اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کے لیے اہل قرار دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس جناب جسٹس تصدق جیلانی کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی لارجر بنچ نے شریف برادران کی ناہلیت کے خلاف درخواست کی سماعت کی ۔ آج بدھ کو سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل مکمل کرلیے۔ جس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوط کرلیا تھا۔ جبکہ نواز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہاکہ یہ عوام کی جدوجہد کے نتیجے میں ہونے والی جدوجہد کا نتیجہ ہے، ملک اور ریاستیں جبر سے نہیں چلتی بلکہ انصاف کے اصولوں سے ملک ترقی کرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔اپ ڈیٹ ۔۔۔۔۔۔
سپریم کورٹ نے پارلیمانی انتخابات کے لئے شریف برادران کو اہل قرار دے دیا
اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کے لئے اہل قرار دے دیا ہے ۔سپریم کورٹ کے جسٹس ،جسٹس تصدق جیلانی کی سر براہی میں قائم پانچ رکنی لارجر بینچ نے شریف برادران کی نا اہلیت کے خلاف درخواست کی سماعت کی ۔آج بدھ کو سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل مکمل کر لئے جس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر ایا تھا۔ منگل کے روز سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں نواز شریف اور شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کے لئے اہل قرار دے دیا۔ یاد رہے کہ 28 اپریل کو نظر ثانی کی اپیل دائر کی گئی 11 مئی کو اپیل کی سماعت شروع ہوئی سماعت کے دوران شریف برادران کی طرف سے خواجہ حارث اور عابد حسین منٹو نے دلائل دئیے جبکہ فریقین مخالف نور الہیٰ اور خرم شاہ کی طرف سے احمد رضا قصوری ایڈووکیٹ اور محی الدین ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے ۔شہباز شریف کو 25 فروری کو عدالت کے تین رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو بر قرار رکھتے ہوئے نا اہل قرار دیا تھا جس کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جس پر عدالت عالیہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناعی جاری کر دیا اور پنجاب میں گورنر راج کو ختم کرتے ہوئے میاں شہباز شریف کی حکومت بحال ہو گئی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ بر قرار رکھنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں موسیٰ لغاری ،شیخ حاکم اور سخی حسین بخاری شامل تھے
۔۔۔ تفصیلی خبر۔۔۔۔۔
سپریم کورٹ نے پارلیمانی انتخابات کے لئے شریف برادران کو اہل قرار دے دیا
اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کے لئے اہل قرار دے دیا ہے ۔سپریم کورٹ کے جسٹس ،جسٹس تصدق جیلانی کی سر براہی میں قائم پانچ رکنی لارجر بینچ نے شریف برادران کی نا اہلیت کے خلاف درخواست کی سماعت کی ۔ بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس ناصر الملک ،جسٹس موسیٰ کے لغاری،جسٹس غلام ربانی اور جسٹس شیخ حاکم علی شامل تھے۔بدھ کو سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل مکمل کر لئے جس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ منگل کے روز سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں نواز شریف اور شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کے لئے اہل قرار دے دیا۔عدالت میں جسٹس تصدق حسین جیلانی نے فیصلہ پڑھ کر سنایا بدھ کو سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے یکطرفہ فیصلہ دیا گیا تھا کیونکہ شہباز شریف کو سنے بغیر فیصلہ دے دیا گیا تھا انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے مقدمہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے قوانین کی پیروی نہیں کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی سماعت کے نوٹسز شریف برادران کو نوٹس جاری کیے گئے لیکن باقاعدہ سماعت کے نوٹس جار ی نہیں کیے گئے ۔سردار لطیف کھوسہ سے قبل شاہد اورکزئی نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ شہباز شریف انتخابات کے اہل نہیں ہیں وہ غلط طریقے سے سیاست میں داخل ہو نا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ 28 اپریل کو نظر ثانی کی اپیل دائر کی گئی جس کی سماعت 11 مئی کو شروع ہوئی سماعت کے دوران شریف برادران کی طرف سے خواجہ حارث اور عابد حسن منٹو نے دلائل دئیے جبکہ فریقین مخالف نور الہیٰ اور خرم شاہ کی طرف سے احمد رضا قصوری ایڈووکیٹ اور محی الدین ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے ۔شریف برادران کو 25 فروری کو عدالت کے تین رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو بر قرار رکھتے ہوئے نا اہل قرار دیا تھا جس کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جس پر عدالت عظمیٰ نے31 مارچ کو سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے پر حکم امتناعی جاری کر دیا اور پنجاب میں گورنر راج کو ختم کرتے ہوئے میاں شہباز شریف کی حکومت بحال ہو گئی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ بر قرار رکھنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں موسیٰ لغاری ،شیخ حاکم اور سخی حسین بخاری شامل تھے۔ واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں نا اہل قرار دیا تھا جبکہ شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلا ف الیکشن ٹریبونل میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ جہاں ٹریبونل کے اختلافی فیصلے پرالیکشن ٹریبونل نے شہباز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی بعد میں ہائی کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف درخواست پر انہیں نادہندگی کے کیس میں الیکشن کے لئے نا اہل قرار دیا تھا ۔تاہم اس دوران شہباز شریف بھکر سے بلا مقابلہ منتخب ہو کر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے ۔شریف برادران نے پی سی او ججز کے سامنے پیش نہ ہو نے سے انکار پر ان کے تجویز کنندگان نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 8ماہ کی سماعت کے بعد شریف برادران کے عدالت میں پیش نہ ہو نے پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بر قرار رکھا جس کے بعد 16 مارچ کو معزول ججز کے بحال ہو نے کے بعد شریف برادران کی جانب سے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی گئیں۔ عدالت نے درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے دوران 31 مارچ کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا تھا اور شہباز شریف کو بطور وزیر اعلیٰ کام جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔ نظر ثانی کی اپیل کی سماعت تین ہفتے تک جاری رہی جس کے بعد شریف برادران کو اہل قرار دیا گیا ہے ۔

1 response so far ↓
1 آج کی تازہ خبریں // May 26, 2009 at 6:42 am
[...] سپریم کورٹ نے پارلیمانی انتخابات کے لئے شریف برادران ک… سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کے لئے اہل قرار دے دیا ہے ۔سپریم کورٹ کے جسٹس ،جسٹس تصدق جیلانی کی سر براہی میں قائم پانچ رکنی لارجر بینچ نے شریف برادران کی نا اہلیت کے خلاف درخواست کی سماعت کی ۔آج بدھ کو سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل مکمل کر لئے جس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر ایا تھا۔ منگل کے روز سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں نواز شریف اور شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کے لئے اہل قرار دے دیا۔مزید۔۔۔۔۔۔ [...]
You must log in to post a comment.