گوادرکی تعمیر میں چین پربلوچوںکونہیں امریکہ کواعتراض ہے ، امریکہ سخت ناراض ہے ، بلوچستان میں غیرملکی طاقتیں سرگرم عمل ہیں
مشرف کے بعد بھی آمریت پسندوںکاحکم چلتاہے ، ڈوریاںانہی کے ہاتھ میںہیں، صوبے اورمرکز میں حکومت کے باوجود بے بس ہیں
عوام نے بینظیربھٹوشہیدکے نام پرپیپلزپارٹی کوووٹ دیاتھا،ڈیڑھ سال حکومت کرنے کے بعد بھی ہم مسائل حل کرنے میں ناکام ہیں
امریکہ نے بلوچستان پرڈرون حملے کئے توردعمل بہت خوفناک ہوگا، حکومت نہ کوئی سمجھوتہ کرے اورنہ ہی کمزوری دکھائے
بلوچستان میں طالبان کاکوئی وجود نہیں،طالبان کانام جوڑکربلوچستان کیلئے نئی سازش کی جارہی ہے
پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدراورسینیٹرکے عہدے سے مستعفی ہونے والے نوابزادہ لشکری رئیسانی کاخصوصی انٹرویو

اسلام آباد(انٹرویو:افضال خان ،سیف اللہ ربانی ) پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدراورسینیٹرکے عہدے سے مستعفی ہونے والے نوابزادہ لشکررئیسانی نے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہاہے کہ جنرل مشرف کے جانے کے بعدبھی آمریت پسندوںکاحکم چل رہاہے اور ڈوریاںانہی کے ہاتھ میں ہیں، انہوں پاکستانی عوام سے مطالبہ کیاہے کہ ان قوتوںکو مسترد کردیںورنہ ہماری طرف سے اللہ حافظ ہے ۔ نوابزادہ رئیسانی نے حکومت سے پرزورمطالبہ کیا ہے کہ بلوچ رہنماؤںکے قتل کی انکوائری کیلئے سپریم کورٹ یاہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں غیرجانبدارعدالتی کمیشن بنایاجائے اورتحقیقات کے بعد جو بھی قصوار ثابت ہوا سے سرعام سزادی جائے۔مستعفی ہونے کے بارے میں نواب رئیسانی نے کہا ہے کہ میں نے حکومت کو ایک مہینے کاوقت دیاہے اور حکومت کے جواب کا شدت سے انتظار کررہاہوں ۔اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے تحفظات دورکرے ۔انہوںنے اپنی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ صوبے اورمرکز میںہماری پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود ہم اتنے بے بس ہیں کہ مسائل کوحل نہیں کرسکتے ، جب ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے توپھرعہدوںکیا فائدہ۔ عوام نے ہمیںبینظیر بھٹو شہید کے نام پر ووٹ دیئے تاکہ ہم ان کے مسائل حل کرسکیں لیکن ڈیڑھ سال حکومت کرنے کے باوجود ہم ناکام ہیں۔انہوںنے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کچھ لوگ پارٹی میں اختلافات پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن میںپارٹی میں موجود کالی بھیڑوں اورسازشی عناصر کو جلد بے نقاب کرونگا۔ انہوںنے حکومت پرالزام لگاتے ہوئے کہاہے کہ حکمران بلوچستان کے مسئلے پر سنجیدگی کامظاہرہ نہیںکررہے ،مجھے لگتاہے کہ اسلام آبادکے ایوانوںمیں بیٹھنے والوں کونقصان کاصحیح اندازہ نہیں ہے۔انہوںنے بتایاکہ بلوچستان کے مسئلے پروفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک سے بات ہوئی لیکن وزیرداخلہ نے اس کوسنجیدگی سے نہ لیتے ہوئے کہاکہ امریکہ سے واپسی پربات کرینگے۔
رئیسانی پاکستانی اداروںکومورداالزام ٹھہراتے ہوئے کہاکہ ہمیشہ ہرمسئلے کوبندوق کے زورپرحل کرنے کی کوشش کی گئی جس سے نفرت میںاضافہ ہوا، انہوںنے سیاستدانوںپربھی تنقید کی اورکہاکہ سیاستدانوںنے بہت غلطیاںکی ہیں ۔بلوچستان کے لوگوںکوبندگلی میںدھکیلنے اوردیوارسے لگانے میں سیاستدانوںکابھی ہاتھ رہاہے ۔ موجودہ حکومت نے مسئلے کوسیاسی اندازمیںحل کرنے کی کوشش نہ کی توحالات کسی کے کنٹرول میںنہیں رہینگے۔نوابزادہ رئیسانی نے مطالبہ کیاکہ بلوچستان میںخفیہ ایجنسیوں کے اثرورسوخ کو ختم کیاجائے اور لاپتہ افراد کوبازیاب کرایاجائے۔انہوںنے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کامسئلہ سرداروںاورحکومت کے درمیان وسائل کی جنگ نہیں بلکہ یہ اسٹیبلشمنٹ اورعوام کے درمیان آئینی حقوق کی جنگ ہے ۔
امریکہ کی طرف سے ڈرون حملوںکی بات پرلشکری رئیسانی نے کہاکہ اگربلوچستان کیخلاف ایسی کارروائی کی گئی توانتہائی خوفناک ردعمل سامنے آئے گا، حکومت اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہ کرے اورکسی بھی سطح کمزوری نہ دکھائے۔انہوںنے بلوچستان میں طالبان کی موجودگی کی عالمی طاقتوںکی رپورٹوں اوربیانات کومسترد کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میںطالبان نہیںہیں،غیرملکی پروپیگنڈے میں کوئی صداقت نہیں ۔بلوچستان کامسئلہ الگ ہے ، طالبان کا الگ ، دونوں مسئلوں کو جوڑنے کی سازش کی جارہی ہے۔
نوابزادہ رئیسانی نے بلوچستان میں غیرملکی طاقتوں کے ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے اوراس کی ذمہ داری جنرل مشرف پرعائد کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ اوربھارت ان کی وجہ سے افغانستان آئے اوراب افغانستان کے ذریعے بلوچستان میںمداخلت کررہے ہیں ۔
گوادربندرگاہ کی تعمیر میںچین کے کردارکے حوالے سے نوابزادہ رئیسانی نے کہاکہ چین سے بلوچوںکوئی تکلیف نہیںاورنہ چین پربلوچوںکوکوئی اعتراض ہے ،انہوںنے واضح طورپرکہاہے کہ گوادر میںچین کے کردارپر امریکہ ناراض ہے ۔امریکہ نہیں چاہتاکہ اس خطے میں چین کے اثرورسوخ میںاضافہ ہو۔انہوںنے کہاکہ گوادرکوبلوچستان حکومت کے حوالے کرناچاہیے ، اس پرپہلاحق مقامی لوگوں کاہے ،انہوںنے سابق حکومت پرالزام لگاتے ہوئے کہاکہ گوادرکی زمین مختلف اداروںکودھونس اوردھاندلی سے الاٹ کی گئی ہے جو غلط فیصلہ ہے اورمقامی لوگوںکیلئے بے چینی کاسبب ہے ۔
بلوچستان میں آزادی کی تحریک کے بارے میں لشکری رئیسانی نے کہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ جبرسے آزادی کی تحریکیں جنم لیتی ہیں،بلوچوںکی نفرت کواس حدتک بڑھانے سے پہلے سوچناچاہیے تھاکہ انجام بہت براہوسکتاہے ۔ اگراب بھی مسئلہ حل کرناچاہتے ہیں تواس کے حل کے لئے جمہوری عمل ، آئینی حقوق دینے اورسچ بولنے کی ضرورت ہے ۔ایجنسیوں ، فوج اورآئی جی ایف سی کی مداخلت بند کرکے بلوچستان کے مسئلے کوسیاسی اندازمیں حل کیاجاناچاہیے،انہوںنے کہاکہ صوبائی خود مختاری اور وسائل پر صوبے کو اختیار دے کر اس مسئلہ کو حل کیاجاسکتا۔
