
از: قمر ایم اے
دوست احباب مجھے کہتے ہیں کہ تم ہمیشہ مولویوں کے خلاف کیوں لکھتے ہوں، کیوں ان کو برا سمجھتے ہو ؟ میرا ان کو ایک ہی جواب ہوتا کہ بحیثیت انسان ان کو میں برا نہیں سمجھتا مگر ان کے اندر چھپے منافق، قول و فعل کے جھوٹے، دنیا پرست ، جاہ و جلال کے طالب ، انسان کو انسان سے لڑانے اور ان میں نفرت کی آگ بھڑکانے والوں کو میں کسی طور پر عالم یا مولوی نہیں مان سکتا بلکہ ایسے لوگوں سے اس لئے نفرت ہے کہ ان کی بابت میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عظیم ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ روئے زمین پر اس وقت کے علماء بد ترین مخلوق ہونگے اور مجھے قدم قدم پر ایسے لوگوں کے بھیانک چہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں جن پر میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سو فی صد پورا اتر رہی ہے۔ ان لوگوں نے نواسہ رسول حضرت حسین کی شہادت (قتل ) کو قبول کیا او ر حق کی بجائے باطل( یزید) کا ساتھ دیا، قوم کو بے مقصد بحثوں میں الجھایا اور شام اور عراق میں غیر ملکیوں (چنگیزیوں اور ہلاکوؤں ) کودعوتِ قتل عام دی اور یوں در پردہ مسلم کش قوتوں کا ساتھ دیا، خود بر صغیر پاک و ہند میں دینِالہی بنانے میں اکبر کا ساتھ دیا اور اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
پاکستان بنانے کی تحریک چلی تو اِن لوگوں نے کھل کر مخالفت کی اور مسلمان رہنماؤں کی بجائے پیسے لیکر کانگریس کا ساتھ دیااور جب اِنکی تمام تر مخالفت کے باوجود پاکستان بن گیا تو بھارت سے بھاگ کر پاکستان آگئے اور یہاں پرآ کر اِ ن لوگوںنے اپنی ریشہ دوانیوں کو جاری رکھتے ہوئے اس ملک کو ہر لحظہ کمزور کرنے کی سازشیں کیں اور جب بھی موقعہ ملا لوگوں کو بہکا کر ملک میں افراتفری اور انارکی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اب کچھ سالوں سے اِن کی ریشہ دوانیاں افغانستان اور پاکستان میں جاری ہیں ، یہ لوگوں کو جنت کی جھوٹی خوشخبریاں دے دے کر ان سے جگہ جگہ خودکش حملے کروا کر لوگوں کی جانوں و مال کے درپے ہیں اور ساتھ ہی دنیا جہاں میں ہونے والی ہر کاروائی کو اپنے کھاتے ڈالتے ہوئے ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگا ئے ہوئے ہیں اور اوپر سے ان سب کاروائیوں کے لئے اسلام کا نام لیا جا رہا ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے سوات ،مالاکنڈ، دیر ، بونیر، مینگورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ایک یورش بھرپا تھی ، ایک قیامت مچی ہوئی تھی جس میں حکومتی اہلکار اغوار ہو رہے تھے، اسکولوں اور گورنمنٹ کے اداروں کو تباہ و برباد کیا جا رہا تھا، معصوموں کو قتل کیا جا رہا تھا، مرنے والوں کی لاشیں قبروں سے نکال کر چوراہوں پر لٹکائی جا رہی تھیں ، لوگوں کے گھربار چھینے جارہے تھے ان کے مال و اسباب چھینے جا رہے تھے ، ان کی جائیدادیں لوٹی جارہی تھیں ،ان کو ان کے اپنے ہی گھروں سے بے گھر کیا جارہا تھا (اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے)،بندوق کے زور پر لوگوں سے اسلام کے نام پر بھتے لیے جارہے تھے، مخالف مسلک لوگوں کو ذبیع کیا جا رہا تھا جس کی باقاعدہ فلم بندی کی جاتی اور پھر ان فلموں کو ساری دنیا میں پھیلا دیا جاتا، یوٹیوب ویب سائٹ ایسی فلموں سے بھری پڑی ہے جنہیں کوئی بھی بخوبی دیکھ سکتا ہے کہ شیعہ مسلک کے لوگوں کو کس طرح ذبیع کیا جا رہا ہے اور آغا خانی مسلک کے لوگوں کو کیسے قتل کیا جاتا ہے اور اس پر مصداق یہ کہ ان ساری کاروائیوں کو پاکستان کے اندر موجود بعض سیاسی جماعتیں اور قیامِ پا کستان مخالف قوتیں عین اسلام قرار دے رہی ہیں۔
روز بروز ہونے والی کاروائیوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ایک لحاظ سے محض امن کی خاطر ان کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اور ان کے مطالبہ پر مالاکنڈ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں نفاذ نظام عدل کا معاہدہ کر لیا ، جس پرمیں نے اس وقت بھی لکھا تھا کہ یہ معاہدہ تو ہو گیا ہے مگر جن لوگوں کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے وہ اس کی پاسداری کبھی نہیں کریں گے کیونکہ ان کی اس ساری جدوجہد کے پیچھے کچھ اور کہانی ہے یہ ملک توڑنے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، یہ غیر ملکیوں (جن میں بعض عرب اور ازبک لوگ شامل ہیں) کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، ان کو باہر سے پیسہ مل رہا ہے اور ان علاقوں میں اگر نظام عدل حقیقت میں قائم ہو گیا تو ان کی موجیں ختم ہو جائیںگی اور ان کو پھر اپنے کرتوتوں کا بھی حساب دینا پڑ جائیگا اور یہی یہ لوگ کبھی ہونے نہیں دیں گے ۔ ساری دنیا دیکھ لے کہ نظام عدل معاہدہ کے بعد جب حکومت نے دارالقضا کے قیام کا اعلان کرکے وہاں قاضیوں کی تعینانی شروع کر دی ہے تو اِن لوگوں نے فی الفور اِس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے اور سارے سوات میں ایک بار پھر پرتشدر کاروائیوں کا آغاز کر دیا ہے اور پہلے ہی دن مینگورہ میں تھانے اور گرڈ اسٹیشن اڑا دیئے، کئی دوکانیں جلا دیں، اسکول کو تباہ کر دیا اور فورسز پر حملہ کرکے دو سرکاری اہلکار اغوا کر نے کے بعد ان کو ذبیع کر دیا جبکہ دوسری طرف تحریک نفاذ شریعت محمدی کے ترجمان امیر عزت خان نے کہا ہے کہ دارالقضا کا اعلان یکطرفہ ہے اب امن کی ذمہ داری حکومت کی ہے جس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ حکومت جو کچھ بھی کرے ان سے پوچھ کر کرے اللہ اللہ کیا منطق ہے امن قائم رکھنے کی ۔
طالبانی قیادت اور خود مولوی صوی محمد کے گذشتہ دنوں کے تمام بیانات کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات تو روزِروشن کی واضح ہو جاتی ہے کہ اِن لوگوں کو اِس سے کوئی غرض نہیں کہ دنیاکی نظر میں اسلام کی کیسی تصویر بن رہی ہے۔ ان لوگوں نے جمہوریت کو کفر، ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ کو کفریہ قرار دیا، آئین کو غیر اسلامی قرار دے دیا، قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن، مولانا ساجد میر اور مولانا سمیع الحق کو کفریہ کام کرنے والا قرار دے دیا، سعودی حکومت کو غیر اسلامی قرار دیا ، غیر مسلموں سے جزیہ لینے کا عندیہ دیا، لڑکیوں کی تعلیم کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اِن کو جاہل اور اَن پڑھ رکھنے کو ترجیع دینا پسند کیاہے اور یوں یہ نام نہاد مولانا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس حدیث مبارکہ کو جھٹلاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں جس کے مطابق آپ نے علم حاصل کرنے کے لئے دور دراز (چین) تک کے سفر کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔
صوفی صاحب نے تو ایک ہی جست میں ہر چیز تہس نہس کر کے رکھ دی، اپنے علاوہ ہر ایک کو دوسرے لفظوں میں غیر مسلم قرار دے دیا ، اب دیکھتے ہیں اِن فتویٰ فروشوں کا ردِ علم کیا ہوتا ہے جو ہر جائز اور ناجائز کو عین اسلام قرار دیتے نہیں چوکتے تھے کیونکہ صوفی صاحب نے ان سب کو جو حکومتوں میں اپنے پورے کے پورے خاندانوں کے ساتھ حکومتی مراعات کے مزے لوٹتے رہے اور بعض تو اب تک مزے کر رہے ہیں نہ صرف کہیں کا نہیں چھوڑا بلکہ اپنے ہی قول و قرار کو بھی یکسر بھلا کر ان سارے وعدوں وعیدوں سے منہ پھیر لیا جو یہ کل تک حکومت کے ساتھ کر رہے تھے، بات دراصل یہ ہے کہ صوفی صاحب کو ابھی تک اس چیز کا ادراک ہی نہیں ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں اس کو ان کے اردگرد لوگ ماننے کو بھی تیار ہیں کہ نہیں ،یہ حسن فقط خلافت ہی کا ہے کہ جس میں سارے لوگ بیعت کرنے کے بعد خلیفۂ وقت کی ہر بات بلاچوں و چرا مانتے ہیں اور کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ حسن کسی نام نہاد مولوی سے وابستہ ہو جائے ۔ معاہدہ نفاذ عدل اپنی موت آپ مر چکا ہے آئیے اب اس کی فاتحہ پڑھ لیں کیونکہ معاہدے کرنے اور شدت پسندی کا مظاہرہ کرنے والوں کو ان کے خلاف عقل اور خلاف اسلام حرکتوں کی بنا پر اب مزید کوئی برداشت کرنے کو تیار نہیں ویسے بھی عملاً ان لوگوں نے عدل نہیں بلکہ ملک مانگا تھا ، حکومت مانگی تھی اور اقتدار مانگا تھا جو کوئی ان کو دینے کو تیار نہیں، طالبانی دور میں افغانستان کا جو حا ل ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ پورے پانچ سالوں میں کوئی انسانوں والا کام ان سے نہیں ہو سکا یہ لوگ اپنی ذات میں ہی گم رہے جن سے نہ تو کوئی ہسپتال ہی بن سکا اور نہ ہی کوئی فلاحی ادارہ۔
