Sacc header image 4

Entries Tagged as 'Haroon Adeem'

”میڈیا سے عوامی شکایات۔۔۔؟“

November 11th, 2009 · Comments Off

haroon-adeem-logo

صورتحال
ہارون عدیم
کچھ پاکستانی ”بلاگ“ویب سروسز کے ذریعے جو ان گنت ای میلز روزانہ ملتی ہیں ان میں آج کل” میڈیا وار“کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔بڑے محتاط اندازے کے مطابق95 فی صد پاکستانیوں کی رائے ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے اینکر پرسنز سیاسی پارٹیوں کے کارکن کی حیثیت سے میزبانی کے فرا ئض سر انجام دیتے ہیں۔عوام کا یہ بھی ماننا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے یہ چینل مسلسل سیاستدانوں کی کردار کشی کر رہے ہیں ،کبھی یہ نہیں ہوا کہ انہوں نے کبھی نوکر شاہی،عدلیہ اور افواج پاکستان کی کرپشن کا تذکرہ کیا ہو۔کیا نوکر شاہی ،عدلیہ اور افواج پاکستان معصوم ہیں۔اور وہ پاک صاف ہیں،کیا خود میڈیا کرپٹ نہیں ۔کیا صحافی اور میڈیا مالکان پلاٹ اور دیگر مراعات حاصل نہیں کرتے،کیا کبھی کسی چینل نے اپنے صحافیوں کو بھی ننگا کیا ہے۔اس بات کے علاوہ عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپنے ٹاک شوز میںیہ اینکر پرسن ماسوائے سیاسی عہدے داروں کو آپس میں لڑانے اور ان کے درمیان اختلافات کو ہوا دے کر مزید گہرا کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ”وار گروپ“ (یہ اصطلاح لوگوں کی ایجاد کردہ ہے جو ای میلز میں لکھی جاتی ہے)کے اینکر پرسنز تو صرف اپنے مالکان کے اشارے پر صرف اور صرف سیاستدانوں کی کردار کشی اور جمہوری نظام کو تہہ و بالا کرنے میں مصروف ہیں کیونکہ اس گروپ کے ذمہ کروڑوں روپے کے ٹیکس واجب الادا ہیں ،اس ادرے نے اپنے ورکروں کی تنخواہوں سے انکم ٹیکس کی مد میں جو رقوم کاٹی ہیں وہ تک ادا نہیں کیں چہ جائیکہ دوسرے ٹیکسز اداکرے۔لہٰذا وار گروپ کے اینکر پرسنز کا یہ نیا کردار سمجھ میں آتا ہے۔مگر اس بھیڑ چال میں جب دوسرے نجی چینلز بھی شامل ہو جاتے ہیں تو عوام کو یقینا تشویش لا حق ہو جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کی سیاست میں سازشوں ،تشدد اور انتخابات میں دھاندلی کی تمام اعلٰی روایات مسلم لیگ نے ہی ڈالی ہیں۔مثلاً پاکستان بننے کے بعد اور قائد اعظم کی رحلت کے بعد جس کسی نے بھی مسلم لیگ پر تنقید کی اس کو غدار قرار دے کر نہ صرف مارا پیٹا گیا بلکہ اسمبلی سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔ایک عوامی جلسہ میں ملک کے وزیر اعظم نے اپوزیشن لیڈر سہر وردی کو ”کتا “ کہا،پاکستان کی تاریخ کے پہلے سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر ہونے والے انتخابات میں اس سطح پردھاندلی کی گئی کہ اخباروں نے سرخیاں جمائیں کہ ”جھرلو پھر گیا“ اور یوں اردو لغت میں ایک نئے لفظ کا اضافہ بھی ہو گیا۔لیاقت علی خان کی وفات کے بعد مسلم لیگ نے بقول ڈاکٹر مبشر کے جو بچے انڈے دیئے انہوں نے بھی لیاقت علی خان کی روایات کو صدق دل سے آگے بڑھایا۔
ایوبی لیگ نے 62 کے انتخابات میں مادر ملت کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کیا۔اور ایک نئی روایت کا آغاز بھی ہوا،ایوب خان کے بعد جتنے بھی طالع آزما اور آمر آئے انہوں نے مسلم لیگ کو ہی اپنی زوجیت بخشی اور مسلم لیگ نے یہ رول بخوشی و رغبت نہ صرف قبول کیا بلکہ نبھایا بھی ہے۔88 کے انتخابات میں ن لیگ کے سربراہ نے پاکستان کی سیاست میں ایک بالکل انوکھا عمل متعارف کروایا ،اور وہ تھا مینڈیت حاصل کرنے کی بجائے مینڈیٹ خریدنا۔چھانگا مانگا آپریشن میں چالیس آزاد ایم پی ایز کو زبردستی اغواءکر کے انہیں ایک ایک کروڑ میں خریدا گیا اور پنجاب میں حکومت قائم کی گئی۔اسی عمل نے بعد میں فارورڈ بلاکس اور یونیفیکیشن گروپس کی صورت اختیار کر لی۔لہٰذا اب مسلم لیگ کے سارے دھڑوں کی طرف سے زیادہ زور اس بات پر صرف کیا جاتا ہے کہ عوام سے رجوع کرنے کی بجائے عوام کے نمائندوں کو خریدا جائے۔ٹی وی اینکرز کو پارٹی ترجمان بنانے کی روایت کا آغاز بھی جناب نواز شریف کے دور حکومت میں ہی ہوا تھا،جب مرحوم خلیل ملک پی ٹی وی کی صبح کی نشریات میں مارننگ شو ”سویرے سویرے کی میزبانی کیا کرتے تھے۔وہ مسلم لیگ کے باقاعدہ ملازم تھے، اور سرکاری میڈیا پر بیٹھ کر نہ صرف حکومت بلکہ حکمران پارٹی کی وکالت بھی کرتے تھے،اور ایسے شرکاءکی تضحیک بھی کیاکرتے تھے جو نواز حکومت یا حکمران جماعت پر تنقید کرتے تھے۔17 جون 1998 کو ہم نے روزنامہ اساس راولپنڈی میں خلیل ملک کے اس کردار کے بارے میں ایک کالم ”ٹیلی ویژن پر مہمانوں کی تضحیک“ کے عنوان سے لکھا تھا، سویرے سویرے پاکستان ٹیلی ویژن کا ایک اچھوتا پروگرام تھا ۔یوں کہہ لیجئے کہ یہ ایک ویڈیو میگزین تھا جس میں ادارتی صفحہ،کھیل اور تفریح سبھی کچھ ہوتا تھا،جب یہ شروع ہوا تو معروف اینکر پرسن طلعت حسین اس کی میزبانی کیا کرتے تھے۔جو ہمیشہ غیر جانبدار رہتے۔اس پروگرام کی افادیت اور اثر پذیری کو دیکھتے ہوئے ن لیگ کی حکومت نے یہ پروگرام طلعت حسین سے چھین کر خلیل ملک کو دے دیا ،اور یہ پروگرام حکومت اور حکمران پارٹی کا پروگرام بن کر رہ گیا۔اب چونکہ چینل بہت زیادہ ہیںاس لئے یہ ضروری ٹھہرا ہے کہ ایسے تمام ٹاک شوز کے اینکر پرسن کو خرید لیا جائے جن کے پروگرام لوگ شوق سے دیکھتے ہیں۔اب یہ اینکر پرسن کرتے یہ ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کو چھوڑ کر مستقبل کے مفروضوں پر پروگرام کرتے ہیں۔نان اےشوز کو اےشوز بناتے ہیں۔کچھ تو سرکاری ایجنسیوں کی وکالت کرتے ہیں اور کچھ سیدھا سیدھا سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔یہ ایک عجیب دور ہے اگر کوئی پیپلز پارٹی پرتنقیدکرتا ہے تو اس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ وہ نون لیگ کا حامی ہے ،اور اگر کوئی ن لیگ پر تنقید کرتا ہے تو اس پر زرداری کی طرف داری کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

ایک دو روز پہلے کاشف عباسی نے میڈیا پر لگنے والی ممکنہ پابندیوں پر ایک پروگرام کیا جس کے شرکاءمیں محترم نصرت جاوید اور ن لیگ کے سیکرٹری انفارمیشن اور ترجمان احسن اقبال بھی تھے۔ نصرت جاوید نے یہ بات برملا کہی کہ حکمران صحافیوں کو کمی کمین سمجھتے ہیں ،انہوں نے احسن اقبال کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات جھٹلائیں کہ ن لیگ بھی میڈیا پر پابندی نہیں چاہتی۔نصرت نے کہا کہ ہمیں روز ن لیگ کی لیڈر شپ کی طرف سے فون آتے ہیں کہ ہمیں فلاں پروگرام میں کم کوریج دی گئی ہے اور فلاں میں ہمارے مخالفین کو زیادہ۔فلاں سوال نہیں کرنا چاہئے تھا ،وغیرہ وغیرہ۔وقت ٹی وی میں تو ہر وہ شخص بین ہے جو مجید نظامی کے نظریہءپاکستان کے خلاف ہو، ڈاکٹر مبارک، ڈاکٹر مبشرکے ساتھ ساتھ نوے فیصد ترقی پسند ٹی ٹاک شوز میں نہیں آ سکتے، کسی بھی ایسے شخص کو جو مجید نظامی کی فراہم کردہ فہرست سے باہر ہو بلانے سے پہلے اجازت لینی پڑتی تھی۔ جناب سجاد میر نے مجید نظامی کے سوچے ہوئے پروگرام ”نظریہ ءپاکستان اور ۔۔۔۔“ اور اس کے بعد کچھ بھی لگایا جا سکتا تھا کی میزبانی قبول کرنے سے صرف اس لئے انکار کر دیا تھا کہ وہ جن لوگوں کو شرکاءکے طور پر بلانا چاہتے تھے نہیں بلا سکتے تھے۔اس کے بعد کرہءفال جناب ڈاکٹراجمل نیازی کے نام نکلا مگر وہ بھی پانچویں پروگرام کی میزبانی کے بعد بھاگ گئے۔نواز شریف اور شہباز شریف کو بیپر پر لینا منع تھا۔وقت چینل پر نون لیگ کے خلاف بات کرنا یا ایسی خبر چلانا جس سے ان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو بین تھی اور اب بھی ہے۔یہ سب باتیں کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قارئین یہ بات نوٹ کرلیں کہ میڈیا قطعاًآزاد نہیں۔ اینکر پرسن پہلے تو ادارے کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کے پابند ہیں پھر اس مارکیٹ وسیب میں وہ بھی اپنا بھاو¿ لگواتے ہیں۔ہم نے یہ ریت ڈالی کہ پارٹی ترجمان کو سرکاری میڈیا پر بٹھا کر پارٹی اور حکومت کی نہ صرف پروجیکشن کی جائے بلکہ ناقدین کی تضحیک بھی کی جائے ۔وہ چاہے حکمران ہوں، افراد ہوں ،ادارے ہوں یا سیاسی جماعتیں ،وقتی فوائد حاصل کرنے کے لئے جو غلط اقدامات اٹھاتے ہیں بعد میں وہ قوم کو بھگتنے پڑتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ چور کو مارنے سے پہلے چور کی ماں کو مارا جائے کہ وہ کوئی اور چور نہ پیدا کر سکے۔

Tags: Haroon Adeem , column

” برطانیہ میں ہونے والی دہشت گردی ۔۔۔؟ “

November 7th, 2009 · Comments Off

haroon-adeem-logo

صورتحال
ہارون عدیم
” برطانیہ میں ہونے والی دہشت گردی ۔۔۔؟ “
امریکی تھینک ٹینک ادارے ”دی ہیریٹیج فاو¿نڈیشن“ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوہ کیا ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں کے درمیان برطانیہ میں دہشت گردی کی سزا پانے والوں کا ایک چوتھائی افرادکا تعلق پاکستان سے ہے۔رپورٹ کے مطابق سزا پانے والے مجرموں میں سے18 مجرموں کی رشتہ داریاں پاکستان میںہیںاور13افریقی باشندوں میں سے 6کا تعلق الجزائر سے ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک سے ان دہشت گردوں کا تعلق نہ ہونے کے برابر ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ان سزا پانے والے 87دہشت گردوں میں سے 61 کا تعلق القاعدہ سے تھا۔رپورٹ میں یہ دعوہ بھی کیا گیا ہے کہ القاعدہ برطانیہ کو دہشت گردی کے میدان میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔رپورٹ میں برطانوی حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ امیگریشن قوانین کو مزید سخت بنائے،کیونکہ یورپی یونین کے پھیلاو¿ کی وجہ سے بھی برطانیہ کو اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا نہایت مشکل ہو گا۔رپورٹ کے مندرجات کے مطابق برطانیہ اور پاکستان کے درمیان جسمانی اور نظریاتی دہشتگردی کی ایک پائپ لائن موجود ہے۔جسے توڑنا نہایت ہی مشکل ،مگر بڑا ضروری ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2001 سے لے کر2009 تک برطانیہ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں پاکستان کا کلیدی کردار رہا ہے،اور دہشت گردی میں سزا پانے والے ایک چوتھائی افراد کا تعلق پاکستان سے بنتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق برطانیہ میںدہشتگردی کے87 واقعات جن میں مجرموں کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں،ان میں 18 واقعات میں ملوث دہشتگردوں کی پاکستان میں رشتہ داریاں ہیں اور انہوں نے دہشتگردی کی تربیت برطانیہ اور پاکستان میں حاصل کی تھی۔دی ہیریٹیج فاو¿ندیشن نے برطانیہ میں بڑے دہشتگردی کے واقعات کے حقائق کا جائزہ لے کر اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ ان 18 افراد میں صرف ایک پاکستانی شہری تھا۔جبکہ باقی افراد کی پاکستان میں رشتہ داریاں ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے علاوہ شمالی افریقہ کے باشندے بھی برطانیہ میں دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں،اس رپورٹ کے مصنفین مسٹر برومنڈ اور مسٹر روچ کامو¿قف ہے کہ برطانیہ اور امریکا کو مل کر دہشتگردی کی اس پائپ لائن کو توڑنا ہو گا۔ان کا خیال ہے کہ اگر برطانیہ اور امریکا افغانستان میں موجود القاعدہ کے نیٹ ورک کو توڑے بنا نکل آئے تو القاعدہ کو ایک بار پھر محفوظ پناہ گاہ مل جائے گی،جہاں سے وہ عالمی دہشتگردی کے منصوبے بنائیں گے۔مصنفین نے برطانیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے امیگریشن قوانین کو مزید سخت بنائے کیونکہ برطانیہ میں دہشت گردی میں ملوث 87افراد میں سے21 افراد غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہوئے تھے۔مصنفین کا خیال ہے کہ یورپی یونین کے مزیدپھیلاو¿ سے برطانیہ کے لئے اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ امریکی تھینک ٹینک ادارے ”دی ہیریٹیج فاو¿نڈیشن“ کی یہ رپورٹ یقینا برطانیہ کے لئے ہے۔اور یہ رپورٹ برطانوی اخبارات میں شامل بھی ہوئی ہے،مگر اس رپورٹ کا جو مکھڑا بنا ہے وہ برطانیہ میں دہشت گردی میں پاکستانیوں کی شمولیت ہے۔ حالانکہ رپورٹ کے مندرجات کے مطابق اگر دہشت گردوں کی تعداد سو تھی تو اس میں سے75 لوگ ایسے تھے جن کی نہ تو پاکستان میں رشتہ داریاں تھیں اور جو کہ پاکستانی بھی نہیں تھے۔جب کے باقی ماندہ چوتھائی میں سے صرف ایک پاکستانی شہری تھا،اور باقی لوگ برطانوی شہری تھے ۔دہشت گردی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس چوتھائی میں شامل افراد یہیں برطانیہ میں پیدا ہوئے اور یہیں پروان چڑھے۔یقینا ایسے پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی رشتہ داریاں پاکستان میں ہونا ایک یقینی امر ہے۔وہ اس لئے کہ ان کے خاندان پاکستان میں ہی مقیم ہیں، مگر وہ دہشت گرد نہیں۔امریکا اور یورپ کی جانب سے پاکستان کے بارے میں جو منفی پراپیگنڈہ کیاجا رہا ہے یہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔گزشتہ چھ دنوں میں ہم لیڈز،بریڈ فورڈ اور آرچ لینڈ گھومے،ہم جہاں بھی گئے اور جن جن مقامی لوگوںسے بات چیت ہوئی سب کا خیال یہ تھا کہ جیسے ہر پاکستانی دہشت گردوں کی تربیت کر رہا ہے۔یقینا یہ تاثر حقیقت سے ناواقفیت اور منفی پراپیگنڈہ کے زیر اثر ہے۔کیونکہ صورتحال تو یہ ہے کہ اس وقت خود اینگلو امریکن گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی جارحیت جس نے میڈل ایسٹ ، افغانستان اور پاکستان کو اپنی گرفت میںلیا ہواہے سب اس کا شاخسانہ ہے۔اس مبینہ رپورٹ کے مطابق ان برطانوی شہریوں جن کو دہشت گردی کی وارداتوں میں سزائیں سنائی گئیں کی تربیت برطانیہ اور پاکستان میں کی گئی۔

رپورٹ کی سب سے حیران کن بات امریکا کا برطانیہ کو یہ سمجھانا ہے کہ برطانیہ میں گزشتہ آٹھ سالوں کے درمیان ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے کون لوگ ہیں، اور برطانیہ کو اس کے سدباب کے لئے کیا کرنا چاہئے۔گویا برطانوی حکومت اور اس کی سرکاری ایجنسیاں اس بات کا ادراک نہیں رکھتیں۔یہ رپورٹ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ جب تک امریکا برطانوی حکومت کی مدد نہ کرے تب تک برطانوی حکومت برطانیہ میں ہونے والی دہشت گردی پر قابو نہیں پا سکتا۔جب کہ صورتحال اس کے بر عکس ہے ،پاکستان میں تو امریکا اور برطانیہ کی پھیلائی ہوئی اس عالمی دہشت گردی کی جنگ اب گلی محلوں میں لڑی جا رہی ہے، آئے روز خود کش دہشت گرد خود کو اڑا کر ہزروں بے گناہ انسانوں کو لقمہ ءاجل بنا رہے ہیں،ان میں سے کوئی بھی پاکستانی نہیں ہے۔ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد جو اسلحہ استعمال کر رہے ہیں وہ یا تو انڈین ہے یا امریکی اور یا پھر اسرائیلی۔تو پھر کیا یہ سمجھا جائے کہ امریکا ،اسرائیل اور انڈیا پاکستان کے دشمن ہیں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردی کے بارے میں گزشتہ ایک سال سے برطانوی سوچ میںتبدیلی آئی ہے۔برطانوی وزیر داخلہ، وزیر خارجہ اور وزیر اعظم کے بیانات اور عملی اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اب امریکا کی دہشت گردی کے بارے میں پالیسی،اوراس کے سد باب کے بارے میں امریکی حکمت عملی سے کلی طور پر متفق نہیںہیں۔انہوں نے پاکستانی نقطہ نظر کو قبول کیا ہے۔مگر امریکا چونکہ افغانستان میں ابھی موجود رہنا چاہتا ہے اور موجود اس وقت تک رہنا چاہتا ہے جب تک کہ وہ ایران سے نہ نپٹ لے اس لئے وہ دہشت گردی کی آگ کو تب تک سرد نہیں ہونے دے گا۔کیونکہ دہشت گردی کے تھمنے یا اس میں کمی سے مراد امریکا کا افغانستان سے نکلنا ہے۔لہٰذا اب امریکا برطانیہ کو گھیر گھار کر اپنی دہشت گردی کی تعریف اور پالیسی کا اسیر بنانا چاہتا ہے۔تا کہ اینگلو امریکن اتحاد برقرار رہے۔کیونکہ افغانستان میں پہ درپہ ناکامیوں کی وجہ سے امریکا کو اب اپنی ساکھ کو بچانا جہاں نہایت ہی دشوار ہو گیا ہے وہاں افغانستان میں موجود اتحادی فوجوں کو بھی روکنا خاصا دشوار ہو رہا ہے۔ایسے میں امریکی اداروں کی جانب سے ایسے تجزیئے اور رپورٹیں سامنے لانا ایک قدرتی امر ہے،جس میں دہشت گردی کی ہب اور تربیت گاہ پاکستان کو ظاہر کیا جائے،برطانوی حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ دہشت گردی کے پاکستانی مو¿قف کو قبول نہ کرے اور امریکی مو¿قف اور پالیسی کا ساتھ دے۔مگر برطانیہ کو یہ سوچنا ہوگاکہ اس نے اگر دہشت گردی سے کسی ملک کو محفوظ بنانا ہے تو کیا وہ اس کا اپنا ملک برطانیہ ہونا چاہئے یا کہ امریکا۔۔۔؟یقینا برطانیہ کی اولیت اس کا اپنا ملک ہی ہو سکتا ہے،لہٰذا برطانیہ کو اپنے تھنک ٹینکس کی بات سننی چاہئے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔برطانیہ کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جب تک وہ خلیجی جنگ اور افغانستان میں امریکا کا اتحادی نہیں بنا تب تک برطانیہ میں دہشت گردی کی کوئی بھی واردات نہیں ہوئی ۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ برطانیہ میں ہونے والی دہشت گردی کے اصل اور حقیقی اسباب کا خاتمہ کیا جائے اور برطانیہ اپنی افواج کو خلیج اور افغانستان سے واپس بلائے۔

Tags: Haroon Adeem , column

”پارلیمنٹ کی بالادستی۔۔۔؟“

November 2nd, 2009 · Comments Off

وطن عزیز میں بیٹھ کر چیزیں اور طرح سے دکھتی ہیں۔معاملات کی سنگینی کا اس طرح سے ادراک نہیں ہوتاجس طرح دیار غیر میں ہوتا ہے۔ہم جب کل قومی ائیر لائن کی پرواز سے برطانیہ کے شہر مانچسٹر پہنچے تو امیگریشن کارڈ پر ہم نے اپنا پیشہ لکھاری اور کالم نویسی ظاہر کیا۔امیگریشن آفیسرنے ہمارے پاسپورٹ کی جانچ پھٹک کرتے ہوئے ہمارے پیشے کا پڑھتے ہی سوال داغا کہ ہم کس زبان میں کالم لکھتے ہیں۔۔۔؟

ہمارا جواب تھا کہ قومی زبان اردو میں۔اس نے ہمارے چہرے کی جانب دیکھے بغیر دوسرا سوال داغا
کیا ہم بھی کیری لوگر بل کے خلاف ہیں اور کیا پاکستان میں پارلیمنٹ سمیت کسی نے بھی کیری لوگر بل کو پڑھا ہے۔۔۔؟
ہم نے اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کیا کہ کیا ہماری انٹری اس سوال کے جواب سے مشروط ہے؟
وہ مسکرایا اور اس نے پاسپورٹ پر انٹری کی مہر ثبت کر کے ہمیں مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیںمیچتے اور سر کو ہلاتے ہوئے خوش آمدید کہتے ہوئے ہمارا پاسپورٹ ہمارے حوالے کر دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ جب جب ہم ملک سے باہر گئے اور لوگوں کو پتہ چلا کہ ہمارا تعلق صھافت سے ہے تب تب لوگ ایسے ہی چبھتے ہوئے سوال کرتے رہے ہیں۔سامان وصول کرنے والے حصے میں ہم امیگریشن آفیسر کے جملے کی کاٹ سے لگے زخم کو سلاہتے رہے۔ہمیں یہ جان کر خاصی سبکی اور ندامت محسوس ہوئی کہ ماڈرن ورلڈ میں ہمارے بارے میں دنیا کیا سوچتی ہے۔کیا ہم واقعی ان پڑھ اور فہم و فراست سے عاری لوگ ہیں ۔۔۔؟انہیں سوچوں میں الجھے ہوئے تھے کہ ہمارا سامان آ گیا اور ہم کسٹم کے علاقے سے باہر نکل آئے۔ہمیں جو ایک اور حیران کن تجربے سے واسطہ پڑا وہ امیگریشن اور کسٹم والوں کا سلوک تھا۔ہر کسی کو جلدی جلدی داخلے کی مہر لگا کر فارغ کیا جا رہا تھا ،جبکہ کسٹم والے بھی خال خال ہی کسی کو چیک کر رہے تھے ۔ہمارے پاس دو بیگ تھے ہمیں کسی نے بھی نہیں روکا کہ اپنا بیگ چیک کرواو¿،لہٰذا ہم بڑی آسانی سے امیگریشن کے مراحل سے گزرتے ہوئے باہر نکل آئے۔
آج صبح ایک ناشتے کے دوران ہم نے اپنے میزبانوں کوکسی پاکستانی چینل کو دکھانے کی فرمائش کی تو انہوں نے فوراً ہماری خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایک نجی چینل لگا دیا،جس پر محترمہ شیری رحمٰن،نوں لیگ کے مشاہد اللہ خان اور کشمالہ طارق ایک ٹاک شو میں محو گفتگو تھے۔بات ابھی تک این آر او اور کیری لوگر بل پر پھنسی ہوئی ہے،جناب مشاہد اور کشمالہ طارق کا استدلال تھا کہ پی پی پی کی حکومت پارلیمنٹ کو بائی پاس کر رہی ہے اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کے تمام تر دعوے زبانی کلامی ہیں۔اور یہ کہ حکومت نے قوم کی غیرت کا سودا کر کے امریکا کی غلامی میں دے دیا ہے۔اگر ہم پاکستان میں ہوتے تو یقینا ہمارا رد عمل یہ نہ ہوتا بالخصوص امیگریشن آفیسر کے سوال کے تناظر میں ہمیں سوچنا پڑا کہ کیا ہمارا میڈیا اور سیاسی زعماءکب تک دنیا کو گمراہ کریں گے۔پارلیمنٹ کی بالا دستی کو کس غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔پارلیمنٹ کی بالا دستی سے مراد کیا ہے۔آئیں آج اس پر بات ہو جائے۔
جمہوری ملکوں میں پارلیمنٹ عوام کامنتخب کیا ہوا ادارہ ہے۔جو کہ قانون ساز ادارہ بھی ہوتا ہے۔یہ ادارہ باقی تمام قومی اداروں سے سپریم ہوتا ہے۔اس ادارے کا چنا ہوا وزیر اعظم ہاو¿س کا لیڈر ہوتا ہے اور وہ ملکی انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے،وہ ملکی امور چلانے کے لئے پارلیمنٹ سے کابینہ کا نتخاب کرتا ہے جو کہ پارلیمنٹ کی نمائندہ بھی ہوتی ہے۔وزیر اعظم اور اس کی کابینہ پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے اور اسی کو پارلیمنٹ کی بالا دستی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔وزیر اعظم اور اس کی کابینہ کو پارلیمنٹ ہی یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ قومی اور عالمی معاملات کو احسن طریقے سے چلائے،اور پارلیمنٹ کو اس سے آگاہ رکھے،ضروری ہو تو قومی اشوز پر پارلیمنٹ میں بحث بھی روائے۔

haroon-adeem-logo

صورتحال

ہارون عدیم

وطن عزیز میں بیٹھ کر چیزیں اور طرح سے دکھتی ہیں۔معاملات کی سنگینی کا اس طرح سے ادراک نہیں ہوتاجس طرح دیار غیر میں ہوتا ہے۔ہم جب کل قومی ائیر لائن کی پرواز سے برطانیہ کے شہر مانچسٹر پہنچے تو امیگریشن کارڈ پر ہم نے اپنا پیشہ لکھاری اور کالم نویسی ظاہر کیا۔امیگریشن آفیسرنے ہمارے پاسپورٹ کی جانچ پھٹک کرتے ہوئے ہمارے پیشے کا پڑھتے ہی سوال داغا کہ ہم کس زبان میں کالم لکھتے ہیں۔۔۔؟

ہمارا جواب تھا کہ قومی زبان اردو میں۔اس نے ہمارے چہرے کی جانب دیکھے بغیر دوسرا سوال داغا

کیا ہم بھی کیری لوگر بل کے خلاف ہیں اور کیا پاکستان میں پارلیمنٹ سمیت کسی نے بھی کیری لوگر بل کو پڑھا ہے۔۔۔؟

ہم نے اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کیا کہ کیا ہماری انٹری اس سوال کے جواب سے مشروط ہے؟

وہ مسکرایا اور اس نے پاسپورٹ پر انٹری کی مہر ثبت کر کے ہمیں مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیںمیچتے اور سر کو ہلاتے ہوئے خوش آمدید کہتے ہوئے ہمارا پاسپورٹ ہمارے حوالے کر دیا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ جب جب ہم ملک سے باہر گئے اور لوگوں کو پتہ چلا کہ ہمارا تعلق صھافت سے ہے تب تب لوگ ایسے ہی چبھتے ہوئے سوال کرتے رہے ہیں۔سامان وصول کرنے والے حصے میں ہم امیگریشن آفیسر کے جملے کی کاٹ سے لگے زخم کو سلاہتے رہے۔ہمیں یہ جان کر خاصی سبکی اور ندامت محسوس ہوئی کہ ماڈرن ورلڈ میں ہمارے بارے میں دنیا کیا سوچتی ہے۔کیا ہم واقعی ان پڑھ اور فہم و فراست سے عاری لوگ ہیں ۔۔۔؟انہیں سوچوں میں الجھے ہوئے تھے کہ ہمارا سامان آ گیا اور ہم کسٹم کے علاقے سے باہر نکل آئے۔ہمیں جو ایک اور حیران کن تجربے سے واسطہ پڑا وہ امیگریشن اور کسٹم والوں کا سلوک تھا۔ہر کسی کو جلدی جلدی داخلے کی مہر لگا کر فارغ کیا جا رہا تھا ،جبکہ کسٹم والے بھی خال خال ہی کسی کو چیک کر رہے تھے ۔ہمارے پاس دو بیگ تھے ہمیں کسی نے بھی نہیں روکا کہ اپنا بیگ چیک کرواو¿،لہٰذا ہم بڑی آسانی سے امیگریشن کے مراحل سے گزرتے ہوئے باہر نکل آئے۔

آج صبح ایک ناشتے کے دوران ہم نے اپنے میزبانوں کوکسی پاکستانی چینل کو دکھانے کی فرمائش کی تو انہوں نے فوراً ہماری خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایک نجی چینل لگا دیا،جس پر محترمہ شیری رحمٰن،نوں لیگ کے مشاہد اللہ خان اور کشمالہ طارق ایک ٹاک شو میں محو گفتگو تھے۔بات ابھی تک این آر او اور کیری لوگر بل پر پھنسی ہوئی ہے،جناب مشاہد اور کشمالہ طارق کا استدلال تھا کہ پی پی پی کی حکومت پارلیمنٹ کو بائی پاس کر رہی ہے اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کے تمام تر دعوے زبانی کلامی ہیں۔اور یہ کہ حکومت نے قوم کی غیرت کا سودا کر کے امریکا کی غلامی میں دے دیا ہے۔اگر ہم پاکستان میں ہوتے تو یقینا ہمارا رد عمل یہ نہ ہوتا بالخصوص امیگریشن آفیسر کے سوال کے تناظر میں ہمیں سوچنا پڑا کہ کیا ہمارا میڈیا اور سیاسی زعماءکب تک دنیا کو گمراہ کریں گے۔پارلیمنٹ کی بالا دستی کو کس غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔پارلیمنٹ کی بالا دستی سے مراد کیا ہے۔آئیں آج اس پر بات ہو جائے۔

جمہوری ملکوں میں پارلیمنٹ عوام کامنتخب کیا ہوا ادارہ ہے۔جو کہ قانون ساز ادارہ بھی ہوتا ہے۔یہ ادارہ باقی تمام قومی اداروں سے سپریم ہوتا ہے۔اس ادارے کا چنا ہوا وزیر اعظم ہاو¿س کا لیڈر ہوتا ہے اور وہ ملکی انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے،وہ ملکی امور چلانے کے لئے پارلیمنٹ سے کابینہ کا نتخاب کرتا ہے جو کہ پارلیمنٹ کی نمائندہ بھی ہوتی ہے۔وزیر اعظم اور اس کی کابینہ پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے اور اسی کو پارلیمنٹ کی بالا دستی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔وزیر اعظم اور اس کی کابینہ کو پارلیمنٹ ہی یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ قومی اور عالمی معاملات کو احسن طریقے سے چلائے،اور پارلیمنٹ کو اس سے آگاہ رکھے،ضروری ہو تو قومی اشوز پر پارلیمنٹ میں بحث بھی کروائے۔

اب معاملہ ہے پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے کا کہ حکومت کیری لوگر بل پر ووٹنگ کرواتی تو یہ مطالبہ قطعا ً نامناسب اور غلط ہے۔جب پارلیمنٹ کی نمائندہ کابینہ نے اس کو پاس کر دیا تو یہ پاس ہو گیا۔کسی بھی جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ قانون سازی کے علاوہ ووٹنگ کروائی جائے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کیری لوگر بل ایک قانون ہے جس پر حکومت نے ووٹنگ نہیں کروائی۔۔۔؟دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا کیری لوگر بل امریکی اور پاکستانی حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ ہے۔۔۔؟ جواب بڑا سادہ ہے کہ نہیں یہ امریکی کانگرس اور ہاو¿س آف کامن نے ایک قانون پاس کیا ہے جس کا اطلاق امریکی انتظامیہ پر ہوتا ہے۔پاکستان چاہے تو اس امداد کو رد کر سکتا ہے۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ اس امداد کو مسترد کر دے۔۔۔؟دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب نواز شریف نے بطور وزیر اعظم ایٹمی دھماکہ کرنے کا فیصلہ کیا تو کیا پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔۔۔؟کیا اس پر بحث ہوئی تھی اور اس پر ووٹنگ کروائی گئی تھی۔۔۔؟ کیا فارن کرنسی اکاو¿نٹس منجمد کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا تھا،کیا موٹر وے بناتے وقت، پاکستانی روپے کی قیمت میں کمی کرتے وقت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور اس پر ووٹنگ کروائی گئی تھی۔۔۔؟ یقینا ایسا نہیں ہوا تھا کیونکہ یہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کا استحقاق تھا ۔مگر حیران کن امر یہ ہے کہ جب خود میاں نواز شریف او ر ان کی پارٹی اپنے دور حکومت میں یہ اہم ترین امور اور اشوز پارلیمنٹ میں لیجائے بغیر کابینہ سے منظور کروا کر ان پر عمل درآمد کرتے رہے ہیں تو پھر اب ان کی طرف سے کیری لوگر بل پر ووٹنگ کے مطالبے کو ما سوائے سازش اور حکومت کو مشکلات میں ڈالنے کے علاوہ کس بات سے تعبیر کیا جائے۔
کیا میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی نے اپنے سابقہ دور اقتدار میں کبھی بھی اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا تھا ۔اب بھی پنجاب حکومت نے جاپان اور چین کی حکومتوں سے کئی ایک منصوبوں کے لئے مالی امداد لی ہے کیا انہوں نے اس پر اسمبلی میں بحث کروائی ہے۔۔۔؟کیا اپوزیشن کو اعتماد میں لیا ہے۔۔۔؟ جواب ہے نہیں۔اسی طرح کیا ق لیگ کی حکومت نے 2007 میں ملنے والی امریکی امداد کی موجودہ کیری لوگر بل سے بھی زیادی شرمناک اور بے غیرتی میں ڈوبی ہوئی شرائط پر پارلیمنٹ میں بحث کروائی تھی۔اس پر ووٹنگ کروائی تھی۔۔۔؟ جواب ہے نہیں۔
لہٰذا ہمیں اپنے پیارے وطن کی محبت میں گرفتار غیرت مند اپوزیشن جماعتوں سے دیار غیر سے ایک عرض کرنی ہے کہ بہت ہو لیا ،وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں نا کہ enough is enough اب قوم کو مزےد ۔۔۔نہ بنائیں۔اصل عوامی مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔مہنگائی،لوڈ شیڈنگ،بے روزگاری،جہالت اور پسماندگی،غربت و افلاس کے خاتمے میں حکومت کی ناکامی کو فوکس کریں۔صوبائی حکومتوں پر دباو¿ ڈالیںکہ وہ ذخیرہ اندوزی،منافع خوری پر قابو پائیںاور چینی کی ترسیل اور عدالت کی طرف سے مقرر کردہ قیمتوں پر حصول کو یقینی بنائیں۔صوبائی حکومتیں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنائیں۔اگر تو یہ سب قومی سیاست کا فوکس ہوتا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ ملکی سیاسی جماعتیں قومی سیاست کر رہی ہیں وگرنہ یہی سمجھا جائے گا کہ حکومت کو الجھایا جا رہا ہے کہ وہ عوامی فلاح کے کام نہ کر پائے اور حکومت کو اس کی آئینی مدت سے پہلے ہی مارشل لاءکے ذیعے چلتا کیا جائے۔اور آخری بات یہ کہ خدا را ایسا مت کریں کہ کل کو کوئی امیگریشن آفیسر یہ سوال بھی کرے کہ کیا پاکستان کے سارے پارلیمنٹیرینز نے آئین کا مطالعہ کیا ہے اور کیا وہ جمہوریت کے معنی بھی جانتے ہیں کہ نہیں۔۔۔؟

Tags: Haroon Adeem , column

جامع ثقافتی ورثہ۔۔۔؟

May 21st, 2009 · No Comments

صورتحال

ہارون عدیم

گزشتہ دو تین سالوں سے پاکستان میں ایک نئی بحث چھڑی ہوئی ہے،اور اسے ہماری غیر سرکاری تنظیموں نے چھیڑا ہوا ہے۔یہ بحث ’’جامع ثقافتی ورثے کا امن قائم کرنے میں کردار‘‘ کے عنوان کے تحت کی جا رہی ہے۔گزشتہ دو سالوں میں ہم نے اس عنوان کے تحت ہونے والی جتنی بھی ورکشاپوں میں شمولیت کی اس میں ہم نے جو بہت بڑی کوتاہی محسوس کی وہ ’’جامع ثقافتی ورثے ‘‘ کی تفہیم تھی۔ہم اب تک یہ نہیں طے کر پائے کہ جامع ثقافتی ورثہ ہے کیا۔مثلاً گزشتہ سال اگست میں منعقد ہونے والی یوتھ کانفرنس میں نوجوان تاریخی ورثے کو جامع ثقافتی ورثہ قرار دے رہے تھےٍ۔ان کا استدلال یہ تھا کہ بادشاہی مسجد، لاہور قلعہ،شالامار باغ اور ایسی ہی بہت ساری تاریخی عمارات پاکستان میں بسنے والے مختلف مذاہب کا مشترکہ اثاثہ ہیں،اور یہ ’’جامع ثقافتی ورثہ‘‘ ان مذاہب کے پیرو کاروں کے مابین امن قائم کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ایسی ہی ایک تاویل اس بار گزشتہ دنوں منعقد ہونے والی ایک ورکشاپ میں بھی دی جارہی تھے، جہاں معاشرتی نظام کو جامع ثقافتی ورثہ قرار دیا جا رہا تھا۔صوبہ پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے چند دوستوں کا خیال تھا۔ کہ انکا پردے کا نظام اورجرگہ سسٹم ایک جامع ثقافتی ورثہ ہے اور یہ امن قائم کرنے کے لئے بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کھل کر کہا کہ ’’نظام عدل‘‘ وہ کام نہیں کر سکتا جو کہ جرگہ کر سکتا ہے۔عوام کو ان کی دہلیز پر فوری اور سستا انصاف صرف اور صرف جرگہ سسٹم کے ذریعے ہی پہنچایا جا سکتا ہے۔اور انصاف کی فوری ترسیل ہی معاشرے میں امن قائم کر سکتی ہے۔ان کے نزدیک گویا جرگہ سسٹم اور پردے کا نظام ’’ثقافت ‘‘ٹھہرے۔

گزشتہ سال یوتھ کانفرنس کے دوران ہم نے نوجوانوں سے پوچھا تھا کہ وہ یہ بتائیں کہ اگر یہ تاریخی عمارات جامع ثقافتی ورثہ ہیں تو پھر بھارت میں بسنے والے ہندؤں نے بابری مسجد کیوں مسمار کی،اور اس کے جواب میں لاہور میں مسلمانوں نے جین مندر کیوں مسمار کیا۔۔۔؟ یہ مندر اور مسجد کیوں نہ وہ معاشرتی بندھن بن سکے جو ہم پیدا کرنے یا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ہم نے تب ان سے گفتگو کرتے ہوئے عرض کی تھی کہ ہماری اس بحث کا مرکزی نقطہ زندگی کو سہل بنانا ہے،اور جب ہم زندگی کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد صرف سانس لینا یا کھانا پینا نہیں ہوتا بلکہ اس سے مراد وہ عمل ہوتے ہیں جو انسان کسی بھی معاشرے میں زندہ رہنے کے لئے کرتا ہے۔یہ عمل دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ایک زندہ رہنے کے لئے اور ایک زندگی میں رنگ بھرنے کے لئے۔زندگی میں رنگ بھرنے والے عمل جیسے ادب،رقص، سنگیت،مصوری،میلے ٹھیلے اور دیگر پرفارمنگ آرٹ کلچر کہلاتے ہیں۔’’کلچر‘‘ اور سولائزیشن‘‘ انگریزی حروف ہیں جن کا مطلب ثقافت اور تہذیب ہے۔اب معاشرہ پہلے وجود میں آیا اور کلچر بعد میں بنا۔ بہت بعد میں مذہب انسانوں کے لئے آیا۔ اب یہ طے کیا گیا کہ فطرت کے خلاف مدافعت کے وہ طریقے جو زندگی کو آگے بڑھائیں تہذیب ہیں۔ جیسے مکان بنانا،نظام عدل قائم کرنا،ذرائع نقل و حمل بنانا، لباس ،زیورات، ہتھیار بنانا۔ کھیتی باڑی، تجارت اور لین دین کے طریقے بنانا کسی بھی معاشرے کی تہذیب کہلاتی ہے۔ ہم نے نوجوانوں سے عرض کی کہ ہم در اصل ’’جامع ثقافتی ورثے‘‘ کی ٹرم بنانے میں عجلت کا شکار ہوئے ہیں۔سب سے پہلے تو ہمیں ثقافت ، تہذیب اور تاریخی ورثے میں فرق کرنا ہو گا،اور اس مفروضے کوماننا ہوگا کہ معاشرے کو باہم مربوط راور باندھ کر رکھنے میں کلچر ہی واحد ایسی قوت ہے جو مختلف عقائد،رنگ نسل اور قومیت کے لوگوں کو باہم شیر و شکر رکھ سکتی ہے۔ہم نے پاکستان کے چاروں صوبوں کی مثال دیتے ہوئے عرض کی کہ پنجاب میں بسنے والے مسلمان،ہندو،سکھ اور مسیحی ایک زبان بولتے ہیں۔ ان کے شاعر ایک ہیں لوک کہانیاںقصے،گیت اور رقص ایک ہیں۔ان کے بہت سے تہوار ایک ہیں۔جیسے سندھ میں بسنے والے مسلمان، ہندو ،سکھ اور مسیحی کی زبان سندھی ہے۔سائیں سچل اور شاہ عبدالطیف بھٹائی سب کے مشترکہ شاعر ہیں ان کے مزار اور عرس پر تمام لوگ بلا تفریق ذات،عقیدہ،رنگ اور نسل کے شریک ہوتے ہیں۔اسی طرح انڈین پنجاب میں بھی وہی لوک گیت گائے جاتے ہیں جو پاکستانی پنجاب میں گائے جاتے ہیں۔وہی گدھا، جھومر اور لڈی ناچے جاتے ہیں جو یہاں۔ ویسے ہی جیسے پختون خواہ میں رہنے والا پٹھان مسلمان ،ہندو،سکھ اور مسیحی خٹک ڈانس کرتے ہیں۔ رحمان بابا اور خوشحال خاں خٹک کواپنا مشترکہ سرمایہ مانتے ہیں۔لہذا اگر تو ہم نے معاشرے کو باہم باندھ کر رکھنا ہے تو پھر ہمیں اس ثقافتی ورثے کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔کیونکہ اسی ثقافتی ورثے نے تقسیم ہند سے پہلے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو باہم باندھ کر شیر و شکر رکھا تھا۔ہم نے عرض کی کہ ثقافت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لہذا بہتر ہو گا کہ ہم ثقافت کو اسلامی اور غیر اسلامی بنانے کی کشتی لڑنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے سندھی ،پنجابی،بلوچی اور پختون رہنے دیں۔

اسی طرح ہم نے گزشتہ ماہ ہونے والی ایک ورکشاپ کے دوران ’’جرگہ‘‘ اور ’’پردہ‘‘ کو جامع ثقافتی ورثہ بنانے والے دوستوں سے سوال کیا کہ جب معاشرہ قائم ہو گیا تو معاشرے کو کنٹرول کرنے کے لئے یہ پنچائتیں اور جرگے بھی بنا لئے گئے جو کہ بنائے تو گئے معاملات طے کرنے کے لئے اور لوگوں کو انصاف مہیاکرنے کے لئے تھے ۔مگر یہ جابریت اور نا انصافی کا ایک بہت بڑا ممبع بن گئے لہذا جیسے ہی ریاست کا قیام عمل میں آیا اس نے انصاف اپنے ہاتھ میں لے لیا،ایک عدالتی نظام بنایا۔آبادی کے بڑھنے اور عدالتی نظام میں خرابیوں کے باعث انصاف مؤخر بھی ہوا۔نا پید بھی ۔مگر یہ جرگے بھی غیر انسانی فیصلے کرنے کے گڑھ بن گئے ہیں۔آئے دن ہمیں ایسے فیصلے سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں سات سال کی بچی کو ساٹھ سال کے بوڑھے مرد سے بیاہنے کا فیصلہ دے کر اس پر عمل درآمد بھی کروا دیا جاتا ہے کیونکہ اس بچی کا باپ ایک غریب اور بے کس انسان ہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک معصوم بچی کو کسی بھی جرم کے بغیر جہنم میں پھینک دیا جائے۔جرگہ فیصلہ دے کہ عورتوں کو ریپ کرواتا ہے۔ یا انہیں زندہ درگور کرواتا ہے۔ہم نے سوال کیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نا دانستگی میں جرگہ سسٹم کی وکالت کر کے ریاست کے کنٹرول کو ختم کر کے معاشرے پر با اثر لوگوں کا کنٹرول قائم کرنا چاہتے ہیں۔۔۔؟ ہم نے عرض کی کہ یہ جرگہ ایک معاشرتی ادارہ ہے،اور یہ ایک ادرے کے طور پر ہی لینا چاہئے۔ اگر تو یہ بھی عدالتی نظام کی برائیوں ، نا انصافیوں اور جانبداریوں سے پاک ہوتا ہے تو یقینا یہ لوگوں کوجلد اور سستاانصاف پہنچا کر امن کے قیام کے لئے اپنا ایک کردار ادا کر سکتا ہے۔مگر یہ جرگہ یا پنچائیتیں ثقافت نہیں ہو سکتیں۔ لہذا سب سے پہلے ایک بار پھر ہمیں اس ’’جامع ثقافتی ورثے‘‘ کی تشریح کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم ابھی اس راستے پر ہی نہیں پڑے جو امن کی شاہراہ کی طرف جاتا ہے،اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم معاشرتی اداروں، تاریخی ورثے،تہذیبی ورثے اور ثقافتی ورثے میں فرق کو محسوس کر سکیں۔ تہذیبی ،تاریخی اورمعاشرتی ورثوں کو ’’جامع ثقافتی ورثہ‘‘ قرار دے کر ہم اسی غلطی کا ارتقاب کر رہے ہیں جو ہم نے قائد اعظم کے نظریہ ء پاکستان کی تفہیم کرنے میں کی اور جس کی پاداش میں ہم آج تک پاکستان کو ترقی یافتہ معاشرے میں بدلنے سے محروم رہے ہیں۔

Tags: Haroon Adeem , column

آخر ہم چاہتے کیا ہیں

May 11th, 2009 · No Comments

ہارون عدیم

جب جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی لٹھ بردار طالبات نے شریعت کے نفاذ کے نام پر اسلام آباد میں اپنی مساوی حکومت قائم کرنے کی شروعات کیں تو ملک کے طول و عرض میں ایک شور مچ گیا کہ لال مسجد نے ریاست کے اندر اپنی علیحدہ ریاست بنا لی ہے۔مشرف حکومت کے بارے میں کہا جانے لگا کہ بس اب اس کا خاتمہ ہونے کو ہے، کیونکہ ایک ایسی ’’سول فوجی حکومت‘‘ جو وفاقی دارالحکومت میں اپنی رٹ کھو دے۔وہ ملک میں اپنی موجودگی اور اثر پذیری کیسے قائم رکھ سکتی ہے۔پھر سول سوسائٹی اور میڈیا کی جانب سے زہر میں بجھے تیر چلائے جانے لگے کہ حکومت عملاً سوسائٹی اور ملک کو مذہبی انتہا پسندوں کے حوالے کر رہی ہے،اور یہ بھی کہا جانے لگا کہ لال مسجد کا ’’فتنہ‘‘ خود ایجنسیوں کا پیدا کیا ہوا ہے۔اسی لئے حکومت ان کے خلاف کوئی ایکشن لینے سے گریزاں ہے۔میڈیا اور سول سوسائٹی نے مل کر حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ آب پارہ میں قائم سی ڈی اے اور پاکستان بک فاؤنڈیشن کی ملکیتی بچوں کی لائبریری اور پلاٹ پر سے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا قبضہ ختم کرائے۔اور لٹھ بردار طالبات کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو لگام دے۔

پھر جب حکومت نے سول سوسائٹی اور نشریاتی دباؤ کے تحت لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے ارد گرد باڑ لگانی شروع کی تو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے ’’طلبائ‘‘ اور ’’طالبات‘‘نے نہ صرف سرکاری املاک کو آگ لگا دی،بلکہ ایک پولیس انسپکٹر کو بھی گولی مار دی،اور باقاعدہ لال مسجد میں قلعہ بند ہوکر نہ صرف اسلحہ کی نمائش بھی شروع کر دی بلکہ اس کا بیدریغانہ استعمال بھی شروع کر دیا۔تب تمام تر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور مشرف حکومت کومجبور کر دیا کہ وہ لال مسجد اور جامع حفصہ میں مورچہ بند شر پسندوں کے خلاف فوری ایکشن لے اور اپنی رٹ قائم کرے۔مگر حکومت نے سات دن تک اس آپریشن کو مؤخر کیا ،اور بار بار اعلان کیا کہ جو لوگ اپنی مرضی سے باہر جانا چاہتے ہیں وہ نکل جائیں۔پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی فوٹیج موجود ہیں کہ اس وقت کی حکومت کو ان کے اس مصالحانہ طرز عمل پر سراہا جانے لگا۔سات دن تک ’’اسلام کے شیدائی‘‘ مورچہ بند ہو کر مسلسل لڑائی لڑتے رہے۔گولیوں اور راکٹوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔مگر جیسے ہی یہ آپریشن اپنے انجام کو پہنچامیڈیا اور عوامی حلقے لال مسجد میں موجود جدید اسلحہ سے لیس شدت پسندوں کو بھول گئے اور انہیں صرف وہ لوگ یاد رہ گئے جنہوں نے ہتھیار نہ پھینکتے ہوئے ’’شہادت‘‘ کی موت کو ترجیح دی۔ق لیگ اور صدر پرویز مشرف کی بے توقیری اور ناپسندیدگی میں لال مسجد نے ایک کلیدی کردار اداکیا۔

اب بالکل ویسی ہی صورتحال سوات میں پیدا کر دی گئی ہے جہاں چار ہزار کے لگ بھگ شدت پسندوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ آئے دن عسکری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو اغوا کر کے ان کی سر بریدہ لاشین پھینک دی جاتی ہیں،بلکہ ان پر خود کش حملے بھی ہوتے ہیں۔ امام مسجد کو قتل کر کے اس کی لاش کودرخت سے الٹا لٹکا دیا جاتا ہے۔بچیوں کے سکولوں کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔لڑکیوں کو سر عام نا محرم مرد پکڑ کر کوڑے مار رہے ہیںاور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ’’اسلام کی سر بلندی‘‘ کے لئے کیا جا رہا ہے۔گزشتہ دو ماہ کے دوران ان دہشت گردوں اور ملک دشمنوں نے سوات میں عملاً اپنی عملداری قائم کر رکھی تھی۔ملک کی تمام سیاسی قوتیں،مذہبی حلقے اور سول سوسائٹی حکومت سے ان سے سختی سے نمٹنے کا مطالبہ کر رہے تھے، ان مطالبوں میںوہی شدت پائی جاتی ہے جو لال مسجد اور جامع حفصہ والوں کے خلاف ایکشن کے مطالبے میں پائی جاتی تھی۔حکومت نے سوات میں اس شدت پسندی اور دہشت گردانہ فضاء کے خاتمے کے لئے امن معاہدہے بھی کئے۔ صوفی محمد کی وہ تمام شرائط بھی مانیں جو کہ نہ صرف غیر آئینی بلکہ غیر شرعی بھی کہی جا سکتی ہیں۔مگر دہشت گرد اور ملک دشمن طالبان اس آڑ میں سوات میں ہمیشہ کی طرح خود کو منظم کرتے رہے، اور بلا آخر انہوں نے سوات پر اپنا کنٹرول جما لیا۔ لہذا حکومت نے نہ صرف بیرونی دباؤ بلکہ اندرونی دباؤ کے تحت بھی ان دہشت گردوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیاہے۔اب افواج پاکستان سوات میں ان دہشت گردوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔

اسی قدرت کی ستم ظریفی ہی کہا جا سکتا ہے، کہ طالبان کے خلاف یہ جنگ اب پاکستان کی بقاء کی جنگ بن گئی ہے۔یہ وہ وقت ہے جب پاکستان کے تمام منتشر گروہوں کو’’ ایک قوم‘‘بننا ہوگا۔کیونکہ یہ جنگ کسی بیرونی حملہ آور سے نہیں لڑی جا رہی۔بلکہ دشمن داخلی ہے۔لہذا جب تک تمام پاکستانی اس جنگ کے بارے میں ہم خیال ہو کر افواج پاکستان اور حکومت کا ساتھ نہیں دیتے تب تک شاید ہم اس داخلی دشمن کا مقابلہ کر سکیں۔ایسے میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے بھی گزارش ہے کہ وہ ان شدت پسند باغیوں کے خلاف ایک ایسی ہی نشریاتی مہم کا آغاز کریں جیسی عدلیہ کی بحالی کے لئے لانچ کی گئی تھی۔کیونکہ گزشتہ تجربات کی روشنی میں اس بات کا امکان ہے کہ ہم خدانخواستہ ان ریاستی باغیوں اور اسلام دشمنوں کو شہید نہ بنا دیں جیسا کہ ہم نے لال مسجد والوں کو بنا دیا ہے۔مولانا عبدالعزیز کی رہائی کے بعد حیرت اس وقت ہوئی جب الیکٹرانک میڈیا نے ایسے تمام ریاستی باغیوں اور دہشت گردوں کو ’’شہید‘‘ قرار دے دیاجن کو وہ خود گیس ماسک پہنے جدید اسلحہ اٹھائے لال مسجد میں قلعہ بند دکھاتا رہا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کہیں ’’لال مسجد والی خندق‘‘ موجودہ جمہوری حکومت کے لئے بھی تو نہیں کھود دی گئی۔۔۔؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ’’ سوات آپریشن ‘‘ بھی زرداری حکومت کے لئے لال مسجد کے طور پر کروایا گیا ہے۔۔۔؟ اور اب اسے بنیاد بنا کر عوام الناس کو پی پی پی حکومت اورصدر مملکت آصف زرداری کے خلاف اکسایا جائے گا۔۔۔۔؟ یقینا موجودہ سوات آپریشن جمہوری حکومت اور صدر آصف زرداری کے لئے ایک کڑا امتحان ہے۔پنجاب میں ان کی حلیف جماعت ن لیگ کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم کی جانب سے طالبان کے خلاف اعلان جنگ کی مخالفت نہیں کرتے ۔مگر اس کی حمایت کا اعلان بھی نہیں کرتے ۔اس کی حمایت کا اعلان پارٹی کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔ جبکہ ن لیگ اور جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ حکومت کو اس اعلان سے پیشتر آل پارٹی کانفرنس بلانی چاہئے تھی،اور سب کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔یقینا یہ مطالبہ غلط نہیں۔چاہئے تو یہی تھا کہ حکومت اس آپریشن یا جنگ کا اعلان کرنے سے پہلے ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کرلیتی،تا کہ کوئی مذہبی یا سیاسی گروہ ایسا نہ بچتا جو اس کے بارے میںاپنے تحفظات کا اظہار کرتا۔اور یہ جنگ قومی مفاہمت سے لڑی جاتی۔مگر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ پی پی پی کی حکومت اور قیادت اب اس عادت کی عادی ہو چکی ہے کہ ’’سو گنڈے وی کھاؤ، تے سو ۔۔۔۔‘‘۔ہم دیانتداری سے یہ سمجھتے ہیں کہ اب بھی وقت ہے کہ ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکتا ہے،اور اگر کسی وجہ سے ایسا نہیں کیا جا سکا تو یہ کام اب کر لینا چاہئے کیونکہ یہ سوات کا مسئلہ صرف حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے اور اس کے خلاف جنگ میں سب کو ہم رکاب ہونا پڑے گا۔ورنہ مسٹر زرداری اور ان کی پارٹی حکومت کے لئے یہ آپریشن شاید وہی لال مسجد والی خندق ثابت ہو۔

Tags: Haroon Adeem , column