Thursday , 14 December 2017
Highlights

زہنی امراض میں مبتلا افراد کس کی ذمہ داری ہیں؟

پاکستان میں یوں تو بے شمار مسائل ہیں جو حل کے متقاضی ہیں مگر ایک ایسا مسلہ جسے غیر اہم سمجھا جاتا ہے وہ حکومت ،معاشرے اور سماجی خدمات پر مامور ادروں کی توجہ چاہتا ہے ، افراد معاشرہ کیسے بھی ہوں وہ حکومت اور معاشرے کی ہی زمہ داری ہوتے ہیں اور وہ افراد تو اور بھی قابل توجہ ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے معذور ہوتے ہیں پاکستان میں خصوصی افراد کے لئے تو کچھ نہ کچھ کام ہو رہا ہے مگر ذہنی معذوروں کے لئے وہ کام دکھائی نہیں دیتا جس کی ضرورت ہے، گزشتہ دنوں ایک رپورٹ نظر سے گزری جس میں ذہنی معذور افراد کی زبوں حالی کا کا تذکرہ کیا گیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ذہنی صحت کی سہولتوں کے ادارے ذہنی مریضوں کو ناقص دیکھ بھال فراہم کررے ہیں، جو ا±ن کی صحت یابی میں اکثر رکاوٹ پیدا کرتے ہیں عالمی ادارہ صحت عالمی ادارہ صحت نے ناروا حالات کو انسانی حقوق کی چ±ھپی ہوئی ہنگامی صورتِ حال قرار دیا ہے جِن کا سامنا ذہنی امراض میں مبتلہ افراد کو کرنا پڑتا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا بھر میں ذہنی اور جسمانی معذوری کے شکار لوگ انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں اور امتیازی سلوک کا شکار ہوتے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ذہنی صحت کی سہولتوں کے ادارے ذہنی مریضوں کو ناقص دیکھ بھال فراہم کررے ہیں، جو ا±ن کی صحتیابی میں اکثر رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت میں ذہنی پالیسی کی رابطہ کار مشیل کہتی ہیں کہ ذہنی صحت کے اداروں میں اکثر مریضوں کو بے حد ناروا سلوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مریض غیر انسانی حالات میں زندہ رہتے ہیں اور ا±نھیں غیر معیاری علاج مہیا کیا جاتا ہے۔ا±ن کے الفاظ میں: ’مثال کے طور پر، لوگوں کو ضرورت سے زیادہ دوائیں دے دی جاتی ہیں، تاکہ وہ آسانی سے بات مانتے رہیں اور ا±نھیں سنبھالنا آسان ہو۔ ا±نھیں سیل میں بند کیا جاتا ہے یا دِنوں یا مہینوں کھانے اور پانی کے بغیر بند رکھا جاتا ہے۔ ا±ن سے انسانوں کا رابطہ بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی ا±نھیں باتھ روم کی سہولت دی جاتی ہے۔ اور سب سے سنگین بات یہ ہے کہ یہ سلوک وہ لوگ کرتے ہیں جو اِن مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں‘۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صحت ِ عامہ کے کارکنوں کی تربیت نہ ہونے کے برابر ہے، اور گروپ کے مطابق، کارکن یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ ذہنی امراض کے شکار لوگوں کے بھی حقوق ہیں جِن کا احترام کیا جانا چاہیئے، نہ کہ خلاف ورزی۔وہ کہتی ہیں کہ ڈبلیو ایچ او کے ’کوالٹی رائٹس‘ منصوبے کا مقصد اِن خلاف ورزیوں سے نمٹنا ہے۔ا±ن کا کہنا ہے کہ اِس منصوبے کا اولین مقصد ذہنی مریضوں کے حقوق اور ا±ن غیر انسانی حالات کو بہتر بنانا ہے جِن کا ا±نھیں سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں تو یہ صورت حال اور بھی خراب ہے یہاں ذہنی مریضوں کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کس طرح سڑکوں ،گلیوں،بازاروں ،اور پارکوں میں بے یار و مدگار پڑے ہوتے ہیں اس پر المیہ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ان افراد کو معاشرہ بھی ان کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا اور یہ لوگ اپنی زندگی بہت بری حالت میں گزارتے ہیں ،اسلام میں انسان کی تکریم کا بار بار کہا گیا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ذہنی امراض کے حامل افراد کے ساتھ کس قدر ناروا سلوک ہو رہا ہوتا ہے،اور ان کا شرف انسانی کس طرح مجروح کیا جاتا ہے، اصولی طور پر ایسے افراد ریاست کی ذمہ داری ہوتے ہیں مگر یہاں ریاست اپنی یہ ذمہ داری پوری کرتی دکھائی نہیں دیتی جو ہسپتال ان افراد کی نگداہشت کے لیے بنائے گئے ہیں وہاں بھی جملہ سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والی عملہ غیر تربےت ےافتہ ہوتا ہے ،یہاں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی انسان کوئی مرض خود اختیار نہیں کرتا اور پھر زہنی معذور افراد تو بہت ہی توجہ کا تقاضا کرتے ہیں ہونا یہ چاہےے کہ حکومت کے ساتھ ایسے اداروں کا وجود عمل میں لایا جائے جو ایسے افراد کی دیکھ بھال کا بندوبست کریں تا کہ معاشرئے سے بچھڑئے ہوئے ےہ لوگ بھی کچھ آبرو مندانہ زندگی گزار سکیں،انسان ایک دوسرے کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور ہر صحت مند انسان کو چاہےے وہ ان افراد کا ہر طرح سے خیال رکھےں جو صحت جیسی نعمت سے محروم ہیں ،حکومت کو اس ضمن میں ہر شہر میں ذہنی معذروں کے لئے ہسپتال قائم کرنے چاہےیں تا کہ ذہنی معذور یوں گلیوں،سڑکوں اور پارکوں میں بے یار و مدگار نہ بھٹکتے پھریں۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر میں این جی کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہےے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Scroll To Top