Sacc header image 2

گوشوارے

November 11th, 2009 · No Comments

گوشوارے
شاکر قریشی
پچھلے دنوںمیاں نواز شریف کے گوشوارے خوب زیربحث رہے۔ عوام ا لناس اور سیاسی تجزیہ نگار دانتوں تلے انگلیاںدبائے سراپا حیرت اور سراپا احتجاج بنے رہے۔میاں نواز شریف کے گوشوار وں کے علاوہ بھی کئی اور بڑے امراءکے گوشواروں کے تذکرے بھی بحث کی گرمی میں اضافہ کرتے رہے….سیاست دانوں، حکمرانوں…. وطن عزیز کے ان سپوتوں کے جاہ وجلال …. ان کی جائیدادوں کی ہیبت ان کے بیرون ملک اثاثوں کی باتیں اور ان کے ملک کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے غیر ملکی بنکوں میں جمع غیر ملکی کرنسیوں کے حساب کتاب بھی مجلسوں میں گفتگو کو دلچسپ بناتے رہے۔صدر آصف علی زرداری کے دنیا کے امیر تیرین لوگوں کی فرصت میں نمبر شمار بھی پریشان حال ملک اور بدحال سرزمین کا منہ چڑاتے رہے۔ قارئین یہ سب وہ لوگ ہیں۔ وہ ا مراءوہ سیاست دان وہ حکمران ہیں۔جن کو پاکستان نے ایک ملک کی حیثیت سے اور سرزمین پاکستان نے دھرتی ماں بن کے عطا کیئے لیکن یہ سب ماں کے سپوت اپنے مال و اسباب اور اپنی اولاد کو دھرتی ماں سے دور رکھنے میں کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کی بدحالی اپنے ان سپوتوں کی بے رخی پر حیران ہے اور دھرتی ماں کا سینہ اپنے ان بیٹوں اور لالوں کو اپنے سینے سے لگانے کو ترس رہے ہیں….لیکن ….دھرتی ماں کی یہ پیاس اور تڑپ ابھی یوں لگتا ہے کہ مزید جاری ساری رہے گی۔گوشواروں کے اس تذکرے سے قبل میاں نواز شریف کی پراسرار خاموشی بھی وجہ تنازعہ ،وجہ گفتگو اور بیان بازی کا محرک بنی رہے۔ کیری لوگر بل پہ….بھی خاموشی….اور NRO ….پہ بھی….لیکن پھر میاں صاحب کی واپسی کے بعد….NRO کے قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے میاں صاحب اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں تحریک پیدا ہوئی ہے….NRO کی مخالفت نے شدت اختیار کی ….اور کہنے والوں کا کہنا تھا کہ اتنی گرم جوشی بحرحال پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ڈرون اٹیک، کیری لوگر بال وغیر ہ پہ نہیںدکھائی تھی کہ جتنی NRO کی مخالفت کرنے پر اور اس کو تاریخ کا ایک کالا قانون اور پاکستانی سیاست اور اسمبلی پر بدنما داغ وغیرہ ثابت کرنے کے لئے میاں صاحب اور ساتھیوں نے دکھائی ۔
بہرحال دیر آئد درست آئد کے تحت …. میاں صاحب کا تند رویہ عوام میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔پاکستان کی عوام بلاشبہ آج کے حالات میں اک مسیحا کی تلاش میں ہے….ایک ایسے لیڈر کی تلاش میں ہے کہ جو مزید ملک وقوم اور سرزمین کی بے عزتی ہونے سے بچا سکے۔ایسے میں عوام کی نظریں بار بار میاں برادران کی طرف اٹھ رہی ہیں۔لیکن یہ کوئی ایسا آسان کام نہیں ہے کہ میاں برادران صرف اور صرف آج کے شہرت کے گراف پر بلندی کی وجہ لے کر پائیں گے۔ اس کے لئے میاں برادران کو ملک و قوم کے ساتھ بہترین محبت اور وطن عزیز پہ اپنے مفادات کو قربان کرنے کی پالیسی اپنانا پڑے گی۔
ملک اور عوام کا مسیحا صدر آٰصف علی زرداری بھی ہوسکتے ہیں پنجاب کے گورنر تاثیر بھی بن سکتے ہیں۔….لیکن اس سے قبل ان کو انپے خلاف جاری وساری تاثر کو ختم کرنے کی شدید کوشش کرنی پڑے گی۔ گورنر تاثیر کا ملک کے سب سے بڑے ٹیکس دہندہ ہونے کو ستائش کی نظر سے دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن صرف یہ خوبی ملک و قوم کا مسیحا بننے کے لئے کافی نہیں ہے ۔صدر آصف علی زرداری دنیا کے امیر ترین آدمیوں سے ایک بن جانے کے بعد اب اگر جی جان سے ملک و قوم کی قسمت بھی تبدیل کرنے کی قسم کھالیں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ ایسا کرپائیں کیونکہ آج کوئی دوسرا سیاست دان ان کی حکمرانی کے درپے بھی نہیں ہے۔ان کو اپنی مدت پوری کرنے کا بھی واضح پیغام ہے۔اب کرنا صرف یہ ہے کہ ملک و قوم کا مسیحا بننے کے لئے وہ گوشوارے بھرنے ہیں۔ جو عوام کی عدالت میں قابل قبول ہوں، دےکھےے ان حالات میں میاں نواز کی….صدر آصف زرداری سے ملاقات کیا رنگ لاتی ہے!!۔

shakir-qureshi

شاکر قریشی

پچھلے دنوںمیاں نواز شریف کے گوشوارے خوب زیربحث رہے۔ عوام ا لناس اور سیاسی تجزیہ نگار دانتوں تلے انگلیاںدبائے سراپا حیرت اور سراپا احتجاج بنے رہے۔میاں نواز شریف کے گوشوار وں کے علاوہ بھی کئی اور بڑے امراءکے گوشواروں کے تذکرے بھی بحث کی گرمی میں اضافہ کرتے رہے….سیاست دانوں، حکمرانوں…. وطن عزیز کے ان سپوتوں کے جاہ وجلال …. ان کی جائیدادوں کی ہیبت ان کے بیرون ملک اثاثوں کی باتیں اور ان کے ملک کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے غیر ملکی بنکوں میں جمع غیر ملکی کرنسیوں کے حساب کتاب بھی مجلسوں میں گفتگو کو دلچسپ بناتے رہے۔صدر آصف علی زرداری کے دنیا کے امیر تیرین لوگوں کی فرصت میں نمبر شمار بھی پریشان حال ملک اور بدحال سرزمین کا منہ چڑاتے رہے۔ قارئین یہ سب وہ لوگ ہیں۔ وہ ا مراءوہ سیاست دان وہ حکمران ہیں۔جن کو پاکستان نے ایک ملک کی حیثیت سے اور سرزمین پاکستان نے دھرتی ماں بن کے عطا کیئے لیکن یہ سب ماں کے سپوت اپنے مال و اسباب اور اپنی اولاد کو دھرتی ماں سے دور رکھنے میں کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کی بدحالی اپنے ان سپوتوں کی بے رخی پر حیران ہے اور دھرتی ماں کا سینہ اپنے ان بیٹوں اور لالوں کو اپنے سینے سے لگانے کو ترس رہے ہیں….لیکن ….دھرتی ماں کی یہ پیاس اور تڑپ ابھی یوں لگتا ہے کہ مزید جاری ساری رہے گی۔گوشواروں کے اس تذکرے سے قبل میاں نواز شریف کی پراسرار خاموشی بھی وجہ تنازعہ ،وجہ گفتگو اور بیان بازی کا محرک بنی رہے۔ کیری لوگر بل پہ….بھی خاموشی….اور NRO ….پہ بھی….لیکن پھر میاں صاحب کی واپسی کے بعد….NRO کے قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے میاں صاحب اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں تحریک پیدا ہوئی ہے….NRO کی مخالفت نے شدت اختیار کی ….اور کہنے والوں کا کہنا تھا کہ اتنی گرم جوشی بحرحال پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ڈرون اٹیک، کیری لوگر بال وغیر ہ پہ نہیںدکھائی تھی کہ جتنی NRO کی مخالفت کرنے پر اور اس کو تاریخ کا ایک کالا قانون اور پاکستانی سیاست اور اسمبلی پر بدنما داغ وغیرہ ثابت کرنے کے لئے میاں صاحب اور ساتھیوں نے دکھائی ۔

بہرحال دیر آئد درست آئد کے تحت …. میاں صاحب کا تند رویہ عوام میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔پاکستان کی عوام بلاشبہ آج کے حالات میں اک مسیحا کی تلاش میں ہے….ایک ایسے لیڈر کی تلاش میں ہے کہ جو مزید ملک وقوم اور سرزمین کی بے عزتی ہونے سے بچا سکے۔ایسے میں عوام کی نظریں بار بار میاں برادران کی طرف اٹھ رہی ہیں۔لیکن یہ کوئی ایسا آسان کام نہیں ہے کہ میاں برادران صرف اور صرف آج کے شہرت کے گراف پر بلندی کی وجہ لے کر پائیں گے۔ اس کے لئے میاں برادران کو ملک و قوم کے ساتھ بہترین محبت اور وطن عزیز پہ اپنے مفادات کو قربان کرنے کی پالیسی اپنانا پڑے گی۔

ملک اور عوام کا مسیحا صدر آٰصف علی زرداری بھی ہوسکتے ہیں پنجاب کے گورنر تاثیر بھی بن سکتے ہیں۔….لیکن اس سے قبل ان کو انپے خلاف جاری وساری تاثر کو ختم کرنے کی شدید کوشش کرنی پڑے گی۔ گورنر تاثیر کا ملک کے سب سے بڑے ٹیکس دہندہ ہونے کو ستائش کی نظر سے دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن صرف یہ خوبی ملک و قوم کا مسیحا بننے کے لئے کافی نہیں ہے ۔صدر آصف علی زرداری دنیا کے امیر ترین آدمیوں سے ایک بن جانے کے بعد اب اگر جی جان سے ملک و قوم کی قسمت بھی تبدیل کرنے کی قسم کھالیں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ ایسا کرپائیں کیونکہ آج کوئی دوسرا سیاست دان ان کی حکمرانی کے درپے بھی نہیں ہے۔ان کو اپنی مدت پوری کرنے کا بھی واضح پیغام ہے۔اب کرنا صرف یہ ہے کہ ملک و قوم کا مسیحا بننے کے لئے وہ گوشوارے بھرنے ہیں۔ جو عوام کی عدالت میں قابل قبول ہوں، دےکھےے ان حالات میں میاں نواز کی….صدر آصف زرداری سے ملاقات کیا رنگ لاتی ہے!!۔