Entries Tagged as 'column'
November 11th, 2009 · Comments Off
گوشوارے
شاکر قریشی
پچھلے دنوںمیاں نواز شریف کے گوشوارے خوب زیربحث رہے۔ عوام ا لناس اور سیاسی تجزیہ نگار دانتوں تلے انگلیاںدبائے سراپا حیرت اور سراپا احتجاج بنے رہے۔میاں نواز شریف کے گوشوار وں کے علاوہ بھی کئی اور بڑے امراءکے گوشواروں کے تذکرے بھی بحث کی گرمی میں اضافہ کرتے رہے….سیاست دانوں، حکمرانوں…. وطن عزیز کے ان سپوتوں کے جاہ وجلال …. ان کی جائیدادوں کی ہیبت ان کے بیرون ملک اثاثوں کی باتیں اور ان کے ملک کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے غیر ملکی بنکوں میں جمع غیر ملکی کرنسیوں کے حساب کتاب بھی مجلسوں میں گفتگو کو دلچسپ بناتے رہے۔صدر آصف علی زرداری کے دنیا کے امیر تیرین لوگوں کی فرصت میں نمبر شمار بھی پریشان حال ملک اور بدحال سرزمین کا منہ چڑاتے رہے۔ قارئین یہ سب وہ لوگ ہیں۔ وہ ا مراءوہ سیاست دان وہ حکمران ہیں۔جن کو پاکستان نے ایک ملک کی حیثیت سے اور سرزمین پاکستان نے دھرتی ماں بن کے عطا کیئے لیکن یہ سب ماں کے سپوت اپنے مال و اسباب اور اپنی اولاد کو دھرتی ماں سے دور رکھنے میں کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کی بدحالی اپنے ان سپوتوں کی بے رخی پر حیران ہے اور دھرتی ماں کا سینہ اپنے ان بیٹوں اور لالوں کو اپنے سینے سے لگانے کو ترس رہے ہیں….لیکن ….دھرتی ماں کی یہ پیاس اور تڑپ ابھی یوں لگتا ہے کہ مزید جاری ساری رہے گی۔گوشواروں کے اس تذکرے سے قبل میاں نواز شریف کی پراسرار خاموشی بھی وجہ تنازعہ ،وجہ گفتگو اور بیان بازی کا محرک بنی رہے۔ کیری لوگر بل پہ….بھی خاموشی….اور NRO ….پہ بھی….لیکن پھر میاں صاحب کی واپسی کے بعد….NRO کے قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے میاں صاحب اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں تحریک پیدا ہوئی ہے….NRO کی مخالفت نے شدت اختیار کی ….اور کہنے والوں کا کہنا تھا کہ اتنی گرم جوشی بحرحال پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ڈرون اٹیک، کیری لوگر بال وغیر ہ پہ نہیںدکھائی تھی کہ جتنی NRO کی مخالفت کرنے پر اور اس کو تاریخ کا ایک کالا قانون اور پاکستانی سیاست اور اسمبلی پر بدنما داغ وغیرہ ثابت کرنے کے لئے میاں صاحب اور ساتھیوں نے دکھائی ۔
بہرحال دیر آئد درست آئد کے تحت …. میاں صاحب کا تند رویہ عوام میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔پاکستان کی عوام بلاشبہ آج کے حالات میں اک مسیحا کی تلاش میں ہے….ایک ایسے لیڈر کی تلاش میں ہے کہ جو مزید ملک وقوم اور سرزمین کی بے عزتی ہونے سے بچا سکے۔ایسے میں عوام کی نظریں بار بار میاں برادران کی طرف اٹھ رہی ہیں۔لیکن یہ کوئی ایسا آسان کام نہیں ہے کہ میاں برادران صرف اور صرف آج کے شہرت کے گراف پر بلندی کی وجہ لے کر پائیں گے۔ اس کے لئے میاں برادران کو ملک و قوم کے ساتھ بہترین محبت اور وطن عزیز پہ اپنے مفادات کو قربان کرنے کی پالیسی اپنانا پڑے گی۔
ملک اور عوام کا مسیحا صدر آٰصف علی زرداری بھی ہوسکتے ہیں پنجاب کے گورنر تاثیر بھی بن سکتے ہیں۔….لیکن اس سے قبل ان کو انپے خلاف جاری وساری تاثر کو ختم کرنے کی شدید کوشش کرنی پڑے گی۔ گورنر تاثیر کا ملک کے سب سے بڑے ٹیکس دہندہ ہونے کو ستائش کی نظر سے دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن صرف یہ خوبی ملک و قوم کا مسیحا بننے کے لئے کافی نہیں ہے ۔صدر آصف علی زرداری دنیا کے امیر ترین آدمیوں سے ایک بن جانے کے بعد اب اگر جی جان سے ملک و قوم کی قسمت بھی تبدیل کرنے کی قسم کھالیں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ ایسا کرپائیں کیونکہ آج کوئی دوسرا سیاست دان ان کی حکمرانی کے درپے بھی نہیں ہے۔ان کو اپنی مدت پوری کرنے کا بھی واضح پیغام ہے۔اب کرنا صرف یہ ہے کہ ملک و قوم کا مسیحا بننے کے لئے وہ گوشوارے بھرنے ہیں۔ جو عوام کی عدالت میں قابل قبول ہوں، دےکھےے ان حالات میں میاں نواز کی….صدر آصف زرداری سے ملاقات کیا رنگ لاتی ہے!!۔

شاکر قریشی
پچھلے دنوںمیاں نواز شریف کے گوشوارے خوب زیربحث رہے۔ عوام ا لناس اور سیاسی تجزیہ نگار دانتوں تلے انگلیاںدبائے سراپا حیرت اور سراپا احتجاج بنے رہے۔میاں نواز شریف کے گوشوار وں کے علاوہ بھی کئی اور بڑے امراءکے گوشواروں کے تذکرے بھی بحث کی گرمی میں اضافہ کرتے رہے….سیاست دانوں، حکمرانوں…. وطن عزیز کے ان سپوتوں کے جاہ وجلال …. ان کی جائیدادوں کی ہیبت ان کے بیرون ملک اثاثوں کی باتیں اور ان کے ملک کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے غیر ملکی بنکوں میں جمع غیر ملکی کرنسیوں کے حساب کتاب بھی مجلسوں میں گفتگو کو دلچسپ بناتے رہے۔صدر آصف علی زرداری کے دنیا کے امیر تیرین لوگوں کی فرصت میں نمبر شمار بھی پریشان حال ملک اور بدحال سرزمین کا منہ چڑاتے رہے۔ قارئین یہ سب وہ لوگ ہیں۔ وہ ا مراءوہ سیاست دان وہ حکمران ہیں۔جن کو پاکستان نے ایک ملک کی حیثیت سے اور سرزمین پاکستان نے دھرتی ماں بن کے عطا کیئے لیکن یہ سب ماں کے سپوت اپنے مال و اسباب اور اپنی اولاد کو دھرتی ماں سے دور رکھنے میں کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کی بدحالی اپنے ان سپوتوں کی بے رخی پر حیران ہے اور دھرتی ماں کا سینہ اپنے ان بیٹوں اور لالوں کو اپنے سینے سے لگانے کو ترس رہے ہیں….لیکن ….دھرتی ماں کی یہ پیاس اور تڑپ ابھی یوں لگتا ہے کہ مزید جاری ساری رہے گی۔گوشواروں کے اس تذکرے سے قبل میاں نواز شریف کی پراسرار خاموشی بھی وجہ تنازعہ ،وجہ گفتگو اور بیان بازی کا محرک بنی رہے۔ کیری لوگر بل پہ….بھی خاموشی….اور NRO ….پہ بھی….لیکن پھر میاں صاحب کی واپسی کے بعد….NRO کے قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے میاں صاحب اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں تحریک پیدا ہوئی ہے….NRO کی مخالفت نے شدت اختیار کی ….اور کہنے والوں کا کہنا تھا کہ اتنی گرم جوشی بحرحال پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ڈرون اٹیک، کیری لوگر بال وغیر ہ پہ نہیںدکھائی تھی کہ جتنی NRO کی مخالفت کرنے پر اور اس کو تاریخ کا ایک کالا قانون اور پاکستانی سیاست اور اسمبلی پر بدنما داغ وغیرہ ثابت کرنے کے لئے میاں صاحب اور ساتھیوں نے دکھائی ۔
بہرحال دیر آئد درست آئد کے تحت …. میاں صاحب کا تند رویہ عوام میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔پاکستان کی عوام بلاشبہ آج کے حالات میں اک مسیحا کی تلاش میں ہے….ایک ایسے لیڈر کی تلاش میں ہے کہ جو مزید ملک وقوم اور سرزمین کی بے عزتی ہونے سے بچا سکے۔ایسے میں عوام کی نظریں بار بار میاں برادران کی طرف اٹھ رہی ہیں۔لیکن یہ کوئی ایسا آسان کام نہیں ہے کہ میاں برادران صرف اور صرف آج کے شہرت کے گراف پر بلندی کی وجہ لے کر پائیں گے۔ اس کے لئے میاں برادران کو ملک و قوم کے ساتھ بہترین محبت اور وطن عزیز پہ اپنے مفادات کو قربان کرنے کی پالیسی اپنانا پڑے گی۔
ملک اور عوام کا مسیحا صدر آٰصف علی زرداری بھی ہوسکتے ہیں پنجاب کے گورنر تاثیر بھی بن سکتے ہیں۔….لیکن اس سے قبل ان کو انپے خلاف جاری وساری تاثر کو ختم کرنے کی شدید کوشش کرنی پڑے گی۔ گورنر تاثیر کا ملک کے سب سے بڑے ٹیکس دہندہ ہونے کو ستائش کی نظر سے دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن صرف یہ خوبی ملک و قوم کا مسیحا بننے کے لئے کافی نہیں ہے ۔صدر آصف علی زرداری دنیا کے امیر ترین آدمیوں سے ایک بن جانے کے بعد اب اگر جی جان سے ملک و قوم کی قسمت بھی تبدیل کرنے کی قسم کھالیں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ ایسا کرپائیں کیونکہ آج کوئی دوسرا سیاست دان ان کی حکمرانی کے درپے بھی نہیں ہے۔ان کو اپنی مدت پوری کرنے کا بھی واضح پیغام ہے۔اب کرنا صرف یہ ہے کہ ملک و قوم کا مسیحا بننے کے لئے وہ گوشوارے بھرنے ہیں۔ جو عوام کی عدالت میں قابل قبول ہوں، دےکھےے ان حالات میں میاں نواز کی….صدر آصف زرداری سے ملاقات کیا رنگ لاتی ہے!!۔
Tags: Shakir Qureshi , column
November 11th, 2009 · Comments Off
مقبوضہ جموں کشمیر کے فرزندان توحید ہر سال 27 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق کے خلاف یوم احتجاج مناتے آرہے ہیں۔ اس دن مہاراجہ کشمیر نے ساز باز کے ذریعے مقبوضہ ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کر دیا تھا حالانکہ اس کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہ تھا۔ ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی اور مسلم اکثریتی ریاست کی حیثیت سے اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ڈوگرہ حکمرانوں نے سازش کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کو بھارت کا غلام بنا دیا۔
14 اگست1947ءکو پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد کشمیری یہی سمجھتے رہے کہ وہ پاکستان کا حصہ ہیں۔ کیونکہ کشمیر میں 90 فیصد مسلمان ہیں کیا ہوا اگر ان کا راجہ ہندو ہے لیکن عوام تو مسلمان ہے مگر جب 27 اکتوبر کو ماو¿نٹ بیٹن نے بھارتی فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کا حکم دیا تو کشمیری مسلمانوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ بھارت کو تقسیم ہوئے دو ماہ ہو چکے تھے مگر مہا راجہ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہ کیا تھا۔
جغرافیائی، مذہبی، تہذیبی، قومی اور اصولی طور پرکشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا اور یہ ضابطہ آزادی تاج برطانیہ نے برصغیر سے رخصتی کے وقت خود طے کیا تھا۔ دو قومی نظریے کی صداقت پر اصرار مسلمانان ہند اور انکے لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کا تھا لیکن ہندوو¿ں کی جماعت کانگریس کو بھی یہ نظریہ تسلیم کرنا پڑا یوں باو¿نڈری کمیشن کی ضرورت پڑی اور بھارت میں دو آزاد ملکوں کی تشکیل اور فطری ضرورت کو انگریزوں نے بھی سند قبولیت بخشی۔
یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ 27 اکتوبر کو ماو¿نٹ بیٹن نے کشمیری راجہ کو خط لکھا اور 27 اکتوبر کو ہی بھارتی فوج کشمیرمیں داخل ہوگئی۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ بھارتی فوج ایک منصوبے کے تحت کشمیر میں داخل ہونے کےلئے پہلے سے تیار تھی۔ اس کے بعد نومولود پاکستان کےلئے کس طرح ممکن تھا کہ وہ کشمیر کی صورتحال سے لا تعلق رہ سکے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے پاس افرادی قوت، اسلحہ گولہ بارود، ذرائع آمدورفت کی بھی کمی تھی اور بھارت نے پاکستان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔ اسے یقین تھا کہ بھارتی افواج باآسانی پورے کشمیر کو اپنے قبضے میں کر لیں گی۔
تنازعہ کشمیر دراصل تقسیم ہند کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ جس طرح پاکستان شمالی ہند میں مسلم اکثریت کی بنیاد پر وجود میں آیا، اسی اصول کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو 1947 پاکستان میں شامل ہو نا چاہیے تھا۔ لیکن ہندو اور انگریزوں کی سازش کی وجہ سے ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان میں شامل ہونے میں رکاوٹ ڈالی گئی اور جموں و کشمیر کا سازش کے ذریعے بھارت سے الحاق کیا گیا۔ 1947 میں مہاراجہ کشمیر اور بھارتی حکمرانوں نے ناپاک گٹھ جوڑ کر لیا اور بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے اسکے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ تاہم کشمیریوں کی بھر پور جدو جہد کے نتیجے میں جب کشمیر آزاد ہونے کے قریب تھا تو بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ اٹھایا۔
ریاض احمد چوہدری
مقبوضہ جموں کشمیر کے فرزندان توحید ہر سال 27 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق کے خلاف یوم احتجاج مناتے آرہے ہیں۔ اس دن مہاراجہ کشمیر نے ساز باز کے ذریعے مقبوضہ ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کر دیا تھا حالانکہ اس کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہ تھا۔ ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی اور مسلم اکثریتی ریاست کی حیثیت سے اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ڈوگرہ حکمرانوں نے سازش کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کو بھارت کا غلام بنا دیا۔
14 اگست1947ءکو پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد کشمیری یہی سمجھتے رہے کہ وہ پاکستان کا حصہ ہیں۔ کیونکہ کشمیر میں 90 فیصد مسلمان ہیں کیا ہوا اگر ان کا راجہ ہندو ہے لیکن عوام تو مسلمان ہے مگر جب 27 اکتوبر کو ماو¿نٹ بیٹن نے بھارتی فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کا حکم دیا تو کشمیری مسلمانوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ بھارت کو تقسیم ہوئے دو ماہ ہو چکے تھے مگر مہا راجہ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہ کیا تھا۔
جغرافیائی، مذہبی، تہذیبی، قومی اور اصولی طور پرکشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا اور یہ ضابطہ آزادی تاج برطانیہ نے برصغیر سے رخصتی کے وقت خود طے کیا تھا۔ دو قومی نظریے کی صداقت پر اصرار مسلمانان ہند اور انکے لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کا تھا لیکن ہندوو¿ں کی جماعت کانگریس کو بھی یہ نظریہ تسلیم کرنا پڑا یوں باو¿نڈری کمیشن کی ضرورت پڑی اور بھارت میں دو آزاد ملکوں کی تشکیل اور فطری ضرورت کو انگریزوں نے بھی سند قبولیت بخشی۔
یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ 27 اکتوبر کو ماو¿نٹ بیٹن نے کشمیری راجہ کو خط لکھا اور 27 اکتوبر کو ہی بھارتی فوج کشمیرمیں داخل ہوگئی۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ بھارتی فوج ایک منصوبے کے تحت کشمیر میں داخل ہونے کےلئے پہلے سے تیار تھی۔ اس کے بعد نومولود پاکستان کےلئے کس طرح ممکن تھا کہ وہ کشمیر کی صورتحال سے لا تعلق رہ سکے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے پاس افرادی قوت، اسلحہ گولہ بارود، ذرائع آمدورفت کی بھی کمی تھی اور بھارت نے پاکستان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔ اسے یقین تھا کہ بھارتی افواج باآسانی پورے کشمیر کو اپنے قبضے میں کر لیں گی۔
تنازعہ کشمیر دراصل تقسیم ہند کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ جس طرح پاکستان شمالی ہند میں مسلم اکثریت کی بنیاد پر وجود میں آیا، اسی اصول کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو 1947 پاکستان میں شامل ہو نا چاہیے تھا۔ لیکن ہندو اور انگریزوں کی سازش کی وجہ سے ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان میں شامل ہونے میں رکاوٹ ڈالی گئی اور جموں و کشمیر کا سازش کے ذریعے بھارت سے الحاق کیا گیا۔ 1947 میں مہاراجہ کشمیر اور بھارتی حکمرانوں نے ناپاک گٹھ جوڑ کر لیا اور بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے اسکے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ تاہم کشمیریوں کی بھر پور جدو جہد کے نتیجے میں جب کشمیر آزاد ہونے کے قریب تھا تو بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ اٹھایا۔
اقوام متحدہ نے تنارعہ کشمیر کے حل کے لئے دو قراردادیں منظور کیں۔ جن میں نہ صرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا بلکہ یہ طے ہوا کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کےلئے رائے شماری کا موقع فراہم کیا جائےگا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے یہ وعدہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے فراہم کریں گے۔ لیکن اس کے بعد بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں کو نہ صرف حق خود ارادیت دینے سے انکار کر دیا بلکہ یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔حالانکہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے ساری ریاست کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ کشمیری لیڈروں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ 1947 سے اپنے لیڈروں کی طرف سے کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے۔
بھارت نے کشمیر کو اپنی نو آبادی بنا لیا ہے۔ بھارتی سپاہی شناختی کارڈ دیکھتا ہے، تلاشیاں لیتا ہے، مار پیٹ کرتاہے۔ حتی کہ کشمیری خواتین کے ساتھ بد تمیزی سے پیش آتا ہے۔ یہ 1947ءکی لیڈر شپ کا غلط فیصلہ تھا جس کا خمیازہ آج تک قوم بھگت رہی ہے۔ شیخ محمد عبداللہ مرحوم نے کہا تھا کہ بھارت پر اعتماد کرنا میری سب سے بڑی غلطی تھی۔
بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے غاصبانہ قبضے کو دائمی بنانے کےلئے کئی منصوبوں پر عمل کر رہا ہے۔ لیکن بھارتی حکمران یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کشمیر بھارت کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے وہ چاہے مقبوضہ کشمیر میں جتنا پیسہ خرچ کرے وہ کسی طرح کشمیریوں کے دل جیت نہیں سکتا کیونکہ وہ بھارت کی غلامی سے ہر صورت نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور انہیں کوئی بھی لالچ آزادی کی جدوجہد سے باز نہیں رکھ سکتا۔
بھارت نے اقوام متحدہ کے فیصلے کو پس پشت ڈال کر ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کر رکھا ہے اور کشمیر کے اس بڑے حصے پر قابض ہے۔ جسے دنیا مقبوضہ کشمیر کے نام سے جانتی ہے۔ بھارت اب اس مسئلہ میں اتنا الجھ چکا ہے کہ ہر قسم کے ہتھکنڈوں کے باوجود اسے کوئی رستہ نہیں مل رہا۔ یہاں تک کہ اب ریاستی دہشت گردی بھی حالات کو قابو میں نہیں لا سکتی۔ کشمیری اتنے سال کے انتظار کے بعد مایوس ہو کر ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جس پر بھارت مزید سیخ پا ہے۔ بھارتی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ وہ اس تحریک آزادی کو دہشت گردی کے زمرے میں لا کر عالمی سطح پر بد نام کر سکے۔ اس سلسلے میں وہ اسے سرحد پار دہشت گردی کا نام بھی دیتا ہے۔ حالانکہ بھارت خود اپنی پوری ریاستی طاقت کے ساتھ، نہتے کمشیریوں کے ساتھ دہشت گردی میں ملوث ہے۔
بھارتی حکومت نے کشمیر کے ڈوگرہ حکمرانوں کے ساتھ 27 اکتوبر1947ءمیں جو غیر قانونی اور نام نہاد معاہدہ کیا تھا اس کے مطابق بھارت نے کشمیر میں اپنی افواج داخل کر کے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما لیا۔ اس کے بعد بھی بہت کچھ ہوتا رہا لیکن ایک بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ پوری دنیا ، اقوام متحدہ اور کشمیری خود، اس قبضہ کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی سمجھتے ہیں اورسمجھتے رہیں گے۔ اس کا ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے استصواب رائے۔
Tags: Riaz Ch , column
November 11th, 2009 · Comments Off
اب کوئی بھی یوسف کا خریدار نہیں ہے
منظر نامہ
یوں تو سارا سال کارادب رواں دواں رہتا ہے حالات حاضرہ اس پر کبھی بالواسطہ اور کبھی بلاواسطہ اثر انداز بھی ہوتے رہتے ہیں مگر ایسا بالکل بھی نہیں ہو سکتا کہ ادب کا کاروان رک جائے یا لاتعلقی کی بکل مارکر ایک کونے میں بیٹھ جائے حالانکہ اردگرد کے حالات بسا اوقات اندر سے ہلاکر رکھ دیتے ہیں مگر شاعر ادیب اپنا محاذ نہیں چھوڑ سکتا اسے علم ہے کہ وہ جاب پر ہے اسے ڈیوٹی انجام دینی ہے اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ہر گزرتے لمحے کی اسے تصویر بنانی ہے اسلئے کوئی بھی ڈیپریشن اس کے راستے میں دیوار کھڑی نہیں کرسکتا ، گویا۔
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے
سویہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے لیکن غیر محسوس طریقے سے موسم بہار میں اس کی رفتار میں جو ایک سرخوشی اور مستی آجاتی ہے وہ دیدنی ہوتی ہے۔ ان دنوں بہار کے سنگ سنگ ادبی اور ثقافتی تقریبات کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور پچھلے ہفتہ عشرے سے تو صبح سے شام تک تین تین چار چار تقریبات میں شرکت کرنا پڑرہی ہے اس موسم میں احباب اپنی کتابیں بھی شائع کررہے ہیں اور ان دنوں پاکستان بھر سے شائع ہونے والی اور احباب کی بے پناہ محبت سے وصول ہونے والی کتب اور جرائد سے میری میز بھری پڑی ہے۔ کچھ احباب بیرون پاکستان شائع ہونے والی کتابوں کی فہرست الگ سے بھجوارہے ہیں کہ ان کتابوں کا پڑھنا بھی ضروری ہے۔ غنیمت ہے کہ وہ سب کتابیں انٹرنیٹ پر مکمل یا جزوی موجود ہیں خصوصاًعلی گڑھ کی ویب سائٹ پر تو اردو کی نایاب اور کم یاب کتب مکمل موجود ہیں کل ہی دبئی سے شکیلہ رحمن جو کہ ظہور احمد اعوان کی منہ بولی اوران دیکھی بہن اور جو ان سے اور باقی تمام کالم نگاروںسے مستقل اور مسلسل رابطہ میں رہتی ہیں انہوں نے افسانوں کے چھپے مجموعوں اور ایک ناول کی لسٹ فون پر لکھوائی ہے کہ یہ کتابیں فوراً منگواکر پڑھیں میں نے وہ فہرست جوان فکر افسانہ نگار جواد کے حوالے کردی ہے کہ وہ دکان ، دکان گھومے اور یہ کتب خرید کر لائے بصورت دیگر اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے احباب کو حسب سابق زحمت دینا پڑے گی۔ اسی دوران پشاور کے احباب کی بھی کتابیں آئی ہیں ان میں سے صابر حسین امداد کی کتاب وڈکارے اور صادق صبا کے پہلے ہندکو افسانوں کے مجموعہ کی رسید تو میں دے چکا ہوں ڈاکٹر محمد اعظم اعظم کہ پشتو شعروادب کی ایک طرحدار اور توانا آواز ہے اور پشتو ادب کے نقاد اس بات پر متفق ہیں کہ محمد اعظم اعظم جدید ترین شعراء میں شامل ایک ایسے سخنور ہیں جو نظم اور غزل کہنے پریکساں قدرت رکھتے ہیں اور دونوں میں ان کا ڈکشن تراکیب ، بندشیں اور ایک رومانی فضا ان کی شاعری کو وہ اپیل عطا کرتی ہے جس کی بنا پر وہ قاری کے دل کے قریب تر ہو جاتے ہیں ایک طویل انتظار کے بعد ان کی شاعری کا مجموعہ جنون اوڑوند ون کے نام سے آیاہے والدہ مرحومہ کی روشن یادوں کے نام معنون ساڑھے تین سو صفحات کے اس شعری مجموعہ میں ان کے پچھلے تیس چالیس، سال پر محیط مقبول غزلوں کا عمدہ انتخاب ہے اس شعری مجموعہ کو اجمل خٹک ایاز داو¿د زئے کے ساتھ ساتھ زبیر حسرت کے مضامین اور فلیپ پراباسین یوسفزئی اور حنیف خلیل کی آراء اور عبداللہ جان عابد کی کتاب سے ایک چند سطری اقتباس بھی معتبر بناتا ہے۔ گندھارا ہندکو بورڈ نے جن دس ہندکو کتب کی اشاعت کو مختصر عرصے میں ممکن بنا یا ان میں سے کھلیاں اکھیاں دا خواب اور وڈکارے کے بعد جن احباب نے محبت بھرا تحفہ عنایت کیا ان میں سب سے معتبر ومقدم تویقینا ” سچے رنگ “ ہے جسے سکندر حیات سکندر نے ترتیب دیا ہے یہ تحفہ احباب کی نعتوں کا مجموعہ ہے جس میں ہندکو کے قدیم وجدید سارے لہجوں کی نمائندگی موجود ہے۔
ناصر علی سید
منظر نامہ
یوں تو سارا سال کارادب رواں دواں رہتا ہے حالات حاضرہ اس پر کبھی بالواسطہ اور کبھی بلاواسطہ اثر انداز بھی ہوتے رہتے ہیں مگر ایسا بالکل بھی نہیں ہو سکتا کہ ادب کا کاروان رک جائے یا لاتعلقی کی بکل مارکر ایک کونے میں بیٹھ جائے حالانکہ اردگرد کے حالات بسا اوقات اندر سے ہلاکر رکھ دیتے ہیں مگر شاعر ادیب اپنا محاذ نہیں چھوڑ سکتا اسے علم ہے کہ وہ جاب پر ہے اسے ڈیوٹی انجام دینی ہے اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ہر گزرتے لمحے کی اسے تصویر بنانی ہے اسلئے کوئی بھی ڈیپریشن اس کے راستے میں دیوار کھڑی نہیں کرسکتا ، گویا۔
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
یاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے
سویہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے لیکن غیر محسوس طریقے سے موسم بہار میں اس کی رفتار میں جو ایک سرخوشی اور مستی آجاتی ہے وہ دیدنی ہوتی ہے۔ ان دنوں بہار کے سنگ سنگ ادبی اور ثقافتی تقریبات کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور پچھلے ہفتہ عشرے سے تو صبح سے شام تک تین تین چار چار تقریبات میں شرکت کرنا پڑرہی ہے اس موسم میں احباب اپنی کتابیں بھی شائع کررہے ہیں اور ان دنوں پاکستان بھر سے شائع ہونے والی اور احباب کی بے پناہ محبت سے وصول ہونے والی کتب اور جرائد سے میری میز بھری پڑی ہے۔ کچھ احباب بیرون پاکستان شائع ہونے والی کتابوں کی فہرست الگ سے بھجوارہے ہیں کہ ان کتابوں کا پڑھنا بھی ضروری ہے۔ غنیمت ہے کہ وہ سب کتابیں انٹرنیٹ پر مکمل یا جزوی موجود ہیں خصوصاًعلی گڑھ کی ویب سائٹ پر تو اردو کی نایاب اور کم یاب کتب مکمل موجود ہیں کل ہی دبئی سے شکیلہ رحمن جو کہ ظہور احمد اعوان کی منہ بولی اوران دیکھی بہن اور جو ان سے اور باقی تمام کالم نگاروںسے مستقل اور مسلسل رابطہ میں رہتی ہیں انہوں نے افسانوں کے چھپے مجموعوں اور ایک ناول کی لسٹ فون پر لکھوائی ہے کہ یہ کتابیں فوراً منگواکر پڑھیں میں نے وہ فہرست جوان فکر افسانہ نگار جواد کے حوالے کردی ہے کہ وہ دکان ، دکان گھومے اور یہ کتب خرید کر لائے بصورت دیگر اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے احباب کو حسب سابق زحمت دینا پڑے گی۔ اسی دوران پشاور کے احباب کی بھی کتابیں آئی ہیں ان میں سے صابر حسین امداد کی کتاب وڈکارے اور صادق صبا کے پہلے ہندکو افسانوں کے مجموعہ کی رسید تو میں دے چکا ہوں ڈاکٹر محمد اعظم اعظم کہ پشتو شعروادب کی ایک طرحدار اور توانا آواز ہے اور پشتو ادب کے نقاد اس بات پر متفق ہیں کہ محمد اعظم اعظم جدید ترین شعراء میں شامل ایک ایسے سخنور ہیں جو نظم اور غزل کہنے پریکساں قدرت رکھتے ہیں اور دونوں میں ان کا ڈکشن تراکیب ، بندشیں اور ایک رومانی فضا ان کی شاعری کو وہ اپیل عطا کرتی ہے جس کی بنا پر وہ قاری کے دل کے قریب تر ہو جاتے ہیں ایک طویل انتظار کے بعد ان کی شاعری کا مجموعہ جنون اوڑوند ون کے نام سے آیاہے والدہ مرحومہ کی روشن یادوں کے نام معنون ساڑھے تین سو صفحات کے اس شعری مجموعہ میں ان کے پچھلے تیس چالیس، سال پر محیط مقبول غزلوں کا عمدہ انتخاب ہے اس شعری مجموعہ کو اجمل خٹک ایاز داو¿د زئے کے ساتھ ساتھ زبیر حسرت کے مضامین اور فلیپ پراباسین یوسفزئی اور حنیف خلیل کی آراء اور عبداللہ جان عابد کی کتاب سے ایک چند سطری اقتباس بھی معتبر بناتا ہے۔ گندھارا ہندکو بورڈ نے جن دس ہندکو کتب کی اشاعت کو مختصر عرصے میں ممکن بنا یا ان میں سے کھلیاں اکھیاں دا خواب اور وڈکارے کے بعد جن احباب نے محبت بھرا تحفہ عنایت کیا ان میں سب سے معتبر ومقدم تویقینا ” سچے رنگ “ ہے جسے سکندر حیات سکندر نے ترتیب دیا ہے یہ تحفہ احباب کی نعتوں کا مجموعہ ہے جس میں ہندکو کے قدیم وجدید سارے لہجوں کی نمائندگی موجود ہے۔ ایک اور اہم معتبر شعری مجموعہ آواز بھی شائع ہوا ہے مگر پروفیسر صبیح احمد نے اپنا یہ ہندکو مجموعہ صرف دو دن کے لئے عنایت فرمایا تھا ور یہ کہتے ہوئے واپس لے لیا کہ مجھے ابھی تک صرف ایک ہی نسخہ ملا ہے البتہ ہندکو مزاحیہ نظموں کا مجموعہ ” اے کے مخول اے“ ظفر نوید جانی کا مجھے خود انہوں نے دیا ہے اس سے قبل ان کے افسانوں کا مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے اسی طرح گندھارا کے بینر تلے شائع ہونے والی ایک اور کتاب ” آٹھواں سر“ بھی احمد ندیم اعوان نے عنایت کی ہے اور یہ ان کے شگفتہ مضامین کا مجموعہ ہے۔ یہ مضامین انشائیہ اور فکاہیہ کالم کے قریب ترین ہیں اور شاید ہی کوئی مضمون آپ ادھورا چھوڑ سکیں بعض تحریریں خود کو قاری سے پڑھانے کا ہنر جانتی ہیں اور اٹھواں سران میں سے ایک ہے ہندکو کی اس دوران جتنی کتب گندھارا نے شائع کی ہیں ان کے صفحات اسی اور سو کی تعداد میں ہیں لیکن ان میں سے کم وبیش ساری اصناف پر کام سامنے آیا ہے خاکے، افسانے، شاعری ، مزاح، مضامین اور نعت اور یہ سب ہندکو زبان وادب کی اشد ضرورت تھی ابھی ایک اور اہم شعر ی مجموعہ انجروت کے نام سے ایم اسماعیل اعوان کا بھی آیا ہے یہ مجموعہ سنڈیکیٹ آف رائٹرز پاکستان کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے اور اس ہندکو شعری مجموعہ کا صدری ومعنوی حسن دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اس عمدہ شعری مجموعہ کا پہلا حصہ آیات قرآنی کے سلیس منظوم ترجمہ کیلئے مخصوص ہے اور اس قصے میں ان کے پیش نظر قرآن پاک کی 35سورتیں تھیں جبکہ دوسرے حصے میں ان کی نعتیں، مناجات سلام، نظمیں اور غزلیں شامل ہیں اور ایک خصوصی اردو نظم اس ہندکو مجموعے میں فراز کے نام بھی موجود ہے۔ اسماعیل اعوان کی اس سے قبل شائع ہونے والی تینوں کتابوں پر انہیںا باسین آرٹس کونسل کی طرف سے سال کی بہترین کتاب کا ایوارڈ مل چکا ہے مسلسل تین سال تین کتابوں پر تین گولڈ میڈل حاصل کرنے کی بناپر انہیں ایوارڈ کی ہیٹ ٹرک کرنے والا اکلوتا قلمکار کہا جاتا ہے اور آخر میں مجھے ذکر کرنا ہے علی احمد قمر کا جو حلقہ ارباب ذوق پشاور کے ایک مستقل رکن رہے ہیں ان دنوں وہ پی ٹی وی پشاور مرکزمیں تعینات تھے۔ دنیا کے بلند ترین میدان جنگ سیاچن کے دامن میں واقع گاو¿ں گوما سے تعلق رکھنے والے شاعر کا تیسرا مجموعہ ” لمس“کے نام سے آیا ہے، مجتبیٰ حسین کی رائے سے متفق ہوں کہ ” قمر غزل کہنے کا لہجہ اور سلیقہ لئے ہوئے ہے اور اس کی آواز تلخی کی باوجود دھیمی ہے”لمس “ میں ایسے اچھے اور عمدہ اشعار کی کمی نہیں جو قاری کو روک روک لیتے ہیں۔
ہرصبح نئے دکھ کی خبر لاتا ہے اخبار
دیکھی نہیں جاتی کسی اخبار کی صورت
اب کوئی بھی یوسف کا خریدار نہیں ہے دیکھے کوئی جا کر کسی بازار کی صورت
ہم بھی ہیں وہی راہ وہی شہر وہی ہے
بدلی ہوئی کیوں ہے درودیوار کی صورت
Tags: Nasir Ali Syed , column
November 11th, 2009 · Comments Off

”تلخیاں“
ندیم حیدر رضوی
کہا جاتا ہے کہ جس کو اپنڈکس کا مرض لاحق ہوجائے اس کا آپریشن لاحق ہو جاتا ہے اس آپریشن میں جسم میں سے ایک فالتو آنت کو نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے اور مریض کو اس درد و تکلیف سے نجات مل جاتی ہے جو اس مرض کی صورت میں و ہ برداشت کرتا ہے‘ اس مرض کی تفصیلات سے تو ڈاکٹر حضرات ہی زیادہ واقف ہونگے مگریہ بات عام مشاہدے میں ہے کہ آپریشن اپنڈکس کا ہو یا کوئی اور فقط آپریشن کرنے یا جسم کے کسی فالتو حصہ کو باہر نکال دینے پر معاملہ ختم نہےں ہوجاتا بلکہ ڈاکٹر اس مرض کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لےے اےک مخصوص عرصہ تک مرےض کو ادوےات کے استعمال کا مشورہ دےتے ہےں اور خاص احتےاطی تدابےر سے بھی آگاہ کرتے ہےں۔ آج کل ہمارے ملک مےں بھی آپرےشن کےا جا رہا ہے کےونکہ اےک طوےل عرصہ تک کپسول اور ٹےبلٹ سے کام نہ بن سکا اس لےے دہشت گردوں کے خلاف اب باقاعدہ آپرےشن کےا جا رہا ہے اور قوم کو امےد ہے کہ ےہ آپرےشن کامےابی سے ہمکنار ہوگا اور ارض پاکستان نامی اس مرےض کو دنےا مےں صحت مند ملک کے طور پر جلد ہی دےکھا جائے گا مگر شاےد ہمےں بھی اس مرض کو فقط آپرےشن تک محدود رکھنے کے بجائے کچھ آگے لے جانا ہوگا ۔ہمےں کچھ تلخ فےصلے کرنے ہونگے‘ ہمےں ملک بچانے کے لےے چند کڑوی ادوےات کو کھانا ہی ہوگا۔ گزشتہ دنوں وزےر اعظم مملکت ترکی جناب طےب اردگان نے پاکستان کے دور ئے کے دوران کہا تھا کہ اےک زمانے مےں ترکی کی حالت بھی پاکستان جےسی ہی تھی وہاں پر حالات درست ہو چکے ہےں تو ےقےنا پاکستان مےں بھی بہتر ہو جائےں گے ۔ دےکھا جائے تو شاےد ہمارے ہاں کوئی کمال اتاترک تو نہ آسکے گا نہ کوئی خمےنی جےسا کہ جو ملک کے لےے بنا کسی خوف کے حتمی طور پر بہتر فےصلہ کر سکے جو کسی فےصلہ کرنے اور اس کو نافذ کرنے کے لےے کسی مصلحت سے کام نہ لے مگر ہمارے حکمرانوں اور عوام دونوں کو کسی حد تک تو خود سے ملک سے شدت پسندی اور نفرتوں کے خاتمے کے لےے سخت فےصلے کرنے ہونگے اور ان پر عمل درآمد بھی کرنا ہوگا ۔ سبھی جانتے ہےں کہ ہم اےک قوم ہوتے ہوئے بھی چند عناصر کے باعث فرقوں اور صوبائی عصبےت کے شکنجے مےں جکڑے ہوئے ہےں ۔ ےقےن ہے مجھے کہ اگر ہم صرف اور صرف اختلافی مسائل کو چھوڑ دےں اور اختلافی باتےں کرنا بند کردےں ‘ آپس کی نفرتوں کے خاتمے کے لےے اقدامات کرےں تو ملک سے نفرتوں اور شدت پسندی کے اس مرض کو ہمےشہ کے لےے ختم کر سکتے ہےں ۔ اس سلسلے مےں مےری چند گزارشات ہےں اگر ان کے حوالے سے چند سخت اقدامات کر لےے جائےں تو شاےد ہم نفرتوں کو ملک سے ختم کر سکےں۔ ہم سب جانتے ہےں کہ ہم پاکستانی و ہ قوم ہےں جو ہرمعاملے اور بات مےں خود کو ماہر سمجھتے ہےں ‘ ہم اصل صورتحال سے واقف ہوں ےا نہےں مگر رائے دےنا اور بحث برائے بحث کرنا اپنا فرض عےن جانتے ہےں ‘ اےک معمولی سی بات ہے کہ فرض کےا مےں نہےں جانتا کہ کےری لوگر بل کےا ہے مگر اس پر ملک مےں ہر جگہ بلکہ چائے خانوں تک مےں بحث ہوتی رہی ‘ بحث مباحثہ اچھی بات ہے اےک بہترےن قوم ہونے کا ثبوت ہے مگر مکمل علم نہ ہونے کے سبب سے ےہ دےکھا گےا کہ بنا کسی بات کے جانے ہونے والی بحث کے آخر مےں لوگ اےک دوسرے کا گرےبان پکڑے ہوئے تھے اور ہر اےک خود کو حق پر جان رہا تھا ‘ اس سے بری صورتحال ہمارے ہاں مذہب کے نام پر ہونے والی بحثوں مےں ہوتی ہے جس کے انجام کے طور پر نفرتوں مےں اضافہ ہورہا ہے اور ‘ پاکستانی قوم تقسےم در تقسےم ہوتی چلی جا رہی ہے ۔
ضروری ہے کہ اس سلسلے مےں حکومت نے جس طرح سے پبلک مقامات پر سگرےٹ نوشی پر پابندی لگائی ہے اسی طرح سے سےاسی و فرقہ وارنہ بحث مباحثوں پر پابندی لگائے ۔ خاص طور پر تمام سرکاری‘ نےم سرکاری اور پرائےوےٹ دفاتر مےں سختی کے ساتھ دفتری معاملات سے ہٹ کر مذہب ‘ زبان‘ علاقہ اور سےاسی جماعتوں کی وابستگی کے حوالے سے بحث پر پابندی لگا دی جائے ۔ تمام ہوٹلوں‘ چائے خانوں اور پارک وغےرہ مےں بھی اس طرح کی بحث پر پابندی ہونی چاہےے۔ اگر سچ کہوں تو فرقہ وارےت کچھ نہےں ہے اگر کچھ فروعی اختلافات ہےں تو بھی ان پر بحث کا حق فقط علماءکرام کو ہے نا کہ مجھ جےسے دےن کے معمولی علم رکھنے والے کو کہ مےں چند باتوں کو جان کر مذہب کی بحث کرنے بےٹھ جاﺅں اور نفرتےں پےدا کروں ۔ بات علماءکی ہے تو ےقےنا تمام علماءکرام ہمارے لےے قابل احترام ہےں مگر ان پر بھی اس بات کی پابندی ہونی چاہےے کہ وہ کسی فرقہ وارانہ بحث ےا اختلافی مسئلہ کو اس طرح سے اسپےکر پر بےان نہ کرےں گے جس سے آواز مسجد ےا امام بارگاہ سے باہر جائے اور سب سے بڑ ھ کر وہ معاملات جن پر علماءکرام کے درمےان اختلاف ہے ان پر تو اپنے فرقہ کے علاوہ باہر کسی دوسرے پر تنقےد کی اجازت ہونی ہی نہےں چاہےے ‘ مثلاً اےک فرقہ کے نزدےک قوالےاں ےا نعت کے ساتھ آلات موسےقی کا استعمال جائز ہے اور دوسرے کے نزدےک نہےں تو جس کے نزدےک درست ہے وہ کرے مگر ےہ نہ کہے کہ دوسرا غلط ہے اور جس کے نزدےک ےہ فعل غلط ہے وہ اپنے فرقہ کے اندر تو اس پر بات کرے مگر کھلے عام اسپےکر پر اختلافی بات کرنے سے شدت پسندانہ سوچ بڑھتی ہے ۔ تےسری بات مختصراً ےہ ہے کہ تبلےغ اسلام کا اہم جزو ہے اور تاکےد کرنا بھی اس کا حصہ ہے ےقےنا مسلمانوں کو نماز کی تاکےد کرنا ‘ نےک کام کی جانب راغب کرنا نہاےت اچھا اقدام ہے مگر ےہ کام بھی کہےں پر ہمارے ہاں نفرتوں کو جنم دےنے کا باعث بن رہا ہے ‘ ےقےنا تبلےغ کرنے والے افراد نہاےت اچھا کام کر رہے ہےں مےں ان کو سراہتا ہو مگر ان مےں چند اےک جو ابھی مکمل طور پر تبلےغ سے واقف نہےں ہوتے ان کی وجہ سے نفرتےں پےدا ہوتی ہےں ۔ مےرے سامنے اےک مثال ہے کہ اےک صاحب جوابھی تبلےغ کرنے کے عمل کو سےکھ ہی رہے تھے کسی دوسرے صاحب کو تبلےغ کرنے لگے تو دوسرے صاحب نے کہا کہ مےں فلاں فرقہ کا ہوا س لےے آپ کے فرقہ کی مسجد مےں نہےں آسکتا ‘ لےجےے جناب معاملہ ختم مگر اےسا نہ ہوا وہ اناڑی تبلےغی نے کہا کہ آپ کے فرقہ مےں فلاں باتےں غلط ہےں اس لےے آپ ہماری مسجد مےں آئےے ہم تعلےم دےں گے اور مزےد کےا ہوا ہوگا قارئےن بخوبی جان سکتے ہےں ۔ اس لےے عرض ےہ ہے کہ تبلےغ مےں فرقہ وارانہ نفرتوں کو پےدا کرنے والی کوئی بات نہ ہو اس لےے صرف اور صرف ذمہ دار افراد ہی ےہ کام کرےں اور اگر کوئی اپنے فرقہ کی بات کرے تو اس پر فرقہ بدلنے کے لےے دباﺅ ڈالنا غےر مناسب ہے ۔
ساری باتوں کا خلاصہ پےش کروں تو جس طرح سے پاکستان آرمی مےں مذہب‘ فرقہ اور لسانی تعصبات نہےں پائے جاتے اور سپاہ وطن کے نزدےک سب کچھ صرف اور صرف پاکستان ہوتا ہے اس طرح سے سارے ملک کو ےکجا کےے جانے کی ضرورت ہے ۔
Tags: column , nadeem haider rizvi
November 11th, 2009 · Comments Off

صورتحال
ہارون عدیم
کچھ پاکستانی ”بلاگ“ویب سروسز کے ذریعے جو ان گنت ای میلز روزانہ ملتی ہیں ان میں آج کل” میڈیا وار“کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔بڑے محتاط اندازے کے مطابق95 فی صد پاکستانیوں کی رائے ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے اینکر پرسنز سیاسی پارٹیوں کے کارکن کی حیثیت سے میزبانی کے فرا ئض سر انجام دیتے ہیں۔عوام کا یہ بھی ماننا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے یہ چینل مسلسل سیاستدانوں کی کردار کشی کر رہے ہیں ،کبھی یہ نہیں ہوا کہ انہوں نے کبھی نوکر شاہی،عدلیہ اور افواج پاکستان کی کرپشن کا تذکرہ کیا ہو۔کیا نوکر شاہی ،عدلیہ اور افواج پاکستان معصوم ہیں۔اور وہ پاک صاف ہیں،کیا خود میڈیا کرپٹ نہیں ۔کیا صحافی اور میڈیا مالکان پلاٹ اور دیگر مراعات حاصل نہیں کرتے،کیا کبھی کسی چینل نے اپنے صحافیوں کو بھی ننگا کیا ہے۔اس بات کے علاوہ عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپنے ٹاک شوز میںیہ اینکر پرسن ماسوائے سیاسی عہدے داروں کو آپس میں لڑانے اور ان کے درمیان اختلافات کو ہوا دے کر مزید گہرا کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ”وار گروپ“ (یہ اصطلاح لوگوں کی ایجاد کردہ ہے جو ای میلز میں لکھی جاتی ہے)کے اینکر پرسنز تو صرف اپنے مالکان کے اشارے پر صرف اور صرف سیاستدانوں کی کردار کشی اور جمہوری نظام کو تہہ و بالا کرنے میں مصروف ہیں کیونکہ اس گروپ کے ذمہ کروڑوں روپے کے ٹیکس واجب الادا ہیں ،اس ادرے نے اپنے ورکروں کی تنخواہوں سے انکم ٹیکس کی مد میں جو رقوم کاٹی ہیں وہ تک ادا نہیں کیں چہ جائیکہ دوسرے ٹیکسز اداکرے۔لہٰذا وار گروپ کے اینکر پرسنز کا یہ نیا کردار سمجھ میں آتا ہے۔مگر اس بھیڑ چال میں جب دوسرے نجی چینلز بھی شامل ہو جاتے ہیں تو عوام کو یقینا تشویش لا حق ہو جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کی سیاست میں سازشوں ،تشدد اور انتخابات میں دھاندلی کی تمام اعلٰی روایات مسلم لیگ نے ہی ڈالی ہیں۔مثلاً پاکستان بننے کے بعد اور قائد اعظم کی رحلت کے بعد جس کسی نے بھی مسلم لیگ پر تنقید کی اس کو غدار قرار دے کر نہ صرف مارا پیٹا گیا بلکہ اسمبلی سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔ایک عوامی جلسہ میں ملک کے وزیر اعظم نے اپوزیشن لیڈر سہر وردی کو ”کتا “ کہا،پاکستان کی تاریخ کے پہلے سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر ہونے والے انتخابات میں اس سطح پردھاندلی کی گئی کہ اخباروں نے سرخیاں جمائیں کہ ”جھرلو پھر گیا“ اور یوں اردو لغت میں ایک نئے لفظ کا اضافہ بھی ہو گیا۔لیاقت علی خان کی وفات کے بعد مسلم لیگ نے بقول ڈاکٹر مبشر کے جو بچے انڈے دیئے انہوں نے بھی لیاقت علی خان کی روایات کو صدق دل سے آگے بڑھایا۔
ایوبی لیگ نے 62 کے انتخابات میں مادر ملت کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کیا۔اور ایک نئی روایت کا آغاز بھی ہوا،ایوب خان کے بعد جتنے بھی طالع آزما اور آمر آئے انہوں نے مسلم لیگ کو ہی اپنی زوجیت بخشی اور مسلم لیگ نے یہ رول بخوشی و رغبت نہ صرف قبول کیا بلکہ نبھایا بھی ہے۔88 کے انتخابات میں ن لیگ کے سربراہ نے پاکستان کی سیاست میں ایک بالکل انوکھا عمل متعارف کروایا ،اور وہ تھا مینڈیت حاصل کرنے کی بجائے مینڈیٹ خریدنا۔چھانگا مانگا آپریشن میں چالیس آزاد ایم پی ایز کو زبردستی اغواءکر کے انہیں ایک ایک کروڑ میں خریدا گیا اور پنجاب میں حکومت قائم کی گئی۔اسی عمل نے بعد میں فارورڈ بلاکس اور یونیفیکیشن گروپس کی صورت اختیار کر لی۔لہٰذا اب مسلم لیگ کے سارے دھڑوں کی طرف سے زیادہ زور اس بات پر صرف کیا جاتا ہے کہ عوام سے رجوع کرنے کی بجائے عوام کے نمائندوں کو خریدا جائے۔ٹی وی اینکرز کو پارٹی ترجمان بنانے کی روایت کا آغاز بھی جناب نواز شریف کے دور حکومت میں ہی ہوا تھا،جب مرحوم خلیل ملک پی ٹی وی کی صبح کی نشریات میں مارننگ شو ”سویرے سویرے کی میزبانی کیا کرتے تھے۔وہ مسلم لیگ کے باقاعدہ ملازم تھے، اور سرکاری میڈیا پر بیٹھ کر نہ صرف حکومت بلکہ حکمران پارٹی کی وکالت بھی کرتے تھے،اور ایسے شرکاءکی تضحیک بھی کیاکرتے تھے جو نواز حکومت یا حکمران جماعت پر تنقید کرتے تھے۔17 جون 1998 کو ہم نے روزنامہ اساس راولپنڈی میں خلیل ملک کے اس کردار کے بارے میں ایک کالم ”ٹیلی ویژن پر مہمانوں کی تضحیک“ کے عنوان سے لکھا تھا، سویرے سویرے پاکستان ٹیلی ویژن کا ایک اچھوتا پروگرام تھا ۔یوں کہہ لیجئے کہ یہ ایک ویڈیو میگزین تھا جس میں ادارتی صفحہ،کھیل اور تفریح سبھی کچھ ہوتا تھا،جب یہ شروع ہوا تو معروف اینکر پرسن طلعت حسین اس کی میزبانی کیا کرتے تھے۔جو ہمیشہ غیر جانبدار رہتے۔اس پروگرام کی افادیت اور اثر پذیری کو دیکھتے ہوئے ن لیگ کی حکومت نے یہ پروگرام طلعت حسین سے چھین کر خلیل ملک کو دے دیا ،اور یہ پروگرام حکومت اور حکمران پارٹی کا پروگرام بن کر رہ گیا۔اب چونکہ چینل بہت زیادہ ہیںاس لئے یہ ضروری ٹھہرا ہے کہ ایسے تمام ٹاک شوز کے اینکر پرسن کو خرید لیا جائے جن کے پروگرام لوگ شوق سے دیکھتے ہیں۔اب یہ اینکر پرسن کرتے یہ ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کو چھوڑ کر مستقبل کے مفروضوں پر پروگرام کرتے ہیں۔نان اےشوز کو اےشوز بناتے ہیں۔کچھ تو سرکاری ایجنسیوں کی وکالت کرتے ہیں اور کچھ سیدھا سیدھا سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔یہ ایک عجیب دور ہے اگر کوئی پیپلز پارٹی پرتنقیدکرتا ہے تو اس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ وہ نون لیگ کا حامی ہے ،اور اگر کوئی ن لیگ پر تنقید کرتا ہے تو اس پر زرداری کی طرف داری کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔
ایک دو روز پہلے کاشف عباسی نے میڈیا پر لگنے والی ممکنہ پابندیوں پر ایک پروگرام کیا جس کے شرکاءمیں محترم نصرت جاوید اور ن لیگ کے سیکرٹری انفارمیشن اور ترجمان احسن اقبال بھی تھے۔ نصرت جاوید نے یہ بات برملا کہی کہ حکمران صحافیوں کو کمی کمین سمجھتے ہیں ،انہوں نے احسن اقبال کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات جھٹلائیں کہ ن لیگ بھی میڈیا پر پابندی نہیں چاہتی۔نصرت نے کہا کہ ہمیں روز ن لیگ کی لیڈر شپ کی طرف سے فون آتے ہیں کہ ہمیں فلاں پروگرام میں کم کوریج دی گئی ہے اور فلاں میں ہمارے مخالفین کو زیادہ۔فلاں سوال نہیں کرنا چاہئے تھا ،وغیرہ وغیرہ۔وقت ٹی وی میں تو ہر وہ شخص بین ہے جو مجید نظامی کے نظریہءپاکستان کے خلاف ہو، ڈاکٹر مبارک، ڈاکٹر مبشرکے ساتھ ساتھ نوے فیصد ترقی پسند ٹی ٹاک شوز میں نہیں آ سکتے، کسی بھی ایسے شخص کو جو مجید نظامی کی فراہم کردہ فہرست سے باہر ہو بلانے سے پہلے اجازت لینی پڑتی تھی۔ جناب سجاد میر نے مجید نظامی کے سوچے ہوئے پروگرام ”نظریہ ءپاکستان اور ۔۔۔۔“ اور اس کے بعد کچھ بھی لگایا جا سکتا تھا کی میزبانی قبول کرنے سے صرف اس لئے انکار کر دیا تھا کہ وہ جن لوگوں کو شرکاءکے طور پر بلانا چاہتے تھے نہیں بلا سکتے تھے۔اس کے بعد کرہءفال جناب ڈاکٹراجمل نیازی کے نام نکلا مگر وہ بھی پانچویں پروگرام کی میزبانی کے بعد بھاگ گئے۔نواز شریف اور شہباز شریف کو بیپر پر لینا منع تھا۔وقت چینل پر نون لیگ کے خلاف بات کرنا یا ایسی خبر چلانا جس سے ان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو بین تھی اور اب بھی ہے۔یہ سب باتیں کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قارئین یہ بات نوٹ کرلیں کہ میڈیا قطعاًآزاد نہیں۔ اینکر پرسن پہلے تو ادارے کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کے پابند ہیں پھر اس مارکیٹ وسیب میں وہ بھی اپنا بھاو¿ لگواتے ہیں۔ہم نے یہ ریت ڈالی کہ پارٹی ترجمان کو سرکاری میڈیا پر بٹھا کر پارٹی اور حکومت کی نہ صرف پروجیکشن کی جائے بلکہ ناقدین کی تضحیک بھی کی جائے ۔وہ چاہے حکمران ہوں، افراد ہوں ،ادارے ہوں یا سیاسی جماعتیں ،وقتی فوائد حاصل کرنے کے لئے جو غلط اقدامات اٹھاتے ہیں بعد میں وہ قوم کو بھگتنے پڑتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ چور کو مارنے سے پہلے چور کی ماں کو مارا جائے کہ وہ کوئی اور چور نہ پیدا کر سکے۔
Tags: Haroon Adeem , column