Sacc header image 4

Entries Tagged as 'afzal khan'

خدا کے عذاب

May 13th, 2009 · No Comments

از: قمر ایم اے

گذشتہ دنوں ایک اخبار کے سینئر ایڈیٹر اور کالم نگار نے اپنے ایک کالم جس کا عنوان”خدا کا نیا عذاب؟” تھا میں یورپ کے باسیوں پر نازل ہونے والی حالیہ بیماری سوائن فلو ) Swine Flu)کے ساتھ ساتھ کچھ اور بیماریوں کا ذکر کیا اور ان کو خدا کے عذاب سے تشبیہہ دی ، اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے یہ معلومات نہایت عرق ریزی سے جمع کرکے قارئین کی خدمت میںپیش کیں مگر میرے خیال سے یہ معلومات اس وقت تک ادھوری رہتی ہیںجب تک کہ پاک وہند کے اس خطہ میں آنے والے خدا کے عذابوں کا ذکر نہ کیا جائے۔

412قبل از مسیح یونانی تاریخ میں اس بات کا ذکر ہے کہ اس وقت بھی ایک وبا پھیلی تھی جس کے نتیجے میںاڑھائی کروڑ انسان موت کے منہ میں چلے گئے، 1845میں برطانیوی لوگوں نے ایک ایسی بیماری کا مزا چکھا جس میں پسینہ بہت آتا تھا اور یہی جان لیوا ثابت ہوتا، اس وبا کو(Sweating Sickness) کا نام دیا گیا تھا،1918ء میں یورپ میں ایک جان لیوا بخار پھیلا جو سپینش فلو کہلا یا اور تب بھی دس کروڑ انسان قبروں کا ایندھن بنے1957/1958میں ایک اور وبا پھیلی اور دس سے بیس لاکھ انسان موت کے منہ میں چلے گئے،یورپ ہی میں پھر برڈ فلو جو ٹامی فلو(Tami Flu)بھی کہلایا جو پھیلتے پھیلتے یورپ سے ہوتا ہوا پاکستان جیسے ملک میں بھی آ گیا اور لوگ مرغیاں کھانا چھوڑ گئے اور پولٹری کی انڈسٹری کسی حد تک تباہ ہو گئی۔ اب حالیہ دنوں میں سوائن فلو جیسی بیماری آ گئی جو سورؤں سے پھیلتی ہے ، اس بیماری میںبھی اب تک250سے زائد افراد مر چکے ہیں ، اس سے پہلے یورپ ہی میں گائیوں اور بھینسوں سے متعلق منہ کھر کی بیماری کا بہت چرچا تھا جس کے نتیجے میں یورپ کے بہت سے شہروں میں باہر سے لوگوں کی آمد روک دی گئی تھی ۔

اس کے بالمقابل اگر پاک و ہند کے علاقوں کا جائزہ لیا جائے تو یہاں کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں، سندھ کے علاقے شاہ بند میں پہلے893-94میںپھر 2مئی 1668ء کو زلزلہ آیا اور ہر دو زلزلوں کے نتیجے میں با لترتیب ڈیڑھ لاکھ اور بچاس ہزار افراد ہلاک ہوئے ان زلزلوںکی ریکٹر اسکیل پر شدت7.5اور7.6تھی، پھر16جون1819ء کو اللہ بند سندھ میں تیسرا زلزلہ16جون1827ء کو آیا جس کی شدت7.7تھی، اس زلزلہ میں 32سو افراد ہلاک ہوئے تھے، 18ستمبر1827ء کو لاہور میں زلزلہ آیا،اکتوبر1902ء میں پاک و ہند کے مختلف شہروں میں قیامت خیز طاعون کی وبا پھیلی جو چوہوں سے پید ا ہوتی تھی، اس وبا کے نتیجے میں اندازاً بیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے، پھر14اپریل1905 ء میں کانگڑہ کے مقام پر زلزلہ آیا اس زلزلہ میں بھی ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے، 31مئی1935ء کو بلوچستان کے علاقے علی جان اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں 7.7کی شدت کے ساتھ زلزلہ آیا جس میں30سے60لاکھ افراد جان بحق ہوئے، 28ستمبر1974ء کو ہنزہ/ سوات میں زلزلہ آیا جس میں53ہزار افراد ہلاک ہوئے اور کوئی17000افراد زخمی ہوئے،8اکتوبر2005ء کو مظفر آباد (کشمیر) میں ایک خوفناک اور قیامت خیززلزلہ آیا جس کی شدت7.8تھی اس زلزلہ کے نتیجے میں80000ہزار افراد موت کے منہ میں گئے اور35لاکھ افراد بے گھر ہوئے، اس زلزلہ کے متاثرین کی بحالی اور امداد کے لئے دنیا بھر سے ٹیمیں پاکستان آئیں، پاکستان ہی میں آخری زلزلہ مورخہ 29اکتوبر2008ء کو آیا جس کے نتیجے میں ایک لاکھ بیس ہزار افراد بے گھر ہوئے، تا ہم اس زلزلہ میں اموات بہت کم ہوئیں تھیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جب بھی کوئی ایسی وبا یا بیماری پھیلتی ہے جسکا کوئی فوری سد باب نہ ہو یا اس کا علاج وقت کے انسانوں کے بس نہ ہو اور لوگ ڈھڑا ڈھر موت کے منہ میں جارہے ہوں تو ان بیماریوں اور تباہیوں کو خدا کے عذاب سے تشبیہہ دی جاتی ہے یا ان کو انسانوں کی شامتِ اعمال سمجھا جاتا ہے۔ ان تباہیوں اور بربادیوں کو خدا کے عذاب کہا جائے یا انسانو ں کی شامتِ اعمال ہر دو صورتوں میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ خدا کے عذاب انسانوں پر کیوں نازل ہوئے، کیا خدا انسانوں سے ناراض ہو گیا تھا ،یا اس زمین کے باسیوں نے خدا تعالی کے احکامات ماننے سے انکار کردیا تھا یا اس کے کسی بندے کو جھٹلایا اور اس کی تضحیک کی تھی جو ان لوگوں کو خدا کے عذابوں کا مزا چکھنا پڑا ، اس کی بابت اگر قرآن مجید کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر اور اچھی طرح سے بیان ہوئی ہے کہ کسی بھی علاقے ، شہر یا وادی میں جب بھی خدا کا کوئی عذاب آیا تو وہ اس وقت ہی آیا جب کسی قوم نے خدا کی طرف سے آنے پیغام کو رد کیا یا اس کے بھیجے ہوئے بندے کو خدا کا بھیجا ہوا بندہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اُس کو دکھ دیئے اور اس کی تضحیک کی ۔ پاک و ہند کے شہروں میں بارشوں اور قیامت خیز سیلابوں کے علاوہ انہی علاقوں میںجب طاعون پھیلی تو بتانے والے بتاتے ہیں اور لکھنے والے لکھتے ہیں کہ اسقدر زیادہ اموات تھیں کہ بستیاں ویران اور گلیاں سنسان دکھائی دینے لگیں اور مردوں کو دفنانے والے نایاب ہو گئے، ایک مردے کو ابھی دفن نہیںکیا جاتا تھا کہ دوسرے کی موت کی اطلاع آ جاتی، یہی حال کانگڑہ کے زلزلے کے بعد یہاںکے شہروں کا تھا،حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں بارش اور سیلاب کی صورت میں اس وقت کی قوم پر عذاب اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں فرعون کا عبرت ناک انجام کون بھول سکتا ہے، فرعون وقت کی لاش( ممی) تو آج بھی مصر کے عجائب گھر میں پڑی پکار پکار کر انسانوں کو دعوت دے رہی ہے کہ میرے بد انجام سے عبرت پکڑو، یقینا خدا کی ذات ہی سب ذاتوں سے افضل و اعلیٰ ہے ،اور وہی سب سے زیادہ دلوں کے حال جاننے والا ہے ، اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ۔کیا معلوم کہ باقی دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے علاقوں میں آنے والے خدا کے عذاب بھی خدا کی ناراضگی کا سبب ہی ہوں یا ہماری نالائقیوں اور برے اعمال کا نتیجہ ہوں تو اس صورت میں کیا اور بھی ضروری نہیں ہو جاتا کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنا اپنا محاسبہ کرے اور خدا کے حضور جھکتے ہوئے اس سے بخشش اور پناہ مانگتے ہوئے اس کی رحمت مانگے کہ اللہ موجودہ اور آنے والی ہر آزمائش سے ہمیں بچائے۔

Tags: afzal khan , column

وہ جو طالبان کے گن گاتے ہیں

May 11th, 2009 · No Comments

از :قمر ایم اے

دوپہر کو کھانے کی میز پر دوستوں کے ساتھ عام طور پر ملک کے حالاتِ حاضرہ پر گفتگوہوتی ہے اور اس گفتگو میں طالبان کی بابت میرے تحفظات ہوتے تھے اور اب تک ہیں، ان دوستوں میں سے دو دوست ایسے بھی ہیں جو طالبانی کلچر کی وکالت کرتے نہیں تھکتے اور اسی بنا بات بعد میں شروع کرتے ہیں پہلا کام فوری طور پر یہ کرتے ہیں کہ آؤ دیکھتے ہیں نہ تاؤ میری تمام تر تاویلات اور دلائل کو ایک طرف رکھ کر فوری طور بڑی ڈٹائی سے اس عاجز کو شرعی نظام کا مخالف قرار دے دیتے ہیں۔ میں اپنی ذات کی حد تک شرعی نظام کا مخالف نہیں ہوں بلکہ میں تو اس پاک اور بابرکت نظام کو ترجیح دیتا ہوں جو میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے دور میں پورے عرب میں رائج رہا یعنی خلافت کا نظام ،لیکن میرے خیال میں جب امتِ مسلمہ خود گروہوں اور لا تعداد فرقوں میں بٹ چکی ہو تو پھر ایسے میں اس ملک میں جہاں لاتعداد مسالک کے لوگ رہتے بستے ہوں جن میں سے کچھ اپنے اپنے مذاہب کے بارے میں سخت گیر رویے کے بھی حامل ہوں تو کیونکر ممکن ہے کہ وہاں کوئی ایسا شرعی نظام نافذ ہو جائے جس پر تمام مسالک کے لوگ متفق ہی نہ ہوں۔اسی لئے قائدِ اعظم محمد علی جناح نے مورخہ12اگست 1947ء کو مجلس آئین ساز سے اپنے خطاب میں یہ فرمایا تھا کہ “آپ سب آزاد ہیں، آپ اپنے مندروں میںجانے کے لئے آزاد ہیں، اپنی مسجدوں میں جانے کے لئے آزاد ہیں، آپ دوسری عبادت گاہوں میں جانے کے لئے آزاد ہیں، ریاست کو اس بات سے غرض نہیں کہ آپ کا تعلق کس ذات، عقیدے یا مذہب سے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کا شکر ہے کہ ہم اپنے سفر کا آغاز ان زمانوں میں نہیں کر رہے، ہم ایک ایسے زمانے میں اپنی ریاست کا آغاز کر رہے ہیں جس میں ایک طبقہ اور دوسرے طبقہ، ایک ذات اور دوسری ذات کے درمیان امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاتا، ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ آغاز کر رہے ہیں کہ ہم پاکستان کے شہری ہیں۔۔”

شمال مغربی علاقوں طالبان نامی لوگوں نے جو غل کھلائے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں، ان علاقوں میں امن اور بھائی چارے کی بجائے خوف کی جو فضا پیدا ہو چکی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے اور ان کی حمایت میں بیانات دینے والے اور کالموں پہ کالم لکھنے والے بھی سب کے سامنے عیاں ہیں، طالبان کی طرف سے مخالفین پر ظلم کرنے ، لوگوں کے گھروں کو لوٹنے ،ان کے مکینوں کو بے گھر کرنے ، بنکوں کو لوٹنے، ہیروں کی کانوں پر قبضے کرنے، مخالف مسالک کے لوگوں کو تہہ تیغ کرنے ، مدفوں لوگوں کو قبروں سے نکال کر چوراہوں میں لٹکانے کے علاوہ امام بارگاہوں ، مساجد اور جنازوں تک میں خود کش حملوں کو اسلام کی خدمت گرداننے اور حکومتی رٹ کو متواتر چیلنج کرنے کے بعد بھی میرے ان دو دوستوں سمیت بہت سے اور لوگوں کی آنکھیں اب تک نہیں کھل سکیں اور مسلسل ایسے عناصر کی ہم نوائی کرتے دکھائی دیتے ہیں او ر دوسری جانب حکومت کو متواتر کوستے نظر آتے ہیں اور بار بار فوج کو ان علاقوں سے واپس آنے کے لئے کہہ رہے ہیں ، ساتھ ہی افسوس کا ایک مقام یہ بھی تو ہے کہ چند ہی دن قبل جماعت اسلامی کے نو منتخب امیر جناب منور حسن صاحب کا یہ بیان اخباروں کی زینت بنا جس میں آپ نے فرمایا کہ طالبان اور ہمارے مقاصد ایک ہیں ، آپ کے اس بیان سے ہم کیا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ لوگ ملک و قوم کے ساتھ آنے والے دنوں میں کیا سلوک کریں گے، اللہ ہمیں ایسی سوچ کے لوگوں سے بچائے ۔

ایک طرف تو وہ ہیں جو ملک کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں ، ہر حکومتی عمارت ، اسکول کالج، ادارے ، پل کے ساتھ ساتھ جہاں کوئی سرکاری اہلکار ،سپاہی یا فوجی نظر آتا ہے اس کو اغوا کرکے یا تو قید ی بنا لیا جاتا یا پھر مخالف مسلک کی صورت میں اس کا گلا کاٹ دیا جاتا ہے تو دوسری طرف اب وہ لوگ سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں جو کھل کر اور ٹھونک بجا طالبانی کلچر کو مسترد کر رہے ہیں اور اس جہاد میں سب سے پہلے ایم کیو ایم سامنے آئی جس نے ہر پلیٹ فارم پر بغیر کسی لگی لپٹی کے طالبانی کلچر کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ طالبانی قیادت کے مطالبے پر نظام عدل کے نفاذ پر اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا مزید براں اسی ضمن میں حال ہی میںلاہور میں علماء و مشاتخ کا ایک اجلاس ہوا جس میں تما م شرکاء نے مشترکہ طور پر مولانا صوفی محمد اور ان کے ہم نوا ٹولے کی نام نہاد شریعت کو مسترد کیا ہے ، اسی طرح سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ دہشت گرد اپنی کاروائیوں سے عوام کو خوفزدہ نہیں کر سکتے اور 16کروڑ عوام جمہوری حکومت کے ساتھ ہیں ، ان سب کی دیکھا دیکھی اور بھی لوگ اور تنظیمیں سامنے آنے لگ گئی ہیں اور متواتر ان کے خلاف اجلاسات اور احتجاج ہو رہے ہیں۔

اس ساری صورتحال کے دیکھتے ہوئے ان تمام لوگوں جو اب بھی طالبانی کلچر کے حامی ہیں اور ان کے گن گاتے ہیں سے دست بستہ عرض ہے کہ اگر ان کو موقع ملے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی اور مدنی زندگی کا بغور مطالعہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فتح مکہ سے پہلے اور بعد کے اسوہ حسنہ کو دیکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چاروں خلفاء کے ادوار کا بغور جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کیا جس قسم کے اسلام کی آج جو وہ تصویر پیش کررہے ہیں کیا اس کا عشر عشیر بھی اس دور میںتھا؟ اگر نہیں تو پھر اُن کو توبہ اور استغفار کرتے ہوئے خدا کے حضور جھک کر اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اور معصوم عوام پر روا رکھے جانے والے ظلموں کے ازالے کے لئے خود کو عوام اور خدا کی عدالت میں پیش کر دینا چاہیے اور اگروہ ایسا نہیں کرتے اور اپنے روش پر ڈٹے رہتے ہیں تو پھر ان کو جان لینا چاہیے کہ خدا نے تو ان پر جو عذاب نازل کرناہے وہ تو کرے گا ہی ، اس زمین پر اللہ کے بندے بھی اب ان سے نپٹنے کو تیار ہو رہے ہیں، آخر میں اللہ سے یہی دعا ہے کہ خدائے بزرگ وبرتر میری قوم کے لوگوں کو ہر آزمائش سے بچائے رکھے، آمین۔

Tags: afzal khan , column

آصف زرداری کوپاکستان کی صدارت سے کیسے ہٹائیں؟‘‘

April 28th, 2009 · No Comments

افضال خان
’’توپھر آصف زرداری کوپاکستان کی صدارت سے کیسے ہٹائیں؟‘‘ یہ وہ سوال ہے جوامریکہ کے پالیسی سازوںکیلئے ان دنوںسب سے بڑی الجھن کاباعث بناہواہے۔ امریکیوں کامسئلہ یہ ہے کہ وہ کبھی ایسے سوالات پر زیادہ غور کرنے کے عادی نہیں رہے۔اسی لئے ان کے اعصاب معمول سے زیادہ تناؤکاشکارہیں۔اورکیوںنہ ہوں وہ جب بھی اورکہیںبھی کسی کوہٹانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں توہٹادیتے ہیںسوائے ان چند ممالک کے جہاں ان کا ہاتھ نہیں پڑتا۔بدقسمتی سے پاکستان کاشماران ممالک میںہوتاہے جہاںامریکیوں کاہاتھ اچھی طرح پڑتا رہا ہے ۔یہ اوربات ہے کہ اس بارانہیںکچھ مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ایک منتخب حکومت کواورچیف جسٹس کی بحالی سے بیدار ہونے والے پاکستانیوںکودبانے یافریب دینے میں کچھ ہچکچاہٹ سی محسوس کررہے ہیں ۔ دنیا بھرمیں جمہوریت کاڈھنڈورا پیٹنے والوں کیلئے ایک سالہ پاکستانی منتخب حکومت کوہٹانا جوئے شیرلانے کے مترادف ہوچکاہے ، انہیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ وہ موجودہ حکمرانوں سے کیسے نجات حاصل کریں اوراپنی مرضی کے لوگوں کو سامنے لے آئیں ، انہیں کسی چھوٹی سیاسی جماعت کے علاوہ کہیں سے بھی کوئی خوشی کی خبرسنائی نہیں دے رہی ، پیپلزپارٹی میں کسی بڑی بغاوت کافی الحال سوال ہی پیدانہیں ہوتا ،نوازشریف منتخب حکومت کوگرانے میں حصہ داربننے کوتیارنہیں،وکلاء کی تحریک کامیاب ہوچکی ہے اورچیف جسٹس بحال ہوچکے ہیں اس لئے وہ تحریک بھی ان کے ہاتھ سے نکل گئی ، شاید اسی لئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ ہم نے چیف جسٹس کوبحال کرکے پاکستان کوبچالیاہے ،موجودہ حالات دیکھ کریہ یقین ہونے لگتاہے کہ اورکچھ ہو نہ ہو چیف جسٹس کی بحالی کافوری فیصلہ جیسے بھی ہوا جس کسی نے بھی کرایااورلانگ مارچ کوختم کرانے کیلئے جس نے بھی ڈیل کی یاکرائی ،کم ازکم پاکستان کے حق میں بہترہی ہوا ہے اورجنہوں نے اپنی اناکوپس پشت ڈال کریہ فیصلہ کیاہے انہوںنے دانستہ یانادانستہ یاچاہے مجبوری سے ہی پاکستان کوبچایاہے ۔اس وقت امریکیوں کیلئے فوری طورپر کوئی نئی تحریک چلانااگرناممکن نہیں تومشکل ترین ٹاسک ضرور ہے ۔ صدرکومواخذے کے بغیرفوری طورپر ہٹا نے کاکوئی قابل قبول طریقہ نہیں ہے۔پیپلزپارٹی کی حکومت کوختم کرنے کیلئے عدم اعتماد کاواحدآئینی راستہ ہے ، یہ راستہ بھی فی الحال بندہی سمجھیں۔اس لئے ابھی ہم پراعتماد طریقے سے کہہ سکتے ہیںکہ صدر کیخلاف مواخذہ یاوزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے ذریعے پیپلزپارٹی کواقتدارکے ایوانوں سے باہرنہیںکیاجاسکتا ۔ توپھرکیاطریقہ ہوسکتاہے کہ امریکہ جس کے ذریعے اپنے مقاصدحاصل کرسکتاہے ، ابھی خودامریکہ کوبھی شاید کچھ سجھائی نہیں دے رہا، سفارتکاری میں ماہررچرڈہالبروک اورفوجی امورکے منجھے ہوئے کھلاڑی ایڈمرل ملن کی ناکامی سے امریکی منصوبہ سازوں اورصاحبان اقتدار کو ایک فون یاچندملاقاتوںسے حسب منشاء نتائج حاصل نہ ہوسکے تومجبوراًانہیں عقل کے گھوڑے دوڑانے پڑرہے ہیں ۔ فی الوقت تویہی بات ذہن کولگتی ہے کہ امریکہ کے بڑے حکومتی اذہان کسی گہری سازش کے ذریعے کوئی بڑاکھیل کھیلنے کی کوشش کرینگے۔اس کاایک اشارہ سابق امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجرکی گفتگوسے ملتاہے ، ہنری کسنجر وہی موصوف ہیںجنہوںنے ذوالفقارعلی بھٹو کوعبرت کانشان بنانے کی دھمکی دی تھی اورپھرگڑھی خدابخش کی مٹی نے ایک عظیم لیڈرکونگل لیا۔ اب پھروہی ہنری کسنجر گویا ہوئے ہیںکہ’’ ہم ایک ایسی پاکستانی جمہوری حکومت کوکہاں تک سنبھالادیں جواندرونی بدنظمی اور شدت پسندوں کے ساتھ جنگی کیفیت میںہے ۔‘‘ مزید کہاکہ ’’ اگرپاکستان کے ٹکڑ ے ہوجائیںاوروہ ایک ناکام ریاست بن جائے توہمیںتمام متاثرہ ممالک جن میںچین ، بھارت اورروس شامل ہیںسے رجوع کرنا پڑے گاکہ وہ اس مسئلے کاکوئی حل نکالیں‘‘ اورکہتے ہیں ’’ جس ملک کے پاس بے شمارایٹمی ہتھیار ہوں اوروہاں حکومت نہ ہو تویہ بات عالمی برادری کیلئے باعث تشویش ہے ۔‘‘ سابق امریکی وزیرخارجہ پاکستان کوایک عظیم لیڈرسے محروم کرنے کاتجربہ رکھتے ہیںاس کے علاوہ بھی وہ کافی تجربہ کاررہے ہیں لیکن بھٹو کو عبرت کانشان بنانے کاتجربہ کم ازکم جنوبی ایشیایاتیسری دنیاکیلئے بہت بڑاگھاؤہے ۔ بہرحال اب یہ موصوف نئے راستوں اور منزلوںکی نشاندہی کررہے ہیں تواسے معمولی سی بات نہ سمجھاجائے۔اس کوزیادہ سے زیادہ سنجیدگی سے لیاجاناچاہیے تاکہ ہم معاملات کوسنبھالنے میں کامیاب ہوسکیں۔یہ توطے ہے کہ امریکی اب موجودہ سیاسی سیٹ کوآگے چلنے نہیںدیناچاہتے اوراس کیلئے وہ کوئی ایسا قابل قبول طریقہ ڈھونڈنے میںلگ گئے ہیں جس پر مہذب دنیا کی طرف سے کم سے کم تنقید کاسامنا کرنا پڑے اوروہ کوئی معقول جوازپیش کرسکیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرہ اس صورت میںہوگاجب وہ کوئی معقول جوازتلاش کرنے میںناکام ہوگئے تووہ پاکستان میںایک بڑا کھیل کھیلنے کی کوشش کرینگے، آپ دیکھیں لیںکہ بلوچستان نئی کروٹ لے رہاہے ، اورقبائلی علاقہ جات میںجوآگ بھڑک رہی اس کے پیچھے جہاںکچھ اپنے نادانوں کی کارستانی ہے، وہیں امریکہ ، بھارت اوراسرائیل کے ساتھ ساتھ اب روس بھی اپناحصہ ڈالنے کیلئے حرکت میں آچکا ہے ۔یہ بحث پرانی ہوچکی ہے کہ روس گرم پانیوں تک پہنچناچاہتاتھایانہیںلیکن یہ بات تو طے ہوچکی ہے کہ بڑی طاقتوںکے درمیان گوادر پورٹ اورگریٹر بلوچستان کیلئے جنگ کاآغازہوچکا ہے اور یہ آغاز پاکستان کے مستقبل کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا ۔ اب بات گریٹرپختونستان سے گریٹر بلوچستان تک پہنچتی جارہی ہے۔

موجودہ حالات میںہمیں یقین ہے کہ امریکہ کسی پرویز مشرف کی تلاش میںہے لیکن اس بارانہیںکوئی پرویزمشرف ملنے والانہیںہے ۔اوریقیناآخری بار ہمیںیہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان اورپاکستانی اس آگ کے دریا کوعبور کریں گے یاڈوبیں گے ۔اورایک بارپھرہمیں یقین ہے کہ ہم دریاپارکرجائیںگے۔بس اجتماعی ہمت اورحوصلے کی ضرورت ہے ۔ہم اس بارایوب ویحییٰ ،ضیاء ومشرف سمیت کوئی میرجعفر کامیاب نہیںہوسکے گااورتمام میرجعفرں اور میرصادقوںکوہم یہ سوچنے پرمجبورکردینگے کہ اب ان کاکوئی وارنہیںچلے گا۔ یاد رکھیںکہ جب ہم پاراتریںگے توپھران ڈکٹیٹروں کی حالت یہ ہوگی کہ

جڑوں میں پی۔ڑکی تیزاب ڈالنے والا

پڑاہے سوچ میںیہ پھول پھل گیاکیسے؟

ہم یہ دن ضروردیکھیںگے۔بس آخری باریہ فیصلہ کریںگے کہ آگ کادریاپارکرناہے اورپاراترنے تک ایک دوسرے کاہاتھ نہیںچھوڑنا۔ سولہ کروڑ پاکستانیوںکے بتیس کروڑہاتھ یقیناہرطوفان کوروک سکتے ہیں۔

Tags: afzal khan , column

شب فتنہ

April 28th, 2009 · No Comments


افضال خان

امریکہ کو’’No‘‘کہنایقیناآنے والے دنوں میں پاکستان کیلئے مشکلات پیداکرے گا۔ماضی کے تجربات اس بات کے گواہ ہیںکہ امریکیوںکے مزاج کیخلاف جب بھی کوئی بات ہوئی انہوںنے اسے انا کا مسئلہ بنالیا ،پاکستان میںذوالفقارعلی بھٹو،بینظیربھٹو اور نوازشریف امریکیوںکی اناکی بھینٹ چڑھنے کی واضح مثالیںہیں۔ذوالفقارعلی بھٹوکے ’’جرائم ‘‘ توکسی سے پوشیدہ نہیںہیںکہ انہوںنے امریکیوںکو کن امورپرناراض کیاتھااوران کیخلاف کیوں ملک گیرتحریک چلوائی گئی ۔یہ امریکیوںکے جوابی وار کانتیجہ تھاکہ بالآخربات بھٹو کی موت پر جا ختم ہوئی ۔ نوازشریف نے ایٹمی دھماکوںاور دیگر معاملات میںامریکیوںکوناراض کرنے کاخطرہ مول لیاتھااور 12اکتوبر 1999کی فوجی بغاوت ہوگئی ۔جبکہ بینظیربھٹوکے ماضی قریب کے ’’جرائم ‘‘ ابھی کچھ پوشیدہ اورکچھ ظاہرہوچکے ہیں۔ بینظیر بھٹو امریکہ اوربرطانیہ کے ذریعے اس وقت کے صدرمشرف سے ڈیل کرکے پاکستان آئی تھیںتاکہ عالمی طاقتوں کو پاکستان کے ساتھ معاملات کوآگے بڑھانے میںکچھ آسانی ہولیکن وہ جونہی پاکستان پہنچی عوام نے کراچی کی سڑکوںپراس ڈیل کوپاؤںتلے روند دیا۔مزدوروں، کسانوںاور بیروزگاروںنے بینظیر امریکہ ڈیل ناکام بنادی۔ اس کااحساس محترمہ کوبھی ہوگیاتھالیکن پھر بھی وہ عالمی طاقتوںکوناراض کرنے کاخطرہ مول لینانہیںچاہتی تھیںکیونکہ اس کاانجام وہ جانتی تھیں۔ان کاخاندان ایسے اقدامات کاخمیازہ بھگت چکا تھا۔گڑی خدابخش میںتین قبریںاس سے پہلے موجودتھیںجبکہ محترمہ چوتھی قبرکامنہ ابھی کھولنا نہیں چاہتی تھیں۔یہی وجہ ہے کہ انہیںبہت جلد دوبئی جا کر اس ڈیل کوریفریش کرناپڑا تھا ۔لیکن بے روزگاروں ، مزدوروںاورکسانوںکی فوج ظفرموج نے بھی یہ طے کرلیاتھاکہ اب اس ڈیل کو آگے چلنے نہیںدینگے، پھریہی ہوا کہ ہرجلسے میںڈیل ٹوٹتی اورمحترمہ کودوبئی جاناپڑتا۔ ایک وقت وہ آیاکہ محترمہ کیلئے مزیداس ڈیل کاطوق اپنے گلے میںلٹکائے پھرنامشکل ہوگیا اور اس ڈیل کوبچاناممکن نہ رہا۔ پھر انجام سب کے سامنے ہے کہ لاکھوںافراد اور سیکڑوں کیمروں کی آنکھیںکھلی کھلی رہ گئیںاورمحترمہ کی آنکھیںہمیشہ کیلئے بندہوگئیں۔اب ایک بارپھرکہانی نیارخ اختیارکرتی دکھائی دیتی ہے ، ہمیں نہیںمعلوم کہ بندکمروں میںہونے والی ملاقاتوںمیںNoکہتے ہوئے موجودہ حکمرانوںکے چہرے کے تاثرات کیاتھے لیکن ہمیں اتنامعلوم ہے کہ میڈیاکہ سامنے امریکیوںکے چہروںکے تاثرات اچھے نہیںتھے۔اسی لئے خطرے کی گھنٹی بجتی سنائی دے رہی ہے ۔حالات کی نزاکت کوبھاپنتے ہوئے عسکری قیادت نے بھی سیاسی قیادت کے ساتھ مل کرامریکیوںکیلئے مشکلات پیداکردی ہیںورنہ کسی نہ کسی طرح وہ عسکری قیادت کواپنے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ۔اب کی بار امریکیوںکو پاکستان میںزیادہ مشکلات پیش آئیںگی اسی لئے اس بات کاخطرہ بھی موجودہے کہ وہ اس بار پہلے سے زیادہ خطرناک وارکرینگے۔یہ وارکیاہوگااس بارے میں حکومت اورعسکری قیادت یقیناسوچ رہی ہوگی لیکن انہیںبہت حقیقت پسندی سے سوچناہوگا۔یہ وقت بہت کڑا ہے اس وقت کوکاٹنابہت مشکل ہے ۔ ہم نے ہوشمندی سے کام لیاتویقیناہم کامیاب رہیںگے ۔ بے صبری اورنادانیوںکاسلسلہ جاری رکھاتواس بار جو نقصان ہوگا وہ پاکستان اورپاکستانیوںکیلئے ناقابل برداشت ہوگا اورتاریخ ایک نئی کروٹ لے گی توپاکستانیوںکیلئے اپنی سالمیت وخودمختاری تودورکی بات ہے اپناتشخص برقراررکھنابھی مشکل ہوجائیگا۔ آپ دیکھ سکتے ہیںکہ کام شروع ہوچکاہے ، بلوچستان میں گڑبڑکاآغازانتہائی خطرناک اندازمیںہوا ہے ، سوات میںنئے حالات پیداہورہے ہیں،قبائلی علاقوںسے اٹھنے والا طوفان بھی واضح طورپرنظرآنے لگاہے ، کراچی میںحالات کشیدہ ہوسکتے ہیںاوراس میںوہاںکی مخصوص مقامی طاقتیں غیرملکیوںکیلئے کوئی بڑاکردار ادا کرسکتی ہیں۔ کیونکہ کچھ سیاسی جماعتیں بطورسیاسی جماعت نہیںبلکہ بطور’’این جی او‘‘ کے چل رہی ہیں اورانہیںبالکل اسی طرح بیرون ملک سے فنڈنگ ہو رہی ہے جس طرح مخصوص عزائم رکھنے والی این جی اوز کو ہوتی ہے ۔اسی طرح جنوبی پنجاب کاآتش فشاںبھی پھٹ سکتاہے طویل عرصے سے جو لاوا یہاں پکایا جا رہا ہے اسے مخصوص وقت پرباہرنکلنے میںمدد دی جاسکتی ہے ۔اس لئے یہ وقت ہے پھونک پھونک کرقدم رکھنے کا۔ہوشمندی اوردانائی کا۔فہم وفراست اورٹھوس منصوبہ بندی کا۔ کوئی جلدبازی ، کوئی ناسمجھی ونادانی ہمارے لئے اتنے مسائل کھڑے کرسکتی ہے کہ ہمارا لئے اپنی ٹانگوںپرکھڑا رہنا مشکل ہوجائیگا۔اس لئے یہ وقت ہے ایک دوسرے کوسہارادینے کااورسنبھالنے کا۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ پاکستان پراس سے کڑاوقت شاید ہی کبھی آیاہو۔ اس لئے بہت سنجیدگی کی ضرورت ہے ۔ یہ امتحان صرف حکومت یاعسکری قیادت کاہی نہیں، تمام سیاسی جماعتوںاورسولہ کروڑ سے زائد عوام کابھی ہے۔ سب سے پہلے حکومت کواپنی صفوںسے ایسے لوگوں کاصفایاکرناپڑے گاجن کے بارے میں معمولی سابھی شک ہوکہ وہ کسی بھی وقت دھوکادے سکتے ہیںاس کیساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو بھی ایک طرف بٹھاناپڑے گا کہ جواپنے منصب کے اہل نہیںہیں اور کچھ مخصوص خدمات کے صلے میں انہیں مناصب عطا ہوئے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ اپنے دوست ممالک کو حالات ومعاملات سے آگاہ کرنا اور ان سے ہرممکن تعاون حاصل کرناہوگا، یہ ہماری سفارتکاری کابھی امتحان ہوگا۔ قوم اوررہنماؤںکو پوری طرح اپنے دماغ میںیہ بات بٹھالینی چاہیے کہ یہ عام حالات نہیںہیں، ملک کاوجوداورقوم کی بقاشدیدترین خطرے میںہے ۔

موجودہ حالات میںوزارت داخلہ اوروزارت خارجہ کاکام بہت مشکل ہوچکاہے اس لئے ان دونوں شعبوںمیںہمیںکسی بھی قسم کی کوتاہی یانااہلی کے ہلکے سے شک کوبھی ختم کرنے کی ضرورت ہے ،اس وقت دانستہ یانادانستہ ایک چھوٹی سی غلطی بھی کسی بڑے طوفان کوجنم دے سکتی ہے ۔اس لئے ہمیںشب فتنہ کی سحرہونے تک بہت احتیاط سے کام لیناہوگا۔

Tags: afzal khan , column