Sacc header image 4

Entries Tagged as 'Ishfaq Rehmani'

انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کا ” چرخی گیٹ“

November 7th, 2009 · Comments Off

dr-ashfaq-rehmani-aسوچ کے پَر

ڈاکٹر اشفاق رحمانی

dr-ashfaq-rehmani-a

سوچ کے پَر

ڈاکٹر اشفاق رحمانی

انجےنئرنگ ےونےورسٹی لاہور کا ” چرخی گےٹ“

لمحہ لمحہ بدلتی دنےا،بدلتے حالات مےں پاکستان کو بھی انتہائی مشکلات اور تبدےلےوں کا سامنا ہے۔خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد مےں شامل پاکستان نے دنےا کو امن و سلامتی کا خطہ بنانے کے لےے جو قربانےاں دی ہےں وہ بے مثال ہےں،مگر اس جنگ کی بنا پر پاکستان کو بے پناہ مسائل اور مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ مذہب کے نام پر اےک مخصوص فرقہ ( جس کا بحرحال اسلام سے کو ئی تعلق نہےں) لباسی طور پر ظاہراََ طالبان نامی گروپ کے روپ مےں اپنی پُر تشدد اور تخرےب کارانہ کارروائےوں سے پورے ملک کو ےرغمال بنا رکھا ہے ۔ جہاں سووےت ےونےن کے ساتھ ٹکراو کے بعد ”فاتح“ اور ساتھ ہی کشمےر محاذ پر غازی اس گروہ کے کچھ ارکان اب وزےرستان مےں مذہب کا نام استعمال کر کے سےاسی مقاصد کے لےے استعمال کر رہا ہے وہاں ےہ ” غازی“ پاکستان مےں رےاست کے اندر ےاست کا خواب بھی دےکھنے لگے تھے۔”تعلیمی اداروں کے بعد“ کے عنوان سے گذشتہ سے پےوستہ کالم شائع ہونے کے بعد نوجوان نسل کی ہونہار نمائندہ قدسےہ شہزادیUET سے لکھتی ہےں کہ” ڈاکٹر رحمانی صاحب،جہاں ملک بھر مےں رےاستی اور سکےورٹی کے متعلقہ اداروں کو خود اپنی سکےورٹی کے مسئلے کا سامنا ہے وہاں ملک کی اہم ترےن درسگاہ UET(انجےنئرنگ ےونےورسٹی،لاہور) بھی اےک اہم مسئلہ سے دوچار ہے۔جو شاےد ےونےورسٹی انتظامےہ کی بے حسی کی وجہ سے زےادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں کو” اپنی مدد آپ کے تحت “اپنی اور طالب علموں کی سکےورٹی کا تو اعلان کر دےا ہے،تاہم ہر اعلان کے بعداس پر عمل درآمد کروانا بھی اےک نےا مسئلہ ہوتا ہے۔مذکورہ ےونےورسٹی کی جی ٹی روڈ والی سائےڈ پرموجود گےٹ تو کسی حد تک سےکےورٹی کی موجودہ صورتحال سے نمٹ رہے ہےں تاہم ےونےورسٹی کی گھوڑے شاہ روڈ والی سائےڈ سے ملحقہ دےوار جو شاےد پانج فٹ اونچی ہوگی اور اس سائےڈ پر ملازمےن و پروفےسرز حضرات کی رہائشگاہےں بھی ہےں کی طرف کوئی توجہ نہےں دے رہا۔دہشت گردی کے بڑھتے ہو ئے واقعات مےں کسی پر بھی اعتبار نہےں کےا جا سکتا تو پھر سڑک سے ملحقہ ہزاروں مےٹر لمبی دےوار کی طرف سے کسی بھی غےر ےقےنی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔کےونکہ رات کے وقت کوئی بھی دےوار پھلانگ کر با آسانی اندر آسکتا ہے۔اللہ نہ کرے کوئی اعصاب شکن حادثہ ہو تاہم احتےاط لازم ہے۔ اسی جانب منی گےٹ( المعروف چرخی گےٹ ) کو بند کرنا سےنکڑوں طالب علموں اور ادارے کے ملازمےن کے ساتھ زےادتی ہے۔ےاد رہے کہ مذکورہ سائےڈ کی طرف رہائش پزےر طالب علم و سٹاف فےملےزروز مرہ کی بنےادی ضرورےات کے استعمال والی اشےاءکی خرےد و فروخت کے لےے ےہی گےٹ استعمال کرتے ہےں۔ہاںگارڈز کی موجودگی مےں منی گےٹ کو پہلے کی طرح مخصوص اوقات مےں کھولا اور بند کےا جا سکتا ہے۔ آپ اپنے کالم کے توسط سے ارباب اختےار کی توجہ اس اہم اےشو کی طرف ضرور مبذول کروائےں“ےہ تھےں قدسےہ شہزادی اور ان کا جائز مطالبہ امےد ہے ےونےورسٹی انتظامےہ معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مسئلے کا جائز حل ضرور تلاش کرے گی۔قارئےن محترم ….اےک وقت تھا کہ جب کسی شرعی وضع قطع کے حامل شخص پر نظر پڑتی تو دل مےں اس کے لےے احترام کے جذبات پےدا ہو جاتے تھے،احترام کا اب بھی ےہی عالم ہے لےکن پہلے پوچھنا پڑتا ہے کہ جناب آپ ”درود والے ہےں“ ےا ”بارود والے“ ….!جناب بات ےہ ہے کہ قومےں صدےوں مےں ترقی کا زےنہ طے کر تی ہےں،مگر62 برس،قوموں کے بناو بگاڑ اور درست سمت کے تعےن کے لےے کافی ہوتے ہےں،اداروں کے مستحکم ہونے مےں،مذاجوں کے پروان چڑھنے مےں،روےوں کے سدھرنے مےں زندہ قومےں برسوں کا سفر مہےنوں مےںطے کرتی ہےں،ےکسوئی کے ساتھ منزل کی طرف بڑھنے والے، وقت کی سنگےنےوں کو دےدہ دلےری سے کاٹتے ہےں، منزل کی لگن مےں پُرخار راہوں مےں آبلہ پا گامزن رہتے ہےں،ٹھہرتے نہےںم مگر ہم زندہ قوم !

بدقسمتی سے ہم کئی دہائےوں سے تارےک و بے سمت پگڈنڈےوں پر چل رہے ہےں،بگاڑ زےادہ پھےلا،مزاج جوں کے ہاتوں،انتظامےہ بے بس،چہار سو مختلف مافےاوں کا راج،لاپرواہی،غےر سنجےدگی،بے اعتنائی اور سب سے بڑھ کربے حسی،جواب ےقےناََ جب سے ہم نے مذہب کو سےاست کے طور پر استعمال کرنا شروع کےا،روب و دبدبہ کے لےے مسالک گڑھ لئے،تب سے ہم مذہب تو کےا انسانےت سے بھی گئے۔انسان کے لےے مذہب اور زندگی کا کامےاب فارمولہ صرف اےک ہی ہے اور وہ ہے انسانےت۔دےن اور دنےا دونوں اعتبار سے ہی باشعور انسان حقیقی معنوں مےں انسان کی حےثےت رکھتا ہے،جو انسانےت کو قدر کی نگاہ سے دےکھتا ہو۔

دروےش صفت صوفی دانشور اور عظےم سکالر حضرت واصف علی واصف کہا کرتے تھے”پاکستان نور ہے اور نور کو کبھی زوال نہےں“پاکستان مےں مذہبی انتہا پسندی کے نام پر جس قسم کا کُھلا تماشہ لگاےا جا رہا ہے،اس کے ڈانڈے کہاں ملتے ہےںاب کوئی ڈھکی چھپی بات نہےں۔ہمارے ےہاں شروع دن سے ہی پالےسی ساز اداروں اور کمزور ترےن حکمرانوں نے اپنی صفوں مےں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے اےسے اےسے فےصلے کئے ہےں جو شاےد صدےوں پر محےط اثرات چھوڑےں۔ےہ پاکستانی عوام اور پاک فوج کی امن پسندی کے لےے کوششےں ہی ہےں کہ وہ ہر حال مےں ”امن“ تباہ کرنے والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر راہ راست پر لانے کی ابتداءکر چکے ہےں۔پاکستان اس وقت واحد ملک ہے جو پوری دنےا کو دہشت گردوں سے نجات دلانے کے لےے ”اکےلا“ سے سفر مےں ہے۔اور دہشت گردی کا بار بار شکار ہونے کے باوجود پوری طرح سے دہشت گردوں کے خلاف برسرپےکار ہے۔پاک سرزمےن پردہشت گردی جےسے رونما ہونے والے واقعات کے تسلسل کے بعد ےہ سوال بہت اہم ہے کہ ےہ کون لوگ ہےں۔تو صاحبو،پھر سچ ےہی ہے کہ ےہ مسلمان نہےں،پاکستانی نہےں،ہاں پاکستان آچکے ہےں اور بہروپئے کی طرح اپنے آقاوں کے اشاروں پر چل رہے ہےںجبکہ ہمارے حکمراںہر بار سکےورٹی کی نئی منصوبہ بندی کرتے ہےں،مےرے خےال مےں جب تک ان ملک دشمن عناصر کے خلاف بھر پور اقدامات کر کے انہےں ©©”لگام“ نہےں دی جاتی اس وقت تک حالات کا اعتدال پر آنا ناممکن ہے،اگرچہ کافی دےر ہو چکی لےکن اب بھی اگر سنجےدگی کے ساتھ ان معاملات پر غور کےا جائے تو کوئی وجہ نہےں کہ دہشت گردی کے عفرےت پر مکمل قابو نہ پاےا جا سکے۔عوام دل و جان سے ملکی سالمےت اور مضبوط رےاست کی بقا کے لےے ےک جان ہےں۔اورپاک فوج رےاستی مشنری کے ساتھ قدم بقدم….اور دےن کے پےروکار جانتے ہےں،اسلام نے انسانی جان کو بلاامتےاز،رنگ و نسل انتہائی اہم و محترم قراد دےا ہے۔ےقےنا دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے،پاکستان نور ہے،اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی اسے ناکام رےاست نہےں بنا سکتی۔

Tags: Ishfaq Rehmani , column

رشوت،ضرورت یا عادت۔ ۔ ۔ ؟۔۔

May 25th, 2009 · No Comments

سوچ کے پر۔ ۔ ۔ کالم : ڈاکٹر اشفاق رحمانی

خبر ہے کہ ایس ایچ او ساندہ لاہور جاوید صدیق نے پولیس ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان ہو نے کے بعد تھانے کے تمام ملازمین کو مسجد میں لے جا کر رشوت نہ لینے کا حلف لیا تھا، تاہم کانسٹیبل اشتیاق کو300 روپے رشوت لینے پر سب ملازمین کے سامنے چھترول کرنے کے بعد مقدمہ درج کر کے جیل بھیج دیا۔

صاحبو، آدمی جب کو ئی کام بار بار کرے اور برابر کرتا رہے،تو وہ دھیرے دھیرے اس کی زندگی کا ایک ایسا حصہ بن جاتا ہے کہ آدمی اس کو اس کی ضرورت سمجھنے لگتا ہے۔اس کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ اس کے بغیر اس کا کام ہی چلنے والا نہیں،مگر اس قسم کی چیزیں آدمی کی عادت ہو تی ہیں ضرورت نہیں ہوتیں۔آدمی کو چاہئے کہ وہ عادت اور ضرورت میں فرق کرے،ضرورت والی چیز کو تو ضرور وہ اپنی زندگی میں شامل کرے،مگر جو چیز اپنی حقیقت کے اعتبار سے صرف ایک عادت کا درجہ رکھتی ہو، اس کو وہ ہرگز اپنی زندگی کا حصہ نہ بننے دے۔ضرورت اس چیز کا نام ہے جس کے بغیر زندگی کی بقا نا ممکن ہو جاتی ہے۔اس کے برعکس، عادت وہ چیز ہے جس کا تعلق آرام یا نمائش سے ہے۔اس طرح کی چیز کو اگر چھوڑ دیا جائے تو اس سے آدمی کی زندگی میں کو ئی حقیقی مسئلہ نہیں پیدا ہو تا۔

جاوید صدیق کی اپنے کانسٹیبل کو چھترول،سے چھتر یاد آجاتا ہے جو آجکل انڈیا میں بہت استعمال ہو رہا ہے، بقول ’’لالہ جی۔۔‘‘ درست استعمال ہو رہا ہے۔آجکل چھترول کا اتنا بول بالا ہے کہ، کوئی پتہ نہیں کب کہاں سے خبر آجائے کہ آج فلاں جلسے میں، فلاں پریس کانفرنس میں یا فلاں، فلاں کے ہاں۔ ۔ ۔ ؟بحرحال اگر یہاں کی انسانی حقوق والی نام نہاد تنظیمیں’’کانسٹیبل‘‘ کی ہمدردیاں نبھانے نہ آگئیں تو سمجھ لیجئے جاوید صدیق کا چھترول فارمولہ بہت ہی اچھا اور کار آمد ثابت ہو گا۔SHO ساندہ کو شاباش،جنہوں نے پولیس والے کو ہی کہہ دیا ہے کہ ’’ آ جا تینوں آکھیاں اڈیک دیاں‘‘ہمارے ایک صحافی دوست کی ایک نئی پریشانی سامنے آگئی ہے ، بقول ان کہ ایک روپے روٹی والے وزیر اعلیٰ، جنہوں نے حال ہی میں پولیس کی تنخواہیں ڈبل کر دیں تھیں، اگران کو ساندہ پولیس اسٹیشن کے اس واقعہ کا پتہ چل گیا( سنجاں دس وی دتا ہووے گا)تو ان کو کافی صدمہ ہو گا،چور کے بارے میں جو مشہور تھا وہ اب پولیس کے بارے میں مشہور ہو نے لگا ہے کہ’’ پولیس ڈبل تنخواہ بھی لے اور رشوت سے بھی نہ جائے‘‘اب تو ہماری ہی بات ثابت ہو گئی ہے کہ اگر تنخواہیں بڑھانے سے رشوت ستانی ختم ہو تی تو سارے رشور خور وں کے نام عابد،اورزاہد ہوتے،غریب عوام کے ٹیکسوں میں سے پولیس کی تنخواہیں ڈبل کی گئیں مگر رشوت جوں کی توں جاری ہے۔مشہور امریکی پروفیسر جیرڈ ڈایمنڈ(Jared Diamond) جو1937 ء میں پیدا ہوئے انہوں نے مختلف علوم کی ڈگریاں حاصل کی ہوئیں ہیں،وہ ایک درجن زبانیں جانتے ہیں۔ان کا ایک با معنیٰ قول ان کے الفاظ میں’’ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ یہ دریافت نہیں کر پاتے کہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے۔جو آدمی یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے مسئلے کو صحیح طور پر حل کر سکے، اس کو چاہئے کہ ساب سے پہلے وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اصل مسئلے کی شناخت کرے اور پھر اس کے حل کے لیے ٹھیک مطابق واقعہ منصوبہ بندی کرے، اس کے بغیر مسئلے کے حل کی جو بھی تدبیر کی جائے گی وہ یقینی طور پر ناکام ثابت ہو گی۔

مولانا وحید الدین خاں اپنی کتاب ’’راز حیات‘‘ میں ایک جگہ پر لکھتے ہیں کہ مجھے اپنی زندگی میں عادت اور ضرورت والے مسئلہ کا کافی تجربہ ہوا،مثلاً گھر کے رواج کے مطابق، میں شیروانی کا عادی ہو گیا تھا۔ چناں چہ شیروانی پہنے بغیر باہر جانا ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے میں پورا کپڑا نہیں پہنے ہوئے ہوں،مگربعد کو جب مجھ میں شعور آیا تو میں نے شیروانی پہننا چھوڑ دیا۔دھیرے دھیرے یہ حال ہو گیا کہ اب مجھ کو شیروانی یاد بھی نہیں،یہ تجربہ بتاتا ہے کہ شیروانی میرے لئے صرف ایک عادت تھی،وہ میری ضرورت نہیں تھی۔صاحبو، یہاں بھی معاملہ ضرورت کا نہیں عادت کا ہے، پولیس والے شاید ایسے عادی ’’مجرم‘‘ ہیں جو۔ ۔ ۔ ؟

چھوٹے چھوٹے چشموں سے مل کر دریا بنتا ہے۔ ۔ ۔ دھیرے دھیرے بڑھ کر ایک پودا درخت بنتاہے۔ ۔ ۔ ذرہ ذرہ کے ملنے سے پہاڑ وجود میں آتا ہے۔ ۔ ۔ یہی وہ فطری طریقہ ہے جس سے اس دنیا میں کو ئی بڑا واقعہ وجود میں آتا ہے،انسان کو بھی اسی فطری طریقے کی پیروی کرنا ہے۔اس دنیا میں کسی اور طریقے کو اختیار کر کے کامیابی حاصل کر نا ممکن نہیں،یہی فرد کی کامیابی کا اصول ہے،یہی قوم کی کامیابی کا اصول بھی۔حقیقت یہ ہے کہ یہاں معاملہ ذاتی مزاج کا ہے،ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے شعور کو اتنا بیدار کر ے کہ وہ ضرورت اور عادت میں فرق کر سکے۔اس کے بعد وہ عادت والی چیزوں کو چھوڑ دے اور ضرورت والی چیزوںکو اپنی زندگی میں باقی رکھے۔زندگی کی تعمیر میں اس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ جو لوگ اس کا لحاظ نہ رکھیں،وہ کبھی اپنی زندگی کی اعلیٰ تعمیر نہیں کر سکتے۔

Tags: Ishfaq Rehmani , column