Entries Tagged as 'Khurshid Zaman'
November 2nd, 2009 · Comments Off
امریکی سیکرٹری خارجہ گزشتہ جمعہ کو اپنا کامیاب پاکستانی دورہ مکمل کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات روانہ ہو گئی یہ دورہ جسے ہر لحاظ سے ایک انتہائی کامیاب دورہ کہا جا سکتا ہے ۔ اس دورہ سے جہاں ہیلری کلنٹن نے امریکہ کا ہر محاز پر بھرپور دفاع کیا وہاں انہوں نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ بلا شبہ امریکہ کے سیاسی عمل میں حصہ لینے والی چاہے خاتون ہو یا مرد انہیںدنیا پر راج کرنے کے سارے راض ونیاز پر بھرپور اعتماد ہے ۔ ہیلری کلنٹن کے ا س سہ روزہ دورے کے پہلے مرحلہ پر اگرچہ پشاور میں اپنی نوعیت کا تباہ کن دھماکہ ہوا جس میں بے گناہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو پندرہ سے تجاوز کر گئی ۔
بلا شبہ ہیلری کلنٹن کے دورہ پاکستان کے موقع پر اس دھماکہ سے عملی طور پر پاکستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی موجودگی کا ثبوت دیا گیا تاکہ دہشت گردی کے حوالہ سے امریکی موقف کی عملی طور پر تائیدوحمایت کی جا سکے ۔ ہیلری کلنٹن نے حکومت ، اپوزیشن اور عسکری قیادت سے لے کر پاکستانی تاجروں ، میڈیا، طلباءاور خواتین سب سے آمنے سامنے ون ٹو ون ملاقاتیں کیں علامہ اقبال اور بادشاہی مسجد کے علاوہ صوفیاءکے مزارات پر حاضری دی اگرچہ ہیلری کے دورہ پاکستان کے دوران امریکہ مخالف مظاہرے بھی ہوئے حسب روایت مگر ہیلری کلنٹن کے امریکی دفاع کے جذبے میںزرا برابر بھی فرق نہیں آیا۔حکومت اور اپوزیشن یا عسکری قیادت سے ملاقات کے علاوہ سیکرٹری خارجہ نے اپنے اس دورہ میںصوفیاءکے مزارات پر حاضری دے کر کیا ثابت کیا ؟خواتین ،تاجروں یا طلباءوطالبات سے ملاقاتیں کر کے پاکستانی قوم کو کیاپیغام دیا ؟ہر تجزیہ نگارنے اپنے اپنے نقطہ نظر سے ہیلری کے اس دورے پر کئی طرح کے تبصرے کیئے جہاں تک میری ذاتی رائے ہے تو شاید ہیلری کلنٹن نے مسلمانوں کے مزارات پر حاضر ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے صوفیاءکی حقیقی تعلیم کو فراموش کر دیا اورمسلم خواتین نے سروں سے چادریں اتار دی ہیں ۔ پاکستان کی حکومت یا سیاستدان ہی امریکی امداد پر انحصار نہیں کرتے بلکہ پاکستانی تاجر بھی اپنی تجارت امریکی امداد کے بغیرآگے بڑھانے کی کسی حکمت عملی کا کوئی منصوبہ یا متبادل نہیں رکھتے طلباءوطالبات سے مخاطب ہو کر ہیلری نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ امریکہ پاکستان کی نوجوان نسل سے بھی دوستی کا رشتہ جوڑ سکتا ہے ۔
کیری لوگر کی وکالت کا فریضہ بھی ہیلری کلنٹن نے منہ توڑ جواب کے طور پر انجام دیا ڈرﺅن حملوں کی امریکی مخالفت کا بھی منہ توڑ جواب دیا بلاشبہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی صرف بناتا ہی نہیں بلکہ اس کے دفاع کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ ہی نہیں بلکہ ہیلری نے امریکہ کی جانب سے موجودہ حکومت کو سوات آپریشن کے نام پر دی جانے والی تیس ملین ڈالر کی امداد کے خرد بردہونے کا الزام بھی واشگاف الفاظ میںپاکستانی حکومت پر عائد کر تے ہوئے تقریب کی شرکاءخواتین سے ووٹنگ بھی کروائی کے کتنے پاکستانی شہریوں کو امریکہ کی جانب سے دی جانے والی اس امداد کا علم ہے تو شاید شرکاءمیں سے پانچ خواتین نے ہاتھ کھڑا کیا گویا دوسرے لفظوں میں انہوں نے کیری لوگر بل میںعائد کردہ امدادی شرائط کی اہمیت و افادیت کی وضاحت بھی کر دی کہبلا شبہ پاکستان کو دی جانے والی امداد پاکستانی عوام پر خرچ نہیںہوتی پاکستان کی موجودہ حکومت کےلئے بلخصوص اورپاکستانی سیاستدانوں اور سابق حکمرانوں بشمول عسکری قیادت کےلئے ہیلری کلنٹن کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے لہذا پاکستان میں امریکہ مخالف مظاہرے کرنے والوں کو اس امریکی امداد کے خرد برد پر بھی ملک گیر مظاہرے کرنے چاہیے کے وہ تیس ملین ڈالر کی امداد متاثرین سوات تک کیوں نہیں پہنچ پائی ۔امریکہ کی جانب سے پاکستان میں القاعدہ کی موجودگی کا ثبوت بھی ہیلری کلنٹن کے اس دورہ کے دوران اس وقت سامنے آیا جب ان کی موجودگی میںجنوبی وزیرستان سے جرمن اور سپنش پاسپورٹ برآمد ہوئے اور ان افراد کا تعلق نائن الیون کے حملہ آور وں سے بتایا گیا جن کی تصاویر اور پاسپورٹ نمبرات اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی انٹر پول لسٹ میں موجود ہیں۔ان میں ایک پاسپورٹ کا صرف ایک نمبر مذکورہ لسٹ میں موجود نمبرات سے نہیں ملتا جبکہ تصاویر کے بارے میں تصدیق ہو چکی ہے کہ وہ انہی افراد کی ہیں جو امریکہ کو نائن الیون میں مطلوب ہیں۔ جرمن پاسپورٹ کا نمبرL864Z163 جبکہ سپنش پاسپورٹ کا نمبر P099823 بتائے گئے ہیں ۔ گویا ہیلری کے دورہ پاکستان کے دوران پشاور دھماکے نے بھی دہشت گردی کے امریکی مﺅقف کی عملی طور پر تائید و حمایت کر دی کہ واقعی القاعدہ جنوبی وزیرستان میں موجود ہے ۔ تھا اور رہاہے ۔ہیلری کے پاکستان میںموجودگی کے وقت ان پاسپورٹ کی برآمدگی کا شاید ایک مقصد یہ بھی ہوا ہو کہ امریکی وزیر خارجہ پاک آرمی کے اس کارنامہ پر کسی بڑے مالی امداد کا اعلان کردیں گویا ڈرﺅن حملوں سے لے کر کیری لوگر بل اور دہشت گردوں کی پاکستان میں موجودگی کا اہم اعتراف بطور ثبوت ہیلری کے اس سہ روزہ پاکستانی دورے کے وقت سامنے آنا کیا کئی محاذوں پر امریکی موقف کی صداقت کا باعث نہیں بنا ۔کیا امریکی امداد کا خرد برد پاکستان کی ماضی اور حال کی حکومتوں پر صحیح ثابت نہیںہوا ۔؟
اگر امداد دینے والے سرے عام اس کے اجراءاور خرد برد کا رونا رو رہے ہیںتو کیا یہ سب جھوٹ ہے ؟کونسے پاکستانی حکمران و سیاستدان ہیں وہ جو اپنی قوم کے نام پرحاصل کردہ یہ امریکی امداد ایک طویل عرصہ سے خرد برد کرتے چلے آرہے ہیں۔ ؟کیاامریکہ سے سول یافوجی امداد کی درخواست پاکستان کی ماضی کی فوجی یا سول حکومتیں بشمول موجودہ حکومت کے نہیں کرتی چلی آرہی ہیں ؟یا امریکہ کو خود پتہ ہے کہ پاکستان کو فلاں فلاں کاموں میںامریکی امداد مطلوب ہے اگر امداد دینے والا آپ کے گھر میں بیٹھ کر واضح کہہ رہا ہے کہ اتنی امداد دی گئی اور وہ بھی پاکستانی حکمرانوں نے اپنی عوام کی بہتری پر خرچ نہیں کی تو چور دینے والا ہوا یا لینے والا ۔شاید سابق صدر مشرف نے این آر او کا آرڈیننس ہیلری کے مذکورہ بیان کے خدشہ کے پیش نظر ہی جاری کیا تھا۔ ہیلری کلنٹن نے اس دورے میں اعتراف کیا کہ پاکستان میں آمروں کی حمایت غلطی تھی اب برائے راست پاکستانی عوام پر سرمایہ کاری کریںگے ۔ہیلری کلنٹن نے نجی امریکی ایجنسیوں کی پاکستان میں موجودگی پاکستان کے سکیورٹی نقطہ نظر کو اہم قرار دیاجبکہ انہوں نے بلیک واٹر کی موجودگی کی قطعی کوئی ترید نہیں کی امریکی وزیرخارجہ نے ڈراﺅن حملوں کی جس شاندار الفاظ میں دفاعی حکمت عملی کا اس دورے کے دوران جواب دیا وہ ان کی سیاسی حاضر دماغی کی کمال ماہرت ہے کہ ڈرﺅن حملوں پر حتمی فیصلہ دونوں ممالک کی فوجی قیادت کرے گی کیونکہ امریکہ سسٹم میں تمام ادارے خود مختار ہوتے ہیں ۔ اور کوئی ایک ادارہ کسی دوسرے ادارے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا دنیا پر راج کرنے کے چند سیاسی وانتظامی اصولوں میں امریکہ کا ایک یہ بھی نمایاں اصول ہے ۔بہرحال ہیلری کلنٹن کے اس دورہ نے ایک بار پھر ثابت کر دیاکہ امریکہ کے نزدیک اس کا ذاتی مفاد ہی شروع دن سے اولیت رکھتا ہے اور یہی امریکہ کی خارجہ پالیسی کا نمایاں اصول ہے ۔
Tags: Khurshid Zaman , column

تحریر:خورشید الزماں عباسی
ان سطور کی اشاعت اگرچہ کئی طرح کی بحث وتمحیص کا باعث بنے گی مگر معاملات کی نذاکت کا ادراک کرنا ہی اکثر بحث و تمحیص کے نتیجہ میں زندہ قوموں کیلئے سوغات کا باعث بن جایا کرتا ہے۔پاکستان کی موجودہ نازک صورتحال میں بلاشبہ یہ وقت موجودہ حالات و واقعات سے نبردآزما ہونے کا ہے ۔اگر گزشتہ 62 سالوں کا تجزیہ ہر لحاظ سے کیا جائے تو بھی نتائج سب کے سامنے ہیں کیا وجہ ہے کہ ایک ایٹمی طاقت کا حامل ملک داخلی اور خارجی محاز پر اس طرح مستحکم نہیں جس طرح موجودہ صدی کی ایٹمی قوتیں ہیں ۔پھر اس برملا حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کے زندہ قومیں اصلاح اخوال کے لیئے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہیں ۔سنگین اور نازک حالات زندہ قوموں کیلئے نیا سبق ہونے کے ساتھ ساتھ نئی سنجیدہ اورسخت گیر حکمت عملی اختیار کر نے کا باعث ہوتا ہے ۔گویا حالات کی اس نزاکت کا بہتر حل تلاش کرنے کیلئے وقت کی حدود وقیود کوئی معنی نہیں رکھتی پھر اصلاحی سبق وہی ہوتا ہے ۔جس کا آپ کسی بھی وقت احسا س کر لیں اسی لیئے کسی شاعر نے ان حالات کی نزاکت کا یوں اظہار کیا
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لاز م ہے
اور کیا ہی اچھا ہو کے ہم 62 سالہ حالات کا تدارک کر کہ مشکل حالت میں جینے کے بجائے بہتر حکمت عملی کوشعار بنا کر جینا سیکھ لیں ۔لہذا آئیں مل جل کر نیا پاکستان تشکیل دیں ۔ملک کی سیاسی قیادت اور ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ اگر ان سطور سے آپ کو میری کوئی ادنیٰ سے رائے بھی قابل عمل نظر آئے تو اس پر ضرور غور کر لینا کیونکہ ہونا تو وہی ہے ،جو آپ چاہیں گے ،کیونکہ ملکی فلاح وبہبود کے سارے راز ونیاز تو آپ کے پاس ہیں مگر اس شور وغل میں اگر ہماری آواز نے آپ کے معاملہ فہم ذہنوں تک رسائی پالی تو ہم بھی خوش ہوجائیں گے ۔باقی لینا دیناتو مقدروں کی بات ہے ۔مگر میری ناقص تجزیاتی علم ودانش یہ برملا کہہ رہی ہے کہ گزرے 62 سالوں میں اول تو آپ کے اتحاد واتفاق کی کوئی نظیر خوردبین سے دیکھنے کے باوجود کم ازکم مجھے دکھائی نہیں دی ۔ہو سکتا ہے میری نظر کا قصور ہو یا گزشتہ 62 سالوں کے ملکی معاملات کے مطالعاتی مضمون کو غور وفکر سے پڑھنے میں ہم نے کوتاہی کا ارتکاب کر دیا ہو ۔اس 62 سالہ کارکردگی میں میرا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ملک ریاستی نظام کوچلانے کے بنیادی قوانین سرے سے ہم نہیں بنا سکے اور بنیادی قوانین جو بنے بنائے تھے ،ان پر عمل درآمد بھی نہیں کروا سکے گویا شیخ سعدی کے بقول
خشت اول گر نہاد معمار کج
تاثر یا می روح دیوار کج
یعنی جس عمارت کی بنیاد اینٹ صحیح نہیں ہوگی وہ بلا شبہ اپنی انتہائی تک بد نما ہو گی مگر اگر آج اکیسویں صدی میں ہم اس عمارت کو گرا کر جدید تقاضوں کے تحت دوبارہ تعمیر کر لیں تو اس میں کوئی امر مانع دکھائی نہیں دیتا باقی ملکی اداروں کی حالت پر بات کرنی فضول اس لیئے دکھائی دیتی ہے کہ قصور بنیادی نوعیت کا ہے ۔باقی افراد اور اداروں کا کیا قصور ؟بہرحال معاملہ ابھی ناممکن دکھائی نہیں دیتا صرف صدق دل سے تجدید عہد کی ضرورت ہے ۔یوں توآج 62 سالوں کے بعد بھی ہم نیا پاکستان تشکیل دینے کی تجویز ملک کی قومی قیادت ہی کو دے رہے ہیں ۔ہم ماضی بھولا کر مستقبل کی جانب پیش قدمی کرنا چاہتے ہیں ۔اوریہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری 62 سالہ پرُانی سیاست ،قیادت نااہل ہو چکی ہے ۔مانا کہ آپ سے اتحاد واتفاق نہیں ہو سکا قانون سازی اور ریاستی اداروں پر مؤثر کنٹرول نہیں ہو سکا ۔کوئی بات نہیں ،مشترکہ قومی کانفرنس بلا کر تمام پارٹی کے سیاسی اورملکی فلاح وبہبود کے اغراض ومقاصد پر غور کرؤ ،پارٹی اغراض ومقاصد سے وہ وہ شقیں حذف کر دو جن سے ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف پاکستانی قوم کو دکھاوے کی حد تک ہیں ۔روٹی کپڑامکان کا نعرہ اب پرانا ہو چکا ہے ۔گزشتہ 62 سالوں سے ہم نے کس کو روٹی ،کپڑا اورمکان دیا ۔اسی طرح دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنے اپنے اغراض ومقاصد سے فرسودہ شقیں حذف کر کہ اکیسویں صدی کی انسانی ضروریات کو عوام کے سامنے لائیں ،نئے پاکستان کی تشکیل کیلئے بذیل تجاویز پر غور کیا جا سکتا ہے ۔
١۔سپریم کورٹ آف پاکستان اور سیاسی جماعتوں اور اسمبلی اراکین پر مشتمل مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو ملک میں نافذ العمل قانون کا سرے سے جائزہ لے تمام متنازعہ اور متصادم قوانین کو بشمول سترویں ترامیم نکال کر غیر متنازعہ آئین سامنے لایا جائے جو صرف اور صرف عوام کیلئے قابل قبول ہو۔
٢۔عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کرنے کی نئی سپریم کورٹ پالیسی کو قابل عمل بنایا جائے تاکہ بنیادی طور پر انصاف کا بول بالا ہو۔
٣۔ضلعی اورمرکزی سطح کے اہم عدالتی مقدمات کی کاروائیوں کو برائے راست پاکستانی عوام کے سامنے بذریعہ خصوصی عدالتی ٹی وی چینل کے پیش کیا جائے یا ملک کے موجودہ نشریاتی اداروں کو عدالتی کاروائیوں کی برائے راست نشریات کی اجازت دی جائے ۔
٤۔ملک کو داخلی طور پر دفاعی اعتبار سے مضبوط بنانے کیلئے پاکستان سے لگنے والے تمام سرحدی علاقوں اورملک میں داخلے کی چیک پوسٹوں پر اعلیٰ تربیت یافتہ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کر کے بھرپور طور پر مستحکم کیا جائے ،اورانسداد دہشت گردی کے دوست ممالک سے جدید مانیٹری آلات کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے بھرپور کوشش کی جائے ۔
٥۔پاکستان کے تمام سرحدی علاقوں کے قریب بسنے والے ہم وطنوں کو دفاع وطن کی بھرپور تربیت کا اہتمام کیا جائے ۔جو کہ سرحدی علاقوں میں ہر طرح کی عوامی نقل وحرکت کا سراغ لگا کر متعلقہ باڈر فورسرز کو مطلع کرنے کی ذمہ داری کا فریضہ انجام دیں ۔اور اسے دفاع وطن فورس کا نام دیا جا سکتا ہے ۔مگر ان کی تعیناتی کا طریقہ کار خفیہ رکھا جائے جس کا انہیں باقاعدہ معقول معاوضہ دیا جائے اور انہیں جدید آلات کے استعمال کی خصوصی تربیت کا اہتمام کر وایا جائے یا خالصتاً ملکی سطح پر تربیت دی جائے ۔
٦۔پاکستان نیشنل سٹیزن کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے ،جس کا دائرہ کار ٹاؤن کمیٹی سے لے کر ضلعی سطح تک ہو جو کہ پاکستانی شہریوں کو حقوق وفرائض سے آگاہ کر ے اس حوالہ سے ٹاؤن کمیٹی کی سطح سے لے کر ضلعی سطح تک ملکی سطح پر بولی جانے والی آسان زبانوں میں ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے تاکہ ہر ان پڑھ ہم وطن بھی اپنے حقوق وفرائض سے آگاہ ہو سکے ۔اس کام کیلئے کالجزکے پروفیسر صاحبان سے مدد لی جا سکتی ہے ۔ جب شہری اپنے بنیادی حقوق وفرائض سے آگاہ ہو ںگے تو ملکی قوانین کے احترام میں خود بخود اضافہ ہو گا ،شہریوں کی عزت کا بھرپور اہتمام حوصلہ افزاء نتائج کا باعث بن سکتا ہے ۔
٧۔ملک بھر میں مواصلاتی اداروں سے ملکر متفقہ پالیسی تیار کی جائے تاکہ تمام تر فون کالرز کو ریکارڈ کرنے کا قومی پروگرام مرتب کیا جائے اور مواصلاتی ادارے اس کام کی فیس فون بل میں صارف سے وصول کر سکتے ہیں ۔
٨۔تمام ملکی ائیر پورٹ ،سی پورٹ پر پرائیویٹ متعاقب فورس تعینات کی جائے جو بذریعہ ہوائی جہاز یا بذریعہ سمندر پاکستان میں داخل ہونے والوں کا ملک کی دیگر ایجنسیوں سے ہٹ کر ریکارڈ رکھیں کے کون کدھر سے اور کب پاکستانی سرزمین میں داخل ہو رہا ہے ۔
٩۔ملک بھر میں موجود تمام بڑے بڑے ہوٹلوں میں آنے جانے اور رہائش پذیر افراد کا مکمل ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پر ہوٹل اپنی حدود میں واقع قریبی تھانہ کو فراہم کرے ۔اور ہوٹل میں مقیم ان افراد کی تصدیق کو داخلہ سیکرٹریٹ سمیت پرائیویٹ متعاقب فورس سے تقابلی جائزہ لیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ملک کے تمام اداروں کے پاس ہوٹلوں میں ملکی وغیر ملکی افراد کے بارے میں موجودمعلومات ایک جیسی ہیں یوں مشکوک افراد کی نشان دہی میں اچھی خاصی امداد مل سکتی ہے ۔
١٠۔دہشت گردی کی وارداتوں کی رپورٹیں خفیہ خانوں کے بجائے منظر عام پر لائی جائیں اور اس ضمن میں پھانسی کی سزا کو پاکستانی میڈیا پر دکھایا جائے تاکہ دہشت گردوں کو نفسیاتی طور پر تباہ کن نتائج کا پتہ چل سکے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے شور مچانے پر یہ نشریات بند کر دی جائیں ۔ ایک دوبار ایسا ہونے سے دنیا بھر کے دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردی سے ڈرائے جا سکتے ہیں ۔
١١۔ نیشنل میڈیا لنک کا ایک ایسا ادارہ کھولا جا سکتا ہے ۔جس کا تعلق دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارت خانوں سے منسلک ہو، تاکہ ملک کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ہونے والے کسی بھی منفی پراپیگنڈہ کا منہ توڑ جواب دینا ممکن ہو سکے ۔
١٢۔6 مئی سے جاری آپریشن کے دوران گرفتار کیئے جانے والے دہشت گردوں سے موصول ہونے والی دستاویزات کو ضائع کیئے بغیر ایک انسداد دہشت گردی کا میوزیم بنا کر اس میں محفوظ کرلیا جائے اورجس جس شہریت کے حامل فرد سے جس جس ملک کا پاسپورٹ برآمد ہو اسے میوزیم میں محفوظ کر کہ پاکستان میں موجود اس ملک کے سفیر کو اس میوزیم کی بلا کر مطالعاتی سیر کروائی جائے ۔ اورایسے ممالک سے آئندہ کے روابط پر غور کیا جائے تجاویز اوربھی کئی ہیں مگر اگر مذکورہ نکات پر غور وحوض شروع کیا جائے تو شائدکئی تجاویز قابل عمل ہوں آپ کی آراء اور مثبت تجاویز کا انتظار رہے گا کہ آیا اس طرح کی تجاویز نیا پاکستان تشکیل دینے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں یا نہیں نیک تمناؤں کے ساتھ اجازت چاہوں گا ۔
Tags: Khurshid Zaman , column

تحریر:خورشید الزماں عباسی
پاکستان کی سیاسی قیادت نے آخر کار ملک کی نازک صورتحال کا احساس کرتے ہوئے متفقہ قرار داد بحق سوات آپریشن منظور کر کے پوری دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ ملک کی قومی قیادت پاکستان کو بحران سے نکالنے پر یکجان ہیں شاباش پاکستانی سیاستدانوں ہمارے ملک کے سیاسی نظام میں داخلی اورخارجی امور پر اجلاسوں اورمیٹنگوں کی اگرچہ ایک لمبی داستان ہے ۔مگر ہر بارملکی سلامتی اورخارجی سازشوں نے ہمارے سیاستدانوں کو ایک ایسا سبق دیا ہے کہ اگر انہوں نے سیاسی سوجھ بوجھ کی اس لہر کو برقرار رکھا تو لگتا ہے کہ لیٹا ہوا پاکستان ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا ۔ا ور حسن اتفاق یہ کہ ملکی قیادت ایک نہیں دو نہیں تین نہیں پورے سولہ نکات پر متفق ہوئی ہے اللہ اس اتحاد واتفاق کو نظر بد سے بچائے اس عظیم کارنامے پر پاکستانی قوم کی جانب سے یہ شعر ملکی سیاستدانوں کی نظر ہے (شاعر زاہد کلیم آف مظفرآباد آزادکشمیر)
جینے نہیں دیتا مجھے مرنے نہیں دیتا
کوئی کام زمانہ مجھے کرنے نہیں دیتا
بلا شبہ ہم وطنوں کو اب سیاسی قیادت سے ایک نئی امید لگ گئی ہے اور اس کی پاسداری کرنا بھی قومی قیادت ہی کا کام ہے عوام نے اپنے ووٹ سے آپ کو پہلے ہی اپنے اعتماد کی پیشگی رضامندی کا حق دے رکھا ہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے چودہ نکات کی بنیاد پر پاکستان بنایا اورآج 62 سالوں کے بعد ہماری سیاسی قیادت نے سولہ نکاتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر کے ثابت کر دیا کہ ہم پر لاکھ الزام سہی مگر قائد اعظم ہم نے آج نصف صدی سے زائد کے عرصہ میں اتنی ترقی کی منازل طے کی ہیں کہ ہم نے بنے بنائے ملک کو چلانے کیلئے صرف دونکات کا اضافہ کیا ہے ۔اوروہ بھی صرف اورصرف ملک کے داخلی دفاع کیلئے غیر ملکی سازش کے خلاف اکیسویں صدی میں داخل ہو کر ہم آج بھی متفقہ طور پر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے آئین اور قومی سلامتی کاتحفظ کیا جائے گا ۔کیونکہ اب خارجی سازشوں نے ہمیں ہمارا وہ بنیادی سبق دیا کروادیا جو کسی ریاست کے قیام کی بنیادی اکائی کہلاتا ہے یعنی لفظ گا ہمارے لیئے آج بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔کاش قرارداد کے نکات لکھتے وقت ہم نے اسے اس طرح لکھ دیا ہوتا کہ پاکستان کے آئین اورقومی سلامتی کا تحفظ کرنا ہمارا قومی فرض ہے تو مجھے جیسے نالائق کو بھی واضح سمجھ آجاتی قومی قیادت نے اب محسوس کر لیا ہے کہ یہ دہشت گردی نہیں بلکہ بغاوت ہے اگر ان الفاظ کو اس طرح لکھ دیا جاتا کہ پاکستان مخالف قوتوں کی ایماء پر یہ دہشت گردی نہیں بلکہ پاکستانی شہریوں کو اپنی ہی ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسایا گیا ہے تو قوم کو کھول کر سیاسی قیادت کا موقف سمجھ آجاتا پاکستان کی سرزمین کے دفاع کا عزم دوہرایا گیا ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی گئی میرے خیال میں سرزمین پاکستان کا دفاع اورایٹمی اثاثوں کا تحفظ آزاد و خود مختار ریاست کی اولین ذمہ دارئیوں کا لازمی حصہ ہے ۔ چلیں آل پارٹی کانفرنس کے اجلاس کے بعد بنیادی نوعیت کے معاملات کو دوبارہ یاد دہانی کے طور پر دوہرا یا گیا ہے ۔پھر بھی خوش آئند بات ہے کہ کم از کم قومی قیادت کو آج تک احساس تو ہے بنیادی نوعیت کے ملکی اورقومی معاملات کا دراصل میں ذاتی طور پر آل پارٹی کانفرنس کے اس اجلاس کے سنسنی خیز فیصلہ جات کی توقع رکھے ہوئے تھا ،بہرحال اس اجلاس کے بعد مجھے ذاتی طور پر یہ احساس ہو گیا کہ ابھی تک ہم بنیادی نوعیت کی ریاسی ذمہ دارئیوں کے بنیادی قوانین کے اطلاق پر عمل درآمد پر لگے ہوئے ہیں ان سولہ نکات میں سے مجھے اگر آل پارٹی کانفرنس کی اس قیادت کے مشترکہ فیصلے نے کوئی نیا سبق دیا تو وہ ہے قرار داد کی شق نمبرپندرہ جس میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی مشروط امداد قبول نہیں کیا جائے گی جس طرح انسداد دہشت گردی میں ہم غیر مشروط طور پر مدد کررہے ہیں بلا شبہ امداد دینے والے ممالک کو بھی پاکستان کی غیر مشروط مدد کرنی چاہیے باقی ملکی معاملات کے بنیادی نوعیت یا ملکی سلامتی اور بقاء کا تحفظ کرنا پاکستانی قوم پر نہ تو حکومت وقت اورنہ ملک کی سیاسی قیادت کا کوئی احسان نہیں غیر مشروط امداد کی بات بہرحال پاکستانی قوم کیلئے ایک حوصلہ افزاء پہلو ہے جس سے ملک کا بین الاقوامی برادری میں عزت اور وقار بلند ہوا ہے ۔ قوم متاثرین سوات کا ساتھ دے قوم فوج کے ساتھ ہے ،پاکستان کی سلامتی اورملکی دفاع جیسے بنیادی نوعیت کے معاملات کا تو ہر پاکستانی کو مائشااللہ قومی قیادت کے بتانے بغیر پوری طرح احساس ہے ملک کی سیاسی قیادت ایک ساتھ بیٹھ کر پرانی اور بنیادی باتوں کو نہیں دوہرا یا کرتی بلکہ نت نئی بات کی جاتی ہے ۔جس طرح اپوزیشن جماعتوں کا حکومت پر دباؤ تھا اس سے محسوس تو یہ ہورہا تھا کہ شائد حکومت وقت نے ملکی سلامتی کے خلاف سوات آپریشن شروع کر دیا اور اپوزیشن جماعتیں شائد خون خرابے کے بغیر مذاکراتی عمل کی کوئی مثبت تجاویز رکھتی تھیں مگر متفقہ قرار داد کے متن نے بل آخر سارے راز ونیاز قوم کے سامنے رکھ دیئے کے آپریشن جاری رہے گا اوریہ دہشت گردی نہیں بغاوت ہے ہر ذی شعور اس بات کا علم رکھتا ہے کہ ملک کے اندر بغاوت ملکی قوانین کی خلاف ورزی خیال کیا جاتا ہے اور ملکی معاملات میں بغاوت ریاستی شہری یا ادارے کیا کرتے ہیں میرے خیال میں یہ دہشت گردی ہی ہے کہ پاکستان مخالف قوتوں نے ایک مضبوط حکمت عملی کے ذریعے ریاست کے داخلی معاملات میں ریاستی شہریوں کو اکسا یا جارہا ہے او ر ریاستی حکومت اور انتظامیہ بے بس ہے خدا راہ اکیسویں صدی کے پاکستانی شہریوں سے اسطرح کا سلوک نہ کریں بطور سیاسی قیادت ثابت کر نے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ملک میں صرف رولر سیاسی قیادت نہیں بلکہ ملک کو چلانے والے راہنماؤں یعنی لیڈرز کی ضرورت ہے قوموں کو لیڈکرنے والے نئی بات کیا کرتے ہیں ۔وہ بنیادی نوعیت کے معاملات پر قومی کانفرنسوں کا انعقاد نہیں کیا کرتے یقین کریں اس کانفرنس کے بعد بھی ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی بنیادیں پہلے سے موجود نہیں ہیں ،بلکہ سیاسی قائدین کسی نئے ملک کے قیام کی بنیادی قانون سازی میں لگے ہوئے ہیں ادھر پاکستان کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ نے اس کانفرنس کی متفقہ قرارداد کے اجراء کے فوری بعد پاکستان میں پاکستانی فوج کی مدد کیلئے امریکن فوج روانہ کرنے کی بات بھی کر دی ہے جبکہ امریکی انٹیلی جنس کے کے چیف نے بھی کہہ دیاکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں جن کا ہمیں کوئی پتہ نہیں بہرحال انہوں نے کہا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستانی ایٹمی ہتھیار طالبان کے ہاتھ لگیں متفقہ قرار داد کے اجراء کے بعدامریکہ کی جانب سے فوری نوعیت کے یہ بیانات بھی اپنی جگہ پاکستان کی سیاسی قیادت کیلئے تفکرات کا نیاء تحفہ ہے ان حالات میں پاکستان کی قومی قیادت کو عجلت میں فیصلوں کی ہنگامی ضرورت کے ساتھ ساتھ اس طرح کے درپیش معاملات پر دور اندیشی صبر اور حوصلہ مندی کے ساتھ پیش قدمی کی ضرورت ہے ۔بہتر ہے ساری قیادت مشترکہ طور پر حجاز مقدس جا کر عمرہ ادا کریں اور بیت اللہ پر پہلی نگاہ ڈالتے ہی دعا کریں یا اللہ ہمیں ملک کی سلامتی اور بقاء کیلئے بہتر مؤثر فیصلے کرنے کی توفیق دے اورہمارے علم میں اضافہ فرما کہ ہم بہتر فیصلے کر پائیں ورنہ میرے خیال میں وقت بنیادی نوعیت کے قوانین کا اجراء یا ان پر عمل درآمد کو اب یقینی بنانے کے بجائے کسی نئی ٹھوس اورجامعہ حکمت عملی کو ملکی بقاء وسلامتی کیلئے اختیار کرنے کی ہنگامی ضرور ت ہے ۔
Tags: Khurshid Zaman , column

تحریر:خورشید الزماں عباسی
سوات آپریشن کی وجوہات کا سبب اگرچہ صوبہ سرحد میں نفاذ شریعت ہے مگر حکومت اورطالبان کے مابین معاہدے کے بعد سوات میں امن وامان کا مسئلہ ختم ہو جانا چاہیے تھا اسلامی تاریخ کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی اسلامی ریاست میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی شرعی مسئلہ نے مذاکراتی عمل سے ہٹ کر ملک میں قتل وغارت گری کی صورتحال اختیار کی ہو اسلام جو امن کا مذہب ہے مساوات ،رواداری اوربھائی چارے کا بنیادی پیغام دیتا ہے ۔ اورہمارے نبی اکرم حضرت محمدﷺنے بھی اپنی حیات طیبہ میں اورپھر خلفاء راشدین تک اسلام میں کہیں بھی جنگ وجدل کی ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک اسلامی ریاست کے شہری اپنی حکومت سے کوئی شرعی مسئلہ حل کروانے کی غرض سے اس طرح کے اقدامات کریں بلاشبہ اس مسئلہ کے درپردہ حقائق میں پاکستان مخالف قوتیں بھرپور طریقے سے اسلام کے نام پر پاکستان کو کمزور کرنے کی درپے ہیں۔ مگر ملک میں پھیلائے گئے اس تباہ کن مسئلہ سے گزشتہ نصف ماہ کے لگ بھگ پاک فوج جس طرح نبردآزما ہے اس کی عظیم مثال کہیں بھی نہیں ملتی اسلامی ریاستی قوانین میں جہاں شرعی مسائل کا حل کرنا ریاست کی اہم ذمہ دار ئیوں میں شامل ہوتا ہے وہاں ریاست کے بے گناہ شہریوں کی عزت جان ومال کا تحفظ کرنا بھی انتہائی بنیادی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے ۔طالبان اورحکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد اسلامی قوانین کے واضح احکامات کے تحت ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بالکل امن وامان قائم ہو جائے مگر طالبان کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی نے اصل حقائق کا راز فحاش کر دیا کہ یہ اسلام کے نام پر نفاذ شریعت کی جنگ نہیں بلکہ ایک اسلامی ریاست کو سازشی حکمت عملی کے ذریعے کمزور کر نے کی مہم ہے ۔یوں پاک آرمی اور انتہاپسندوں کے مابین یہ جنگ حق وباطل کی معرکہ آرائی کی صورت اختیار کر گئی ۔چانچہ پاک فوج نے بے گناہ شہریوں کی عزت جان ومال کو محفوظ کر نے اور ریاستی تشخص کو برقرار رکھنے کیلئے سوات آپریشن شروع کررکھا ہے جو بلا شبہ جہاد کا درجہ رکھتا ہے ، آئیں قرآن مجید کی تعلیمات اعلیٰ کے تحت ان حقائق کا اندازہ لگائیں کہ قرآن پاک کی سورۃ بقرۃآیت کریمہ 114 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’ اس سے بڑاظالم کون ہے ؟جو اللہ کی مسجدوں سے روکتا ہے ‘‘اوران میں اس کے نام کا ذکر نہ کیا جائے اورنہیں اجاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ نہیں کوئی حق نہیں تھا سوائے اس کے کہ ان میں ڈرتے ہوئے داخل ہوتے ان کیلئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اورانہیں آخرت میں بھی بڑا عذاب ہوگا اورمشرق ومغرب کااللہ ہی مالک ہے ۔سو جدھر بھی تم منہ کرو اُدھر ہی اللہ کی ذات ہے ۔بے شک اللہ وسعت والا اورعلم والا ہے اورتجھ سے نہ یہودی خوش ہوں گے اورنہ نصرانی جب تک تو ان کے طور طریقے کی پیروی نہ کرے کہہ دو اللہ کی رہنمائی ہی رہنمائی ہے ۔ اور اگر تو نے اس علم کے بعد تیرے پاس آ چکا ہے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابل تیرا کوئی حمایتی نہ ہوگا نہ مدد گار ۔آیت کریمہ9 وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں مگر وہ اپنے سوا کسی کو دھوکا نہیں دیتے اور سمجھتے نہیں ،آیت کریمہ گیارہ اورجب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ مچاؤ تو کہتے ہیں ہم تو صرف اصلاح کر نے والے ہیں ،خبردار وہی فسادی ہیں مگر سمجھتے نہیں ۔جبکہ آیت کریمہ آٹھ میں ہے اورلوگ میں وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ اور روز آخرت پر ایما ن لائے مگر وہ مومن نہیں بنی اسرائیل کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا اللہ کے دیئے میں سے کھاؤ اورپیو مگر زمین میں فساد کرتے نہ پھرنا ، آیات کریمہ 82 سے85 سورۃالبقرۃ جو لوگ ایما ن لائے انہوں نے درست عمل کیئے وہ اہل جنت ہوں گے جو وہاں ہمیشہ رہیں گے اورجب ہم نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا کہ تم اللہ کے سواکسی کی عبادت نہ کرو گے اوروالدین ، رشتے دار ، یتیموں اور مسکینوں سے اچھا برتاؤ کروگے اور لوگوں سے اچھی بات کرنا نماز قائم کرنا اور زکواۃ ادا کرنا پھر تم نے ماسوائے چند کے کنارہ کرتے ہوئے منہ موڑ لیا اورجب ہم نے تم سے اقرار لیاکہ تم اپنوں کا خون نہیں بہاؤ گے اورنہ اپنوں کو ان کے گھروں سے نکالو گے پھر تم نے اقرار کیا اور تم گواہ ہو پھر تم وہ لوگ ہو جو اپنوں کو قتل کر تے ہو اوراپنے ایک فریق کو گناہ اور دشمنی سے ان کے خلاف مدد دے کر ان کے گھروں سے نکالتے ہو لیکن اگر وہ تمہارے پاس قید ی ہو کر آئیں تو فدیہ دے کر انہیں چھڑا لیتے ہو حالانکہ تم پر ان کا نکالنا حرام تھا کہ تم کتاب کے ایک حصہ کو مانتے ہو ہاں تم میں جو ایسا کرتا ہے اس کا بدلہ دنیا کی زندگی میں رسوائی ہے اورروز قیامت کو انہیں سخت ترین عذاب کی طرف موڑ دیا جائے گا اوراللہ تمہارے کاموں سے غافل بھی نہیں سورۃ آل عمران آیت کریمہ نمبر28 مومن مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناہیں ،اور جو ایسا کرے گا اللہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں سوائے اس کے تمہیں ان سے بچاؤ کرنا ہو اور اللہ تمہیں اپنی ذات سے خبردار کرتا ہے اور اللہ کی طرف ہی واپسی ہے اے اہل کتاب تم کیوںاللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہو جبکہ تم ان کے گواہ ہواے اہل کتاب تم کیوں جان بوجھ کر سچ کو جھوٹ کے ساتھ ملاتے ہو اور سچ کو چھپاتے ہو آیت کریمہ 18 آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے بے شک دین اللہ کے نزدیک اس کی فرما نبرداری ہے اورجنہیں کتا ب دی گئی تھی انہوں نے اس کے باوجود کہ انہیں علم آ چکا تھا صرف باہمی سرکشی کی وجہ سے اختلاف کیا اور وعدہ کے بارے میں آیت کریمہ 77 ،76 میں ارشاد ہے جو اپنا عہد پورا کرتا ہے اور خوف خدا کرتا ہے تو اللہ بھی ایسے ڈرنے والوں سے محبت کر تا ہے جو لوگ اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے عوض تھوڑی سی قیمت لے لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا نہ روز قیامت کو اللہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف نگاہ ڈالے گا اور نہ ہی انہیں پاک کر ے گا اورانہیں دردناک عذاب ہوگا ۔سورۃ البقرۃ آیات نمبر157,155 اور ہم تمہیں ضرور کچھ خوف اور بھوک اورمال وجان اورپھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اورتوصبر کرنے والوں کو خوشخبری دے وہ جنہیں جب کوئی مصیب پڑتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ کیلئے ہیں اورہمیں اسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے شاباش اوررحمت آتی ہے اوریہی لوگ راہ راست پر ہیں آیت نمبر190 اوراللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں ۔مگرزیادتی نہ کرو اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا سورۃ البقرۃ آیت نمبر102 اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے مرو تو صرف فرمانبردار ہو کر ،اورسب کے سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اوربکھرنہ جاؤ آیت پاک 118 اے ایمان والواپنوں کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو راز دار نہ بناؤ وہ تمہیں پریشان کر نے میں کمی نہیں کرتے جو چیز تمہیں مشکل میں ڈالے وہ اسے پسند کر تے ہیں کہنہ ان کی زبان سے ظاہر ہو چکا ہے جو ان کے سینوں میں چھپا ہے وہ اور بڑھ کر ہے ہم نے تم پر احکامات واضح کر دیئے ہیں تم عقل رکھتے ہو آیت نمبر120 تم ہو جو ان سے محبت کر تے ہو وہ تم سے نہیں کرتے اورتم سب کتابوں کو بھی مانتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر جب الگ ہو تے ہیں تو تم پر غصے سے انگلیاں اٹھاتیہیں ۔اللہ سینوں کے راز بہتر جانتا ہے اگر تمہیں کوئی اچھائی ملے تو انہیں بری لگتی ہے اوراگر تمہیں برائی پہنچے تو وہ اس پر خوش ہو تے ہیں لیکن تم صبر کرو گے اوراللہ سے ڈرتے رہو گے تو ان کے داؤ پیچ تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے اللہ نے ان کے علموں کو گھیر رکھا ہے اے ایما ن والو اگر تم کافروں کا کہا مانو گے تو وہ تمہیں الٹے پاؤں پھیر دیں گے پھر تم نقصان پا کر لوٹو گے نہیں بلکہ اللہ ہی تمہارا آقا ہے اور وہ بہترین مدد گار ۔
قارئین!مذکورہ بالا سورۃ البقرۃ اور سورۃ العمران کی آیات میں کتنے حقائق موجود ہ حالات کے تحت سامنے آئے ہیں جن کا فی زمانہ پاکستان سمیت عالمی سطح پر بھی حقیقی طور پر امت مسئلہ کو سامنا ہے ۔ ان حالات میں سوات میں جاری جنگ بلاشبہ اسلام یا شریعت کی نہیں بلکہ پاکستان دشمنی کی ساز ش دکھائی دیتی ہے ۔ حقائق کی روشنی میں پاک فوج کی رائے حق میں شہادت جہاں پاکستان کی آئندہ نسل کیلئے ایک روشن باب رقم کررہی ہے وہاں تاریخ اسلام میںاس شہادت کا اضافہ ایک نیا باب رقم کر رہا ہے کیونکہ قرآن مجید کے دوسرے پارے میں سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر154 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اورجو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر دیئے جائیں انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں ۔لیکن تم اس کا شعور نہیں رکھتے اسی طرح سورۃ آل عمران آیت نمبر169 میں خالق کائنات شہید کے درجات یوں بیان فرماتا ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مرد ے خیال نہ کر و بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں سے رزق پاتے ہیں ان حالات میں کتنے خوش نصیب ہیں وہ والدین جن کے لخت جگر وطن کی خاطر اللہ کی راہ میں شہادت پا کر اپنی ہمیشہ کی زندگی میں حلال اور طیب رزق اپنے خدا کے ہاں سے پار ہے ہیں کیپٹن نجم ریاض سمیت تمام شہداء سوات کا خون بلاشبہ حق وباطل کی اس معرکہ آرائی میں انتہائی طیب مقام رکھتا ہے ۔دعا ہے اللہ تعالیٰ پاک فوج کو مزید فوجی نقصان بغیر جلد از جلد کامیابی عطا کرے اوردشمنانان وطن واسلام کا جلدی قلع قمع فرمائے ۔ (آمین)
Tags: Khurshid Zaman , column

تحریر:خورشید الزماں عباسی
دنیابھر میں انسانوں کو کئی طرح کی امراض لگ جاتی ہیں ۔بڑے ممالک بیماریوں کو کنٹرول کرنے کی بھرپور صلاحیت کے باوجود ہر طرح کی بیماری کا شکار ہیں ۔خیرانگی صرف اس بات پر ہے کہ اتنی احتیاط کے باوجود ایسا کیوں ہوتا ہے ؟پاکستان سے بیرون ملک سفر کرو تو میڈیکل چیک اپ لازمی ہوتا ہے اسی طرح دنیا کے بے شمار ممالک سے امریکہ ، لندن ، کنیڈا ، یورپ اورمڈل ایسٹ میں آنے سے قبل مکمل میڈیکل کروانا ضروری ہوتا ہے۔ مانا کہ چھوٹے ممالک میں کئی طرح کی بیماریاں ہیں مگر اللہ معاف کرے بڑے ممالک میں آ کر پتہ چلتا ہے کہ یہاں تو چھوٹے ممالک سے کہیں زیادہ خطرناک امراض پائی جاتی ہیں ۔ ذہنی تناؤ اگرچہ دنیا بھر میں مشہور مرض ہے مگر امریکہ ، لندن ، کنیڈامیں ایسا لگتا ہے کہ ہر دوسرا آدمی ذہنی تناؤ کا شکار ہے اس کی عمومی وجوہات جو مجھے امریکہ ، کنیڈا اورلندن میں دکھائی دی ہیں ۔وہ ہے کام اور رہن ، سہن کو برقرار رکھنے کیلئے بجائے بلات ،قرض کی لعنت کریڈٹ کا رڈوں کی صورت میں غریب اور متوسط طبقہ درحقیقت ا ن ممالک میں بھی سفید پوش ہی کہلاتا ہے ۔بڑے ممالک نے اگرچہ ہفتہ وار چالیس گھنٹے قانونی طور پر کام کیلئے مقرر کررکھے ہیں مگر چالیس گھنٹوں کا معاوضہ اتنا محدود ہوتا ہے ۔ زندگی کا پہیہ نہیں چل سکتا اور چالیس گھنٹوں سے زائد کام کرو تو لگ بھگ تمام کمپنیاں اوور ٹائم دینے سے کتراتی ہیں ۔جس کا نتیجہ چالیس گھنٹے کام کرنے سے نہ تو ایک اچھے گھر میں رہ سکتا ہے ۔ اورنہ اچھی گاڑی رکھ سکتا ہے ۔ اب اچھے کی تلاش میں متوسط طبقہ کو ایک کے بجائے دو ،دو نوکریاں کر کے گزر بسر کرنی پڑتی ہے ۔یوں آٹھ گھنٹے والا سولہ کی تلاش میں ہوتا اگر سولہ نہ ہو سکیں تو بارہ کی تلاش بہرحال اس کو ہوتی ہے ویلفیئر اگرچہ حکومتی امداد کی صورت میں ملتی ہے ۔مگر اتنی محدود کے گزارہ بمشکل ہوتا ہے ۔یوں دنیا کو قرض دینے والے ان مذکورہ ممالک کا ایک عام شہری کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حکومتی یا غیر حکومتی ادارے کا مقروض ضرور ہو تا ہے ۔کیونکہ رنگ برنگی آسائشوں کو دیکھ کر کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہوتا جو ان کے حصول کی کوشش نہ کرے ،نت نئی گاڑیاں ان ممالک میں ہر طبقہ فکر کے انسانوں کی خواہش کا اولین مقصد ہیں ۔الیکٹرانکس کی نت نئی ایجادات ٹیلی فون ، کمپیوٹر گاڑیوںمیں نت نئی الیکٹرانکس کی ایجادات نے انسانیت کو ان کے حصول کیلئے مکمل طور پر لالچی بنا رکھا ہے ،اور یہ مرض اب ان ممالک سے دنیا بھر میں پھیل چکی ہے ۔ جس کے باعث پورا عالم ذہنی تناؤ کی مرض کا عالمی سطح پر شکار ہو چکا ہے مگر امریکہ ،لندن، کینڈا میں ذہنی تناؤ نے انسانوں کو بے شمار دیگر امراض کا شکار کر دیا ہے ۔جو دنیا کو دیگر کئی طرح کی مشکلات کا شکار کر کہ پورے عالم کو زیر عتاب کرنا چاہتے ہیں ان کو قدرت نے کس طرح کی امراض اور بے سکونی میں مبتلا کر رکھا ہے اور بڑے بڑے کے چکر میں ان ذہنوں سے کئی حقائق کو پوشیدہ رکھا ہے ۔اسے کہتے ہیں علم ودانش کی حقیقی تقسیم اسی لیے اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اپنے اصحاب سے کے قیص وکسریٰ کی شان وشوکت کو نہ دیکھو یہ توصرف عارضی ہے ۔تم ہمیشہ کی زندگی کیلئے تیاری کرؤ ،قارئین!میں نے ان ممالک میں گھوم پھر کر جو دولت کمائی ہے وہ ہے اللہ کی ذات کی حقیقی پہچان اورقدرت کی ذات پر کامل یقین ،میں اکثر اپنے دوست احباب سے مذکورہ ممالک کی شان وشوکت کے بارے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہی حدیث بیان کر تا ہوںجس کا میں نے آپ سے اوپر ذکر کیا ہے ۔میں جب امریکہ کی سڑکوں ،پلوں ،سمندروں اوربڑی بڑی عمارات کو دیکھتا ہوں تو نہ جانے اتنی اعلیٰ شانی کے باوجود مجھے مٹی کا ڈھیر کیوں دکھائی دیتاہے ۔اس حقیقت کی گہرائی میں جانے کے بعد میں ذاتی طور پر ان ممالک کی ترقی کو ترقی نہیں بلکہ تنزلی خیال کرتا ہوں، کیونکہ قدرت نے بلاشبہ ان اقوام سے جو حقیقی علم پوشیدہ رکھا ہے ،وہ صرف اورصرف اللہ نے مسلم کو عطا کیا ہے ۔کاش آج کے مسلمان کی اپنی اس حقیقی دولت کا احساس ہوجائے کہ دولت مند کو دولت اورعزت تو اللہ دے دیتا ہے ۔مگر ساتھ اس میں کوئی ایسی کمزوری ضرور رکھتا ہے جس سے وہ اپنی ذات اور دیگر انسانیت کی قدروقیمت یاد دلاتا رہتا ہے ۔مانا کہ امریکہ ، کنیڈا ، لندن دنیاوی اعتبار سے سپرپاور ہیں اورپوری دنیا پر غالب ہیں تو پھر ان کے ہاں غریب اورمتوسط طبقہ اورذہنی تناؤ کی مرض کیوں ہے ؟میری ذاتی رائے میں ازل سے ابد تک ایسا نہیں ہوتا حتیٰ کہ روز قیامت قائم ہو جائے گی مگر دنیا پر مکمل غلبہ صرف اورصرف قدرت ہی کا ہوگا ۔صرف ہمیں اس طرح کی سوچوں کے خول سے باہر نکل کر اپنی فکری وذہنی مرمت کی فوری ضرورت ہے ۔آئیں آج میرے سمیت ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ نفسانفسی کے اس دور میں ہم اپنی فکری اورذہنی مرمت کرنے کی آج ہی سے بھرپور کوشش کے ذریعے ذہنی تناؤ کی عالمی مرض سے نجات پائیں گے ۔
Tags: Khurshid Zaman , column