”تلخیاں“
ندیم حیدر رضوی
کہا جاتا ہے کہ جس کو اپنڈکس کا مرض لاحق ہوجائے اس کا آپریشن لاحق ہو جاتا ہے اس آپریشن میں جسم میں سے ایک فالتو آنت کو نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے اور مریض کو اس درد و تکلیف سے نجات مل جاتی ہے جو اس مرض کی صورت میں و ہ برداشت کرتا ہے‘ اس مرض کی تفصیلات سے تو ڈاکٹر حضرات ہی زیادہ واقف ہونگے مگریہ بات عام مشاہدے میں ہے کہ آپریشن اپنڈکس کا ہو یا کوئی اور فقط آپریشن کرنے یا جسم کے کسی فالتو حصہ کو باہر نکال دینے پر معاملہ ختم نہےں ہوجاتا بلکہ ڈاکٹر اس مرض کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لےے اےک مخصوص عرصہ تک مرےض کو ادوےات کے استعمال کا مشورہ دےتے ہےں اور خاص احتےاطی تدابےر سے بھی آگاہ کرتے ہےں۔ آج کل ہمارے ملک مےں بھی آپرےشن کےا جا رہا ہے کےونکہ اےک طوےل عرصہ تک کپسول اور ٹےبلٹ سے کام نہ بن سکا اس لےے دہشت گردوں کے خلاف اب باقاعدہ آپرےشن کےا جا رہا ہے اور قوم کو امےد ہے کہ ےہ آپرےشن کامےابی سے ہمکنار ہوگا اور ارض پاکستان نامی اس مرےض کو دنےا مےں صحت مند ملک کے طور پر جلد ہی دےکھا جائے گا مگر شاےد ہمےں بھی اس مرض کو فقط آپرےشن تک محدود رکھنے کے بجائے کچھ آگے لے جانا ہوگا ۔ہمےں کچھ تلخ فےصلے کرنے ہونگے‘ ہمےں ملک بچانے کے لےے چند کڑوی ادوےات کو کھانا ہی ہوگا۔ گزشتہ دنوں وزےر اعظم مملکت ترکی جناب طےب اردگان نے پاکستان کے دور ئے کے دوران کہا تھا کہ اےک زمانے مےں ترکی کی حالت بھی پاکستان جےسی ہی تھی وہاں پر حالات درست ہو چکے ہےں تو ےقےنا پاکستان مےں بھی بہتر ہو جائےں گے ۔ دےکھا جائے تو شاےد ہمارے ہاں کوئی کمال اتاترک تو نہ آسکے گا نہ کوئی خمےنی جےسا کہ جو ملک کے لےے بنا کسی خوف کے حتمی طور پر بہتر فےصلہ کر سکے جو کسی فےصلہ کرنے اور اس کو نافذ کرنے کے لےے کسی مصلحت سے کام نہ لے مگر ہمارے حکمرانوں اور عوام دونوں کو کسی حد تک تو خود سے ملک سے شدت پسندی اور نفرتوں کے خاتمے کے لےے سخت فےصلے کرنے ہونگے اور ان پر عمل درآمد بھی کرنا ہوگا ۔ سبھی جانتے ہےں کہ ہم اےک قوم ہوتے ہوئے بھی چند عناصر کے باعث فرقوں اور صوبائی عصبےت کے شکنجے مےں جکڑے ہوئے ہےں ۔ ےقےن ہے مجھے کہ اگر ہم صرف اور صرف اختلافی مسائل کو چھوڑ دےں اور اختلافی باتےں کرنا بند کردےں ‘ آپس کی نفرتوں کے خاتمے کے لےے اقدامات کرےں تو ملک سے نفرتوں اور شدت پسندی کے اس مرض کو ہمےشہ کے لےے ختم کر سکتے ہےں ۔ اس سلسلے مےں مےری چند گزارشات ہےں اگر ان کے حوالے سے چند سخت اقدامات کر لےے جائےں تو شاےد ہم نفرتوں کو ملک سے ختم کر سکےں۔ ہم سب جانتے ہےں کہ ہم پاکستانی و ہ قوم ہےں جو ہرمعاملے اور بات مےں خود کو ماہر سمجھتے ہےں ‘ ہم اصل صورتحال سے واقف ہوں ےا نہےں مگر رائے دےنا اور بحث برائے بحث کرنا اپنا فرض عےن جانتے ہےں ‘ اےک معمولی سی بات ہے کہ فرض کےا مےں نہےں جانتا کہ کےری لوگر بل کےا ہے مگر اس پر ملک مےں ہر جگہ بلکہ چائے خانوں تک مےں بحث ہوتی رہی ‘ بحث مباحثہ اچھی بات ہے اےک بہترےن قوم ہونے کا ثبوت ہے مگر مکمل علم نہ ہونے کے سبب سے ےہ دےکھا گےا کہ بنا کسی بات کے جانے ہونے والی بحث کے آخر مےں لوگ اےک دوسرے کا گرےبان پکڑے ہوئے تھے اور ہر اےک خود کو حق پر جان رہا تھا ‘ اس سے بری صورتحال ہمارے ہاں مذہب کے نام پر ہونے والی بحثوں مےں ہوتی ہے جس کے انجام کے طور پر نفرتوں مےں اضافہ ہورہا ہے اور ‘ پاکستانی قوم تقسےم در تقسےم ہوتی چلی جا رہی ہے ۔
ضروری ہے کہ اس سلسلے مےں حکومت نے جس طرح سے پبلک مقامات پر سگرےٹ نوشی پر پابندی لگائی ہے اسی طرح سے سےاسی و فرقہ وارنہ بحث مباحثوں پر پابندی لگائے ۔ خاص طور پر تمام سرکاری‘ نےم سرکاری اور پرائےوےٹ دفاتر مےں سختی کے ساتھ دفتری معاملات سے ہٹ کر مذہب ‘ زبان‘ علاقہ اور سےاسی جماعتوں کی وابستگی کے حوالے سے بحث پر پابندی لگا دی جائے ۔ تمام ہوٹلوں‘ چائے خانوں اور پارک وغےرہ مےں بھی اس طرح کی بحث پر پابندی ہونی چاہےے۔ اگر سچ کہوں تو فرقہ وارےت کچھ نہےں ہے اگر کچھ فروعی اختلافات ہےں تو بھی ان پر بحث کا حق فقط علماءکرام کو ہے نا کہ مجھ جےسے دےن کے معمولی علم رکھنے والے کو کہ مےں چند باتوں کو جان کر مذہب کی بحث کرنے بےٹھ جاﺅں اور نفرتےں پےدا کروں ۔ بات علماءکی ہے تو ےقےنا تمام علماءکرام ہمارے لےے قابل احترام ہےں مگر ان پر بھی اس بات کی پابندی ہونی چاہےے کہ وہ کسی فرقہ وارانہ بحث ےا اختلافی مسئلہ کو اس طرح سے اسپےکر پر بےان نہ کرےں گے جس سے آواز مسجد ےا امام بارگاہ سے باہر جائے اور سب سے بڑ ھ کر وہ معاملات جن پر علماءکرام کے درمےان اختلاف ہے ان پر تو اپنے فرقہ کے علاوہ باہر کسی دوسرے پر تنقےد کی اجازت ہونی ہی نہےں چاہےے ‘ مثلاً اےک فرقہ کے نزدےک قوالےاں ےا نعت کے ساتھ آلات موسےقی کا استعمال جائز ہے اور دوسرے کے نزدےک نہےں تو جس کے نزدےک درست ہے وہ کرے مگر ےہ نہ کہے کہ دوسرا غلط ہے اور جس کے نزدےک ےہ فعل غلط ہے وہ اپنے فرقہ کے اندر تو اس پر بات کرے مگر کھلے عام اسپےکر پر اختلافی بات کرنے سے شدت پسندانہ سوچ بڑھتی ہے ۔ تےسری بات مختصراً ےہ ہے کہ تبلےغ اسلام کا اہم جزو ہے اور تاکےد کرنا بھی اس کا حصہ ہے ےقےنا مسلمانوں کو نماز کی تاکےد کرنا ‘ نےک کام کی جانب راغب کرنا نہاےت اچھا اقدام ہے مگر ےہ کام بھی کہےں پر ہمارے ہاں نفرتوں کو جنم دےنے کا باعث بن رہا ہے ‘ ےقےنا تبلےغ کرنے والے افراد نہاےت اچھا کام کر رہے ہےں مےں ان کو سراہتا ہو مگر ان مےں چند اےک جو ابھی مکمل طور پر تبلےغ سے واقف نہےں ہوتے ان کی وجہ سے نفرتےں پےدا ہوتی ہےں ۔ مےرے سامنے اےک مثال ہے کہ اےک صاحب جوابھی تبلےغ کرنے کے عمل کو سےکھ ہی رہے تھے کسی دوسرے صاحب کو تبلےغ کرنے لگے تو دوسرے صاحب نے کہا کہ مےں فلاں فرقہ کا ہوا س لےے آپ کے فرقہ کی مسجد مےں نہےں آسکتا ‘ لےجےے جناب معاملہ ختم مگر اےسا نہ ہوا وہ اناڑی تبلےغی نے کہا کہ آپ کے فرقہ مےں فلاں باتےں غلط ہےں اس لےے آپ ہماری مسجد مےں آئےے ہم تعلےم دےں گے اور مزےد کےا ہوا ہوگا قارئےن بخوبی جان سکتے ہےں ۔ اس لےے عرض ےہ ہے کہ تبلےغ مےں فرقہ وارانہ نفرتوں کو پےدا کرنے والی کوئی بات نہ ہو اس لےے صرف اور صرف ذمہ دار افراد ہی ےہ کام کرےں اور اگر کوئی اپنے فرقہ کی بات کرے تو اس پر فرقہ بدلنے کے لےے دباﺅ ڈالنا غےر مناسب ہے ۔
ساری باتوں کا خلاصہ پےش کروں تو جس طرح سے پاکستان آرمی مےں مذہب‘ فرقہ اور لسانی تعصبات نہےں پائے جاتے اور سپاہ وطن کے نزدےک سب کچھ صرف اور صرف پاکستان ہوتا ہے اس طرح سے سارے ملک کو ےکجا کےے جانے کی ضرورت ہے ۔

