کہ مجھ جےسے دےن کے معمولی علم رکھنے والے کو کہ مےں چند باتوں کو جان کر مذہب کی بحث کرنے بےٹھ جاﺅں اور نفرتےں پےدا کروں ۔ بات علماءکی ہے تو ےقےنا تمام علماءکرام ہمارے لےے قابل احترام ہےں مگر ان پر بھی اس بات کی پابندی ہونی چاہےے کہ وہ کسی فرقہ وارانہ بحث ےا اختلافی مسئلہ کو اس طرح سے اسپےکر پر بےان نہ کرےں گے جس سے آواز مسجد ےا امام بارگاہ سے باہر جائے اور سب سے بڑ ھ کر وہ معاملات جن پر علماءکرام کے درمےان اختلاف ہے ان پر تو اپنے فرقہ کے علاوہ باہر کسی دوسرے پر تنقےد کی اجازت ہونی ہی نہےں چاہےے ‘ مثلاً اےک فرقہ کے نزدےک قوالےاں ےا نعت کے ساتھ آلات موسےقی کا استعمال جائز ہے اور دوسرے کے نزدےک نہےں تو جس کے نزدےک درست ہے وہ کرے مگر ےہ نہ کہے کہ دوسرا غلط ہے اور جس کے نزدےک ےہ فعل غلط ہے وہ اپنے فرقہ کے اندر تو اس پر بات کرے مگر کھلے عام اسپےکر پر اختلافی بات کرنے سے شدت پسندانہ سوچ بڑھتی ہے ۔ تےسری بات مختصراً ےہ ہے کہ تبلےغ اسلام کا اہم جزو ہے اور تاکےد کرنا بھی اس کا حصہ ہے ےقےنا مسلمانوں کو نماز کی تاکےد کرنا ‘ نےک کام کی جانب راغب کرنا نہاےت اچھا اقدام ہے مگر ےہ کام بھی کہےں پر ہمارے ہاں نفرتوں کو جنم دےنے کا باعث بن رہا ہے ‘ ےقےنا تبلےغ کرنے والے افراد نہاےت اچھا کام کر رہے ہےں مےں ان کو سراہتا ہو مگر ان مےں چند اےک جو ابھی مکمل طور پر تبلےغ سے واقف نہےں ہوتے ان کی وجہ سے نفرتےں پےدا ہوتی ہےں ۔ مےرے سامنے اےک مثال ہے کہ اےک صاحب جوابھی تبلےغ کرنے کے عمل کو سےکھ ہی رہے تھے کسی دوسرے صاحب کو تبلےغ کرنے لگے تو دوسرے صاحب نے کہا کہ مےں فلاں فرقہ کا ہوا س لےے آپ کے فرقہ کی مسجد مےں نہےں آسکتا ‘ لےجےے جناب معاملہ ختم مگر اےسا نہ ہوا وہ اناڑی تبلےغی نے کہا کہ آپ کے فرقہ مےں فلاں باتےں غلط ہےں اس لےے آپ ہماری مسجد مےں آئےے ہم تعلےم دےں گے اور مزےد کےا ہوا ہوگا قارئےن بخوبی جان سکتے ہےں ۔ اس لےے عرض ےہ ہے کہ تبلےغ مےں فرقہ وارانہ نفرتوں کو پےدا کرنے والی کوئی بات نہ ہو اس لےے صرف اور صرف ذمہ دار افراد ہی ےہ کام کرےں اور اگر کوئی اپنے فرقہ کی بات کرے تو اس پر فرقہ بدلنے کے لےے دباﺅ ڈالنا غےر مناسب ہے ۔
ساری باتوں کا خلاصہ پےش کروں تو جس طرح سے پاکستان آرمی مےں مذہب‘ فرقہ اور لسانی تعصبات نہےں پائے جاتے اور سپاہ وطن کے نزدےک سب کچھ صرف اور صرف پاکستان ہوتا ہے اس طرح سے سارے ملک کو ےکجا کےے جانے کی ضرورت ہے ۔
Tags: column , nadeem haider rizvi
ندیم حیدر رضوی
میرے ملک کے ہر دلعزیز سیاستدانوں ‘ میرے ملک کی شان لیڈران کرام‘ میں کچھ کہنے کی گستاخی کر رہا ہوں امید ہے آپ برا نہ مانیں گے۔آپ لوگ تو وہ ہیں جن کو قوم نے ہمیشہ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے ‘ آپ نے ملک کے لیے صیح کیا یا غلط ا س قوم نے ہمیشہ آپ کی راہوں میں پھول ہی بچھائے ہیں’ چند سرپھرے لوگوں کو چھوڑ کر باقی عوام نے آپ کی آواز پر ہر بار لبیک کہا ہے‘ آپ تو سخت سیکورٹی کے حصار میں اور فائر پروف شیشوں کے پیچھے سے عوام کے دلوں کو گرما کر چلے جاتے ہیں لیکن عام آدمی نے دھماکوںکی گونج اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں بھی اپنے لیڈروں سے محبت اور وطن کے لیے خون دینے سے قدم پیچھے نہ ہٹایا ہے ۔
آپ میں سے کچھ وہ ہیں جو مذہب کے نام پر یا مذہب کے لیے سیاست کر رہے ہیں ‘آپ کے نعرے ملک کو اسلامی اسٹیٹ بنانے کے اور شرعی نظام نافذ کرنے کے ہیں۔ آپ ماضی میں لاؤڈ اسپیکر اور تصویر جیسی جدید اشیاء ضرور ت پر بھی سیاست کرتے رہے ہیں مگر آج آپ لوگ چونکہ ان کو خود استعمال کرتے ہیں اس لیے سائنسی ترقی اور مذہب کے تقابل کو لیکر کی جانے والی سیاست کے سلسلے کو تو آپ نے بند کر دیا ہے مگر دور حال میں آپ کی سیاست کا محور ملک کو ایک صیح معنوں میں اسلامی ملک بنانا ہے اسی لیے یہ قوم آپ کی آواز پر لبیک کہنے کو تیار ہے لیکن کیا آپ کے پاس اس کے بعد ملک کو چلانے کے لیے کوئی پلاننگ ہے ‘ کیا جدید ٹیکنالوجی سے مقابلہ کے لیے کوئی منصوبہ بندی ہے؟ کیا ہم فقط مساجد میں نماز پڑھ کر ڈرون طیاروں کی ٹیکنالوجی کا مقابلہ کر سکیں گے۔ کیا تبلیغ کرنے سے جدید بیماریوں کا علاج ہو سکے گا‘ کیا فقط شرعی عدالتوں کے قیام سے دشمن ملک کو شکست دی جاسکے گی۔ قبلہ اسلام تو ترقی کا دین ہے اسلام تو دین معاشرت بھی ہے تو دین معیشت بھی ‘ اسلام تو جدت اور ترقی کو نہیں روکتا ہے ‘ اس ملک کو دنیا سے مقابلہ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی میں بہت ترقی کرنا ہوگی اپنی معیشت مضبوط بنانا ہوگی ‘ آپ جوانوں کو سڑکوں پر تو لے آتے ہیں لیکن کیا ان کو دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی علم کے حصول کے لیے بھی راغب کیا ہے۔ کیا آپ نے نوجوانوں کو تیار کیا ہے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے بعد ملک کے نظام کو چلانے کے لیے یہ لوگ شرعی حدود میں رہ کردنیاوی معاملات کو چلانے کے اہل ہو سکیں‘ کیا امریکہ مردہ باد کہنے سے ہم امریکہ کو شکست دے پائیں گے آپ لوگوں میں سے امریکہ کو برے کہنے والوں میں سے کچھ کے بچے خود امریکہ میں پڑھتے رہے ہیںمگر کسی کا نام لینا تہذیب کے خلاف ہوگا عوام خود واقف ہے۔ خدارا اس قو م پر رحم کریں ملک میں شرعی نظام کے لیے کوششیں کرنا آپ کا حق ہے لیکن امریکہ اور اس کے حواریوں کا راستہ روکنے کے لیے ٹیکنالوجی اور تعلیم و معیشت میں ترقی کر نا بھی ہمارا فرض ہے ذرا قوم کو اس جانب بھی راغب کریں اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
مذہبی لیڈران تو ایک جانب مگر روشن خیال اور وقت کے تقاضوں کے ساتھ چلنے والے سیاستدان حضرات ‘ پاکستان کے قیام سے لیکر آج تک آپ لوگوں نے قوم کو کیا دیا ہے‘ ملک کے لیے طویل المدّت منصوبہ سازی تو شاید آپ لوگوں کی پالیسی کا حصہ ہے ہی نہیں ‘ بس وقتی طور پر ملک کا نظام چلانے کے لیے کبھی دنیا سے ٹیکنالوجی ادھار مانگ لی جاتی ہے تو کبھی کٹورا لیکر دنیا کے امیر اور ترقی یافتہ ممالک کے در کو کھٹکھٹایا جاتا ہے۔ جو منصوبہ بھی بنتا ہے جو مختصرالمدّت ہی کیوں ہوتا ہے آپ لوگ آج سے بیس یا پچاس سال بعد کا کیوں نہیں سوچتے ہیں۔ہمارے ملک کا المیہ یہ بھی ہے کہ آپ لیڈروں میں سے اکثریت تو جاگیردار گھرانے سے ہے اور سوچیں بھی ویسی ہی ہیں‘ اسمبلی اور جلسوں میں علم کی روشنی پھیلانے کے وعدے کرنے والے آپ لوگوں کی اپنی جاگیر پر کام کرنے والے غریب کسانوں کے بچے کتنی تعلیم حاصل کرتے ہیں اس سے سبھی واقف ہیں‘ آپ لیڈران پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے دنیا بھر کو راغب کرتے پھرتے ہیں تاکہ ملک ترقی کرے لیکن آپ اپنا سرمایہ غیر ملکی بینکوں میں رکھنے یا بیرونی ممالک میں سرمایہ کاری کرنے کے سلسلے کو کیا کہیں گے۔ آپ اپنا سرمایہ بینکوں پڑے رہنے دینے یا پلاٹ خریدنے کے بجائے ملک میں فیکٹریاں لگانے پر خرچ کیوں نہیں کرتے ہیں۔ ملک میں عوام جدید طریقہ علاج نہ ہونے کے باعث پریشان ہے اور آپ لوگ اپنا علاج بیرون ملک کروالیتے ہیں تو پھر ملک میں جدید اسپتال کھولنے پر توجہ کون دے۔ آپ میں سے جو حزب اختلاف میں ہوتے ہیں وہ غیر ملکی امداد لینے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ تو بہت بناتے ہیں لیکن کیاکبھی کوئی قابل عمل منصوبہ بھی پیش کیا ہے جس سے حکومت کی مشکلات دور ہو سکیں ایسا نہیں ہوتا ہے اور یہ تنقیدکرنے والے بھی حکومت میں آنے کے بعد امداد مانگنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر صرف ایک سوال ایسا ہے جس کاجواب آپ کو دینا ہی ہوگا اور وہ سوا ل ہے آپ کی یہ مخالفت برائے مخالفت کی سیاست کب تک چلے گی ۔ خدارا اس قوم پر رحم کریں اور جو وقت سیاسی داؤ پیچ کے لیے لگاتے ہیں اس کا نصف ہی ملک کے لیے منصوبہ سازی پر لگا دیں تو ہم ترقی کی راہوں میں چل پڑیں گے۔ شاید کچھ لوگ وضاحت پیش کریں کہ حکومت میں موجود لیڈران تو دن رات ملک کے لیے منصوبے بناتے ہیں لیکن آپ لیڈران خود ہی بتا دیجیے کہ ساری منصوبہ بندی ‘ پلاننگ اور کوششیں تو یہ سیکرٹری اور سرکاری ملازم کرتے ہیں آپ تو ان فائلوںپر اپنے دستخط کرکے اور میڈیا پر آکر اپنے نام کو روشن کرلیتے ہیں۔
آپ لوگ اور کچھ نہیں کرسکتے تو خدارا صرف اتنا کیجیے کہ اس قوم کا مورال ڈاؤ ن مت کیجیے ‘ اس قوم کے حوصلے ابھی بہت بلند ہیں ابھی یہ قوم اپنے وطن کے لیے بہت کچھ کرنے کو تیار ہے اگر ضرورت ہے تو ان لیڈروں کی جو عوام کے اندر حوصلوں کو بلند کرکے ان کی رہنمائی کرسکیں مگر آپ ہر لحظہ عوام کے حوصلے پست کرنے کی باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں خصوصاً حکومت مخالف لیڈران تو ملک کا احوال ایسے بیان کرتے ہیں کہ لگتا ہے کل ہی یہ ملک ختم ہو جائے گا۔ خدارا بہت ہو چکا اب قدم بڑھائیے قدم سے قدم ملائیے اور باہم مل کر اس قوم کی رہنمائی کیجیے پھر دیکھیے یہ قوم کیسے جاپان اور امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ تی ہے۔
Tags: column , nadeem haider rizvi
ندیم حیدر رضوی
ایک صدی سے زائد گزری جب ڈارون نے اپنا نظریہ ارتقاء پیش کیا تھا ‘ اس کے نظریے کے مطابق ایک مادہ حرکت کرتا ہوا گیس بنا اور پھر ارتقاء کے مختلف مراحل طے کرتا رہا اور بندر یا چمبیزی کی شکل میں نمودار ہوا اور ارتقاء کے مزید مدارج طے کرتے کرتے ہوئے بالآخر موجودہ انسان کی شکل اختیار کرلی اور کرہ ارض پر حکومت کرنے لگا ۔ ڈارون کا نظریہ ارتقاء فقط اسلام ہی نہیں بلکہ سبھی الہامی مذاہب کے عقائد اور تعلیمات کے خلاف ہے خصوصاً حضرت آدم کے زمین پر خدا کی جانب سے اتارے جانے پر ایمان رکھنے والے افراد کے ہاں تو اس نظریے کو سرے سے رد کر دیا گیا۔
مگر آج اس نظریے کودیکھتے ہیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ انسان پہلے تو بندر نہ تھا لیکن اب انسانیت کی حدود سے نکل کر بندریت کی حدودمیں داخل ہورہا ہے۔ کبھی چڑیا گھر جانا ہو تو بغور دیکھیے گا کہ بندر وں کی جانب پھینکی جانے والی چیز کی جانب تو سبھی دوڑتے ہیں لیکن کسی ایک کے اٹھالینے پر باقی خاموشی سے کنارا پکڑ لیتے ہیں گویا انسانوں کی مہذبانہ عادت ان میں آگئی ہے لیکن انسان ایک دوسرے کے ہاتھوں اور منہ سے نوالہ چھین رہا ہے ‘ روٹی کے ایک ٹکڑے کی خاطر دوسرے کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ بندر تو پنجرے میں قید رہ کر بھی ایک دوسرے کے ساتھ نبھا کرلیتے ہیں لیکن انسان معمولی معمولی باتوں کو لیکر اپنے اہل محلہ تو دور اب اہل خاندان کے ساتھ بھی نبھا کرنے میں ناکام ہوتا چلا جا رہا ہے ۔بندروں اور دیگر جانوروں کو ہم نے شہر میں لاکر جنگل تو خالی کر دیا مگر جنگل کا قانون اپنے شہروں میں رائج کرنے کے لیے ہم بھرپور کوشاں ہیں۔ ہر شخص دوسرے کی بوٹیاں ایسے نوچ رہا ہے جیسے بھیڑیے دوسرے جانور کی۔ انسانوں نے اپنے علاقے ایسے بانٹ لیے ہیں جیسے جنگل میں رہنے والے جانور اپنے علاقوں کی تقسیم کرلیتے ہیں اور دوسرے علاقے کے آنے والے کو برداشت نہیں کرپاتے یقین نہ آئے تو شہر کراچی ہی میں لسانی‘ علاقائی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم شدہ علاقوں پر نظر ڈالیے۔ ذرا بندروں کی عادات پر غور کیجیے وہ اپنی نسل جیسے انسانوں ہی ساتھ بہتر طور گزارا کرتا ہے اور دوسری نسل کے ساتھ گزارا مشکل ہوجاتا ہے جیسے کالا بندر ‘ بھورے بندر کے ساتھ گزارے پر تیار نہیں ہے اور ہم انسان جو خود کو اشرف المخلوقات کہتے ہیں وہ بھی تو رنگ و نسل کی بنیادوں پر ایک دوسرے کے ساتھ باہم دست و گریبان ہیں۔ بندر بیچارہ تو اپنے دشمن کو ایک پتھر ہی مارتا ہے مگر انسان خاندان کے خاندان فقط ایک شخص کی دشمنی میں ما ر ڈالتا ہے ۔ بندر کو کھانے کو کچھ مل جائے تو فوراً اٹھا کر ایک طرف چلا جاتا ہے اور خود سے بچ جائے تو دوسرے کے لیے چھوڑ دیتا ہے مگر ہم انسان ان سے کچھ کم نہیں ہیں دوسرے کو بھوکا دیکھ کر بھی ہمارے اندر کی انسانیت سو جاتی ہے‘ بندر تو اپنا بچا دوسرے کو دینے کو تیار ہوجاتا ہے اور ہم اپنا بچا بھی فریج کی نظر کردیتے ہیں لیکن دروازے پر آئے بھوکے کو دینے کو تیار نہیں ہوتے ہیں۔
ڈارون نے کہا تھا کہ انسان پہلے بندر تھا اور ہم لوگو ں نے اس کا بدلہ لینے کے لیے بندر کواپنا غلام بنا کر اس کو تماشے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ مداری اور بندر کا تماشہ تو قارئین دیکھتے ہی رہتے ہونگے مگر آج ذرا ‘ اس تماشے کا یہ پہلو بھی دیکھیے کہ جیسے مداری اپنے بندر کو نچاتا ہے اور کہتا ہے ذرا سب کو سلام کرو‘ ناچ کر دکھاؤ کچھ ایسا ہی امریکہ اور اس کے حواری ہمارے جیسے ترقی پذیر اور غریب ممالک کے ساتھ کر رہے ہیں ‘ ذرا اپنے لوگ پکڑ کر تو دو اپنے لوگوں پر بمباری تو کرو‘ ذرا جھک کرہمیں سلام تو کرو ۔ کیوں کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے نا؟؟۔۔۔ اس تماشے میں دوسری خاص بات یہ ہوتی ہے سب کو سلام کرنے کے بعد اپنا کٹورا ‘اٹھا کر سب تماشہ دیکھنے والوں سے رقم کا مطالبہ کرنا اور حضرت بندر اپنے آقا اور اپنا پیٹ بھرنے کے لیے ہر در پر جاکر رقم مانگتے رہتے ہیں اور غریب ممالک کے حکمران جو کٹورا اٹھائے دیگر ممالک کے در پر ۔۔۔ میں کیا کہوں قارئین کافی سمجھ دار ہیں۔ آج دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے کیا وہ انسانیت ہے کیا ایٹم بم کا پہلا استعمال انسانیت تھا ۔ کیا انسان کا اپنے ملک کی حفاظت کے نام پر دوسرے ملک میں داخل ہو کر وہاں کے انسانوں کی آزادی چھین لینا اور خون کی ندیا ں بہا دینا انسانیت ہے‘ ہٹلر اور نپولین جیسے لوگوں کو ہم انسانوں کے کس درجے میں رکھیں گے۔ عراق‘ فلسطین ‘ لبنان ‘ افعانستان اور دیگر مظلوم ممالک کے عوام کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ انسانیت کے دائرے میں آتا ہے یا بندریت۔
کہیں راقم کو بندروں کے ایجنٹوں میں شمار نہ کرلیا جائے اس لیے انسان اور بندر کا یہ تقابلی جائزہ یہیں ختم کرتا ہوں ۔ مگر حقیت یہی ہے کہ آج بند ر تو ہم انسانوں میں آکر مہذب ہو چلا ہے اور ہم بندر بننے سے زیادہ دور نہیں ہیںبس بے دُم کے بندر۔
اپنی تحریر کے آخر میں اپنے قارئین کے اعتراضات کے جواب دینے میں مجھے ایک سکون سا ملتا ہے اس لیے آج ایک قاری کے لیٹر کا جواب ضرو ر دوں گا۔ محترم نے مجھ پر الزام عائد کیا ہے کہ میں امریکہ ‘ اسرائیل جیسے ملکوں کے خلاف لکھنے سے ڈرتا ہو ں یا دنیا کے بڑے مسائل پر میری توجہ نہیں ہے ۔ ایسے قارئین سے میری صرف اتنی گزارش ہے کہ اس حوالے سے لکھنے والے میرے محترم قلم کار تو بہت ہیں اور میں ان کا بے حد احترام کرتا ہوں لیکن یہ بندہ ناچیز جب بھی قلم اٹھاتا ہے اس کے سامنے اپنا ملک اپنا معاشرہ اور اپنے لوگ آجاتے ہیں ہاںجس دن اپنے ملک اور معاشرے کے مسائل ختم ہوگئے امریکیوں پر نظر ضرور ڈالوں گا۔ یہ ضرور واضح کردوں کہ میں متعدد بار دنیا کے مسائل پر لکھ چکا ہوں لیکن کیا کروں کہ شاید میں بھی کہیں نہ کہیں بندر ہی بنتا چلا جارہا ہوں کہ اپنے معاشرے کے علاوہ کچھ نظر آتا ہی نہیںہے۔
Tags: column , nadeem haider rizvi

ندیم حیدر رضوی
صحافت اور خبر کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ جس دن حضرت انسان نے دوسرے انسان کے بارے میں جاننے کی کوشش کی اس دن خبر کی ابتدا ہوئی ۔ انسان نے اپنی خبر دوسروں کو دینے اور دوسروں سے خبر حاصل کرنے کے لیے پتھروں ‘ درختوں جیسی اشیاء پر تصاویر بنا کر اپنے پیغام کو پہنچا یا اور اس طرح اخباریت کی ابتدا کی۔ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ خبر حاصل کرنے کے طریقہ کار بھی بدلتے رہے ‘ مختلف ادوار میں بادشاہوں نے اپنی مملکت کے علاقوں میں خفیہ نامہ نگار تعینات کیے جو کہ خبریں بادشاہوں تک پہنچایا کرتے تھے مگر صحافت کا باقاعدہ آغاز کاغذکی ایجاد کے بعد ہوا۔ صحافت ایک مقصد قرار پایا اور اس پیشہ سے وابستہ افراد ہر طور سچ کو سامنے لانے کے لیے عوام تک خبریں پہنچانے لگے لیکن ابتدائی دور صحافت بادشاہوں اور آمرانہ سوچ کے مالک امرا ء کی نظر میں کھٹکنے لگا اس لیے اس پر پے در پے پابندیاں عائد کی جانے لگیں کہیں صحافیوں پر ظلم ہوئے تو کبھی پریس کے لیے سنسر اور اجازت ناموں کی پابندیاں لگائیں گئیں ‘ کہیں حکام بالا کے خلاف لکھنے پر پابندی لگی تو کہیں ہر خبر کے چھپنے سے قبل حکومتی ارکان سے منظور کروانا لازم ہوا۔ حتیٰ کہ کلیسا نے بھی مختلف طرح سے صحافت پر اپنے احکامات صادر کیے تاکہ کلیسا کے خلاف کوئی بات منظر عام پر نہ آسکے۔کلیسا کے ظلم اور بادشاہوں کے خلاف لوگوں نے آواز اٹھانا شروع کی اور اسی دور میں مختلف سائنسی و جغرافیائی دریافتوں نے انسان کے ذہن میں وسعت پیدا کی جس سے شخصی آزادی کی آواز بلند ہونا شروع ہوگئی اسی سے متاثر ہوکر مدتوں سے پابند صحافت نے خود مختاری اور آزادی حاصل کرلی۔یہ مکمل آزادی ایک جانب تو عوام تک صیح خبریں پہنچانے میں معاون ہوئی تو دوسری جانب معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے لگی‘ مکمل آزادی کے نام پر غیر اخلاقی معاملات ‘ فحاشی پر مبنی خبریں و اطلاعات منظر عام پر آنے لگیں اور تیسری جانب حکام اور حکومت کے حوالے سے خفیہ معاملات سامنے آنے سے عوام اور حکام میں اختلافات پیدا ہوئے اور نظام مملکت بگڑنے لگا ۔ صحافت اس حد تک آزاد ہوگئی کہ مملکت کے خفیہ راز بھی آزاد صحافت کے ذریعے دشمن ممالک تک پہنچنے لگے۔ ایسے میں مختلف حلقوں کی جانب سے صحافت کی مکمل آزادی کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔وقت کے ساتھ مختلف اداروں میں سماج اور حالات کو مدنظر رکھ کر معاملات طے کیے جانے لگے تو وہاں صحافت نے بھی سماجی ذمہ داری کے ساتھ صحافت کے انداز کو اپنالیا۔ اب ہر خبر کو شائع کرتے وقت معاشرے اور سماج کو سامنے رکھا جاتا ۔ کوئی ایسا معاملہ جو کہ’’ ملکی رازوں کو سامنے لائے یا حکام اور عوام میں دوریاں پیدا کرے یا پھر معاشرتی بگاڑ کا باعث بنے ‘‘ سے صحافت نے گریز کیا اور بہتر انداز صحافت سامنے آیا جس سے ایک جانب سچ بھی سامنے آیا اور معاشرتی اقدار بھی محفوظ رہیں۔ آج دنیا کے زیاد ہ تر ممالک میں اسی سماجی ذمہ دارانہ رویہ کے ساتھ ہی صحافت کوفروغ حاصل ہے۔پاکستان معرض وجود میں آیا تو ابتدا میں صحافت نے مکمل سماجی ذمہ دارانہ رویہ اپنایا لیکن حق اور سچ کو سامنے لانے کی پاداش میں اسے ہر دور میں پابند سلاسل کیا جاتا رہا ‘ کبھی سنسرکی پابندیا ں لگیں تو کہیں کاغذی کوٹہ اور سرکاری اشتہارات کی پابندی جیسے معاملات سے نمٹنا پڑا۔ کبھی ڈیکلریشن منسوخ ہوا تو کہیں مختلف جماعتوں اور گروپوں کی جانب سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا لیکن ایسے میں بھی صحافت نے اپنا وقار قائم رکھا اور آج تک ہمارے معاشرے میں صحافت کو ایک مقدس پیشہ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ مشرف دور حکومت میں جب پاکستانی صحافت ایک نئے دور میں داخل ہوئی یعنی ٹی وی جرنلزم اور نت نئے اخبارات کے لیے آسان ڈیکلیریشن جس سے ملک میں بے شمار ٹی وی چینلز سامنے آئے اور اخبارات کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہونے لگا۔ پاکستان میں صحافت نے آزادی کے لیے بے حد جدوجہد کی ہے اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہے ۔ لیکن مشرف دور حکومت میں صحافت کو ملنے والی آزادی کے بعد کہیں کہیں صحافی برادری نے جلد بازی میں بہت زیادہ آزادی کا مظاہر ہ کرنا شروع کر دیا جس سے کچھ ایسے عوامل بھی سامنے آئے کہ صحافت اور صحافیوں کو مستقل تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا اگرچہ تنقیدزیادہ ان عناصر کی جانب سے کی جاتی رہی ہے جو کہ اپنے مفاات کو نقصان پہنچتے نہیں دیکھ سکتے تھے اور سچ سامنے آنے سے ان کے مفادات کو زک پہنچتی تھی لیکن کچھ معاملات ایسے بھی تھے جن پر تنقید جائز تھی جیسے کہ خوف و دہشت پھیلانے والے ویڈیو اور تصاویر ‘بنا سنسر کے جاری کردینا۔ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا اور اخبارات نے اب کافی حد تک ذمہ دارانہ رویہ اپنا لیا ہے لیکن چند معاملات ایسے ہیں جو کہ پاکستانی صحافت کی عظمت کو اب بھی داغ دار کر رہے ہیں ۔ ایک ہے مختلف ٹی وی چینلز کی جانب سے دوسرے چینل کو نیچا دکھانے کی کوشش ‘ جیسا کہ خبر ایسے جاری کی جا سکتی ہے کہ ’’فلاں مجرم بے قصور ہے ‘‘ لیکن خبر ایسے جاری کی جاتی ہے کہ ’’ ایک نجی چینل نے مسٹر الف کو مجرم ثابت کیا ہے لیکن ہم نے ثابت کیا کہ وہ بے قصور ہے‘‘ میڈیاسے وابستہ افراد اس طالب علم کو بتائیں کہ کیا دوسرے چینل کی تضحیک کیے بنا یہ خبر جاری نہیں ہو سکتی ہے ۔ دوسری جانب ذاتی نظریا ت بھی اخبارات اور ٹی وی پر بہت زیادہ نظر آنے لگے ہیں ۔ صحافت کا کام تو غیر جانبدارنہ رہنا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہر ایک کے کچھ ذاتی تعلقات اور نظریات ہو سکتے ہیں مگر صحافت میں ذاتیات کچھ نہیں ہوتی ‘ ایسے میں صرف ایک مثال دوں گا کہ اخبارات اور ٹی وی چینلز جس تنظیم سے راضی ہوتے ہیں اس کے کارکنان کو لکھا جاتا ہے ’’ تنظیم الف کے کارکنان اسلحے کے ساتھ گرفتار‘‘ جبکہ جس سے راضی نہ ہوں ان کے حوالے سے کہا یا لکھا جاتا ہے ’’ تنظیم ب کے دہشت گرد اسلحہ کے ساتھ گرفتار‘‘ یہ کارکنا ن کے حوالے سے دو الگ الگ الفاظ کا استعمال کیوں؟ کیا یہی غیر جانبدارانہ اور آزاد صحافت ہے۔ ہونے کو تو بہت سے معاملات ہیں لیکن سے سے بڑا مسئلہ ہے کہ اپنے اخبار یا ٹی وی چینل کو مقبول کرنے کے لیے دوسرے کی قدر و قیمت کم کرنے کی کوشش۔
میری امید ابھی ختم نہیں ہوئی ہے جانتا ہوں کہ بے شمار لوگ مجھ تنقید کا نشانہ بنائیں گے ممکن ہے کہ یہ کالم شائع ہی نہ ہو اگر آپ اس کو پڑھ رہے ہیں تو جان لیجیے کہ ابھی امید باقی ہے غیر جانبدار اور حق کہنے والے صحافیوں کی بدولت ہی ہم بھی دنیا کے دیگر ممالک کی آزاد اور سماجی رویوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ اقدار کے ساتھ چلنے والی صحافت کی منزل کو چھو ہی لیں گے ۔
Tags: column , nadeem haider rizvi